Inquilab Logo Happiest Places to Work

محنت انبیائے کرامؑ کا اسوہ ہے

Updated: May 01, 2026, 5:11 PM IST | Mufti Munib Ur Rahman | Mumbai

اسلام کے نزدیک سرمایہ سب کچھ نہیں ہے،لیکن اپنی جگہ اس کی اہمیت ہے،اسی لئے اسلام میں فرض،واجب اور نفلی صدقات کا نظام ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اسلام کے نزدیک سرمایہ سب کچھ نہیں ہے،لیکن اپنی جگہ اس کی اہمیت ہے،اسی لئے اسلام میں فرض،واجب اور نفلی صدقات کا نظام ہے۔ اسلام کے قانونِ وراثت کی حکمت بھی تقسیم ِ دولت ہے۔ چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز اسلام کے نزدیک ناپسندیدہ اور حکمتِ دین کے منافی ہے۔ آج ماضی کی غلامی اپنی اصل شکل میں تو موجود نہیں ہے،لیکن سرمایہ داری کے غلبے نے قوموں اور ملکوں کو غلامی کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ اسلام محنت کو عظمت دیتا ہے اور محنت کش کو تکریم عطا کرتا ہے۔ 

 انبیائے کرام ؑ نے مختلف پیشے اختیار کر کے حِرفت کو تکریم عطا کی،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو تمہارے لئے زِرہ بنانے کا فن سکھایا تھا تاکہ وہ تمہاری لڑائی میں تمہیں ضرر سے بچائے۔‘‘(الانبیاء:۸۰)

یہ بھی پڑھئے: محنت اور محنت کش کی اہمیت تعلیماتِ اسلامی میں جانئے

امام رازی لکھتے ہیں:’’قتادہ نے کہا: سب سے پہلے جس نے زِرہ کی صنعت ایجاد کی،وہ حضرت دائود علیہ السلام ہیں،اس سے پہلے فولاد کے پتروں کو لوگ ڈھال کے طور پر استعمال کرتے،حضرت دائود علیہ السلام نے لوہے کے حلقے (چھلّے) بنائے اور اُن کو جوڑ کر قمیص تیار کر لی۔ حسن نے ذکر کیا: لقمان حکیم حضرت دائود علیہ السلام سے ملنے گئے،وہ اس وقت زِرہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے پوچھنا چاہا لیکن خاموش رہے حتیٰ کہ حضرت دائود ؑ قمیص بنا کر فارغ ہو گئے،تب انہوں نے کہا: خاموش رہنا حکمت ہے اور کم لوگ اسے اختیار کرتے ہیں۔ مفسرین نے کہا: اللہ تعالیٰ نے حضرت دائودؑکے لئے لوہے کو نرم فرما دیا تھا اور وہ اس کو آگ میں پگھلائے بغیر دھاگے کی طرح اُس سے زِرہ بُن لیتے تھے۔(تفسیر کبیر، جز:۲۲، ۱۶۳)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں: ’’یہ آیت حصولِ معاش کیلئے صنعت، کاریگری اور حرفت کی اصل ہے۔ بعض جاہل، غبی اور متکبر لوگ بعض پیشوں کو حقیر، خسیس اور گھٹیا سمجھتے ہیں،حالانکہ اسباب،صنعتوں اور پیشوں کو اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا طریقہ ہے،سو جو شخص کسی پیشے سے وابستہ ہے،وہ درحقیقت کتاب وسنت پر عامل ہے۔‘‘ مزید لکھتے ہیں: ’’حضرت آدم ؑ کاشتکاری کرتے تھے،حضرت نوح ؑلکڑی سے چیزیں بناتے تھے،حضرت لقمان درزی تھے،حضرت طالوت کپڑے رنگتے تھے۔‘‘ (تفسیر قرطبی،ج:۱۱ ، ص۳۲۰)

علامہ ا بن جوزی لکھتے ہیں: ’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بیان کیا: حضرت ادریس ؑ درزی تھے،حضرت صالح ؑ تاجر تھے،حضرت ابراہیم ؑ کھیتی باڑی کرتے تھے،حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہما السلام بکریاں چراتے تھے،حضرت دائود ؑ زِرہ بناتے تھے،حضرت سلیمان ؑ بادشاہ تھے،حضرت عیسیٰؑ  کل کے لئے کچھ ذخیرہ نہیں کرتے تھے،ہمارے نبیﷺ اپنے اہل وعیال کیلئے مقامِ اَجیاد میں بکریاں چراتے تھے،حضرت حوا اون کاتتی تھیں اور اپنے ہاتھ سے کپڑا بُن کر اپنا اور اپنے بچوں کا لباس بناتی تھیں۔‘‘  (المنتظم،ج:۲، ص:۱۴۶)

یہ بھی پڑھئے: جب ملکہ زبیدہ نے کہا: حساب، یوم حساب کے لئے چھوڑ دیا ہے!

علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے: ’’آج کل جو شخص پھیری لگا کر کندھے پر گٹھڑی رکھ کر کپڑا بیچتا ہو،لوگ اسے کمتر سمجھتے ہیں،مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی یہی کام کرتے تھے۔ ہمارے جلیل القدر ائمہ میں سے بعض مختلف پیشوں سے وابستہ رہے۔ حضرت امام احمد بن عمر الخصّاف بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے،اُن کی فقہ میں تصانیف ہیں۔ عربی میں ’’خَصَّاف‘‘ موچی کو کہتے ہیں،یہ جوتوں کی مرمت کرتے تھے۔ علامہ احمد بن محمد القدوری بہت بڑے فقیہ تھے،اُن کی عظیم کتاب ’’مُختصَر القُدُورِی‘‘ دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔ ’’قدوری‘‘ مٹی کی ہنڈیا بیچنے والے کو کہتے ہیں۔ ایک اور فقیہ علامہ محمود بن احمد اَلْحَصِیْری ہیں۔ ’’حصیری‘‘ چٹائی بُننے والے کو کہتے ہیں۔ امام ابوبکر بن علی الحدّادی بہت بڑے عالم تھے۔ انہوں نے ’’مختصر القدوری‘‘کی شرح لکھی ہے۔ عربی میں ’’حدّاد‘‘ لوہار کو کہتے ہیں۔‘‘(تبیان القرآن، ج:۷، ص۶۳۹)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK