• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مچھلی پکڑ کر دینا بہتر ہے یا مچھلی پکڑنا سکھانا؟

Updated: October 30, 2026, 12:47 PM IST | Zia-ur-Rahman Mazhar-ul-Haq Ansari | Bhiwandi

بچے کو صرف مچھلی پکڑنا نہ سکھایا جائے بلکہ اسے یہ سوچنے کے قابل بھی بنایا جائے کہ مچھلی کہاں ملے گی، کون سا طریقہ زیادہ مؤثر ہوگا، بدلتے حالات میں کون سا نیا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا اور اگر مچھلی دستیاب نہ ہو تو متبادل کیا ہو سکتا ہے۔ یہی خود انحصاری، تخلیقی فکر اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت تعلیم کا اصل حاصل ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کسی کو روز مچھلی پکڑ کر دینا بہتر ہے یا اسے مچھلی پکڑنا سکھانا؟ یہ سوال محض ایک حکیمانہ کہاوت نہیں بلکہ تعلیم کے بنیادی فلسفے کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کی معنویت آج پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ اب تعلیم کا مقصد صرف بچے کو کچھ سکھا دینا نہیں بلکہ اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ خود سیکھ سکے، اپنے مسائل حل کر سکے اور بدلتے حالات میں اپنی راہ تلاش کر سکے۔ ماہرینِ تعلیم کا ایک معروف قول ہے... 

The object of teaching a child is to enable him to get along without a teacher.... 

یعنی بچے کو تعلیم دینے کا مقصد اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ استاد کے سہارے کے بغیر بھی آگے بڑھ سکے۔

سہارا دینے کے بجائے قابل بنانا

جدید تعلیم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہونے والی ماریہ مونٹیسوری کا تعلیمی فلسفہ بھی بچے کی خودمختاری، اس کی فطری جستجو اور خود سیکھنے کی صلاحیت کے فروغ پر زور دیتا ہے۔ اس تصور میں استاد کا کردار بچے کو ہر قدم پر سہارا دینے کے بجائے اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ بتدریج اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکے۔ گویا تعلیم کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ بچہ استاد کی مدد سے کتنا کچھ کر لیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ استاد کی مدد کے بغیر کتنا کچھ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ تعلیم کے بیشتر جدید نظریات اس اصول کی تائید کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے کلاس روم بھی اس کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں؟ کیا ہماری تدریس بچوں کو خود سوچنے، سوال کرنے، تجربہ کرنے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے؟ یا ہم آج بھی انہیں تیار شدہ معلومات، طے شدہ جوابات اور یاد کرنے کیلئے دیے گئے اسباق تک محدود رکھے ہوئے ہیں؟

تبدیلی کی رفتار نے تعلیم لیے ایک بڑا چیلنج پیش کیا ہے۔ اس چیلنج کی اہمیت سمجھنے کیلئے ہمیں اپنے عہد کی رفتار کو سمجھنا ہوگا۔ ہمارا سماج غیرمعمولی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ خاندانی اقدار، رہن سہن، انسانی تعلقات، زبان و بیان، اخلاقی تصورات، کھانے پینے کی عادات، ذرائع آمدورفت، تجارت، معیشت، بازار، کرنسی، ٹیکنالوجی اور معلومات تک رسائی کے طریقے، سب کچھ بدل رہا ہے۔ سائنس، ریاضی اور دیگر مضامین کی افادیت اور ان کے استعمال کے دائرے بھی نئے تقاضوں سے ہم کنار ہیں۔ خود تعلیم کے مقاصد، اسکولوں کے ڈھانچے اور ڈگریوں و اسناد کی عملی اہمیت بھی نئے سوالات کی زد میں ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو اس کی رفتار ہے۔ ایک زمانے میں تعلیمی پالیسیاں کئی دہائیوں تک، نصابی فریم ورک ۱۵۔۱۰؍ برس تک اور نصابی کتابیں طویل عرصے تک اپنی افادیت برقرار رکھ سکتی تھیں، لیکن آج حالات اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ ایک نصاب مرتب ہونے اور اس کے عملی نفاذ کے دوران ہی زندگی کے تقاضوں میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اروناچل پردیش کی ایک قبائلی آبادی ’’نئیشی‘‘

تدریس کے طریقوں میں جدت

ایسے میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی نصابی کتاب اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ وہ دس برس بعد بھی اتنی ہی مؤثر اور بامعنی ہوگی جتنی آج ہے؟ اس عرصے میں ایک پوری نسل پروان چڑھ سکتی ہے، جس کی دلچسپیاں، ضروریات، معلومات تک رسائی اور سیکھنے کے انداز اپنے پیش روؤں سے مختلف ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نصاب اور نصابی کتابیں غیرضروری ہو گئی ہیں۔ مسئلہ ان کی اہمیت کا نہیںبلکہ ان کی حدود کا ہے۔ نصاب علم کی سمت متعین کرتا ہے لیکن ہر بدلتے ہوئے سوال کا جواب فراہم نہیں کر سکتا۔ نصابی کتاب بنیادی تصورات سے روشناس کراتی ہے، لیکن زندگی کے ہر نئے تجربے کو اپنے صفحات میں سمو نہیں سکتی۔ اسلئے نصاب اور زندگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو صرف کتابیں بدل کر کم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے تدریس کے طریقوں میں مسلسل جدت، لچک اور زمانے کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔

نئے چیلنجز کا سامنا 

یہیں Real-time Teaching، یعنی تدریس کو موجودہ زندگی اور اس کے حقیقی مسائل سے جوڑنے کا تصور اہم ہو جاتا ہے۔ ایسی تدریس جو طالبِ علم کو صرف ماضی میں مرتب کیے گئے علم سے واقف نہ کرائے بلکہ اسے اپنے زمانے کے سوالات سمجھنے، نئے چیلنجز کا سامنا کرنے اور مستقبل کیلئے خود کو تیار کرنے کا اعتماد بھی بخشے۔ ہم طویل عرصے سے اکیسویں صدی کی مہارتوں کی بات کرتے آئے ہیں، لیکن اب اکیسویں صدی کی پہلی چوتھائی بھی گزر چکی ہے۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم بچوں کو اکیسویں صدی کیلئے تیار کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تدریس آج کی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟ کیا ہم بچوں میں تنقیدی فکر، تخلیقی صلاحیت، اظہار و ابلاغ، اشتراک، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، نئی صورتِ حال میں سیکھنے کی اہلیت، فیصلہ کرنے کا اعتماد پیدا کر رہے ہیں؟

تجربات سے جڑا ہوا علم

نصاب اور نصابی کتاب کو ایک ایسے راستے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جو منزل کی سمت متعین کرتا ہے، لیکن اس راستے پر چلتے ہوئے اگر استاد بچوں کو صرف مقررہ رفتار سے آگے بڑھاتا رہے اور راستے میں آنے والے مناظر، تجربات اور امکانات کی طرف متوجہ ہونے کا موقع نہ دے تو سفر محض فاصلہ طے کرنے کا عمل بن کر رہ جائے گا۔ اس کے برعکس، ایک باشعور استاد راستے میں آنے والے سوالات پر ٹھہرتا ہے، بچوں کو اپنے مشاہدات بیان کرنے دیتا ہے، ماحول سے مثالیں تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور زندگی کے تجربات کو سبق کا حصہ بناتا ہے۔ بچے اپنے گردوپیش کو دیکھتے، اس پر غور کرتے، سوال اٹھاتے اور پھر نصاب کی طرف لوٹتے ہیں تو کتاب کے الفاظ محض معلومات نہیں رہتے، زندگی کے تجربات سے جڑا علم بن جاتے ہیں۔ یہ وہ ہنر ہے جو برسوں پرانی کتاب کو بھی آج کے طالب علم کیلئے تازہ اور بامعنی بنا سکتا ہے۔

آئیے ہم ان اصولوں کو زبان کی تدریس کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے یہاں زبان کی تدریس محض زبان سکھانا ہے یا اظہار کا حوصلہ دینا بھی؟ اگر زبان کا استاد گرامر، قواعد، تشریح اور سوالات کے جوابات تک محدود رہ جائے تو ممکن ہے کہ طالب علم امتحان میں اچھے نمبر حاصل کر لے، لیکن کیا وہ اپنی بات اعتماد کے ساتھ دوسروں تک پہنچانے کے قابل بھی ہو جائے گا؟ آج ابلاغ  کی صلاحیت محض ایک اضافی وصف نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، سماجی تعلقات اور عملی زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ اسلئے  زبان سکھانے کا مقصد صرف درست جملے بنانا نہیں بلکہ اپنے خیالات کو تشکیل دینا، انھیں واضح طور پر بیان کرنا، دوسروں کی بات سمجھنا اور اختلافِ رائے کو مہذب انداز میں قبول کرنا بھی ہے۔ بچے کو پہلے سوچنے اور اپنے خیال کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔ زبان کی درستی، قواعد اور اسلوب کی اصلاح اسی عمل کا حصہ بنیں، اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اگر ہر اظہار سے پہلے غلطی کا خوف مسلط کر دیا جائے تو بچے کی سوچ اور تخلیقی صلاحیت دونوں محدود ہو سکتی ہیں۔ زبان کی کامیاب تدریس وہ ہے جو بچے کو بولنے، لکھنے، سوال کرنے، مکالمہ کرنے اور اپنے انداز میں اظہار کی آزادی دے۔ اس آزادی کے ساتھ رہنمائی اور اصلاح بھی ضروری ہے، ایسی اصلاح جو اعتماد پیدا کرے۔

تدریس کا ایک اہم اصول

یہاں تدریس کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: سوال حل کرنا یقیناً ضروری ہے، لیکن سوال پیدا کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب بچہ کسی بات پر غور کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک نیا سوال جنم لیتا ہے۔ سوال سے جستجو پیدا ہوتی ہے، جستجو تحقیق کی طرف لے جاتی ہے اور تحقیق علم کے نئے دروازے کھولتی ہے۔ بچہ جب خود کسی حقیقت تک پہنچتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ حقیقت ہمارے لیے پہلے سے معلوم ہو، لیکن اس بچے کیلئے وہ ایک دریافت ہوتی ہے۔ اس دریافت سے حاصل ہونے والی خوشی، خود اعتمادی اور سیکھنے کا انبساط محض تیار شدہ جواب یاد کروا کر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔تدریس کے اسی فن کو سائنس اور ریاضی کے حوالے سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ رٹنے سے آگے کا سفر ہے۔ سائنس اور ریاضی کی تدریس میں بھی یہی اصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر سائنس کی تعلیم تعریفوں، قوانین، خاکوں اور تجربات کے نتائج یاد کرنے تک محدود ہو جائے تو ہم سائنس کے علم سے تو واقف کرا سکتے ہیں، لیکن سائنسی طرزِ فکر، سائنسی شعور اور سائنسی مزاج پیدا نہیں کر سکتے۔ سائنس کا ایک اہم مقصد مشاہدے کی قوت، شواہد کی بنیاد پر سوچنے کی صلاحیت اور سوالات کی جانچ کرنے  کا سلیقہ پیدا کرنا ہے۔ یہ صلاحیتیں صرف سبق پڑھا دینے یا تجربے کا طریقۂ کار سمجھا دینے سے پیدا نہیں ہوتیں۔ اس کیلئے بچوں کو خود مشاہدہ کرنے، اپنے ماحول سے مثالیں تلاش کرنے، نتائج کا تقابل کرنے اور اپنے نتائج کی توجیہہ پیش کرنے کے مواقع دینا ضروری ہے۔ اگر استاد پودوں کی نشوونما پڑھا رہا ہے تو بچے اسکول کے باغیچے میں مختلف پودوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اگر پانی کے بخارات بننے کا عمل زیرِ بحث ہے تو روزمرہ زندگی کی مثالوں سے اس تصور کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یوں سائنس کتاب کے صفحات سے نکل کر بچے کے تجربے کا حصہ بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شاہین باغ سے جنترمنتر تک، خواتین کی شکل میں احتجاج کی بلند آواز

فارمولے یاد کر لینا کافی نہیں

ریاضی میں بھی محض فارمولے یاد کر لینا کافی نہیں۔ بچے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی فارمولا کیوں درست ہے، کہاں استعمال ہوتا ہے اور حقیقی زندگی کے کن مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پیمائش، خرید و فروخت، فاصلوں کا حساب، اعداد و شمار کا تجزیہ اور ٹھوس اجسام کے ذریعے جیومیٹری کے تصورات سمجھنا ریاضی کو زندگی سے جوڑنے کے مؤثر طریقے ہیں۔ اس کے ساتھ بچوں کو خود ریاضی کے سوال بنانے، ایک مسئلے کے مختلف حل تلاش کرنے اور اپنے طریقۂ حل کی وضاحت کا موقع بھی ملنا چاہیے۔ مقصد صرف درست جواب تک پہنچنا نہیں، بلکہ درست جواب تک پہنچنے کے عمل کو سمجھنا بھی ہے۔

تدریس کے طریقے بدلے بغیر نصاب اور کتابوں میں تبدیلی اکثر اپنی پوری افادیت حاصل نہیں کر پاتی۔ کتاب میں نیا مواد شامل کر دینا کافی نہیں؛ ضروری یہ ہے کہ بچے کے سیکھنے کا تجربہ بھی نیا ہو۔ آج کا بچہ ایسی دنیا میں پرورش پا رہا ہے جہاں معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ایک سوال کا جواب چند لمحوں میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ذرائع اور آن لائن وسائل نے علم تک پہنچنے کے راستے بدل دیے ہیں۔ اس صورتِ حال میں استاد کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کے کردار کی نوعیت بدل گئی ہے۔ اب استاد کی ذمہ داری صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ یہ سکھانا بھی ہے کہ کون سی معلومات قابلِ اعتماد ہیں، کسی دعوے کو شواہد کی روشنی میں کیسے پرکھا جائے، مختلف آرا کا تقابل کیسے کیا جائے اور حاصل شدہ معلومات کو کسی نئے مسئلے کے حل کیلئے کس طرح استعمال کیا جائے۔

جواب کی جانچ کرنے والا بنانا

اس دور میں بچے کو محض جواب دینے والا نہیں، جواب کی جانچ کرنے والا بھی بنانا ہوگا۔ اسے معلومات کا صارف ہی نہیں، علم کی تلاش میں شریک بنانا ہوگا۔ اسے یہ اعتماد دینا ہوگا کہ وہ سوال کر سکتا ہے، اختلاف کر سکتا ہے، تجربہ کر سکتا ہے اور غلطی سے سیکھ سکتا ہے۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب کلاس روم میں استاد کی آواز کے ساتھ طالبِ علم کی آواز بھی سنائی دے۔ جب خاموشی کو ہمیشہ توجہ کی علامت نہ سمجھا جائے، سوال کو گستاخی نہ تصور کیا جائے اور غلطی کو ناکامی کے بجائے سیکھنے کے ایک مرحلے کے طور پر دیکھا جائے۔ممکن ہے کہ مستقبل کے طلبہ مزید خودمختار ہوں، ان کے سیکھنے کے ذرائع اور طریقے آج سے بالکل مختلف ہوں۔ وہ معلومات حاصل کرنے کیلئے استاد کے محتاج نہ رہیں، لیکن انھیں درست سمت، تنقیدی رہنمائی، مکالمے، انسانی تجربے اور فکری تربیت کی ضرورت پھر بھی رہے گی۔ اسلئے مستقبل کے معلم کو اپنے کردار سے دستبردار نہیں ہونابلکہ اسے نئے تقاضوں کے مطابق ازسرِنو متعین کرنا ہے۔ اسے اب تدریس کا نیا فن سیکھنا ہوگا۔ تعلیم کا اصل کمال اس میں نہیں کہ استاد نے کتنا پڑھایا بلکہ اس میں ہے کہ طالب علم نے کتنا سمجھا، کتنا سوچا اور سیکھنے کی کتنی صلاحیت اپنے اندر پیدا کی۔ کتاب کی اپنی اہمیت ہے، نصاب کی اپنی ضرورت اور استاد کی اپنی انفرادیت، لیکن ان تینوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان کے ذریعے بچے کے اندر سیکھنے کی خواہش اور خود سیکھنے کی صلاحیت کس حد تک پیدا ہو رہی ہے۔

ایک دن کی ضرورت اور خود کفالت

مچھلی پکڑ کر دینے سے ایک دن کی ضرورت پوری ہوتی ہے، لیکن مچھلی پکڑنا سکھانے سے خود کفالت کی راہ کھلتی ہے۔ تاہم آج کی تعلیم کا تقاضا اس سے بھی آگے ہے۔ بچے کو صرف مچھلی پکڑنا نہ سکھایا جائے، بلکہ اسے یہ سوچنے کے قابل بھی بنایا جائے کہ مچھلی کہاں ملے گی، کون سا طریقہ زیادہ مؤثر ہوگا، بدلتے حالات میں کون سا نیا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا اور اگر مچھلی دستیاب نہ ہو تو متبادل کیا ہو سکتا ہے۔ یہی خود انحصاری، تخلیقی فکر اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت تعلیم کا اصل حاصل ہے۔ آنے والے وقت میں کامیاب معلم وہ نہیں ہوگا جو ہر سوال کا جواب جانتا ہو، بلکہ وہ ہوگا جو بچوں کو جواب تلاش کرنے کا سلیقہ سکھا سکے۔ جو ان کے اندر جستجو کی ایسی شمع روشن کرے جو استاد کی موجودگی میں بھی روشن رہے اور اس کی غیرموجودگی میں بھی۔ اب ضرورت صرف بچوں کو پڑھانے کے نئے طریقے اپنانے کی نہیں، بلکہ خود تدریس کے فن کو نئے سرے سے سیکھنے کی ہے۔ کیونکہ مستقبل کی تعلیم میں سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ بچے ہم سے کتنا سیکھتے ہیں، بلکہ یہ ہوگی کہ ہمارے بعد وہ خود کتنا سیکھ سکتے ہیں۔

مضمون نگار رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی کے پرنسپل ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK