Inquilab Logo Happiest Places to Work

شمال اور جنوب کے درمیان ہندوستان

Updated: July 16, 2026, 3:44 PM IST | Debashis Chatterjee | Mumbai

ہندوستان دراصل کبھی ایک مکمل کہانی نہیں رہا۔ یہ مسلسل جاری رہنے والا مکالمہ ہے۔ اس مکالمے کی خوبصورتی اسی وقت برقرار رہے گی جب شمال احساسِ برتری یا احساسِ محرومی کے بغیر سیکھنے کے لئے تیار ہوگا، جنوب اپنی کامیابی کو غرور کے بجائے رہنمائی کا ذریعہ بنائے گا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان ایک بار پھر اپنی قدیم ترین سیاسی عادت میں مبتلا نظر آتا ہے۔ یہ عادت نئی ریاستیں بنانے یا نئی سرحدیں کھینچنے کی نہیں بلکہ اپنے ہی وجود کو شمال اور جنوب، مشرق اور مغرب میں بانٹنے کی ہے۔ آج ایک بار پھر بحث زوروں پر ہے کہ آبادی کی بنیاد پر پارلیمانی نمائندگی میں تبدیلی آئے گی تو شمال کو سیاسی برتری حاصل ہوگی جبکہ جنوب کو اپنے بہتر طرزِ حکمرانی اور آبادی پر قابو پانے کی سزابھگتنا پڑے گی۔ بظاہر یہ ایک آئینی اور سیاسی مسئلہ ہے، مگر حقیقت میں یہ ہندوستان کی اجتماعی نفسیات کا آئینہ بھی ہے۔سیموئل پال اور کلا سیتارام سریدھر کی کتاب ’’The Paradox of India`s North-South Divide   ‘‘یہی سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہندوستان واقعی دو مختلف حصوں میں تقسیم ہو رہا ہے یا پھر یہ تقسیم ہمارے ذہنوں کی پیداوار ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں اپنے اندر موجود اختلافات کی وجہ سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ اس وقت کمزور پڑ جاتی ہیں جب وہ اپنے اختلافات کے گرد ایسی کہانیاں بُن لیتی ہیں جن پر سوال اٹھانے کی ہمت ختم ہو جاتی ہے۔ہندوستان کا جغرافیہ جتنا وسیع ہے، اس کی تہذیبی رنگا رنگی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ یہی تنوع اس کی طاقت بھی ہے اور چیلنج بھی۔ شمال اپنی قدیم تہذیب، سیاسی مرکزیت اور آبادی پر فخر کرتا ہے جنوب اپنی تعلیم، صحت، سماجی ترقی اور بہتر نظم و نسق کو اپنی کامیابی کی دلیل سمجھتا ہے۔ مشرق اپنی فکری روایت اور علمی سرمایہ پر ناز کرتا ہے جبکہ مغرب اپنی معاشی قوت اور تجارتی ذہانت کو ملک کی ترقی کا محرک قرار دیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہر خطے کے پاس اپنی کوئی خوبی ہے بلکہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہر خطہ اپنی خوبی کو پورے ہندوستان کی واحد شناخت سمجھنے لگتا ہے۔یہ رویہ صرف ممالک تک محدود نہیں۔ اداروں میں بھی یہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ ہر شعبہ خود کو سب سے اہم ثابت کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ مارکیٹنگ،  فائنانس سے برتر بننا چاہتی ہے، فائنانس   آپریشنز کو کم تر سمجھتا ہے  اور کمپنی کی ہرمیٹنگ گویا ایک چھوٹی سی سرحدی کشیدگی میں بدل جاتا ہے۔ لیکن کامیاب ادارے وہی ہوتے ہیں جہاں مختلف شعبے ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں، ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں کیونکہ آخرکار صارف کو ان کی اندرونی رقابتوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ قوموں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریپ کی سیاست یا اقتدار کی حفاظت؟

دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کی خوبیوں سے سیکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ جاپان نے وقت کی پابندی کو قومی کردار کا حصہ بنا لیا، اٹلی نے زندگی سے لطف اندوز ہونے کو تہذیب کی علامت بنا دیا، امریکہ نے انفرادی جدوجہد کو کامیابی کی بنیاد بنایا جبکہ اسکینڈیویا خطے کے ممالک (ناروے، سویڈن،ڈنمارک) نے باہمی اعتماد اور مضبوط سماجی اداروں کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جہاں قوانین  کی پاسداری کے ساتھ ساتھ  اخلاقی ذمہ داری بھی  کام کرتی ہے۔ باشعور معاشرے تقلید کو کمزوری نہیں بلکہ ترقی کی علامت سمجھتے ہیں۔ہندوستان میں شمال اور جنوب کی بحث اکثر جذباتی رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ جنوبی ریاستیں یہ محسوس کرتی ہیں کہ انہوں نے تعلیم، صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور بہتر حکمرانی میں سرمایہ کاری کی لیکن اب آبادی کی بنیاد پر سیاسی نمائندگی میں تبدیلی انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ دوسری طرف شمالی ریاستوں کا مؤقف ہے کہ جمہوریت میں آبادی ہی نمائندگی کی بنیاد ہونی چا ہئے۔ دونوں مؤقف اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ کون درست ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں ایک دوسرے سے کچھ سیکھنے کے لئے تیار ہیں؟

جنوبی ہندوستان کی ترقی کسی اتفاق یا تاریخی خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں۔ وہاں کئی دہائیوں تک تعلیم کو ترجیح دی گئی، عوامی صحت پر مسلسل سرمایہ کاری کی گئی، مقامی اداروں کو مضبوط کیا گیا اور انسانی وسائل کو معاشی ترقی کی بنیاد بنایا گیا۔ خواندگی وہاں محض شرح تعلیم کا ہندسہ نہیں رہی بلکہ معیشت کا بنیادی سرمایہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی سرمایہ مالی سرمائے میں تبدیل ہوتا گیا۔ اس کے برعکس شمالی ہندوستان کو صرف پسماندگی کے پیمانے سے ناپنا بھی ناانصافی ہوگی۔ یہاں کاروباری صلاحیت، نوجوان آبادی کی توانائی، مشکل حالات میں خود کو سنبھال لینے کی قوت اور وسیع داخلی منڈی جیسی خصوصیات موجود ہیں جو ہندوستان کی معیشت کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح مشرقی خطہ علمی و فکری روایت کا امین ہے اور مغرب نے مضبوط کاروباری اداروں اور صنعتی ترقی کے ذریعے ملک کی اقتصادی بنیادوں کو استحکام دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا کوئی بھی خطہ مکمل نہیں لیکن کوئی بھی غیر ضروری بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پناہ گزینوں کا عالمی دِن ہمارا دِن کیوں نہیں ہو سکا؟

آج جب ملک ۲۰۴۷ءمیں آزادی کے سو سال مکمل ہونے کی تیاری کر رہا ہے تو پانچ ٹریلین یا دس ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے دعوے مسلسل سنائی دیتے ہیں۔ معاشی ترقی یقیناً ضروری ہے، مگر ایک عظیم تہذیب صرف دولت سے نہیں بنتی  اس کے  لئے ایسے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں تعصب کے بجائے تجسس کو فروغ دیا جائے، جہاں کسی ریاست کی کامیابی دوسرے کے  لئےحسد کا باعث نہ بنے بلکہ پورے ملک کے  لئے نمونہ بن جائے  اور جہاں بہترین تجربات کو علاقائی شناخت سے بالاتر ہو کر اپنایا جائے۔ ہندوستان دراصل کبھی ایک مکمل کہانی نہیں رہا۔ یہ مسلسل جاری رہنے والا مکالمہ ہے۔ اس مکالمے کی خوبصورتی اسی وقت برقرار رہے گی جب شمال احساسِ برتری یا احساسِ محرومی کے بغیر سیکھنے کے لیے تیار ہوگا، جنوب اپنی کامیابی کو غرور کے بجائے رہنمائی کا ذریعہ بنائے گا، مشرق ماضی کے فخر کے ساتھ مستقبل کی تلاش بھی جاری رکھے گا اور مغرب معاشی خوشحالی کے ساتھ قومی یکجہتی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھے گا۔اگر ہندوستان کو واقعی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم بننا ہے تو اسے جغرافیائی تقسیم سے زیادہ ذہنی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ قومیں اس وقت عظیم بنتی ہیں جب وہ اپنے بہترین خیالات کو سرحدوں میں قید نہیں کرتیںبلکہ انہیں پورے ملک کی مشترکہ میراث بنا دیتی ہیں۔n(بشکریہ: نیوانڈین ایکسپریس)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK