کھانا پینا صرف جسمانی ہی نہیں، روحانی ضرورت بھی ہے

Updated: November 27, 2020, 2:38 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کو یہ بات معلوم ہے کہ کھاناپینا انسانی جسم کی ناگزیر ضرورت ہے کیونکہ ان کے بغیربہت دن تک انسان زندہ نہیں رہ سکتا ؛لیکن ہم میں سے اکثر لوگ اس بات سے غافل رہتے ہیں کہ کھانا پینا جسمانی ضرورت کے ساتھ روحانی ضرورت بھی ہے

Food and Health
کھانے کا صحیح انتخاب خدائی رہنمائی کی روشنی میں ضروری ہے

دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کو یہ بات معلوم ہے کہ کھاناپینا انسانی جسم کی ناگزیر ضرورت ہے کیونکہ ان کے بغیربہت دن تک انسان زندہ نہیں رہ سکتا ؛لیکن ہم میں سے اکثر لوگ اس بات سے غافل رہتے ہیں کہ کھانا پینا جسمانی ضرورت کے ساتھ روحانی ضرورت بھی ہے۔اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ ایک انسان کو روحانی اعمال کی انجام دہی کے لئے جسمانی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔مثال کے طور پر ایک صحت مند آدمی جس طرح ارکان نماز اصولِ شریعت کے مطابق ادا کرسکتا ہے ایک کمزور آدمی سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ معلوم ہوا کہ متوازن غذا اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اچھی صحت ہماری روحانی پرواز میں بے حد معاون ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں اچھی اور حلال غذا کی بار بار تاکید آئی ہے۔
یاد رکھیں!کھانے کی چیزیں حاصل کرنے سے لے کر اس کو استعمال کرنے کے ہمارے طریقے تک کا جو سلسلہ ہے، یہ سب اللہ رب العزت کے ساتھ ہمارے رشتے کی مضبوطی یا کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں، اسی وجہ سے قرآن پاک میں ایک جگہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال پاکیزہ چیزیں ہیںوہ کھائو اور شیطان کے نقشِ قدم پر مت چلو۔ یقین جانو کہ وہ تمہارے لئے ایک کھلا دشمن ہے۔ وہ تو تم کو یہ کہے گاکہ تم بدی اور بے حیائی کے کام کرو۔‘‘ (سورۃ بقرہ:۱۶۸۔۱۶۹)
اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے زمین پر موجود حلال چیزوں کو کھانے کا حکم فرمایا ہے اور ساتھ ہی شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنے کی تاکید بھی فرمائی ہے؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان اپنے مکرو فریب کے دام میں پھنسا کر حرام و نقصان دہ چیزوں کو بھی انسانوں کے سامنے مرغوب بنا کر پیش کردیتا ہے؛ اس وجہ سے کمانے سے لے کر کھانے تک ہمارے لئے بیدار مغز ہونا اور خبردار رہنا ضروری ہے کہ جو چیزیں فی نفسہ حرام ہیں جیسے شراب، خنزیر اور مردار جانور وغیرہ اور اسی طرح جو چزیں کسی عارض کی وجہ سے حرام ہوجاتی ہیں جیسے سود، رشوت اور چوری وغیرہ کا مال، ان سب سے بچنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔
کھانے کا صحیح انتخاب خدائی رہنمائی کی روشنی میں ضروری اس وجہ سے بھی ہے کہ ایسا نہ کرنے پر ہمارے لئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی بہت ہی آسان مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ حضرت آدم و حوا  علیہما السلام کے جنت سے نکلنے کی وجہ ممنوعہ کھانے کا استعمال تھا اور اسی طرح بنی اسرائیل پر من و سلویٰ کی صورت میں اللہ کی نعمتیں نازل ہوتی تھیں لیکن اس نعمت کے تئیں اُن لوگوں کی ناشکری نے اُن کے لئے مسائل پیدا کر دیئے۔ اس لئے ہمیںہمہ وقت ہوشیار  رہنا چاہئے کہ کہیں ہمارے کھانے کے غلط انتخاب سے ہمارے لئے پریشان کن مسائل نہ پیدا ہوجائیں۔  حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ موجودہ وقت میں چاہے ہماری روحانیت کے زوال کا مسئلہ ہو یا مقامی سطح سے لے کر عالمی پیمانے تک نت نئے مسائل، اِ ن سب کی ایک بڑی وجہ ہمارے کھانے پینے کاغلط انتخاب بھی ہے۔
اس بات کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل اللہ رب العزت کے پاس موجود ہے، اس لئے ہمیں اپنے تمام مسائل اللہ رب العزت کے دربار میں رکھنے  چاہئیں۔ اِس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم پہلے نماز، تلاوت اور ذکر و اذکار کریں اور پھر اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ یہ وہ روحانی طریقہ ہے جس سے ہمارے مسائل حل ہوتے ہیں؛ لیکن ہمیں یہ بھی یاد ررکھنا چاہئے کہ ہمارا یہ طریقہ اسی وقت کار گر ہوگا جب ہمارے جسم میں حلال غذا پہنچے گی، جیسا کہ ایک حدیث میں صاف طور پر اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمادیا ہے: ’’حرام کھانے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی۔‘‘ (مسلم)
جیسا کہ ہم نے مضمون کے شروع میں ذکر کیا ہے کہ کھانا پینا صرف جسمانی ضرورت نہیں بلکہ روحانی ضرورت بھی ہے کیونکہ بہت ساری عبادت کے لئے صحت ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اِس حوالے سے یہاں ایک نکتہ کی طرف ہم سب کی توجہ لازمی ہے کہ آج کے ترقی یافتہ زمانے میں کھانے پینے کی اشیاء بنانے والی بے شمار کمپنیاں ہیںاور یہ کمپنیاں اَن گنت فوڈ پروڈکٹس مارکیٹ میں لانچ کرتی ہیں۔ اِن میں سے بہت ساری کمپنیوں کا مقصد محض اپنے پروڈکٹس کو زیادہ سے زیادہ بیچنا ہوتا ہے، اُن کو اس بات سے با لکل کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ اُن کی مصنوعات کا استعمال کرنے والوں کی صحت پر بُرا اثر پڑے گا، اِس وجہ سے وہ ضرر رساں اور حرام اجزاء کا استعمال دھڑلے سے کرتی ہیں۔اِس حوالے سے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم کسی بھی پروڈکٹ کے استعمال سے پہلے اس کے اجزاء کے بارے میں ضرور جانکاری حاصل کرلیں؛ بطور خاص بچوں کو ایسی چیزیں نہ خریدوائیں جو نقصاندہ ہیں۔
چونکہ کھانے پینے کا مختلف طریقوں سے ہماری روحانیت پر بھی اثر پڑتا ہے اور مختلف روحانی بیماری جیسے دل کی سختی اور نیکی سے دوری وغیرہ کے ہم شکار ہوجاتے ہیں اس لئے اس تعلق سے اہل خانہ، سماج اور معاشرے میں بیداری ضروری ہے؛ اس کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا اور اس کی شروعات اپنی ذات سے کرنی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK