پُرو ا ہوا چل رہی تھی ۔ دوپہر کا وقت تھا ۔دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پرسیاہ بادل چھانے لگے اور تیز بارش شروع ہو گئی ۔ باغ میں کھیلنے والے بچےبارش سے بچنے کیلئے چھپر میں جا کر بیٹھ گئے۔ جو ہر کسی کیلئے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 8:46 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
پُرو ا ہوا چل رہی تھی ۔ دوپہر کا وقت تھا ۔دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پرسیاہ بادل چھانے لگے اور تیز بارش شروع ہو گئی ۔ باغ میں کھیلنے والے بچےبارش سے بچنے کیلئے چھپر میں جا کر بیٹھ گئے۔ جو ہر کسی کیلئے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
پُروا ہوا چل رہی تھی ۔ دوپہر کا وقت تھا ۔دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پرسیاہ بادل چھانے لگے اور تیز بارش شروع ہو گئی ۔ باغ میں کھیلنے والے بچےبارش سے بچنے کیلئے چھپر میں جا کر بیٹھ گئے۔ جو ہر کسی کیلئے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ اس میںکوئی دروازہ نہیں ہوتا ۔ بارش میں بھیگنے سے بچاتا ہے تو سخت دھوپ میں ٹھنڈا سایہ فراہم کرتا ہے ۔ گائوں میں چھپر کی اپنی الگ اہمیت ہے ۔’’گائوں کی باتیں‘‘ کالم میںچھپر پر آج دوسری مرتبہ گفتگو ہو رہی ہے ۔ اس سے قبل اس کے بنانے کے طریقے پر بات کی گئی تھی۔اُس روز بارش سے بچنے کیلئے جب گائوں کے بچے اور بڑے اُس میں پناہ لئے ہوئے تھے تومحسوس ہوا کہ اس پر مزید گفتگو ہونی چاہئے ۔
یہ بھی پڑھئے: ہر گائوں کے کنارے پُلیا آج بھی ہوتی ہیں مگر سب کی الگ الگ کہانیاں ہیں
واقعی آج بھلے ہی گائوںمیں پکے مکان بن گئے ہیں لیکن چھپر کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اب اس کی تعداد پہلے کے مقابلے کم ہو گئی ہے ۔ اُس وقت بارش شروع ہونے سے پہلے اس کی مرمت کی جاتی تھی ۔ نئی گھاس ڈالی جاتی اور کمزور حصوں کو مضبوط کیا جاتا تاکہ پانی اندر نہ ٹپکے ۔ بزرگ کہا کرتے تھے بارش میں چھپر مضبوط ہونا چاہئے۔ اُس وقت کئی کئی روز ہونے والی بارش سے کچے مکان اکثر گر جاتے تھے جس کی وجہ سے بہ یک وقت جانی اور مالی نقصان کا خطرہ رہتا تھا۔ چنانچہ ساون بھادوں میں جب موسلا دھار بارش ہوتی تو کمزور مکانوں والے غریب کنبے گھر کے سارے سامان کے ساتھ چھپر میں پناہ لیتے ۔ حتیٰ کہ مویشی بھی اُسی چھپر میں باندھ دیتے تھے ۔خدا نہ خواستہ بارش میں اگر چھپر گر بھی جاتا تو اس میں جانی نقصان کا خطرہ بہت کم ہوتا تھا ورنہ بارش کے ایام میں نہ جانے کتنے ہی کچے مکانوں میں زندگیاں دفن ہو جایا کرتی تھیں۔ موسلا دھار بارش میں کوئی شور پڑوسیوں تک نہیں پہنچتا تھاکہ بروقت پہنچ کر مدد کی جائے۔ اس وقت کتنے ہی کچے مکان صبح ہوتے ہوتے مٹی کے ڈھیر بن جاتے تھے ۔
بارش کا مزہ چھپر میں ہی آتا تھا ۔ اس کے اوپر گرتے قطروں کی آواز ایک خوبصورت دھن پیدا کرتی تھی۔بچے چھپر کے نیچے بیٹھ کر بارش کا نظارہ کرتے، عورتیں گھریلو کام انجام دیتیں اور بزرگ چارپائی پر بیٹھے موسم کی باتیں کرتے تھے۔ بعض اوقات لوگ چھپر کے نیچے بیٹھ کر چائے پیتے اور مکئی یا بھنے ہوئے چنے کھاتے کھاتے بارش سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ خاندان کے افراد چھپر کے نیچے اکٹھا ہو کر قصے کہانیاں سناتے، پرانی یادیں تازہ کرتے اور باہمی محبت کو فروغ دیتے تھے۔ یوں چھپر نہ صرف جسمانی تحفظ فراہم کرتا تھا بلکہ خاندانی رشتوں کو مضبوط بنانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی بنتا تھا۔کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کے لئے بھی چھپر بہت اہم تھا۔ اکثر کھیتوں کے کنارے ایک چھوٹا سا چھپر بنایا جاتا تھا جہاں کسان دوپہر کے وقت آرام کرتے، اپنے کھانے پینے کا سامان رکھتے اور اچانک بارش آنے پروہاں پناہ لیتے تھے۔ یہ چھوٹا سا سایہ دار مقام کسان کا عارضی گھر بن جاتا تھا۔ گرمیوں میں یہی چھپر ٹھنڈی چھاؤں دیتا، سردیوں میں ہوا کی شدت کم کر دیتا اور برسات میں بارش سے بچاتاتھا۔ اگر کہیں سے پانی ٹپکنے لگتا تو گھر کے بزرگ فوراً بانس کی سیڑھی لگا کر اوپر چڑھ جاتے۔ نئی گھاس ڈالی جاتی، سرپت(سرکنڈے) کو درست کیا جاتا اور یوں چھپر دوبارہ موسم کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: گرمیوں کی دوپہر، تالاب، بھینسیں، بچوں کا شور اور ہنسی آج بھی ذہن میں تازہ ہیں
ڈھلتی شام کے ساتھ گائوں کے چھپروں میں روشن کئے جانے والے چراغ کا منظر بڑا دلکش ہوتا تھا۔ مٹی کے دیئے یا لالٹین کی زرد روشنی جب چھپر سے باہر نکلتی تو ایسا محسوس ہوتا جیسے تارے زمین پر اُتر آئے ہوں۔ اس زمانے میں بجلی ہر گھر تک نہیں پہنچی تھی۔ شام کے بعد یہی چراغ زندگی کا سہارا ہوتے تھے۔ ان کی مدھم روشنی میں بچے سبق یاد کرتے، بزرگ تسبیح پڑھتے، عورتیں سلائی کڑھائی میں مصروف ہوتیں اور خاندان کے لوگ دن بھر کے واقعات ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ چراغ کی لو کبھی تیز ہوتی، کبھی مدھم پڑتی لیکن بہ ہر صورت جلتی رہتی تھی ۔ واقعی ڈھلتی شام کے ساتھ چھپروں میں روشن ہونے والے وہ چراغ اب بھی ان لوگوں کی یادوں کے دریچے میں اسی طرح جگمگاتے ہیںکہ جس کی روشنی صرف گھروں کو نہیں بلکہ دلوں کو بھی منور کیا کرتی تھی۔
آج گاؤں میں پختہ مکانات کی تعداد بڑھ گئی ہے اور کنکریٹ کی چھتوں نے روایتی چھپروں کی جگہ لے لی ہے، لیکن چھپر کی یادیں اب بھی دیہی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ بہت سے کسان آج بھی اپنے کھیتوں میں چھوٹے چھپر بناتے ہیں اور بعض علاقوں میں مویشیوں کیلئے بھی چھپرکا ہی گھر بنایا جاتاہے۔وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے، لیکن گاؤں کی بارش، مٹی کی خوشبو اور چھپر کی چھاؤں جیسی یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ یہ یادیں انسان کے دل کے کسی کونے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور جب بھی ساون کے بادل امڈتے ہیںوہ یادیںخاموشی سے لوٹ آتی ہیںاور آنگن میں چھپر پر برستی بارش کی آواز اب بھی ویسی ہی محسو س ہوتی ہے، جیسے کبھی گزرے دنوں میں ہوا کرتی تھی ۔