Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریپ کی سیاست یا اقتدار کی حفاظت؟

Updated: July 15, 2026, 1:12 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

غالباً ممتابنرجی کو اقتدار چھن جانے کے بعد یہ احساس ہوگیا ہے کہ ریپ جیسی واردات کا معاشرہ پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے ۔بروئی پور عصمت دری اور قتل کے واقعہ پر وہ سراپا احتجاج ہیں جبکہ دوسری طرف برسراقتدار بی جے پی اس سلگتے ہوئے ایشو پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے میں مصروف ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 پانچ جولائی کی صبح کلکتہ کے نواح میں واقع بروئی پور میں ایک تالاب سے بارہ سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوتے ہی مقامی باشندے جو بارہ گھنٹوں سے اسے ڈھونڈرہے تھے غصے سے پھٹ پڑے۔ تشدد پر آمادہ ہجوم نے پولیس اہلکاروں اور ان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ جن درندوں نے بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بوری میں بھر کر تالاب میں مرنے کے لئے پھینک دیا تھا ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ایک مشتبہ ملزم کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا۔ اس واقعہ سے صوبے میں بھونچال سا آگیا۔ شوبھیندو ادھیکاری حکومت کے لئے یہ پورا واقعہ ایک بہت بڑا چیلنج تھاکیونکہ بی جے پی بنگال کو عورتوں کے لئے محفوظ صوبہ بنانے کے عہد کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔ اس واقعے کے بعد بنگال کا سیاسی پارہ تیزی سے چڑھنے لگا۔ ترنمول کانگریس، سی پی آئی(ایم) اور کانگریس جیسی اپوزیشن پارٹیاں جو الیکشن میں کراری شکست کے بعد سے نڈھال پڑگئی تھیں،ایک بار پھر حرکت میں آگئیں۔ ہر سیاسی پارٹی اپنا وفد بروئی پور بھیجنے کے لئے بے قرار نظر آنے لگی۔ دیکھتے دیکھتے بروئی پورکے ایک افسوسناک واقعہ پر صوبہ میں سیاست کا بازار پوری طرح گرم ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے: بہار: ضمنی انتخاب حکمراں جماعت کیلئے ناک کا سوال

ہندوستان میں ریپ کی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے۔اب تو یہ معمول سا بن گیا ہے کہ جب بھی کسی صوبہ میں ریپ یا گینگ ریپ کی کوئی سنگین واردات ہوتی ہے تو اپوزیشن پارٹیاں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتی ہیں۔ خواتین تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے وفود بھی جگہ جگہ موم بتی ہاتھوں میں لے کر مظاہرہ کرتے  ہیں۔ ریپ کی سیاست کے تلاطم خیز نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ من موہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے اتحاد کی دس سالہ حکومت کی کارکردگی بے حد اچھی تھی اس کے باوجود ۲۰۱۴ء   میں کانگریس کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی اور جرم کے ارتکاب کاعوام میں اتنا شدید ردعمل نہیں ہوتا  جتنا کسی خاتون کی عصمت دری کا ہوتا ہے۔ اپوزیشن عوام کے اس فطری غم و غصے کی آگ پرسیاسی روٹیاں صرف سینکتی ہی نہیں بلکہ اس آگ کو ہوا دے کر حکمراں جماعت کو جلا کر بھسم کردینے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ ۲۰۱۴ء  میں کانگریس کی اقتدار سے  بے دخلی اوربی جے پی کی راج سنگھاسن تک رسائی میں کرپشن کے بے بنیاد الزامات کے علاوہ جس ایک ایشو کا بڑا ہاتھ تھا وہ نربھیا ریپ کیس تھا۔اسی طرح ۲۰۲۶ء   میں مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے ۱۵؍ سالہ راج پاٹ کے خاتمہ اور بی جے پی کی اقتدار کی حصولیابی میں آر جی کار اسپتال میں ڈاکٹر کے ریپ اور مرڈرنے بھی اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھئے: پناہ گزینوں کا عالمی دِن ہمارا دِن کیوں نہیں ہو سکا؟

کلکتہ کے باشندے اس سانحہ سے بری طرح متاثر بھی ہوئے اور ناراض بھی۔ ممتا بنرجی حکومت نے ہمیشہ کی طرح اس سنگین جرم سے نپٹنے میں غفلت اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ پولیس اور ترنمول کانگریس لیڈروں کی نااہلی کی وجہ سے عوام میں یہ پیغام پہنچاکہ ممتا حقیقی مجرموں کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں۔اس واقعے کے خلاف ہونے والے غیر معمولی عوامی احتجاجی مظاہروں میں ان لوگوں نے بھی شرکت کی جو ترنمول کانگریس کے ووٹر تھے۔ ممتاسول سوسائٹی کی برہمی اور بدلے ہوئے موڈ کا ادراک کرنے میں ناکام رہ گئیں۔ بی جے پی نے عوام کے جذبات کو بھانپتے ہوئے آر جی کار اسپتال کی مہلوکہ ڈاکٹر کی والدہ کو اسمبلی الیکشن میں امیدوار بنایا جو  ۲۹؍ہزار  ووٹوں سے جیت گئیں۔شاید اقتدار چھن جانے کے بعد ممتا کو یہ احساس ہوا کہ ریپ کی کسی واردات کا معاشرے پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے اور عام لوگوں کا کتنا سخت ردعمل ہوتا ہے۔ اسی لئے بروئی پور کے انسانیت سوز جرم کی اطلاع پاتے ہی ترنمول کانگریس سربراہ نے تین دنوں کے اندر دو دو بار سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ پہلی بار تو وہ اپنے قریبی رفقا کے ہمراہ اس گلی میں ہی موم بتی لے کر نکل پڑیں جہاں وہ رہائش پذیر ہیں۔ دو دن بعد ترنمول کانگریس نے’’ جسٹس فار بروئی پورمارچ‘‘ نکالا جس کی قیادت خود دیدی کررہی تھیں لیکن بی جے پی کارکنان ممتا بنرجی کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لئے سیکڑوں کی تعداد میں وہاں پہلے سے موجود تھے۔

 ممتا نے سوچا ہوگا کہ ایک معصوم لڑکی کے ریپ اور مرڈرکے خلاف احتجاجی مارچ کے ذریعہ حوصلہ شکنی کا شکار ترنمول ورکرز کی مایوسی ختم کی جاسکتی ہے اور ترنمول کانگریس کو دوبارہ فعال بنایا جاسکتا ہے لیکن وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے ان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ بی جے پی ورکروں نے ممتا مارچ کو ناکام بنادیااور پولیس خاموش تماشائی بنی جمہوریت کی بیخ کنی دیکھتی رہی۔

یہ بھی پڑھئے: کنزیومر کانفیڈنس سروے اور اعتماد کا بحران

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن سے کہیں زیادہ خود بی جے پی اس سلگتے ہوئے ایشو پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے میں مصروف ہوگئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ادھیکاری نے ایک ہفتے میں دو بار بروئی پور کا دورہ کیا، مہلوکہ کے والدین سے ملے اور ان کے ذریعہ نامزدکئے گئے تمام مجرموں کو فوراًگرفتارکروایا۔ والدین کی درخواست پر تین چار دنوں کے  اندر ان کے علاقے میں ایک پولیس چوکی بھی قائم کردی گئی۔ وزیر اعلیٰ کے دورہ کے دوسرے ہی دن گرفتار شدہ کلیدی مجرم پربھاس منڈل کا پولیس نے موقہ ٔ واردات پر لے جاکر مبینہ طور پر انکاؤنٹر کردیا۔  شوبھیندو نے بنگال کے لوگوں کو یہ پیغام دیاکہ ریپ اور دیگر جنسی جرائم کے تئیں ان کی حکومت کا رویہ زیرو ٹالیرنس کا ہے۔ اس ایک اقدام کے ذریعہ شوبھیندو نے اپنی دھاک بھی جما دی اور اپوزیشن کے احتجاج کی ہوا بھی نکال دی۔ شوبھیندو بی جے پی کے کٹر ہندو  ووٹ بینک کو خوش کرنا بھی نہیں بھولے۔ ان کے آرڈر پر پولیس نے درجنوں مقامی لوگوں کو دنگے، بلوے، تشدد اور اندرجیت منڈل نامی ایک شخص کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ شوبھیندو کا دعویٰ ہے کہ اندرجیت منڈل بالکل بے قصور تھا اور لڑکی کے ریپ اور قتل میں ملوث نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ نے اس کے گھر والوں کو ۲۵؍لاکھ روپئے کی خطیر رقم معاوضہ کے طور پر دینے کا اعلان کیا۔ بارہ سالہ مظلومہ کے گھروالوں کو غالباً معاوضہ کا مستحق نہیں سمجھاگیا۔

 وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا ہے کہ فساد برپا کرنے والے رجعت پسند اور فرقہ پرست لوگ تھے۔ شوبھیندو نے اس بدبختانہ جرم کو سیاسی فائدہ کے لئے کیش کرانے کی ممتا بنرجی کی ممکنہ کوششوں کو ناکام کرنے کیلئے ایک اور حربہ استعمال کیا۔ انہوں نے باغی ترنمول کانگریس اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو پولیس کے خصوصی تحفظ میں بروئی پور کے دورے پر بھیج دیا۔ ترنمول کانگریس کے یہ لیڈران نابالغ لڑکی کے ریپ اور قتل پرپولیس کی نااہلی اور حکومت کی غفلت پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے وزیر اعلیٰ کے گن گانے لگے۔ اس پس منظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مغربی بنگال میں ریپ کی سیاست شوبھیندوکو خوب راس آرہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK