شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) قصر کے لئے ٹول ناکہ حکم۔ (۲) قربانی کے جانور اور ان کی عمریں۔ (۳) مال مطلوبہ نہ ملنے پر مال واپس کرنا۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 5:36 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) قصر کے لئے ٹول ناکہ حکم۔ (۲) قربانی کے جانور اور ان کی عمریں۔ (۳) مال مطلوبہ نہ ملنے پر مال واپس کرنا۔
قصر کے لئے ٹول ناکہ حکم کی بنیاد نہیں ہے!
قصر کے سلسلے میں ممبئی کی حدود شہر کے سلسلے میں معلوم کرنا تھا: دہیسر ٹول ناکہ ، اٹل سیتو، واشی ٹول ناکہ ،ملنڈ ٹول ناکہ، ایرولی پل… کیا اس وقت یہ بڑی حدود ہیں؟ محمد علی، ممبئی
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق: قصر کا حکم اپنے شہر یا بستی کی آبادی کے باہر نکلنے کے بعد ہوگا ۔جس طرف سے باہر نکل رہا ہے جب تک اس جانب کی آبادی کے آخری مکان سے تجاوز نہ کر جائے اس وقت تک پوری نماز پڑھے گا، جب اس طرف کی آبادی کے آخری مکان سے تجاوز کر جائے اس کے بعد ہی قصر کا حکم ہوگا۔ اس مسئلے میں فقہاء کا مستدل حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک اثر ہے ۔ ایک سفر کیلئے نکلتے وقت حضرت علی ؓنے آبادی سے باہر نکلنے سے پہلے ہی نماز ادا کی (وہاں آبادی ختم ہورہی تھی لیکن آخری مکان سے آگے نہیں نکلے تھے) نماز کے بعد آپ نے آخری مکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہم اس سے باہر نکل جاتے تب قصر کرتے۔ آپ نے جن مقامات کا ذکر کیا ہے ان میں جو جگہیں میرے ذہن میں ہیں وہاں شہری حدود کا اختتام تو ہو رہا ہے لیکن قدرے فرق بھی ہے مثلا دہیسر تک آبادی متصل ہے جبکہ یہاں شہر کی حد تو ختم ہورہی ہے مگر اگلی آبادی بھی فوراً شروع ہوتی ہے، واشی کی جانب آبادی پل کے ابتدا پر ختم ہورہی ہے مگر شہر کی حد آگے تک ہے اس لئے ٹول ناکہ حکم کی بنیاد نہیں ہے بلکہ جس طرف باہر نکلنا ہے اس طرف کی آبادی سے باہر آنے پر قصرکی حد شروع ہوجاتی ہے ان جگہوں سے تجاوز کے بعد قصر ہوگا اور مسافت سفر بھی یہیں سے شروع ہوگی ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حالت ِاحرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے
قربانی کے جانور اور ان کی عمریں
کیا احناف و شوافع کے یہاں قربانی کے جانوروں کی عمروں میں کچھ اختلاف ہے ، برائے کرم اس کا تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں۔ عبد اللہ ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق :قربانی کے جانور جن میں صرف ایک قربانی ہو سکتی ہے وہ ہیں :بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ۔ بڑے جانور جن میں سات حصے ہو سکتے ہیں وہ ہیں: بیل، بھینس، بھینسہ اور اونٹ نر و مادہ۔ چھوٹے ایک قربانی والے جانوروں کے لئے قربانی کے وقت مکمل ایک سال کی عمر والا ہونا ضروری ہے البتہ دنبہ چھ ماہ کا اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا نظر آئے تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ بڑے جانوروں میں بیل، بھینس وغیرہ عمر کامل دو سال اور اونٹ کی عمر کامل پانچ سال ضروری ہے۔ واضح رہے کہ جانور کی عمر میں قمری سال مراد ہے نیز یہ وہ جانور ہیں جن کی شریعت نے اجازت دی ہے مگر ہر ایک پر ان تمام کی قربانی ضروری نہیں، جہاں جیسی سہولت ہو اس کے مطابق عمل کیا جاسکتا ہے۔ حضرات شوافع کے نزدیک بکرا دوسال کا ہو نا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حضرات عام طور سے چار دانت والا بکرا تلاش کرتے ہیں۔ بڑے جانوروں کے متعلق ان کے مسلک کی تفصیل کیا ہے اس کی تحقیق نہیں ہوسکی، شوافع حضرات اپنے علماء سے دریافت کرکے عمل کریں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: قران، تمتع اور افراد: حج کی تین اقسام ہیں
مال مطلوبہ نہ ملنے پر مال واپس کرنا
زید نے ایک تاجر سے ٹرانسپورٹ کے ذریعے کچھ مال منگوایا ۔ مال کی کوالیٹی اور قیمت طے تھی ، زید آرڈر دینے کے بعد اپنے مقام پر چلا آیا اور تاجر سے کہہ دیا کہ کسی ٹرانسپورٹ کے ذریعے مال بھیج دو۔ تاجر نے مقررہ وقت پر مال روانہ بھی کر دیا مگر جب زید کے پاس مال پہنچا تو اس میں دوسرا مال تھا۔ اس صورت میں کیا وہ یہ مال واپس کرسکتا ہے؟ارشاد شیخ، نالاسوپارہ
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق: شریعت نے خریدار کو خیار عیب دیا ہے یعنی عیب ظاہر ہونے پر اسے یہ اختیار ہے کہ مال واپس کرکے اپنی دی ہوئی قیمت وصول کر لے ۔ یہاں تو مال ہی دوسرا ہے لہٰذا صورت ِ مسئولہ میں بدرجہ اولیٰ اسے واپس کرنے کا حق ہوگا۔واللہ اعلم وعلمہ اتم