Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیہوں کی سوکھی بالیاں چننے کیلئے بچے اسکول سے سیدھے کھیتوں میں پہنچتے تھے

Updated: April 19, 2026, 7:48 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

دھوپ میں بیٹھنے والے اُن بچوں  کو رنگ سانولا ہونے اور لو لگ کر بیمارپڑنے کا کوئی خوف نہیں  ہوتا تھا۔ کچھ بچے نظر بچاکر ساتھی کی بوری سے بالیاں چُرا بھی لیتے تھے۔

In childhood, if someone had a shovel in their hand, they would be seen picking ears from the fields, carrying a hammock, without caring about the scorching sun. Photo: INN
بچپن میں کسی کے ہاتھ میں  بورا ہوتا تو کوئی جھولا لئے سخت دھوپ کی پروا کئے بغیر کھیتوں سے بالیاں  چُنتا نظر آتا تھا۔ تصویر: آئی این این

اُس وقت گائوں  کے اسکول دو شفٹوں میں چلتے تھے۔ اپریل میں گرمی شروع ہونے کےساتھ ہی اِن کے اوقات میں تبد یلی ہو جاتی تھی۔ یکم اپریل سے اسکول صبح ۷؍ بجے کھلتے اور دوپہر ایک بجے تک چھٹی ہو جاتی تھی۔ مارچ کے آخر سے اپریل کے ختم ہونے تک گیہوں اور ارہر کی فصلیں کٹنے لگتیں ، اسکول سے لوٹنے والے بچے بھی شام کے وقت کھیتوں  کے کام میں گھر والوں  کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ گیہوں کی فصل کٹتی تو کھیتوں میں بڑی تعداد میں اُس کی سوکھی بالیاں  ٹوٹ کر گر جایا کرتی تھیں۔ اِ ن بالیوں کو چُننے کیلئے بچوں کی بڑی تعداد دوپہر میں اسکول سے چھوٹتے ہی سیدھے کھیتوں  میں  پہنچ جایا کرتی تھی۔ کسی کے ہاتھ میں  بورا ہوتا تو کوئی جھولا لئے سخت دھوپ کی پروا کئے بغیر کھیتوں سے بالیاں  چُنتا تھا۔ کچھ بچے ارہر کی بالیاں بھی اکٹھا کرنے نکل جاتے۔ حالانکہ اِن بچوں کے والدین صبح گھر سے نکلتے وقت لو سے بچنے کی سخت تاکید کرتے تھے، لیکن بچوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا، وہ پوری دوپہر یا اِس کھیت سے اُس کھیت بالیاں تلاش کیا کرتےتھے۔ بچے جھکے جھکے زمین سے بالیاں چنتے رہتے۔ یہ کام محنت طلب ضرور تھا، مگر ان کیلئے یہ ایک طرح کا کھیل ہوتا تھا۔ ایک دوسرے سے مقابلہ بھی چلتا تھاکہ کون زیادہ بالیاں جمع کرے گا۔ کبھی ہنسی، کبھی شرارت اور کبھی دھوپ سے بچنے کیلئے کسی درخت کے سائے میں تھوڑی دیر آرام کرتے۔ بعض بالیاں آدھی دبی ہوتی تھیں، انہیں نکالنے کیلئے انگلیوں سے مٹی ہٹانی پڑتی۔ کبھی کسی بچے کو اچھی خاصی بھری ہوئی بالی مل جاتی تو وہ خوشی سے اچھل پڑتا اور دوسروں کو دکھاتا، جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو۔ اس دوران بچے صرف بالیاں نہیں چنتے تھےبلکہ وہ کھیتوں  کو اچھی طرح سمجھ لیتے تھے کہ کہاں زیادہ دانے ملیں گے، کس طرف کٹائی کے دوران زیادہ بالیاں گِری ہوں گی، کس کھیت میں فصل زیادہ گھنی تھی، یہ سب اندازے وہ خود ہی لگا لیتے تھے۔ یہ ایک طرح کی غیر رسمی تربیت تھی، جو انہیں کھیت اور محنت کی قدر سکھاتی تھی۔ 
دھوپ میں بیٹھنے والے اُن بچوں  کو رنگ سانولا ہونے اور لو لگ کر بیمارپڑنے کا کوئی خوف نہیں  ہوتا تھا۔ کچھ بچے نظر بچاکر ساتھی کی بوری سے بالیاں چُرا بھی لیتے تھے۔ جب بوری بھر جاتی تو گھر کا رُخ کرتے تھے۔ اصل مرحلہ تو گھر پہنچ کر شروع ہوتا۔ مائیں یا دادی اماں بچوں کو ساتھ بٹھا کر سکھاتیں کہ بالیوں کو کیسے رگڑ کر دانے نکالے جاتے ہیں۔ بالیاں زیادہ ہوتیں تو مونگری کی مدد لی جاتی اور اسے پیٹ پیٹ کر ان میں   سے دانے الگ کئے جاتے تھے۔ گھر کے بڑے سے صحن میں یا گھر کے باہر نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر یہ کام کیا جاتا۔ دانے الگ ہونے کے بعد انہیں صاف کیا جاتا۔ ہلکی سی پھونک مار کر بھوسہ اڑا دیا جاتا۔ اِ س طرح ہفتوں  کی محنت کے بعد بمشکل تین چار کلو گیہوں جمع ہو پاتا تھا۔ جسے بیچ کر محض پندرہ بیس روپے مل جاتے تھے، پھر اُن روپیوں  کو دن میں کئی بار نکالتے، اُسے بار بار گنتے اور گھر میں  چھپا کر رکھ دیتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’چَیت‘ میں کسان ہی نہیں ، پیڑ، پودے اور پرندے بھی نئے رنگ میں نظر آتے ہیں

بچپن کا وہ زمانہ بھی کیا خوب زمانہ تھا کہ یہ چند سکے انہیں بڑے خزانے سے کم نہیں  لگتے تھے۔ آئس کریم، ملائی برف بیچنے والوں  کی سیٹی کے ساتھ بچوں  کا یہ خزانہ کھل جاتا۔ وہ ان پیسوں سے آئس کریم خریدتے خود بھی کھاتے، دوستوں  کو کھلاتے اور گھر کے لوگوں میں آئس کریم تقسیم کرتے۔ غرضیکہ اُس روز ہر کسی کے ہاتھ میں آئس کریم ہوتی تھی۔ بچوں کے اس چھوٹے سے کام میں معاشرتی پہلو بھی تھا۔ کھیل کھیل میں  بچے محنت کرنا سیکھتے تھے۔ اس طرح ان کے اندر یہ بات پیدا ہوتی تھی کہ کوئی چیز ضائع نہ ہو، ہر دانے کی قدر ہو اور محنت کو خوشی کے ساتھ اپنایا جائے۔ گاؤں کے بڑے بزرگ بھی ان کےاس کام کی ستائش کرتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہی بچے کل کو اس زمین کے اصل رکھوالے بنیں گے۔ 
اُس وقت یو پی کے مختلف اضلاع کے کسانوں  کے یہاں ایک روایت یہ بھی تھی کہ اناج گھر پر آنے کے بعدلڑکیوں  کو ایک بوری الگ سے دیا جاتا تھا جو کھلیہانی کہلاتاتھا۔ اس طرح وہ یہ اناج فروخت کرکے پیسے جمع کرتی تھیں۔ سال درسال ان کی رقم میں اضافہ ہوتا چلا جاتا اور رقم بڑھتے بڑھتے اتنی ہو جاتی تھی کہ وہ اپنے لئے سونار کے یہاں سے کوئی زیور تیار کرا لیا کرتی تھیں۔ 
اب تو مشینوں نے کٹائی کا انداز ہی بدل دیا ہے۔ کھیتوں میں پہلے جیسی گہما گہمی کم ہوئی ہے تو یہ منظر بھی دھندلا سا پڑتا جا رہا ہے۔ پہلے جہاں ایک کھیت میں درجنوں لوگ ہنسیا اور درانتی لئےگھنٹوں گیہوں کاٹتے تھے اب وہاں ایک مشین دیکھتے ہی دیکھتے بڑے سے بڑے کھیت میں کھڑی گیہوں کی فصل کو ڈھیر کردیتی ہے۔ 
اب کھیتوں میں بالیاں  چنتے ہوئے بچے کم ہی نظر آتے ہیں لیکن جن لوگوں  نے یہ دن دیکھے ہیں، ان کیلئے وہ یادیں اب بھی ویسی ہی تازہ ہیں، جہاں مٹی کی خوشبو، دھوپ کی تمازت، اور ننھے ہاتھوں میں سمیٹی ہوئی وہ سنہری خوشیاں تھیں۔ دیکھنے میں وہ چھوٹی چھوٹی بالیاں ...اُن معصوم چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کا ذریعہ تھیں ...جیسے اُن کے ہاتھ میں بیش قیمتی ہیرے موتی لگ گئے ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK