شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) کسی کمپنی کے نام میں جزوی تبدیلی کر کے اپنا مال سپلائی کرنا۔ (۲) چار رکعت والے نوافل میں قعدہ اولیٰ۔ (۳) عقیقہ کے تعلق سے ایک سوال۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 4:58 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) کسی کمپنی کے نام میں جزوی تبدیلی کر کے اپنا مال سپلائی کرنا۔ (۲) چار رکعت والے نوافل میں قعدہ اولیٰ۔ (۳) عقیقہ کے تعلق سے ایک سوال۔
کسی کمپنی کے نام میں جزوی تبدیلی کرکے اپنا مال سپلائی کرنا
کیا فرماتے ہیں علما اس مسئلہ کے تعلق سے کہ نور ہوزیئری نام سے ایک کمپنی ہے جو کئی طرح کا مال سپلائی کرتی ہے۔ اس کا مال کئی ملکوں میں سپلائی ہوتا ہے۔ اس کمپنی کا وہاں نام بہت ہے۔ میں بھی وہی سب چیزیں سپلائی کرتا ہوں جو مذکورہ کمپنی کرتی ہے مگر، میری اتنی کھپت نہیں ہوپاتی لہٰذا میں نے ارادہ کیا کہ میں النور ہوزیری نام کی کمپنی بنا کر اس نام سے اپنا مال سپلائی کروں گا۔ کیا اس طرح کی تبدیلی کرکے میرے لئے سپلائی کرنا درست ہوگا؟
دوسرا سوال یہ تھا کہ ’النور‘ اللہ کا صفاتی نام ہے۔ پیکنگ پر اس نام کی پرنٹ ہوگی۔ لوگ پیکنگ پھینک دیتے ہیں جس سے اس مبارک نام کی بے ادبی یا بے حرمتی ہوسکتی ہے تو کیا کمپنی کا ایسا کوئی صفاتی نام رکھنا درست ہوگا؟ عبداللہ ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: کوئی بھی کمپنی جو کسی خاص نام سے مال بناتی اور فروخت کرتی ہے، دوسرے کسی شخص کا اسی نام سے مال بنانا جعلسازی کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا جو کمپنی نور ہوزیری کے نام سے مال بناتی اور بیچتی ہے یہ نام بھی اس کی ملکیت ہے اس لئے دوسرے تاجروں کا اس نام سے مال بنانا اور بیچنا صحیح نہیں ۔یہ عمل جہاں کمپنی کی حق تلفی ہے وہیں عام خریداروں کے ساتھ فریب اور دھوکہ دہی بھی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ نام کے علاوہ کمپنیوں کا ٹریڈ مارک بھی ہوتاہے۔ یہ کمپنی کی شناخت اور اس کی ملکیت مانا جاتا ہے۔ کسی نے نور کی جگہ النور نام کی کمپنی بناکر ٹریڈ مارک اصل کمپنی ہی کا استعمال کیا تو یہ بھی جعلسازی ہوگی اور غالباً قانون کی خلاف ورزی بھی ۔ نور کی جگہ النور کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا قانون اس کی اجازت دیتا ہے یہ تو کسی وکیل سے دریافت کریں تاہم قانونی اجازت ہو اور ٹریڈ مارک بھی اپنا مستقل بنا لیں جس میں کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو تو اس کی اجازت ہوسکتی ہے، پھر بھی بہتر یہ ہے کہ اپنی الگ شناخت بناکر بہتر مال تیار کرکے فروخت کریں تو یہ عمل مستقبل میں زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
(۲)علماء نے لکھا ہے کہ النوربھی اللہ کے صفاتی ناموں میں شامل ہے لیکن صفات مختصہ میں سے نہیں ہے۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں دوسرے معانی میں بھی استعمال ہوا ہے جیسے نُورٌ وَکِتَابٌ مُّبِينٌ۔
روایات میں اعمال خیر کو نور اور اعمال شر کو ظلمات سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے گنجائش تو تھی لیکن ذہن میں یہ خلجان ہے اس لئے بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ پیکنگ میں اپنا مستقل ٹریڈ مارک استعمال کریں اور النور لکھنا ہو تو حروف کو الگ الگ لکھ کرکے نیچے ہوزیری لکھ دیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: لے پالک اور وصیت، وراثت کے دو سوال، اے سی کا پانی اور وضو، فجر کی قضا
چار رکعت والے نوافل میں قعدہ اولیٰ
کوئی شخص ایک ساتھ چار رکعت سنت یا نفل کی نیت کرے تو قعدۂ اولیٰ میں اسے تشہد کے بعد درود شریف اور دعا ئے ماثورہ بھی پڑھنا چاہئے یا نہیں اور پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟ جابر رضی پٹنہ
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: فرض واجب اورچار رکعت والی سنن موکدہ میں قعدۂ اولیٰ واجب ہے، ساتھ ہی تشہد پڑھے اور بقدر تشہد ہی بیٹھے کہ یہی حکم ہے یعنی التحیات پڑھ کر قعدے سے تیسری رکعت کیلئے اُٹھ جائے۔ اس مسئلے میں سنن موکدہ کا حکم فرض و واجب کی طرح ہے لیکن نوافل اور سنن غیر موکدہ کا یہ حکم نہیں ہے، ان میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھی جاسکتی ہے ( چار رکعت والی سنن موکدہ جیسے ظہر سے پہلے کی چار رکعت اور جمعہ سے پہلے اور بعد کی چار چار رکعتیں اور غیر موکدہ عصر اور عشاء سے پہلے کی چار رکعتیں اور دیگر نوافل جو چار رکعت کی نیت کرکے پڑھی جائیں)۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: غیبت پر معافی مانگنا، زمین کا سودا منسوخ کرنا، رخصتی اور مہر کا مسئلہ
عقیقہ کے تعلق سے ایک سوال
زید اپنے بچوں کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے بڑے جانور میں؛ مگر مشکل یہ ہے کہ عقیقہ کے تین ہی حصے ہیں بقیہ چار حصوں کے لئے زید کو کیا کرنا چاہئے کیونکہ بکرے کافی مہنگے ہیں ۔ شمیم احمد ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: نو مولود کی طرف سے عقیقہ مسنون اور بعض کے نزدیک مستحب ہے لیکن رسولؐ اللہ سے حضرات حسنینؓ کا بذات خود عقیقہ کرنا ثابت ہے اس لئے مسنون ہونا راجح ہوگا ۔عقیقہ صرف چھوٹے جانور میں کیا جائے یا بڑے جانور میں بھی کیاجاسکتا ہے؟ جمہور کے یہاں قربانی کے ہر جانور میں عقیقہ کیاجاسکتاہے۔ طبرانی میں حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ اللہ جسے اولاد سے نوازے اسے چاہئے کہ بیل، اونٹ اور بکری میں اس کا عقیقہ کرے مگر اس روایت میں ضعف کی وجہ سے اس پر بعض حضرات نے جرح بھی کی ہے لیکن حضرت انسؓ سے ان کا یہ عمل بھی منقول ہے کہ وہ اپنی اولاد کا عقیقہ اونٹ میں کرتے تھے نیز ابوبکرہ کا اپنے بیٹے کا اونٹ میں عقیقہ کرنا بھی منقول ہے۔ جمہور نے انہیں کی بنا پر بڑے جانور میں عقیقہ کے جواز کو اختیار کیا ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ بعض لوگ ایام قربانی ہی میں اسے منحصر سمجھتے ہیں جبکہ سال کے باقی ایام میں بھی بڑے چھوٹے کسی بھی جانور میں عقیقہ کیا جاسکتا ہے۔ بڑے جانور میں عقیقہ کے سات حصے ممکن ہیں لہٰذا صورت مسئولہ میں زید ایک مستقل جانور لے کر تمام بچوں کا ایک ساتھ عقیقہ کرسکتا ہے البتہ ہر بچے کے لئےکم ازکم ساتواں حصہ ضروری ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ لڑکے کے لئے دو اور لڑکی کے لئے ایک حصہ ہو ۔واضح رہے کہ یہ احناف کا مفتی بہ قول ہے اور میرے علم کے مطابق حضرات شوافع کا قول بھی اسی کے مطابق ہے۔ بہر حال دوسرے حضرات اپنے علماء سے دریافت کرکے اس پر عمل کرسکتے ہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم