Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاکاری سے بچیں، یہ اعمال کو ضائع کرنے کا سبب ہے

Updated: May 01, 2026, 5:22 PM IST | Saadiya Karim | Mumbai

دکھاوا کرنا اور ظاہر داری کو ریاکاری کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ محض لوگوں کو دکھانے کے لئے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی قدرو منزلت بڑھانے کیلئے کوئی بھی عمل کیا جائے۔

Only good deeds done with sincerity are accepted by Allah Almighty. Photo: INN
اخلاص کے ساتھ جو بھی نیک عمل کیا جاتا ہے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

دکھاوا کرنا اور ظاہر داری کو ریاکاری کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ محض لوگوں کو دکھانے کے لئے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی قدرو منزلت بڑھانے کیلئے کوئی بھی عمل کیا جائے۔ ریاکاری اور دکھاوا دین اور دنیا دونوں کے معاملات میں ہوتا ہے لیکن جب معاملہ دینی اعمال کا ہو تو ریاکاری ایک معیوب اور گھناؤنا فعل بن جاتی ہے کیونکہ عبادات یا نیک اعمال کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور رحمت طلبی کے بجائے لوگوں کو دکھانا ہوتا ہے کہ ہم بہت نیک، پارسا اور عبادت گزار ہیں یعنی تمام نیک اعمال اس نیت سے کئے جائیں کہ لوگوں میں عبادات گزار اور نیک مشہور ہوجائیں۔

یہ بھی پڑھئے: جب ملکہ زبیدہ نے کہا: حساب، یوم حساب کے لئے چھوڑ دیا ہے!

ریاکاری اخلاص کی ضد ہے۔ اخلاص کے ساتھ جو بھی نیک عمل کیا جاتا ہے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتا ہے اور اسی کا اجر بھی عطا کیا جاتا ہے لیکن ریاکاری کا مقصد صرف لوگوں کی ستائش کا حصول ہوتا ہے۔ اس لئے ایسا عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوتا۔ ریاکاری ایک ایسا فعل ہے جو نیک اعمال کو ضائع کردیتا ہے اور ان کی ساری حیثیت کو اللہ تعالیٰ کی نظر میں ختم کردیتا ہے۔ ریاکار اپنی طرف سے یہ سوچ کر خوش ہوتا ہے کہ وہ نیک اعمال کررہا ہے اور اس کا اجر بھی اسے ضرور ملے گا مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اسی لئے قرآن و حدیث میں اس فعل کی سنگینی کو واضح کردیا گیا ہے تاکہ لوگ اس کی تباہ کاریوں سے بچ سکیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ پس افسوس (اور خرابی) ہے ان نمازیوں کیلئے۔ جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں۔  وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں۔‘‘ (الماعون:۴۔۵)
سورۃ البقرہ میں بھی لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ احسان جتاکر اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو۔ ریاکاری کی یہاں تک وعید آئی ہے کہ جو شخص محض لوگوں کو دکھانے  کیلئے مال خرچ کرتا ہے وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ ہی آخرت پر۔ ان آیات کے مفہوم سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:
(۱) کسی کی مالی امداد کرنے کے بعد اس پر احسان جتاکر اسے تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو صدقہ ضائع ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اصل فتح اپنی انا کو شکست دینا ہے

(۲)لوگوں کو دکھانے کے لئے مال خرچ نہ کرنا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان کمزور ہونے کی دلیل ہے۔
انسان کی عبادت اور اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، اگر نیت خالص ہے تو اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوتے ہیں، اگر نیت میں کھوٹ ہے یا ریاکاری یا نام ونمود مقصود ہے تو ایسے اعمال بجائے قبولیت کے انسان کے لئے موجبِ وبال بنیں گے۔ علماء کرام نے لکھا ہے کہ اعمال کی قبولیت کی دو شرائط ہیں: پہلی شرط یہ ہے کہ وہ عمل خالص اللہ کے لیے ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ عمل سنت کے مطابق ہو۔ ان دو شرائط میں سے کوئی بھی ایک شرط نہ پائی گئی تو وہ عمل قبول نہیں ہوگا، اور ریاکاری ایسا مذموم وصف ہے کہ اس کی وجہ سے مسلمان کا بڑے سے بڑا نیک عمل اللہ کے ہاں رائی کے دانے کی حیثیت نہیں رکھتا، اور ریاکاری کے بغیر کیا ہوا چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں پہاڑ کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ریاکاری کی مذمت مختلف آیات میں بیان فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
’’پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو، اسے چاہئے کہ وہ اچھے اعمال کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ ‘‘(الکہف: ۱۱۰)

یہ بھی پڑھئے: مسجد محض عبادت کا محور نہیں بلکہ شعور و فکر کی بیداری کا مرکز بھی ہے
دوسری جگہ ارشاد ہے:’’جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئےخرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پرایمان نہیں رکھتےاور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو، وہ بدترین ساتھی ہے۔ ‘‘ (النساء: ۳۸)
ایک اور مقام پر ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
’’اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کیلئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔ ‘‘ (البقرہ:۲۶۴)
ان آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ریاکار اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ اللہ سے اس کو اجر کی توقع نہیں، کیوں کہ جس سے توقع ہوگی اُسی کے لئے عمل کیا جائے گا اور ریاکار کو خالق کے بجائے مخلوق سے اجر کی توقع ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK