Updated: October 28, 2026, 10:06 PM IST
| Beijing
اے آئی سے تیار کردہ نو عمر کردار، جنہیں ”ژیاؤ ہائی“ (Xiaohai) کے نام سے جانا جاتا ہے، تنہائی کا شکار معمر ناظرین کو جذباتی کہانیاں سنا کر مہنگی ترین مصنوعات خریدنے پر مائل کرکے لوٹ رہے ہیں۔ قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فروخت بڑھانے کیلئے من گھڑت کہانیاں گھڑنا دھوکہ دہی اور فراڈ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ما لیانگ نے کہا کہ یہ رجحان معمر افراد میں پائی جانے والی گہری تنہائی کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو جذباتی خلا کو پُر کرنے کیلئے ڈجیٹل رابطوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے بعد سے ژیاؤ ہائی کی زیادہ تر ویڈیوز پلیٹ فارمز سے ہٹا دی گئی ہیں۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ نو عمر کردار، جنہیں ”ژیاؤ ہائی“ (Xiaohai) کے نام سے جانا جاتا ہے، چین کے شارٹ ویڈیو پلیٹ فارمز پر چھائے ہوئے ہیں۔ نہایت معصوم دکھائی دینے والے یہ کردار، تنہائی کا شکار معمر ناظرین کو جذباتی کہانیاں سنا کر مہنگی ترین مصنوعات خریدنے پر مائل کرکے لوٹ رہے ہیں۔ یہ اوتار عام طور پر اسکول یونیفارم میں ملبوس نوعمر لڑکوں کے روپ میں نظر آتے ہیں، جو روتے ہوئے اپنی غربت زدہ زندگیوں کا احوال سناتے ہیں اور ناظرین کو پیار سے ”خالہ“ اور ”اماں“ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت اگلے۲۰؍ برسوں میں معاشی و سماجی اتھل پتھل پیدا کر سکتی ہے: بل گیٹس
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ایسا ہی ایک کردار اکیلے بیٹھ کر بن (steamed bun) کھانے کیلئے کلاس روم میں چھپنے کا شکوہ کرتا ہے؛ دوسری ویڈیو میں، ایک لڑکا اسکول کی فیس ادا نہ کرنے پر غنڈہ گردی اور تضحیک کا نشانہ بننے کی تصویر کشی کرتا ہے اور ناظرین سے سیلز کا ہدف پورا کرنے کیلئے بَک وہِیٹ سیریل (buckwheat cereal) خریدنے کی التجائیں کرتا ہے۔ ایسے ہی کچھ کردار ہیلتھ سپلیمنٹس اور گھریلو اشیاء کی تشہیر کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے حاصل ہونے والی رقم ایک تنہا باپ (سنگل فادر) کی مدد کیلئے استعمال ہوگی۔ تاہم، ان مصنوعات پر اکثر غیر معمولی منافع جوڑا جاتا ہے۔ کھانے کے تیل کی ایک بوتل جو ۹۹ یوآن (تقریباً ۱۴۱۰ روپے) میں فروخت کی جاتی ہے، دیگر مقامات پر صرف ۶۰ یوآن (تقریباً ۸۶۰ روپے) میں دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انتھروپک آئی پی او کے دستاویزات سے اربوں کے نقصانات اور اے آئی کے خطرات کے شدید انتباہات کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق، معمر افراد کے ساتھ فراڈ کرنے اور انہیں لوٹنے کا یہ طریقہ انتہائی منافع بخش ہے، جس میں کمیشن مبینہ طور پر ۵۵ فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک صنعتی اندرونی ذریعے نے ’دی بیجنگ نیوز‘ کو بتایا کہ عوامی سطح پر دستیاب اے آئی پرامپٹس استعمال کرنے والے تخلیق کار روزانہ ۲۰۰۰ سے ۳۰۰۰ یوآن (تقریباً ۲۹ ہزار روپے سے تقریباً ۴۳ ہزار روپے) کما سکتے ہیں۔ چینی پلیٹ فارمز پر ژیاؤ ہائی سے متعلق مواد ۶۰ کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ اس مواد کے بیشتر فالوورز ادھیڑ عمر کے افراد یا معمر صارفین ہیں جو ایسے ویڈیوز کے کمنٹس سیکشن کو پیار اور ہمدردی بھرے پیغامات سے بھر دیتے ہیں، جیسے ”پیارے بیٹے، مما نے چار چیزیں آرڈر کر دی ہیں۔ تمہیں خوب سارا پیار۔“
یہ بھی پڑھئے: ٹاپ اے آئی ماڈلز کی پانی، بجلی نظام پرسائبر حملوں کی۹۰؍ فیصد کامیاب منصوبہ بندی
کچھ معاملات میں، یہ لگاؤ اسکرین سے آگے تک جا پہنچا ہے۔ مئی میں، ارومچی پولیس نے ایک ۷۹ سالہ ان پڑھ خاتون کو روک لیا تھا جو لائیو اسٹریم کے دوران دعوت دیئے جانے پر شانسی صوبے میں ”ژیاؤ ہائی“ سے ملنے کیلئے اکیلے ٹرین کا سفر کر رہی تھیں۔ پولیس افسران نے ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا اور گھر واپسی کا انتظام کرنے سے قبل وضاحت کی کہ یہ کردار دراصل اے آئی سے تخلیق کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فروخت بڑھانے کیلئے من گھڑت کہانیاں گھڑنا دھوکہ دہی اور فراڈ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ما لیانگ نے کہا کہ یہ رجحان معمر افراد میں پائی جانے والی گہری تنہائی کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو جذباتی خلا کو پُر کرنے کیلئے ڈجیٹل رابطوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے بعد سے ژیاؤ ہائی کی زیادہ تر ویڈیوز پلیٹ فارمز سے ہٹا دی گئی ہیں، اگرچہ اس مبینہ فراڈ کے مجموعی حجم کا ابھی تک انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چین: بے روزگار افراد اہلِ خانہ سے اپنی بے روزگاری چھپانے کیلئے کام پر جانے کا جھوٹا ڈھونگ رچا رہےہیں
دریں اثناء، ٹیکنالوجی سے واقفیت رکھنے والے صارفین نے اپنے والدین کو خبردار کرنے کیلئے ”ایول ژیاؤ ہائی“ (شریر ژیاؤ ہائی) کے عنوان سے طنزیہ پیروڈی ویڈیوز بنانا شروع کر دی ہیں، جن میں ان اوتاروں کو جیل کے کپڑوں میں ملبوس یا پرتعیش اشیاء کی نمائش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں وہ خود اپنے ہی استحصال کے ہتھکنڈوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔