ملک کے غیر اُردو اخبارات کے اداریوں اور تجزیاتی مضامین میں بہار اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو پیش آنے والی انتخابی ناکامی کو عوامی ناراضگی اور بدلتے سیاسی رجحانات کی علامت قرار دیا گیا جبکہ جنسی استحصال کے مقدمے میں برج بھوشن سنگھ کے بری ہونے پر قانونی و اخلاقی پہلوؤں سے تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
مودی حکومت کی پولیس نے طلبہ پر لاٹھیاں برسائیں اور اب مودی انہی مار کھانوں والوں کو معاف کررہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
ملک کے غیر اُردو اخبارات کے اداریوں اور تجزیاتی مضامین میں بہار اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو پیش آنے والی انتخابی ناکامی کو عوامی ناراضگی اور بدلتے سیاسی رجحانات کی علامت قرار دیا گیا جبکہ جنسی استحصال کے مقدمے میں برج بھوشن سنگھ کے بری ہونے پر قانونی و اخلاقی پہلوؤں سے تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ شمالی ہند میں کانوڑ یاترا کے دوران تشدد اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات پر اخبارات نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے شرپسند عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اسی کے ساتھ جین زی سے اظہارِ ہمدردی پر وزیر اعظم مودی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ حکمراں جماعت کے بعض لیڈروں کی غیر شائستہ اور اشتعال انگیز سیاسی زبان کو بھی جمہوری اقدار اور سیاسی شائستگی کے منافی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
بی جے پی کیخلاف بے اطمینانی کی لہر جنم لے چکی ہے
لوک ستہ( مراٹھی، ۵؍اگست )
’’ایک یا دو ضمنی انتخابات کے نتائج سے ملک کے پیچیدہ اور وسیع سیاسی منظر نامے کا حتمی اندازہ لگانا اگرچہ قبل از وقت ہوتا ہے تاہم حال ہی میں بی جے پی اقتدار والی تین ریاستوں کے اسمبلی ضمنی انتخابات سے نکلنے والے اشارے انتہائی چونکا دینے والے ہیں۔ بہار اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو ملنے والی عبرتناک شکست اور گجرات میں فتح کے باوجود ووٹوں میں ہونے والی ڈرامائی کمی یہ واضح کرتی ہے کہ حکمراں جماعت کے خلاف عوامی سطح پر بے اطمینانی کی ایک لہر جنم لے چکی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ اور تازیانہ عبرت بہار کے بانکی پور اسمبلی حلقے کا نتیجہ ہے۔ یہ وہی حلقہ ہے جسے بی جے پی کا ناقابل تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا اور جہاں سے پارٹی لیڈروں نے غرور و تکبر میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ بی جے پی کسی کتے یا بلی کو بھی کھڑا کر دے تو وہ جیت جائے گا۔ ووٹرس نے اس سیاسی زعم کا جواب بی جے پی کو دھول چٹا کر دیا ہے۔ قومی صدر کے اپنے حلقے کے باوجود پرشانت کشور کی پارٹی کے ہاتھوں یہ شکست ایودھیا کی شکست سے بھی زیادہ مایوس کن اور ہضم نہ ہونے والی ہے۔ مدھیہ پردیش کے دتیا حلقے میں بھی بی جے پی کی مقامی جوڑ توڑ اور اندرونی کھینچ تان نے اسے نچلے درجے پر دھکیل دیا۔ بااثر لیڈروں کو نظر انداز کرنے اور من مانی امیدواری کے فیصلے نے رائے دہندگان کے غصے کو ہوا دی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نظم و ضبط کی حامل کانگریس نے کامیابی سمیٹ لی۔ دوسری طرف گجرات کے مانجل پور میں اگرچہ بی جے پی اپنی نشست بچانے میں کامیاب رہی لیکن پچھلی بار کے ایک لاکھ کے بھاری فرق کے مقابلے میں اس بار محض ۳۰؍ ہزار کی جیت یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ فتح کی زرق برق کے پیچھے زوال کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ان نتائج کا سب سے اہم پہلو جنتر منتر پر جاری جین زی یعنی طلبہ کا احتجاجی پس منظر ہے۔ طاقت کے زعم میں مبتلا قیادت کو نوجوانوں کے سامنے جھکنا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ حکمراں طبقے سے ملک نالاں ہے۔ ‘‘
سیاسی پشت پناہی کی بدولت ملزمان کو تحفظ ملتا ہے
نوشکتی( مراٹھی، ۵؍اگست)
’’ہندوستانی کشتی کو عالمی افق پر شاندار مقام دلانے والی خاتون پہلوانوں کی دردناک جدوجہد کا دلی کی عدالت سے آنے والا فیصلہ ملک کے باضمیر شہریوں کیلئے ایک گہرا چیلنج اور ہمارے عدالتی و انتظامی سسٹم کی جوابدہی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ سابق صدر ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا اور سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ اور ان کے شریک ملزم ونود تومر کو چھ خاتون پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کے معاملے میں محض ثبوتوں کی کمی اور گواہوں کے بیانات میں تضاد کا جواز بنا کر بری کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ دراصل ملک کی ان کھلاڑی بیٹیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جنہوں نے اپنی عزت نفس کیلئے سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ وطن عزیز کا سر فخر سے بلند کرنے والی ونیش پھوگاٹ، ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا جیسے چمپئن کھلاڑیوں کو جب۲۰۲۳ء میں دہلی کے جنتر منتر پر سڑکوں پر اُترنا پڑا تبھی طاقت کے ایوانوں کا ناگفتہ بہ رویہ بے نقاب ہو گیا تھا۔ کھلاڑیوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات انتہائی سنگین اور دل دہلا دینے والے تھےجہاں مشق کے دوران اور فیڈریشن کے دفاتر میں غیر اخلاقی چھیڑ چھاڑ اور ذہنی ہراسانی کے واقعات کا پردہ چاک کیا گیا۔ لیکن افسوس ناک امر یہ رہا کہ مرکزی حکومت اور انتظامیہ کا رویہ شروع ہی سے بے حسی اور تماش بین کا رہا۔ شدید دھوپ اور بارش میں مہینوں احتجاج کرنے والی ان بیٹیوں کی فریاد سننے کے بجائے دہلی پولیس کے ذریعے ان پر بے رحمانہ طاقت کا استعمال کیا گیا انہیں سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور مجرموں کی طرح مقدمات درج کیے گئے۔ اس پورے معاملے کا سب سے تلخ اور تنقیدی پہلو یہ ہے کہ حکمراں جماعت کے اثر و رسوخ اور سیاسی پشت پناہی کی بدولت ملزمان کو مسلسل تحفظ حاصل رہا جبکہ ملک کا نام روشن کرنے والی کھلاڑیوں کی خالص تحریک کو سیاسی طور پر متاثرہ یا خاص خطے کی سیاست قرار دے کر ان کی اخلاقیات پر کیچڑ اچھالا گیا۔ ‘‘
کانوڑ یاترا: انتظامیہ اور ریاست کا رویہ لمحہ فکریہ ہے
ہندوستان ٹائمز( انگریزی، ۴؍اگست)
’’کسی بھی معاشرے میں مذہب اور رسوم و رواج کا بنیادی مقصد انسانوں کو باہم جوڑنا، ان میں اخلاقی اقدار بیدار کرنا اور روح کی پاکیزگی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگر لسانی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو مذہب اور عبادت کا اصل مفہوم ہی اصلاح اور انسانیت کو ایک ڈور میں پروئے رکھنا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں مذہبی عقیدت کا نام لےکر جس قسم کے اعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے وہ مذہب کی بنیادی روح اور مقصد پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ شمالی ہند کی ریاستوں اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہریانہ اور دہلی میں ہر سال کانوڑ یاترا کے دوران برپا ہونے والی بدنظمی اور تشدد اس زوال کی ایک عبرت انگیز تصویر ہے۔ گنگا سے مقدس پانی لا کر اپنے بھگوان کے سامنے پیش کرنا اور گناہوں سے پاکیزگی کی امید رکھنا ایک انفرادی عقیدت ہو سکتی ہے لیکن کیا گناہوں کی دھلائی کے اس سفر میں دوسروں کی زندگیوں کو عذاب بنا دینا اور قانون کی دھجیاں اڑانا مذہبی عمل کہلا سکتا ہے؟ ہر سال بارش کے اس موسم میں کانوڑیوں کا ایک بڑا گروہ جس طرح اپنے آپ کو تمام قوانین سے بالاتر سمجھ کر سڑکوں پر نکلتا ہے وہ شدید تشویش ناک ہے۔ تیز رفتار ڈی جے ٹرکوں کا کان پھاڑتا شور، ٹریفک کی بدترین صورتحال، عام شہریوں سے بدتمیزی اور اب عوامی و نجی املاک پر بے لگام تشدد یہ سب اس یاترا کا معمول بن چکے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ لکھنؤ میں اسکول وین تک پر حملے کیے گئے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ عقیدت کا یہ سفر اب سراسر غنڈہ گردی اور قانون شکنی میں بدل چکا ہے۔ سب سےلمحہ فکریہ پہلو انتظامیہ اور ریاست کا رویہ ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ان عناصر کو دی جانے والی سیاسی و دباؤ پر مبنی خاموش حمایت کا نتیجہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس تماشائی بنے نظر آتے ہیں۔ جب ریاستی مشینری مذہبی جذبات کی تسکین کے لیے قانون کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں موند لیتی ہے تو اس سے زہریلا پیغام جاتا ہے کہ عقیدے کے نام پر کچھ بھی کرنے کا لائسنس حاصل ہے۔ "
..... اخلاقیات کا درس دینے کا کوئی حق نہیں
نوبھارت( ہندی، ۴؍اگست)
’’گزشتہ دنوں وزیر اعظم مودی کا ایک ویڈیو پیغام سرخیوں میں رہا جس میں انہوں نے جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے اشتعال میں آ کر غلط زبان استعمال کرنے والے نوجوانوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا۔ حکمراں طبقے کی جانب سے اسے ایک شفیق سر پرست اور فیاضی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پی ایم نے زبان دانتوں کے درمیان آنے اور خون نکلنے کے باوجود دانت نہ توڑنے کی مثال دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حکومت نوجوانوں کو اپنے ہی بچے سمجھ کر درگزر کر رہی ہے۔ تاہم اس بظاہر ہمدردانہ بیان کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو اس کے پیچھے چھپی اقتدار کی خود غرضی اور ناانصافی صاف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معافی کا یہ سارا غوغا محض ایک سیاسی ڈراما اور حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ اپوزیشن کا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ جب عوام حکومت سے اپنی ناکامیوں کی جوابدہی اور معافی کا مطالبہ کر رہے تھے تو اعلیٰ ترین قیادت نے الٹا ملک ہی کو معافی کا پروانہ تھما دیا۔ اگر حکومت واقعی معاف کرنے کے جذبے سے سرشار ہے تو پھر تھانوں میں زیرو ایف آئی آرز کا اندراج اور سائبر سیل کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی چھان بین کا سلسلہ کیوں جاری ہے؟ ایک طرف زبان سے شفقت کا دعویٰ اور دوسری طرف ریاستی جبر کی لاٹھی، یہ کھلا دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟اقتدار کی اخلاقیات کا جنازہ اس وقت اور بھی نکل جاتا ہے جب خود حکمراں جماعت کے اعلیٰ لیڈروں کی زبان پر نظر ڈالی جائے۔ خواتین اور سیاسی حریفوں کیلئے بار ڈانسر، جرسی گائے، کانگریس کی بیوہ اور سنندا پشکر سےمتعلق ۲۰؍ کروڑ کی گرل فرینڈ جیسے بازاری جملے کس نے کسے تھے؟ جو خود سیاسی فائدے کیلئے کیچڑ میں پاؤں ڈالتے ہیں انہیں دوسروں کے غصے پر اخلاقیات کا درس دینے کا کوئی حق نہیں۔ ‘‘