جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے بعد’جین زی‘ پورے ملک پر چھا گئی ہے۔اس وقت یہی نسل زیر بحث ہے۔یہ وہ نسل ہےجو۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہوئی اور پروان چڑھی۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 8:10 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے بعد’جین زی‘ پورے ملک پر چھا گئی ہے۔اس وقت یہی نسل زیر بحث ہے۔یہ وہ نسل ہےجو۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہوئی اور پروان چڑھی۔
جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے بعد’جین زی‘ پورے ملک پر چھا گئی ہے۔اس وقت یہی نسل زیر بحث ہے۔یہ وہ نسل ہےجو۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہوئی اور پروان چڑھی۔ اس سے قبل میلینیلز کا زمانہ تھاجسے ’جین وائے‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ وہ نسل ہےجو۱۹۸۱ء سے۱۹۹۶ء کے درمیان پیدا ہوئی اورپروان چڑھی ۔جنتر منتر پر احتجاج کے پس منظر میںجین زی کوبہادر، بیباک ، بے فکر اور جرأت مند نسل کے طورپر پیش کیا جا رہا ہےجبکہ اس کے موازنےمیں جین وائے کے تعلق سے مختلف باتیںکہی جارہی ہیں۔جین زی کے مقابلے میںجین وائے کو کہیںمظلوم ، خامو ش ، یہاں تک کے بزدل نسل بھی کہاجارہا ہے جبکہ کہیںیہ بھی کہا جارہا ہےکہ یہ ایک فرماں بردار،متحمل اور مضبوط اعصاب کی حامل کی نسل ہے۔یہ واضح رہےکہ یہ عارضی اورسرسری جائزہ ہےجو ان دنوںدونوں نسلوں کے تعلق سے کیاجارہا ہے، اس میںایسا نہیںہےکہ ایک نسل کی کوئی خاصیت دوسری میں نہیںہے یا دوسری نسل کی کوئی خامی پہلی میںنہیں ہے۔ان میں سے ہر نسل کا زمانہ مختلف رہا ہےاورجین وائے کو جین زی پراس مناسبت سے برتری حاصل ہےکہ اس نے وہ دور دیکھا ہے جو جین زی نے نہیںدیکھا ہے اور وہ یہ دعویٰ کرسکتی ہے جبکہ جین زی یہ نہیںکہہ سکتی کہ جو ہم نے دیکھا ہے وہ جین وائے نے نہیںدیکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جین زی کی قوت کا اعتراف یا وزیر کا استعفیٰ محض خانہ پری
سیاسی پہلوؤں سے دیکھا جائے توجین وائے نے مختلف حکومتو ں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے،جبکہ جین زی نے ہوش سنبھالنے کے بعدمرکز میں ایک منموہن سنگھ کی حکومت دیکھی ہے اورایک نریند رمودی کی ۔جین وائے نے وی پی سنگھ کو بھی دیکھا ،نرسمہا راؤ کو بھی دیکھا ، اندر کمار گجرال کو بھی دیکھا اور دیوے گوڑا کو بھی دیکھا ہے۔ جین وائے کیلئے اٹل بہاری واجپئی بھی ناقابل فراموش ہیںاور لالو یادو بھی۔جین وائے جے للتا کو بھی جانتی ہے اور شرد پوار کو بھی نیز بال ٹھاکرے کو بھی ۔ جین وائے کو جوزف وجے کے قد کا بھی اندازہ ہےاوراس سے قبل وہ رجنی کانت ،کمل ہاسن ، شاہ رخ خان، امیتابھ بچن ، اور دلیپ کمار سے بھی واقف ہے ۔ جین وائے راہل گاندھی کے سیاسی آغاز سے بھی واقف ہےاورپرینکا گاندھی سے بھی ۔جین وائے کے سامنے ملک کی سیاسی تاریخ ایسے بکھری پڑی ہےکہ وہ پورے سیاسی پیٹرن سے واقف ہوچکی ہے۔جین وائے جانتی ہےکہ مرکز میںاتحاد کیسے بنتے اور بگڑتے ہیں، سیاسی مساوات کیسے طے ہوتی ہے،حکومتیںکیسے قائم ہوتی ہیںاور کیسے گرتی ہیں!ایسا نہیں ہےکہ جین زی یہ باتیں نہیںجانتیں،جین زی کوان باتوں، واقعات اورتاریخی حقائق کایقیناً علم ہے،ممکن ہے وہ ان باتوںکا جین وائے سے بہتر تجزیہ بھی کرلے لیکن بات یہی ہےکہ جو جین وائےیعنی ملینیلز کا مشاہدہ رہا ہے ،جین زی کا نہیں ہے۔
جنتر منتر پر ہوئے احتجاج کے دوران ایک نوجوان فلم ’دیش پریمی ‘کا گانا گا کر مظاہرین میں جوش بھرنے کا کام کررہا تھا ۔ یہ ۱۹۸۲ء کی فلم ہےیعنی عین اس دور کی جب جین وائے کو آنکھ کھولے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا ۔ رفیع صاحب کے گائے ہوئے اس گانے پر جین وائے سے تعلق رکھنے والے فخر کرسکتے ہیںاور کہہ سکتے ہیںکہ جین زی کے پاس ایسا کوئی نغمہ نہیںہوگا ۔تسلیم کہ جین زی بیباک ، جرأت مند ، بہادر اور انقلابی ہے لیکن دیکھئے کہ اسےتحریک کس نسل کے گانے سے مل رہی ہے۔ ایک مشہور ویڈیو جوکچھ لڑکوں کا جنتر منتر سے وائرل ہوا ہے ، اس کے پس منظر میںجو نغمہ بج رہا ہے وہ۱۹۶۴ء کی فلم ’مسٹر ایکس اِن بامبے‘کا ہے۔کشور کمارکے گائے ہوئےنغمے ’میرے محبوب قیامت ہوگی ‘ کوکسی نئے گلوکار نے اپنے انداز میںگایا ہےجسےسن کر ذہن اسی دور میں چلاجاتا ہے۔ اس پر جین زی کا رد عمل قابل دیدہےاور اس نسل نے اسے جس طرح پیش کیا ہے، اس پر اب تک سیکڑوں میمز بن چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گاؤں کے عارضی پل صرف دو کناروں کو نہیں ملاتے تھے بلکہ دلوں کو بھی جوڑتے تھے
دیکھئے کہ احتجاج جین زی کا ، میمز جین زی کے ،لیکن موسیقی بےبی بومرس (۱۹۶۴ء-۱۹۴۶ء) کے نسل کی ہے۔اس نسل کا براہ راست جین وائے سے تعلق تو نہیںہے لیکن اس میںکوئی شبہ نہیں ہے جین وائے فلمی دنیا کے سنہرے دور کی موسیقی کو بھی اپنا سمجھتی ہےاوراپنے دور یعنی ۹۰ء کی دہائی کی موسیقی کی بھی دلدادہ ہے۔فلموں میں موسیقی اور نغموں کا جوخزانہ ہےاس کا زیادہ ترتعلق انہی دوادوار سے ہے۔جین زی کو اگر پُر جوش ، انقلابی اوردل میں اترنے والی موسیقی کی ضرورت ہوگی تو اسے انہی دوادوار میں یہ تلاش کرنا ہوگا ۔جین زی کے پاس اسمارٹ فون ہے،یہ نسل ڈیجیٹل ہے،’ ناں‘ کہنا جانتی ہے۔اس میں فرقہ واریت نہیں ہےاور اس کا مزاج آگےبڑھنے کا ہے۔ جین وائے نے لینڈ لائن تک سے آئی فون تک سفر طےکیا ہے۔ اس نے پیجر بھی دیکھا ہے۔ یہ نسل منہ پر ’ناں‘کہنے سے ہچکچاتی ہےلیکن غلط کو غلط ضرورسمجھتی ہے۔اس کی حمایت نہیںکرتی۔ اس نے اپنے دور میں بہت سے فسادات دیکھے ہیںجس کا پچھتاوا اسےہے۔وہ جانتی ہےکہ فسادات کے کیا نقصانات ہوئے ۔وہ جانتی ہےکہ فسادات صرف ہوتے نہیں بلکہ کروائے بھی جاتے ہیں ۔ جین زی جلد نتائج دیکھنا چاہتی ہے جبکہ جین وائے زندگی اور معمولات میں استحکام چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی گھرانوں میں پروٹین کا بڑھتا’پریمیم‘ بخار، صحتمند زندگی کی نئی دوڑ!
جنتر منتر پراحتجاج جین زی کی فتح ہےلیکن یہ احتجاج جس کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی ایماپر شرو ع ہوا ، اس کے بانی ابھیجیت دپکے کا تعلق جین زی سے نہیں بلکہ جین وائے نسل سے ہے۔ابھیجیت دپکے کی پیدائش ۱۹۹۵ء میں ہوئی یعنی جین زی کے پیدا ہونے سے ۲؍ سال قبل ۔جین وائے کےدپکے نے احتجاج کی چنگاری بھڑکادی لیکن اس میں جوش بھرنے کا کام نیہابورا جیسی جین زی لیڈر نے کیا جن کی عمر ۲۵؍سال ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہےکہ جنتر منتر پر احتجاج صرف جین زی کا احتجاج نہیںتھابلکہ اسے متحرک کرنے والا جین وائے کا ہی ایک نوجوان تھا جس کے ذہن میں تعلیمی نظام میںمسلسل بدعنوانیوںکے سبب لاوا پک رہا تھا اور جو ہندومسلم کی سیاست سے عاجز آچکا تھا۔حقیقت یہ ہےکہ نسلیںایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتیں، ایک دوسرے سے کٹتی نہیںبلکہ ایک دوسرے کےساتھ آگے بڑھتی ہیں اور ایک دوسرے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ہم یعنی جین وائے اور جین زی عظیم نسل (۱۹۲۷ء-۱۹۰۱ء) سے آگے بڑھے ہیں۔ ہمیںخاموش نسل (۱۹۴۵-۱۹۲۸ء) نے یہاں تک پہنچایا ہ ہے۔ہم بے بی بومرس (۱۹۶۴ء-۱۹۴۶ء) اورجین ایکس (۱۹۸۰ء-۱۹۶۵ء) کا ہاتھ پکڑکر یہاںتک پہنچےہیں۔ ہم میں بڑا فرق زمانے کا ہے اور معمولی فرق مزاج کا ہے۔ اسلئے یہ سمجھنا ضروری ہےکہ ایک دوسرے کا ساتھ دینے میں کامیابی ہے اورساتھ چلنے میںجیت ہے۔