• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مچھلی کا شکار ایک ہنر ہے، جو کتاب میں پڑھ کر نہیں بلکہ تجربے سے حاصل ہوتا ہے

Updated: October 25, 2026, 5:40 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

بچے جب اپنی پکڑی ہوئی مچھلی لے کر گھر پہنچتے ہیں تو ان کے انداز میں ایک خاص فخر ہوتا ہے۔ وہ گھر والوں کو بتاتے ہیں کہ مچھلی کہاں سے ملی، کتنی دیر انتظار کرنا پڑا اور کس طرح کٹیا میں پھنسی۔

Fishing is not easy; once the bait is cast into the water, the real test is one of patience. Photo: INN
مچھلی کا شکار آسان نہیں ہوتا، پانی میں چارہ ڈالنے کے بعد اصل امتحان صبر کا ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

گاؤں کی زندگی میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جن کی اپنی ایک الگ پہچان اور اپنی ایک دلچسپ کہانی ہوتی ہے۔ کہیں گاؤں کے ایک کونے میں کھڑا پرانا نیم کادرخت لوگوں کی بیٹھک کا مرکز ہوتا ہے تو کہیں کسی تالاب کےکنارےلوگوں  کی محفل سجتی ہے۔ اسی طرح گاؤں کے کنارے سے گزرنے والی نہر پر بنی پُلیابھی محض آمدورفت کا ایک ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ گاؤں کی زندگی کے کئی رنگ جڑے ہوتے ہیں۔ گاؤں کے بچوں کیلئے تو یہ مچھلی کے شکار کا ایک ایسا ٹھکانہ ہے جہاں گھنٹوں بیٹھ کر وقت گزارنے کا اپنا ایک الگ ہی لطف ہے۔ 
صبح کی نرم دھوپ ہو یا شام کے ڈھلتے سورج کی سنہری کرنیں، گاؤں کے بچے مچھلی پکڑنے کی دھن میں کبھی نہر کی پُلیا پر بیٹھے نظر آتے ہیں تو کبھی تالاب کے کنارے ہاتھ میں ’کٹیا‘ لئے اِدھر اُدھر ٹہلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کیلئے مچھلی کا شکار تفریح اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کا ایک خوب صورت بہانہ بھی ہے۔ پُلیا کے نیچے اور اس کے ستونوں کے آس پاس پانی کا بہاؤ نسبتاً دھیمی رفتار اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں سایہ بھی ہوتا ہے اور پانی کی تیز روانی سے کچھ بچاؤ بھی مل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مچھلیاں اکثر ایسے مقامات پر پناہ لیتی ہیں۔ گرمی کے دنوں میں جب سورج کی تیز دھوپ پانی کی سطح پر چمک رہی ہوتی ہے تو پُلیا کا سایہ مچھلیوں کیلئے محفوظ ٹھکانہ ہوتا ہے۔ مچھلی پکڑنے والے بچے اس جگہ کی اہمیت خوب جانتے ہیں۔ وہ محض کٹیا لے کر کسی بھی جگہ نہیں بیٹھ جاتے بلکہ پہلے پانی کی کیفیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کی نظریں پانی کی سطح پر ہوتی ہیں۔ کہیں کوئی ہلکی سی جنبش دکھائی دے جائے، کہیں پانی میں بلبلے اٹھتے نظر آئیں یا کسی مقام پر چھوٹی مچھلیوں کی حرکت محسوس ہو تو ان کے دل میں امید جاگ اٹھتی ہے۔ پھر وہ اپنی کٹیا سنبھالتے ہیں اور شکار کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ بعض بچے پہلے پانی میں تھوڑا سا چارا ڈالتے ہیں تاکہ مچھلیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔ پانی میں ہونے والی حرکت اور چارے کے آس پاس مچھلیوں کی آمدورفت سے انہیں وہاں مچھلیوں  کے ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ان کے لئے یہ بھی ایک طرح کا ہنر ہے، جو کسی کتاب میں پڑھ کر نہیں بلکہ بار بار کے تجربے سے حاصل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک وقت تھا جب گھر گھروندے کا کھیل بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا

گاؤں کے بچوں کے مچھلی پکڑنے کے روایتی سامان میں کٹیا اور کیچوے کی اپنی اہمیت ہے۔ کیچوا مچھلیوں کی مرغوب غذا ہے۔ بچے کٹیا کے نوک دار حصے میں کیچوا پھنسا دیتے ہیں اور پھر اسے احتیاط سے پانی میں ڈال کر انتظار کرنے لگتے ہیں۔ پانی میں چارہ ڈالنے کے بعد اصل امتحان صبر کا ہوتا ہے۔ کٹیا ہاتھ میں تھامے بیٹھے بچے کی نظریں کبھی پانی پر جمی ہوتی ہیں تو کبھی اس چھوٹی سی لکڑی پر جو کٹیا کے ساتھ باندھی جاتی ہے۔ چھوٹی سی لکڑی کو اس طرح باندھا جاتا ہے کہ وہ پانی کی سطح پر تیرتی رہے اور کٹیا میں ہونے والی حرکت کا پتا دیتی رہے۔ جب کوئی مچھلی چارے کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اسے کھانے کی کوشش کرتی ہے تو کٹیا میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس حرکت کا اثر لکڑی پر بھی پڑتا ہے۔ لکڑی کبھی ہلکے سے لرزتی ہے، کبھی ایک طرف جھک جاتی ہے اور کبھی پانی کی سطح پر اس کی حرکت دیکھ کر شکاری کا دل زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔ پھر ایک ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب مچھلی چارہ نِگل کر کٹیا میں پھنس جاتی ہے اور خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی جدوجہد سے لکڑی تیزی سے حرکت کرتی ہے اور بعض اوقات پانی میں ڈوبنے لگتی ہے۔ بس یہی وہ اشارہ ہوتا ہے جس کا بچے بے صبری سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ لکڑی کو ڈوبتا دیکھتے ہی شکاری چوکنا ہو جاتا ہے، ہاتھ میں پکڑی ڈور کو سنبھالتا ہے اور پوری توجہ کے ساتھ کٹیا کھینچنے کی کوشش کرتا ہے۔ 
اگر مچھلی کٹیا میں اچھی طرح پھنس گئی ہو تو چند لمحوں بعد وہ پانی سے باہر ہوتی ہے۔ اس وقت بچے کے چہرے پر جو خوشی نمودار ہوتی ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ آنکھوں میں چمک، چہرے پر مسکراہٹ اور دوستوں کی طرف فخریہ نگاہیں، گویا اس نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ دوست بھی اس کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں، کوئی مچھلی کا سائز دیکھتا ہے تو کوئی اس کے وزن کا اندازہ لگانے لگتا ہے۔ 
مچھلی پکڑنے والے بچوں کا خیال ہوتا ہے کہ بس چارہ ڈالا اور مچھلی کٹیا میں پھنس گئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کھیل میں ہر بار کامیابی نہیں ملتی۔ بعض مچھلیاں اتنی چالاک ہوتی ہیں کہ وہ اُس میں پھنسے بغیر پورا چارہ کھا جاتی ہیں۔ شکاری کوپتہ بھی نہیں چلتا کہ اس کا چارہ کب غائب ہو گیا۔ وہ بار بار ڈور کھینچ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ کیچوا اپنی جگہ سے غائب ہے اور مچھلی اپنا پیٹ بھر کر جا چکی ہے۔ گاؤں میں مچھلی پکڑنے کی دلچسپی کا ایک تعلق گھر کے دسترخوان سے بھی ہے۔ اگر بچوں کے ہاتھ اچھی خاصی مچھلی لگ جائے تو گھر میں اسے پکانے کی بات ہونے لگتی ہے۔ کبھی مچھلی کا سالن تیار ہوتا ہے تو کبھی اسے تل کر کھایا جاتا ہے۔ 
بچے جب اپنی پکڑی ہوئی مچھلی لے کر گھر پہنچتے ہیں تو ان کے انداز میں ایک خاص فخر ہوتا ہے۔ وہ گھر والوں کو بتاتے ہیں کہ مچھلی کہاں سے ملی، کتنی دیر انتظار کرنا پڑا اور کس طرح کٹیا میں پھنسی۔ غرضیکہ ہر بچے کے پاس سنانے کیلئے ایک کہانی ہوتی ہے۔ کسی نے سب سے پہلے مچھلی پکڑی، کسی کی کٹیا میں بار بار چارہ غائب ہوتا رہا اور کسی نے مایوس ہو کر واپسی کی تیاری کر لی تھی مگر عین آخری وقت میں اس کے ہاتھ بھی مچھلی لگ گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK