اپنے رویے کا جائزہ لینا ذہنی انتشار سے بچائے گا

Updated: November 08, 2020, 11:40 AM IST | Mubarak Kapdi

اکثر اوقات لوگ اپنے ذہنی انتشار ، یاسیت، قنوطیت اورپست ہمتی کے اسباب باہر تلاش کرتے ہیں، شاید اسلئے کہ اس کی وجہ سے کسی کو مورد الزام ٹھہراناآسان ہوجائے لیکن اگر ہم حالات کا غیر جانب دارنہ جائزہ لیں تو اس کا سبب اپنی فکر اور اپنے رویے ہی کو پائیں گے

Mental Health - Pic : INN
ذہنی صحت ۔ تصویر : آئی این این

کورونا وائرس کے دَور میں ہم نے دیکھا کہ زندگی اُمّید اور خوف کے درمیان سانس لیتی رہتی ہے۔ بے یقینی کے ماحول میں وسوسے، اندیشے، اٹکلیں قطار اندر قطار ہیں۔ دراصل کسی بھی آندھی و طوفان میں مزید ہوش مندی کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ لہریں برہم ہوں تو ملّاح اور بھی زیادہ  محتاط ہوجایا کرتے ہیں۔ ایک خوردبینی جرثومے نے عالمی سطح پر جو تباہی مچائی ہوئی ہے اُس سے ذہنی صحت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہم اُسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
 (۳۱)ایک بڑی اور بُری ذہنی بیماری کا نام ہے حسدا ور جلن۔ یہ بچپن میں گھر سے شروع ہوجاتی ہے۔ والدین وہیں اُسے جڑ سے ختم کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور وہ پھر تعلیمی کیمپس میں آجاتی ہے اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے اسی بنا پر منفی مقابلہ آرائی شروع ہوجاتی ہے۔دراصل حیوانات، نباتات اور جمادات میں کوئی مقابلہ نہیں ہوتا۔ صرف انسانوں میں مقابلہ ہوتا ہے البتہ کھانا پینا، زمین جائیداد، نام و شہرت کے مقابلے میں انسان حیوان سے بھی بُرا بن جاتا ہے اور اُس کیلئے حسد، جلن، دھونس، دھاندلی، جھوٹ، فریب، بدعنوانی، کردار کشی اور نہ جانے کن کن خباثتوں کو اپنا لیتا ہےجس سے انسان کی ساری طاقت، انرجی اور وقت دوسروںکو نیچا دکھانے میںضائع ہو جاتاہے۔ نوجوانو! آپ کو یہ سمجھ لیناہے کہ جس کسی سے حسد کیا جائے اس کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا کیوں کہ اگر قدرت نے کسی کو عقل،  فہم، ادراک ، عمل کا جذبہ، کامیابی کامرانی  اور خوشحالی عطا کرنے کا طے کیا ہے توکوئی اس کے خلاف حسد و جلن میں کتنا ہی جلتا رہے، اس سے کچھ نہیں بگڑتاالبتہ حاسد کسی کا خوشی کی وجہ سے ہونے والا لال چہرہ دیکھ کر کچھ نہیں سوچتا اور اپنے گال پر تھپّڑ مار مار کر سُرخ کرلیتاہے۔ کسی حاسد کو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ اُنھیں قدرت نے اُن کے حسد کی یہ سزا دی ہے کہ وہ ہمیشہ اُس آگ میں جلتے رہیں۔ دراصل حسد و جلن کی بنا پر آپ کسی کی پیش رفت روک نہیں سکتے، البتہ آ پ خود مایوسی اور فرسٹریشن کا شکار ہوجائیں گے، یہ لگ بھگ طے ہے۔
 (۳۲)نوجوانو! لاک ڈائون کے اِن ۸؍ماہ میں آپ نے مشاہدہ کیا کہ معاشرے میں سب سے زیادہ کنفیوژن سیاست دانوں نے پیدا کئے۔ اہلِ اقتدار و اہلِ اختیار اگر بے حِس و بے ضمیر ہوجائیں تو معاشرے میں انتشار پھیل ہی جاتا ہے۔ انہی کی بنا پر آج لگ رہا ہے کہ اس دَور میں ابہام کی دُھندلَپٹی ہوئی ہے، ابہام درابہام، ظلمات در ظلمات، اندھیرے کے اوپر اندھیرا مگر ہم نئی نسل سے پُر اُمّید ہیں۔یہ سیاست داں اب نویں / دسویں جماعت ہی میں سیاسی سائنس نام کا مضمون پڑھا رہے ہیں، صرف اسلئے کہ ۱۸؍سال مکمل ہوتے ہی سیاسی گدھ اِن کے سب سے بڑے جمہوری حق یعنی ’ووٹ‘کو اُچک لے جائیں۔ معاشرے میں انتشار پھیلانے کی سیاست دانوں کی اِن کوششوں کو جدیدٹیکنالوجی سے ناکام بنائیں۔ سیاست داں عوام کے کمزور حافظے کا فائدہ اُٹھاتے رہتے ہیں۔بھلا ہو جدید ٹیکنالوجی کا جو اَب عوام کو کچھ بھولنے نہیں دے گی۔ اربابِ حکومت کی فریب کاریاں، جھوٹے وعدے، گمراہ کُن اعداد و شمار اب ٹیکنالوجی کے ہارڈ ڈسک پر محفوظ ہورہے ہیں۔ ہمارے نوجوان معاشرے کے ذہنی انتشار کو ختم کرسکتے ہیں۔
 (۳۳) موجودہ دَور کے حالات ہمارے نوجوانوں میںذہنی انتشار کا ایک بڑا سبب ہے فرضی خبریں۔ ٹی وی کے بِکے ہوئے چینلوں کی بریکنگ نیوز، سوشل میڈیا پر کئے جانے والے تبصرے اورکمنٹس اُسے پوری طرح ڈسٹرب کرنے کیلئے کافی ہوتےہیں۔ جب جب وہ کتاب کھولتا ہے، زندگی کی کوئی منصوبہ بندی کرتا ہے، نفرت کے سوداگروں کی زہریلی تقریریں اس کے کان میں گونجتی ہیں۔ ساری پڑھائی کوچھوڑچھاڑ کر وہ یہ سوچنا شروع کردیتا ہے کہ وہ خوداور اُس کے گھر والے کہاں جاکر پناہ لے لیں؟ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ نہ جانے کتنی نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔دوستو! ایسا اسلئے ہوتا ہے کہ آپ نے کالج میںکیمسٹری ، فزکس، اکائونٹنسی اور اکنامکس پڑھا مگر اپنی تاریخ پڑھنا بھول گئے۔ پڑھی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ ایسے دَور سے ہماری قوم کئی بار گزرچکی ہے۔ اس سے بڑے اور تباہ کن طوفانوں کا مقابلہ کرچکی ہے۔ ہم اگر حصولِ علم میںمسلسل جدّ و جہد ، مثبت فکر اور دُور اندیشی پر مبنی حکمت اپناتے ہیں تو ہر قوم کی سازش دھری کی دھری رہ جائے گی۔ آپ کے ذہنی تنائو کو ختم کرنے کیلئے یہ خیال ہی کافی ہے۔
 (۳۴) دماغی صحت کو متاثر کرنے والی ایک بڑی اور بُری بیماری کا نام ہے ’نفسا نفسی  اور خود غرضی‘۔ اگر کسی کی زندگی کا محور وہ خود ہوتا ہے (یازیادہ سے زیادہ اس کے رشتہ دار) تو وہ شخص ذہنی طور پر ڈسٹرب ہی ہوگا۔ کیوں؟ یہ قانونِ فطرت ہے۔ نفسانفسی اور خود غرضی میں انسان صرف گھاٹے میں رہتا ہے۔ نوجوانو! دوسروںکیلئے کام آکر بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ یہ خسارہ ہے البتہ ذہنی سکون اسی میں پوشیدہ ہے۔
 (۳۵) نوجوانو!خود اعتمادی اور تکبّر میںبال برابر کا فرق ہے۔ خود اعتمادی انسان کو اپنے پیروں پرکھڑا کرتی ہے جبکہ تکبّر اسے منہ کے بَل گرادیتاہے۔تکبّر، غرور، گھمنڈ، اکڑ ہیکڑی اور رعونت کئی نام ہیں اس نفسیاتی بیماری کے۔ اپنی کامیابیوں پر آپ خوش ہوجائیں،شکر کریں، جشن بھی منائیں مگر  وہ تکبّر کا باعث نہیں بننا چاہئے۔ تکبّر سے صرف لعنت ہی حصّے میں آتی ہے اور اس کی مثال ہے ابلیس۔ ابلیس کا سب سے بڑا عیب تکبّر ہی تھا جس کی وجہ سے وہ ساری کائنات کیلئے ملعون قرار پایا۔  انسان میں جب خود اعتمادی آتی ہے تب اس کے دل میں ایک مفید و خوشگوار تبدیلی آجاتی ہے البتہ جب اس میں تکبّر آتا ہے تو اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے کیونکہ جب اس کا ذہن تکبّر کے شکنجے میں رہتا ہے تب حق اور سچائی کی ہلکی سی کرن بھی اس تک نہیں پہنچتی۔ ظاہر ہے اس دَور میں اس کے ذہن پر صرف تنائو تنائو غالب رہتا ہے۔
 (۳۶) نوجوانوں کے دِلوں میں عام طور پر جوجو آرزوئیں ہوتی ہیں، ان میں سے ایک بڑی آرزو یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر دم ہر دلعزیز بنے رہنا چاہتا ہے۔ ہردلعزیز بنے رہنا یا ہمیشہ ایسی باتیں کہنا جو ہر ایک کو پسند ہوں، یہ ممکن نہیں۔ سب کو خوش کرنے والی باتیں کرنے کیلئے اکثر سچائی اور راست گوئی کو خیر باد کرنا پڑتا ہے۔ جی ہاں یہ کڑوی حقیقت ہے کہ سب کو خوش کرنے میں اکثر انسان منافق بن جاتا ہے۔ منافقت میں انسان کی اپنی شخصیت تباہ ہوجاتی ہے۔ وہ ہمیشہ اُلجھا ہوا اور کنفیوژ رہتا ہے۔ جس سے بالآخر وہ مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسلئے نوجوانو! ہر دلعزیز بننے کی نفسیاتی بیماری سیاستدانوں کیلئے چھوڑ دو۔
 (۳۷) دوستو! کامیابی، کامرانی، سکون قلب اور اپنا اقبال بلند کرنے کا ایک اور نسخہ ہم آپ کو بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ روزانہ سورج سے پہلے جاگیں، آپ کے نصیب جاگ جائیں گے، قدرت نے سورج سے پہلے بیدار ہونے کے نظام کا نام رکھا ہے: فجر کی نماز۔ پوری رات آپ کتنا ہی جاگیں، فجر کیلئے جاگنے میںایک عجب سکون پوشیدہ ہے کہ آپ اپنے دن کا آغاز ربِ کائنات کا شکر اور اس کے ساتھ کمٹمنٹ سے کرتے ہیں۔
 نوجوانو!ذہنی انتشار اور نفسیاتی اُلجھنوں کا علاج ڈاکٹروں کی خواب آور گولیاں نہیں ہے۔ان سے تو ان بیماریوں میں شدّت آئے گی۔ان کا علاج صرف ان طریقوں سے ممکن ہے: (الف) علاج بذریعہ مثبت فکر (ب) علاج بذریعہ مطالعہ (ج) علاج بذریعہ صحبت صالحہ اور (د) علاج بذریعہ عبادت۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK