شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) لے پالک اور وصیت۔ (۲) وراثت کے دو سوال۔ (۳) اے سی کا پانی اور وضو۔ (۴) فجر کی قضا۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 4:54 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) لے پالک اور وصیت۔ (۲) وراثت کے دو سوال۔ (۳) اے سی کا پانی اور وضو۔ (۴) فجر کی قضا۔
لے پالک اور وصیت
زید اور ہندہ کی شادی دونوں کے ورثاء کی رضامندی سے ہوئی دونوں ہنسی خوشی زندگی گزارتے رہے لیکن اولاد کی نعمت سے محروم تھے اس وجہ سے ہندہ نے زید کے مشورے سے اپنے ایک بھتیجے کو گود لے کر پالا پڑھایا لکھایا پھر اسے اپنے سرمایے سے الگ کاروبار کرادیا اور اسے قانونی اور عملی طور سے مالک خود مختار بناکر تمام متعلقین پر واضح کردیا تاکہ بعد میں کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔ زید اپنے باقی کاروبار اور جائیداد کا خود انتظام کرتا تھا۔ آخر عمر میں اس نے اپنی جائیداد کے لئے سب کی رضامندی سے یہ وصیت کی کہ میرے بعد آدھی جائیداد کا مالک اس کا لے پالک اور آدھی کے مالک دونوں بھائی ہوںگے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد زید کی وفات ہوگئی ۔بیوی کا انتقال ایک سال پہلے ہوگیا تھا ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا لے پالک کو وصیت کے مطابق نصف جائیداد کا استحقاق ہوگا یا کچھ کم یا زیادہ ملے گا یا بالکل نہیں ملےگا اور اس کا جو الگ کاروبار ہے کیا وہ بھی ترکہ میں شامل ہوگا ؟ ورثاء جو آدھی جائیداد کی وصیت پر راضی تھے اگر اب اس کو نہ مانیں تو کیا اس کا اعتبار ہوگا نیز زید کے مال سے حصہ ملنے کے بعد لےپالک اپنے والدین کی جائیداد کا وارث ہوگا یا نہیں ؟
جاوید لطیف ،مدھیہ پردیش
باسمہ تعالیٰ ۔ ھوالموفق: لےپالک کو شرعاً حقیقی اولاد کا درجہ حاصل نہیں ہوتا نہ ہی وہ شرعی ورثاء میں شامل ہوتا ہے البتہ اگر گود لینے والا اسے اپنی زندگی ہی میں کچھ دے دے اور ھبہ کی جملہ شرائط قبضہ وغیرہ کی تکمیل کے بعد اس کو تنہا مالک بنادے تواس طرح اسے جو دیا ہے لےپالک اس کا مالک ہوگا اور اسے گود لینے والے کے ترکہ میں شامل نہ کیا جائےگا۔ کوئی شخص بھی اپنی جائیداد میں غیر وارث کے لئے ایک تہائی تک کی وصیت کرسکتا ہے باقی دوتہائی ورثاء کا حق ہے لہٰذا آدھی جائیداد کی جو وصیت ہے اگر ورثاء سب عاقل بالغ ہیں اور بخوشی اس وصیت پر رضامند ہیں تو وصیت نافذ ہو جائے گی ورنہ اسے ایک تہائی دینے کے بعد دوتہائی ورثاء کو ملےگا۔ واضح رہے کہ وصیت موصی کی وفات کے بعد کیلئے ہوتی ہے اور ورثاء کی اجازت بھی وصیت کنندہ کی وفات کے بعد ہی معتبر ہوگی نیز لےپالک کو صیت کی رو سے جو ملےگا وہ اس کا تنہا مالک ہوگا ساتھ ہی وہ اپنے والدین کا بھی شرعی وارث ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: غیبت پر معافی مانگنا، زمین کا سودا منسوخ کرنا، رخصتی اور مہر کا مسئلہ
وراثت کے دو سوال
(۱)زید کے وارثوں میںایک حقیقی بہن ایک علاتی(باپ شریک)بہن اور دو اخیافی (ماں شریک)بھائی موجود ہیں ۔اس صورت میں ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟کیا حقیقی بہن پوری جائیداد کی مالک ہو گی ؟
(۲)ایک لاولد شخص کے وارث ایک حقیقی بھائی ،ایک علاتی بھائی ایک چچا دوسرے ایک چچا کے لڑکے لڑکیاں اور ماں کے پہلے شوہر سے ایک لڑکا ایک لڑکی (اخیافی بہن بھائی) ہے اس صورت میں ترکہ کسے اور کتنا ملے گا؟
عبداللہ ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: (۱) ایک حقیقی بہن ایک علاتی بہن اور دو اخیافی بھائیوں کی موجودگی میں یہ سبھی وارث ہیں۔ حقیقی بہن ایک ہے تو اسے کل ترکہ کا نصف ملےگااور علاتی بہن کو سدس یعنی چھٹواں حصہ دیا جائے گا۔ ان دونوں کی موجودگی میں ماں شریک بھائی بھی حقدار ہوتے ہیں ان کا حصہ ایک تہائی ہوگا لہٰذا ترکہ کے چھ سہام (یعنی حصے) بناکر تین حقیقی بہن کو ایک علاتی بہن کو اورایک ایک دونوں اخیافی بھائیوں میں ہر ایک کو دینگے۔ واللہ اعلم
(۲)حقیقی بھائی، علاتی بھائی،اخیافی بہن بھائی ، چچا اور چچا کی اولاد ان میں سے چچا اور چچا کی اولاد اس صورت حال میں شرعی وارث نہیں بنتے۔ حقیقی بھائی اور علاتی بھائی دونوں عصبہ ہیں اور اصول یہ ہے کہ جو قریبی عصبہ ہوتا ہے اصحاب فرایض کو دینے کے بعد جو بچتا ہےوہ اس کا حق ہوتا ہے۔ حقیقی اور علاتی میں حقیقی سب سے قریبی ہے بس اسی لئےعصبہ والا پورا حصہ اسے ملےگا لہٰذا علاتی محروم رہےگا مگر ان تمام کی موجودگی میں اخیافی بھائی بہن محروم نہیں ہوتے وہ دو ہیں تو ایک تہائی ان کوملے گا جو دونوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا (کیونکہ اخیافی بھائی بہن برابر کے حقدار ہوتے ہیں)لہٰذا ترکہ کے چھ سہام میں ایک ایک اخیافی بہن اور بھائی کو اور باقی تنہا حقیقی بھائی کو ملے گا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
اے سی کا پانی اور وضو
ایک مسٔلہ پوچھنا ہے کہ ایئرکنڈیشن کا پانی وضو میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ فہیم الدین کرناٹکا
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: پانی ایک ایسا مایع (سیال) ہے جو خالص ہو تو بے رنگ وبو اور بے ذائقہ کے ہوتا ہے۔ زمین پر اس کا وجود حیات کی بقا کے لئے بے حد ضروری ہے۔ زمین جو نظام شمسی کا ایک سیارہ ہے اس کا تقریباً ۷۱؍ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے جو کنوؤں چشموں دریاؤں ندیوں سمندر اور پگھلنے والی برف اور بارش وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ صفر درجہ حرارت میں ٹھوس ( برف کی) شکل اختیار کرلیتا ہے اور جب حدت بڑھ جاتی ہے تو پگھل کر پانی کی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔ اے سی سے جو پانی گرتا ہے وہ فضا میں موجود نمی ہے جو کوایل سے ٹکرانے کے بعد پائپ کے راستے باہر گرتا رہتا ہے۔ یہ خالص پانی ہوتا ہے جس کا حکم طاہر اور مطہر کا ہے یعنی پاک بھی ہے اور دوسری اشیاء کو پاک بھی کرتا ہے لہٰذا اگر اے سی سے گرنے والا پانی کسی پاک جگہ یا برتن میں میں جمع ہو جائے تو اس سے وضو بھی جائز ہے اور غسل بھی نیز نجاست حقیقی کو بھی اس سے زائل کیا جاسکتا ہے البتہ کسی نجس مقام پر جمع ہو نے کی صورت میں یہ بھی نجس ہوگا اور اس سے طہارت حاصل نہیں کی جاسکے گی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: ادارے کیلئے محنت کرنے والے کی اُجرت
فجر کی قضا
فجر کی نماز قضا ہوجائے تو کب تک اس کی قضا کی جاسکتی ہے؟ کیا اسی دن زوال سے پہلے پہلے یا غروب آفتاب کے پہلے تک ادا کرلینا ضروری ہے یا بعد میں بھی ادا کرسکتے ہیں ؟ اگر اس دن کسی وجہ سے ادا نہ کرسکے تو کیا بعد میں قضا کی ضرورت ہے نیز یہ بھی بتائیں کہ فجر کی قضا کرتے وقت کیا سنت کی قضابھی ضروری ہوتی ہے؟ محمداحمد، ممبرا
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: ایک سفر میں حضور ؐاور حضرات صحابہ ؓ کی آنکھ فجر کے وقت نہ کھل سکی تھی توآپؐ نے سورج نکلنے کے بعد اس کی قضا پڑھی۔ ثابت ہوتاہے کہ اگر کسی وجہ سے نماز چھوٹ جائے تو اس کی قضا ضروری ہے وہیں یہ بھی ظاہر ہے کہ بہتر صورت یہ ہے کہ اسی دن سورج نکلنے کے بعد قضا پڑھ لی جائے۔ آپؐ نے سنت کی بھی قضا پڑھی تھی اسی لئے علماء نے لکھاہے کہ اگر اسی دن زوال سے پہلے پہلے قضا پڑھی جائے تو سنت بھی ادا کی جائے البتہ بعد میں قضا پڑھنے پر سنت کی قضاکا حکم نہیں ہے مگر فرض کی قضا بہرحال واجب ہے۔ اس دن نہ پڑھ سکے تو بعد میں قضا پڑھے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم