Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے غیر اُردو اخبارات میں فلسطین، سی اے جی رپورٹ اور لداخ فساد پر اداریئے

Updated: September 28, 2025, 12:57 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

لداخ میں ہونے والے تشدد کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے’سامنا‘ نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

The Prime Minister has recently given Rs 10,000 each to 75 lakh women in view of the Bihar elections. Photo: INN
وزیراعظم کی جانب سے ابھی حال ہی میں بہار الیکشن کے پیش نظر ۷۵؍ لاکھ خواتین کو ۱۰۔ ۱۰؍ ہزار روپے دیئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

غزہ میں جاری شدید انسانی بحران کے دوران فلسطینی کاز کو عالمی سطح پر مسلسل حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ انگریزی اخبار’دی فری پریس جنرل‘ نے یورپی ممالک کی جانب سے فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے پر اداریہ شائع کیا ہے۔ مراٹھی اخبار’لوک ستہ‘ نے سی اے جی کی حالیہ مالیاتی رپورٹ پر تفصیلی تبصرہ پیش کیا ہے۔ لداخ میں ہونے والے تشدد کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے’سامنا‘ نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہندی `اخبار’نوبھارت ٹائمز‘ نے سپریم کورٹ کے اس تازہ فیصلے پر اداریہ لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لیڈروں کے مجسمے نہیں بلکہ پارک تعمیر کئے جائیں۔ اس کے علاوہ دیگر غیر اردو اخبارات نے امریکی ویزا پالیسی، بہار انتخابات اور جی ایس ٹی میں تخفیف پر اداریے شائع کئے ہیں۔ 
لداخ میں مودی حکومت ناکام ہوگئی ہے
سامنا(مراٹھی، ۲۶؍ستمبر)
’’لداخ کی بغاوت دراصل بے روزگاری، مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل کے سبب حکمراں جماعت کے خلاف ملک بھر کے نوجوانوں میں پھیلتے ہوئے عدم اطمینان کا واضح ثبوت ہے۔ بلاشبہ حکمراں جماعت اور اس کے حامی ہمیشہ کی طرح اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس کے برعکس حکومت کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جائے گا کہ لداخ میں رونما ہونے والے تشدد کے پیچھے اپوزیشن کا ہاتھ ہے، اور وہ نیپال کی طرح نسلِ جین زی کو ورغلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مرکزی وزارتِ داخلہ نے لداخ تشدد کیلئے معروف ماہرِ ماحولیات اور کارکن سونم وانگ چک کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یہ سب محض ڈرامہ بازی ہے اور اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں پر پھوڑنے کے مترادف ہے۔ اگر مودی حکومت نے بروقت لداخ کے عوام کے جائز مطالبات تسلیم کر لئے ہوتے تو وہاں پر نہ تواحتجاج کی نوبت آتی، نہ ہی بدھ کے روز پرتشدد واقعات جنم لیتے۔ یہ دنیا جانتی ہے کہ مودی حکومت نے آرٹیکل ۳۷۰؍ کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر اور لداخ کو دو الگ الگ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بنادیا تھا۔ اس کے کچھ سال بعد جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کر کے وہاں کے عوام کو جزوی ہی سہی اپنی حکومت منتخب کرنے کا اختیار بھی دیا گیا، لیکن لداخ کے عوام کو اس حق سے بھی محروم رکھا گیا۔ مودی سرکار نے لداخ کو آزاد ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر عملاً لداخ کو نہ تو خود مختاری ملی اور نہ ہی اسے ریاستی درجہ دیا گیا۔ ایسے میں وہاں کے عوام کا برہم ہونا اور سڑکوں پر اُترنا فطری ہے۔ اس کیلئے وانگ چک کو ذمہ دار ٹھہرایا غلط ہے۔ ‘‘
ملک کو مجسمے نہیں، بنیادی سہولیات چاہئے 
نوبھارت ٹائمز( ہندی، ۲۴؍ستمبر)
’’سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کروناندھی کا مجسمہ نصب کرنے کی ریاستی حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سخت سوال اٹھایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ `آپ عوامی فنڈ کا استعمال اپنے لیڈروں کی تعریف کیلئے کیوں کرتے ہیں ؟ دراصل یہ سوال صرف تمل ناڈو تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی ریاستوں اور سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے۔ کیا واقعی کسی عوامی شخصیت کی یاد صرف مجسمے نصب کر کے ہی محفوظ رکھی جا سکتی ہے؟تمل ناڈو حکومت نے ترونیل ویلی میں کروناندھی کا مجسمہ نصب کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مدراس ہائی کورٹ نے عرضی خارج کردی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی کوئی راحت نہیں دی۔ دونوں عدالتوں نے واضح کیا کہ عوامی مقامات پر مجسمے لگانے سے ٹریفک متاثر ہوتا ہے اور عام لوگوں کو دشواری پیش آتی ہے۔ یاد رہے کہ ۲۰۱۳ء میں سپریم کورٹ نے صاف ہدایت دی تھی کہ عوامی جگہوں، سڑکوں اور شاہراہوں پر مجسمے یا دیگر ڈھانچے نصب نہیں کئے جائیں گے۔ کیرالا کے ترواننت پورم میں قومی شاہراہ پر مجسمہ لگانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ حکومت کا ہر فیصلہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ہونا چاہئے۔ اس عدالتی حکم کے باوجود ایسے معاملات بار بار عدالتوں میں آتے رہتے ہیں۔ مدراس ہائی کورٹ نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اگر حکومت واقعی اپنے رہنماؤں کی یاد کو قائم رکھنا چاہتی ہے تو ان کے نام سے پارک قائم کئے جائیں، جہاں نوجوان اپنے قائدین کی زندگی اور نظریات سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ ہندوستان میں سیاسی پارٹیاں اکثر مجسموں کی سیاست کرتی ہیں تاکہ اپنا سیاسی فائدہ حاصل کر سکیں، حالانکہ ملک کو آج مجسموں سے زیادہ بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ ‘‘
فلسطین کی منظوری، تاخیر سے اٹھایا گیا فیصلہ ہے
دی فری پریس جنرل( انگریزی، ۲۳؍ستمبر)
’’فرانس کے فیصلے کے بعد جولائی میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا ایک علامتی قدم ضرور ہے، لیکن یہ بہت تاخیر سے اٹھایا گیا فیصلہ ہے۔ فلسطینی عوام کی جائز خواہش خود ارادیت ہے، جس کا اظہار امن اور انصاف کیلئے تجویز کردہ’دو ریاستی حل‘ میں جھلکتا ہے۔ یہ فارمولا ۱۹۹۳ء میں اوسلو معاہدے کے تحت پیش کیا گیا تھا۔ تاہم، برطانیہ کے وزیر اعظم نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلان کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ مستقبل کی فلسطینی حکومت میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اتوار کے اعلان نے لندن کی لیبر حکومت پر موجود دباؤ کو مزید بڑھا دیا۔ اس سے قبل ۱۰۰؍ سے زائد لیبر اراکین پارلیمان نے ایک بین الجماعتی خط پر دستخط کرکے فلسطین کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیبر پارٹی کو ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں فلسطینی رائے دہندگان کو نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ مختلف ممالک کی جانب سے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت فلسطینی ریاست کے وجود کیلئے خطرہ تصور کرتی ہے اور اسے جاری تنازع کو مزید طول دینے والا اقدام قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف، امریکہ نے اپنی دھاندلی جاری رکھنے کااعلان کیا ہے۔ مطلب یہ کہ اسرائیل کے تعلق سے وہ اپنی پالیسی تبدیل کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ تل ابیب کو جدید اسلحہ فراہم کرتا رہے گا۔ اخبار کے مطابق جب تک یہ روش برقرار رہے گی، خطے میں امن کی تمام کوششیں ناکام ہی ثابت ہوں گی۔ 
ریوڑی کلچر سے ریاستیں کنگال ہورہی ہیں 
لوک ستہ( مراٹھی، ۲۲؍ستمبر)
کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے ریاستی مالیاتی سیکریٹریوں کی کانفرنس میں تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کی۲۸؍ ریاستوں پر قرض کا بوجھ دس سال میں ۱۷ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً۶۰؍ لاکھ کروڑ روپے تک جا پہنچا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران ریاستوں کے قرض کا تناسب تین گنا بڑھ کر اوسطاً ۲۲ء۹۶؍فیصد ہوگیا ہے۔ یہ اعداد و شمار مارچ۲۰۲۳ء تک کے ہیں اور امکان ہے کہ پچھلے دو برسوں میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہوگی۔ مالیاتی نظم و نسق کے مطابق قرض کا تناسب ریاست کی مجموعی آمدنی کے۲۵؍ فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں قرض کا تناسب ریاستی آمدنی کے مقابلے میں ۴۰؍ فیصد سے بھی اوپر تھا۔ ناگالینڈ (۳۷ء۱۵؍ فیصد)، مغربی بنگال (۳۳ء۷۰؍ فیصد)، ہماچل پردیش (۳۳ء۰۶؍فیصد) اور بہار (۳۲ء۵۸؍ فیصد) میں بھی قرض کا تناسب ریاستی آمدنی سے کہیں زیادہ تھا۔ اگر مہاراشٹر کی بات کریں تو بجٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے آخر تک قرض کا بوجھ۹ء۳۳؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔ سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو لبھانے کے لیے خوشنما اعلانات کرتی ہیں اور انہی لبھانے والی اسکیموں نے آج ریاستوں کو مالی بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ مہاراشٹر میں ہر سال تقریباً۴۰؍ ہزار کروڑ روپے کی خطیر رقم ’لاڈلی بہن‘ اسکیم کے تحت سبسڈی کی صورت میں تقسیم کی جارہی ہے، جبکہ کسانوں کی قرض معافی کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے عام آدمی پارٹی کا نام لیے بغیر اس کی مفت اسکیموں کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے ’ریوڑی کلچر‘ قرار دیا تھا، لیکن خود مرکزی حکومت ’پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا‘ کے تحت۸۰؍ کروڑ سے زیادہ شہریوں کو مفت اناج فراہم کررہی ہے۔ اسی طرح کے مقبول اورلوک لبھاونے نعرے اور اسکیمیں ریاستوں کو معاشی طور پر کنگال بنا رہی ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK