جس طرح ابتدائی درسی تعلیم کیلئے ماہر اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح گھر کے اندر تعلیم و تربیت کیلئے ایسی مائوں کی ضرورت ہے جو لیاقت، فراست اور قابلیت کے ساتھ آغوش مادری کے مکتب کو چلا سکیں۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 5:26 PM IST | Dr. Dastagir Ahmed | Mumbai
جس طرح ابتدائی درسی تعلیم کیلئے ماہر اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح گھر کے اندر تعلیم و تربیت کیلئے ایسی مائوں کی ضرورت ہے جو لیاقت، فراست اور قابلیت کے ساتھ آغوش مادری کے مکتب کو چلا سکیں۔
نظام ارضی بنی آدم کے لئے ہے اور نبی آدم کی بقا کا دارو مدار مرد و عورت کے باہمی تعاون واشتراک پر ہے ۔ خالق کائنات نے ان کے اعضاء و جوارح میں فرق رکھا ہے تاکہ مرد و عورت کے درمیان کشش کا جذبہ ان کے تعاون کوممکن بناسکے۔ خالق نے ان کو ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزم بنا دیا اور دونوں کو بحیثیت انسان ہم پلہ و ہم درجہ قرار دیا تاکہ حیات انسانی کی گاڑی توازن کے ساتھ چلتی رہے۔ مرد کو قدرت نے قوت و طاقت عنایت فرمائی تو عورت کو لطافت و نزاکت ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے’’مرد عورتوں پر محافظ و منتظم ہیں‘‘ (النساء:۳۴) عورتوں کی جسمانی ساخت اور فطرت میں جونرمی ہے اس کا تقا ضا یہ ہے کہ اسے مرد کی محافظت حاصل ہو۔ اور مرد کو یہ فوقیت اسی وقت تک ہے جب وہ خدا کی مرضی کے مطابق قوامیت کے فرائض ادا کر رہا ہو ۔آج دنیا میں مرد و عورت دونوں ایک دوسرے پر برتری ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ لازمی امر ہے کہ فیصلہ کرنے میںوہ عدل و انصاف سے کام نہیں لیں گے۔ اس صورت میں تیسرے کو جج بنانا ہوگا جو تنازع کا ایمانداری کے ساتھ حل تلاش کرے ، یعنی خالق کائنات کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔اس نے اپنی قدرت کا ملہ سے مرد و عورت دونوں کو پیدا کیا ہے سب سے بہترفیصلہ کرنے والا خالق کائنات ہی ہوسکتا ہے۔ اس نوعیت کے متنازع امور کے فیصلہ کے لئے قرآن کی شکل میں اس نے کتاب ہدایت بھیجی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’بیشک ہم نے آپ کے پاس ایک سچی کتاب قرآن نازل کی ہے تا کہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘ (النساء: ۱۰۵)
یہ بھی پڑھئے: ریاکاری سے بچیں، یہ اعمال کو ضائع کرنے کا سبب ہے
دانشو رکہتے رہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں نا قص ہے یا یہ کہ انسان کی حیثیت میں مرد کو عورت پر مطلق فضیلت حاصل ہےلیکن قرآن ان باتوں کی تر دید کرتا ہے۔ قرآن کی نظر میں انسان مرد وعورت دونوں ہی کمزور پیدا کئے گئے ہیں دونوں کا علم قلیل ہے۔انسان جلد باز ہے متلون مزاجی ،بخل ، جھگڑا لوپن، بے انصافی اور نادانی اور ناشکری کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اسلام میں مرد و عورت دونوں کے فرائض و حقوق کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ روئے زمین پر ایک صالح معاشرہ کا قیام عمل میں آسکے۔ قرآن نے عورت و مرد دونوں کو اصل مقصد حیات کی طرف متوجہ کیا ہے، انہیں انسانیت کے احترام کا درس دیا ہے اسلام نے عورت کو اس کے حقوق سے روشنا س کر ایا اور معاشرے میں عورت کو بلند مقام عطا کیا۔
انسانی معاشرے میں عورت کے رول کو اسلام نے تسلیم کیا، عورتوں کو اختیار دیا کہ وہ شرعی حدود میں رہ کر تعلیم حاصل کریں تعلیم ایسی نہ ہو جو خدا سے برگشتہ کرے دین سے بیزار اور فرائض حیات سے غافل بنادے بلکہ ایسی تعلیم حاصل کرنی چاہئے جو دل میں خوف خدا پیدا کرے، پرہیز گاری ، ایمانداری ، صبرو قناعت، صداقت و دیانت، فیاضی و سخاوت، رحم دلی وہمدردی کی شمع روشن کرے۔
یہ بھی پڑھئے: محنت انبیائے کرامؑ کا اسوہ ہے
اسی طرح بچوں کی تعلیم و تربیت کا مسئلہ نہایت اہم ہے۔ بچپن میں بچوں کے اندر غور و فکر کا مادہ زیاد ہ نہیں ہوتا وہ اپنے گھر کے اندر جس قسم کا ماحول دیکھتے ہیں اس کے اثرات دل و دماغ میں جمالیتے ہیں۔ یہ اثرات زندگی بھر باقی رہتے ہیں اور وہی طرز تمدن اور معاشرت کی بنیاد ہوتے ہیں ان پر اجتماعی اخلاق و کردار کی تعمیر ہوتی ہے۔ جس طرح ابتدائی درسی تعلیم کیلئے ماہر اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح گھر کے اندر تعلیم و تربیت کے لئے ایسی مائوں کی ضرورت ہے جو لیاقت، فراست اور قابلیت کے ساتھ آغوش مادری کے مکتب کو چلا سکیں۔ عمدہ عادات اور خصائل حمیدہ کے ذریعے بچوں کے لئے نمونہ بن سکیں تا کہ وہ بڑے ہوکر خاندان ، قوم، ملک اور انسانیت کے لئے خیر کا باعث ہوسکیں۔