میلہ دیکھنے والوں میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔ لیکن وہ میلہ دیکھنے دوپہر کے بعدنکلتی ہیں، اس طر ح وہ گھر کے کاموں سے فارغ ہو جاتی ہیں اور اس وقت تک میلے سے مَردوں کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 8:36 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
میلہ دیکھنے والوں میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔ لیکن وہ میلہ دیکھنے دوپہر کے بعدنکلتی ہیں، اس طر ح وہ گھر کے کاموں سے فارغ ہو جاتی ہیں اور اس وقت تک میلے سے مَردوں کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔
گائوں میں عید کا اختتام عید کے میلے کے ساتھ ہوتا ہے۔ نماز دوگانہ ادا کرنے کے بعد بچوں کے علاوہ بڑے بوڑھے بھی میلے کا رُخ کرتے ہیں۔ یہاں مٹھائی خریدنے کیلئے سب کی اپنی اپنی پسندیدہ دکانیں ہیں۔ دکاندارسب کیلئے پہلے ہی سے مٹھائی کے پیکٹ تیار رکھتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ خریدار کو کون سی مٹھائی پسند ہے۔ برسوں سے ایک ہی دکان سے خریدنے کی وجہ سے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ عید کی نماز کے بعد جب لوگ اپنی مقررہ دکان پر پہنچتے ہیں تو دکاندار اُن کا مٹھائی کا ڈبہ ان کے حوالے کر دیتا ہے۔ بچوں کی ساری توجہ کھلونوں کی دکانوں کی طرف ہوتی ہے۔ وہ اپنی عیدی میں سے کھلونے خریدنے کیلئے پیسے الگ کرلیتے ہیں۔ یہ بھی طے کر لیتے ہیں کہ اس بار کھلونے میں کیا خریدنا ہے۔ بچوں کو سال بھر عید کے میلے کا انتظار رہتا ہے۔ ہمارے یہاں عید کے میلے کو میلہ دیکھنا نہیں کہتے بلکہ عیدی دیکھنا بولتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں عید کے کچھ میلے بہت مشہور ہیں۔ خاص طور سے میڑھولی کے عید میلے میں بہت بھیڑ ہوتی ہے۔ یہاں قدیمی عیدگاہ ہے۔ چنانچہ آس پاس کے گائوں سے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔
پہلے تو یہ صورتحال تھی کہ رمضان کے آخرکے دو تین روز بچوں سے کاٹے نہیں کٹتے تھے۔ وہ عید کے دن ایسے گنتے تھے ... آج جمعہ ہے کل سنیچر اور اتوار کو تو عید ہے، اگر اتوار کو چاندنہ ہوا تو پیر کو تو پکا ہے۔ ویسے پوری امید تو اتوار کی ہے ...دو چار بچے جہاں جمع ہو جاتے اسی طرح کی باتوں میں ان کا دن گزر جاتا تھا۔ یہ دن کٹ جاتے تو چاند رات کے بعد صبح کا بے صبری سے انتظار ہوتا۔ مرغ کی بانگ کے ساتھ ہی بچے اُٹھ جاتے۔ نئے نئے کپڑے سرہانے رکھ کر سوتے تھے۔ صبح کی پہلی کرن نکلنے کے ساتھ ہی وہ پمپنگ سیٹ پر پہنچ جاتے اور پانی کی ٹنکی میں ڈبکی لگا دیتے ... جلدی جلدی نہا کر نئے کپڑے پہنتے اور پھر عید گاہ کی طرف نہیں بلکہ میلے کی طرف دوڑ لگا دیتے۔ ابھی یہاں دکانیں لگ رہی ہوتیں ... یہ بچے ابھی سے ہی دکاندار سے کھلونوں کے مول تول کرنے لگتے۔ وہ فلاں کھلوناہے آپ کے پاس ...پچھلے سال جو ٹینکر دیئے تھے وہ گھر لے جاتے ہی خراب ہو گیا ....اس طرح کی شکایت بھی کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: پھر مٹی کے چولہے پر کھانا پکانے کا جتن ہونے لگا
میڑھولی کے علاوہ قصبہ مئو آئمہ (الٰہ آباد)کا عید میلہ بھی بہت پرانا ہے۔ یہاں تین دن تک عید کا میلہ لگتا ہے۔ یہ میلہ دیکھنے دور دراز سے لوگ آتے ہیں۔ آس پاس کے گائوں کے لوگ پہلے روز اپنے گائوں کا میلہ دیکھتے ہیں پھر دوسرے اور تیسرے روز مئو آئمہ قصبہ میں لگنے والا میلہ دیکھنے پہنچ جاتے ہیں۔ قصبہ مئو آئمہ کی عید گاہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ عید گاہ کی عمارت تقریباً ۲۰۰؍ سال پرانی ہے۔ عیدگاہ کے ٹھیک سامنے بڑا سا تالاب ہے۔ یہ تالاب نمازیوں کے وضو کیلئے بنایا گیا ہے۔ عید گاہ کے دونوں مینار چوڑے اور کافی بلند ہیں اس میں زینہ ہے جس سے مینار کی بلندی پر چڑھ کر دور تک پھیلے قصبے اور اس کی عمارتوں کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن فی الحال حادثے کے خدشہ کے پیش نظر اس زینے کو بند کر دیا گیا ہے۔ تالا ب کے پاس دیواروں پر جگہ جگہ تحریر ہے کہ ’’تالاب کا پانی وضو کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا صفائی کا خیال رکھیں ‘‘۔ گرمیوں میں آس پاس کے بچے اس تالاب میں نہاتے ہیں ۔ کئی بارتالاب میں نہانے والے بچے ڈوب بھی جاتےہیں ۔ قصبہ میں آنے والے مہمان بچے حادثہ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں تالاب کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔
میلہ دیکھنے والوں میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔ لیکن وہ میلہ دیکھنے دوپہر کے بعدنکلتی ہیں، اس طر ح وہ گھر کے کاموں سے فارغ ہو جاتی ہیں اور اس وقت تک میلے سے مَردوں کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔ گائوں میں آج بھی پردے کا بڑا خیال کیا جاتا ہے۔ چھوٹے بچے اکثر اپنی مائوں یا بڑی بہنوں کے ساتھ میلے میں جاتے ہیں۔ وہ اپنی عیدی کے پیسے کھلونوں، غباروں اور مٹھائیوں پر دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ چھوٹے بچےمیلے میں خریدی ہوئی بانسری پورے گائوں میں گھوم گھوم کر بجاتے ہیں۔ شام ہونے کے ساتھ جب میلہ اُٹھنے لگتا ہے تو ایک بار پھر میلے میں کچھ ہلچل نظر آتی ہے۔ اس وقت سستا خریدنے والوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ وہ میلے سے اُٹھنے والی دکانوں سے کچھ سستا خریدنا چاہتے ہیں۔ مول تول کرکے آخر کار کچھ سستا خریدنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔ پہلے عید کے میلے میں مٹی کے برتن بھی خوب بکتے تھے۔ کمہار بیل گاڑیوں اور اپنے سر وں پر رکھ کر دور دراز سے مٹی کے برتن بیچنے آتے تھے۔ اس میں گھڑے، دیگچیاں اور بچوں کیلئے چھوٹے چھوٹے کھلونے بھی ہوتے تھے۔ آج تو پلاسٹک اور الیکٹرک کے کھلونوں کی دھوم ہے۔ اُس وقت بچے اسی مٹی کے کھلونوں کو پسند کرتے تھے۔ اب میلوں سے روایتی چیزیں ختم ہو گئی ہیں ۔ گاؤں کا عید کا میلہ صرف ایک تفریح نہیں بلکہ محبت، بھائی چارے اور اپنی ثقافت سے جڑے رہنے کا خوبصورت اظہار ہے۔ یہی سادگی اس میلے کو شہر کی چمک دمک سے کہیں زیادہ یادگار بنا دیتی ہے۔