Inquilab Logo Happiest Places to Work

پھر مٹی کے چولہے پر کھانا پکانے کا جتن ہونے لگا

Updated: March 15, 2026, 10:52 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

گیہوں کی سینچائی اور آلو کی کھدائی جیسے محنت بھرے کام سے کسانوں کو ذرا دم لینے کا موقع ملا تو ایک نیا مسئلہ آن پڑا ۔ لائن میںلگنےکا ...اس بار بینک نہیں...آکسیجن سلنڈر کیلئے نہیں ...بلکہ رسوئی گیس کیلئے ایجنسی کے باہر صبح سے ہی تاحد نگاہ لوگ قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گیہوں کی سینچائی اور آلو کی کھدائی جیسے محنت بھرے کام سے کسانوں کو ذرا دم لینے کا موقع ملا تو ایک نیا مسئلہ آن پڑا ۔ لائن میںلگنےکا ...اس بار بینک نہیں...آکسیجن سلنڈر کیلئے نہیں ...بلکہ رسوئی گیس کیلئے ایجنسی کے باہر صبح سے ہی تاحد نگاہ لوگ قطاروں  میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ ا یسی افرا تفری کا عالم ہے جو ناقابل بیان ہے ۔ بہت سے مالکا ن تو ایجنسی بند کرکے راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔ جہاں سلنڈر ملنے کی امید ہے وہاں قطار ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ لائن میں لگے کسانوں کا کہنا ہے کہ سلنڈر کیلئے قطار میں کھڑے ہونا کئی بیگھہ کھیت جوتنے سے زیادہ محنت کاکام ہے ۔ کھیتوں میں سخت سے سخت محنت کرنا کسانوں کیلئے مشکل نہیں ، لیکن گیس سلنڈر کیلئے گھنٹوں لائن میں کھڑے ہونا ان کیلئے ذلت کی بات ہے ۔لائن میں کھڑے رجئی کاکا کہہ رہے تھے ....ہم کھیتوں میں اس لئے  محنت کرتے ہیں کہ ہمیں بازاروں کے چکر نہ لگانے پڑیں ۔ خوردنی اشیاء کا بڑا حصہ ہم اپنے کھیتو ں میں پیدا کرتے ہیں ۔ کبھی اتفاق سے کوئی ضروری شئےختم ہو جائے اور بازار سے خریدنا پڑے تو ہمیں اُسے بازار سے لانے میں جھجک محسوس ہوتی ہے ... جھولا  چھپا کر گھر کی طرف چلتے ہیں کہ ...راستے میں کہیں کوئی ٹوک نہ دے ۔ آج ایسے دن دیکھنے پڑرہے ہیں کہ گیس کیلئےلائن میں کھڑے ہیں۔ گھنٹوں انتظار کے بعد جس کو گیس نصیب ہو جارہی ہے وہ خدا شکر ادا کررہا ہےاور جو خالی ہاتھ لوٹتا ہے وہ اگلے دن کی امید پر گھر واپس آ جاتا ہے۔  گاؤں کے لوگوں کیلئےیہ مسئلہ اگرچہ پریشان کن ہے، لیکن وہ اس سے نمٹنے کیلئے  اپنے پرانے طریقے کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ گائوں میں ایک بار پھر مٹی کے چولہوں کی مرمت شروع ہو گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گاؤں کاموسم بدل رہا ہے، آموں کے بور سے بغیا مہکنے لگی ہے

برسوں سے گھر کےکونے میں پڑے ،گردو غبار میں لپٹے چولہے کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔ گیس چولہے والے کچن کنارے کرکے مٹی کے چولہے والی جگہ کی صفائی شروع کر دی گئی ہے ۔  خالی گیس سلنڈر کو بار بار الٹ پلٹ کر کوشش  کے بعدکہ جیسے شاید اس میں کہیں سے تھوڑی سی گیس نکل آئےاورباقی رہ گئی کچھ روٹیاں تیار ہو جائیں ...جب تمام تر کوششیں ناکام ہوگئیں تو تھک ہارکر سلنڈر کو ایک کونے میں رکھ دیا گیا  ہے۔ پھر مٹی کے چولہے پر کھانا پکانے کا جتن ہونے لگا ۔

اسکول جانے والے بچوں کو ٹفن کی جلدی ۔ صبح کے ناشتے پر خطرے کے بادل ۔ افطار اور سحری والے گھروں میں مسئلہ اور پیچیدہ ہو گیا ہے ۔ ایک طرف گیس کا رونا ہے تو دوسری طرف صدیوں پرانا روایتی طریقہ ہے ...گائوں کی سیتا باغوں سے سوکھی لکڑیاں جمع کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’چیت ‘ سے ’جیٹھ‘ تک تو اس طرح کام چل ہی جاتا ہے ۔ سرسوں کے ڈنٹھل اور پت جھڑ میں درختوں سے گرنے والی پتیاں بھی ایندھن  کے کام آتی ہیں۔  جو لوگ بار بار قصبے کی دوڑ لگانے کے باوجودگیس کی قلت کے سبب خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں،  اب وہ بھی تھک ہار کر باغوں میں لکڑیاں تلاش کر رہے ہیں۔ چنانچہ گائوں کے لوگ پرانی روایت پر  لوٹ رہے ہیں۔ اب وہ کھانا پکانے کیلئے لکڑیاں جمع کر رہے ہیں۔ ایک بار پھر گھروں کے آنگن میں مٹی کا چولہا جلنے لگا ہے ۔ باغوں سےلائی گئیں خشک لکڑیاں اس میں ڈالی جارہی ہیں،بہت دنوں بعد کچن سے دھواں اٹھنے لگا ہے۔گیس سلنڈر کے آنے کے بعد لکڑیاں بھول جانے والے ایک با پھر پرانے زمانے میں لوٹ آئے ہیں۔ اب سوکھے درختوں کی لکڑیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کاٹی جارہی ہیں۔’اُپلے‘ جمع کئے جا رہے ہیں۔ گائوں کی بزرگ خواتین ’اُپلے‘ کے فائدہ بتاتے  ہوئے بڑے فخر سے کہہ رہی ہیں دیکھا نا اس مصیبت کی گھڑی میں اُپلےکتنے کام آرہے ہیں ۔ ہم لوگ صبح صبح اُٹھ کرگھنٹوں ہاتھ گھِس کر یوں ہی ’اُپلے‘ تیار نہیں کرتے تھے ، دیکھئے آج انہیں کے دم سے چولہا گرم ہو رہا ہے۔گیس سلنڈر اب گائوں گائوں پھیل گیاہے ۔ ہمارے زمانے میںتو اس بلا کا نام و نشان  ہی نہیں تھا ۔ گھر کے مرد لکڑیاں جمع کرتے تھے اور ہم عورتوں کی ذمہ داری کھانا پکانے کی ہوتی تھی ... بڑی  بی اچانک پیدا ہونے والی گیس کی قلت کو کوستے ہوئے بولیں ...چارپارئی پر ایک طرف بیٹھی پڑوس کی خاتون کہنے لگیں....ارے بہن...  لکڑی کے چولہے پر بنی دال اور روٹی کا ذائقہ ہی کچھ اور ہوتا ہے، گیس کے چولہے میں وہ بات کہاں۔ ہمارے گھر میں تو روٹی لکڑی کی آگ پر ہی سینکی جاتی ہے۔ گیس پر پکائی جانے والی روٹی ہمیں نہیں بھاتی ۔

گیس کی قلت پر گائوں کا الگ ہی رنگ ہے ۔ گویا پورا گائوں ایک کنبے میں تبدیل ہو گیا ہے ۔  عورتیں  ایک دوسرے کے گھروں میں آ جاتی ہیں۔ کوئی لکڑیاں لے آتا ہے، کوئی آٹا گوندھنے میں ہاتھ بٹا تا ہے اور کوئی بچوں کو سنبھال لیتا ہے۔ یوں گیس کی کمی ایک چھوٹی سی محفل کا سبب بن جاتی ہے جہاں ہنسی مذاق اور پرانی یادوں کا سلسلہ بھی چل پڑتا ہے۔ بوڑھی دادی اماں پھر وہی اپنا جملہ دہراتی ہیں ارے بیٹا ... ہمارے زمانے میں تو گیس کا نام بھی نہیں تھا۔ ساری عمر اسی چولہے پر کھانا پکایا، کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے: کھیت کو پرندوں سے بچانے کیلئے طلبہ اونچی آواز میں سبق یاد کرتے ہیں

شاید یہی گاؤں کی زندگی کی خوبصورتی ہے کہ یہاں مشکل بھی کسی نہ کسی طرح آسانی میں بدل جاتی ہے۔ گیس کی قلت وقتی پریشانی ضرور پیدا کرتی ہے، مگر مٹی کے چولہے کی آنچ اور لوگوں کے باہمی تعاون سے زندگی کا سلسلہ پھر بھی چلتا رہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK