Inquilab Logo Happiest Places to Work

غلام مقبول کی منفرد خوبی یہ ہے کہ وہ تنہا مریضوں کے ساتھ اسپتال میں رہتے ہیں

Updated: July 10, 2026, 10:00 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

میرا روڈ کے ۷۵؍سالہ غلام مقبول شیخ کی سماجی اور فلاحی کاموں کی فہرست طویل ہے، ۳۷؍سال تک بی ایم سی کےمختلف محکموں میں خدمات پیش کرنے کے بعد گزشتہ ۱۶؍برسوں سے گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ہی طبی، سماجی اور تعلیمیکاموں میں سرگرم ہیں۔

Ghulam Maqbool Hussain Sheikh Noor Muhammad. Photo: INN
غلام مقبول حسین شیخ نور محمد۔ تصویر: آئی این این

میرا روڈ کے ۷۵؍سالہ غلام مقبول حسین شیخ نور محمد کی پیدائش ۱۲؍ جنوری ۱۹۵۲ء کوبی آئی ٹی چال مجگائوں میں ہوئی تھی۔ واڑی بندر میونسپل اُردو اسکول سے ساتویں اور انجمن خیرالاسلام اُردو ہائی اسکول مدنپورہ سے میٹرک کیا۔ گھرکے مالی حالات اچھے نہیں تھے، اسلئے آگے کی پڑھائی نہیں کرسکے۔ والد کے بی ایم سی میں برسرکار ِ ہونے کی وجہ سے۱۹۷۳ء میں انہیں بھی بی ایم سی میں ملازمت مل گئی۔ محنت اور ایمانداری کی وجہ سے وقت وقت پرترقی اور کامیابی ملتی گئی۔ ۲۰۱۰ء تک بی ایم سی سے وابستہ تھے۔ ۳۷؍سالہ ملازمت کے دوران کلرک، بی ایم سی کے الیکشن ڈپارٹمنٹ میں الیکشن انسپکٹر اور آکٹرائے ڈپارٹمنٹ میں متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ سبکدوشی کے بعد گزشتہ۱۶؍برسوں سے گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ہی طبی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ یہ سارے کام انفرادی طورپر اپنی استطاعت کے مطابق کرتے ہیں۔ ان کے سماجی کاموں کی طویل فہرست ہے، لیکن ایک اہم طبی سرگرمی کا ذکر ضروری ہے جس سے ان کی منفرد سماجی شخصیت کی شناخت ہوتی ہے۔ وہ اپنے اہل خانہ، رشتے داروں اور عزیز وں کے علاوہ ناآشنا مریضوں کے ساتھ بھی علاج کے دوران اسپتال میں ان کےساتھ رہتےہیں ۔ جن مریضوں کے ساتھ اسپتال میں کوئی قیام کرنے والا نہیں ہوتا، وہ ایسے مریضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے رہتے ہیں۔ یہ ان کی ایک بڑی خوبی ہے۔ اس کے علاوہ متعلقین سے مراسم برقرار رکھنے کے معاملے میں بھی ان کا جواب نہیں ۔ پیرانہ سالی میں بھی میراروڈ سے ممبرا، تھانے، کلیان اور دیگر دور دراز علاقوں میں مقیم اپنے رشتےداروں اور عزیزوں کی خبرگیری کیلئے پہنچ جاتے ہیں، خواہ سامنے والا ان سے رابطہ رکھے یا نہیں ۔ 
غلام شیخ کے والدپر ۵؍ بچوں کی کفالت کے علاوہ ان کی تعلیم و تربیت کی پوری ذمہ داری عائد تھی۔ محددو آمدنی میں سارے اخراجات پورا کرنا مشکل تھا۔ اسلئے غلام شیخ اور ان کے دیگر بھائی بہن پڑھائی کیلئے بیاضیں مختلف سماجی اداروں سے جمع کرتے تھے تاکہ والد پر بیاضوں کا بوجھ کم ہوسکے۔ گھر چھوٹا ہونے سے پڑھائی کرنےمیں دقت ہونے پر وہ اور ان کے بھائی مجگائوں گارڈن جاکر پڑھائی کرتے تھے۔ 
غلام شیخ جس دور میں آکٹرائے ڈپارٹمنٹ میں تھے، ایک پارٹی کےمال کے تخمینہ میں تکنیکی غلطی ہونے سے انہوں نے پارٹی پر تقریباً ڈیڑھ ہزارروپے کم چارج کئے تھے۔ حساب کتاب کے دوران ان کے سینئر افسر نے اس غلطی کی نشاندہی کرائی اور کہا کہ اگر پارٹی سے یہ رقم نہیں وصولی گئی تو تمہاری تنخواہ سے رقم کاٹ لی جائے گی۔ غلام شیخ نے اس کے جواب میں اپنے افسر سے کچھ نہیں کہا بلکہ خاموش رہے۔ دوسرے دن وہ پارٹی کے ہاں پہنچ گئےاور سارا احوال بیان کیا۔ پارٹی چونکہ غلام شیخ کی ایمانداری اور دیانتداری کی قائل تھی، اس نے کہا کہ مجھے بھی اس بات کا احساس تھا لیکن میری غفلت سے آپ کو پریشانی ہوئی۔ یہ کہہ کر اس نے ڈیڑھ ہزار روپےان کے حوالے کئے اور اس کی رسید اُن سے لی۔ غلام شیخ نے اس پورے معاملے سے سینئر افسرکو آگاہ کیا، اس طرح یہ مسئلہ حل ہوا۔ 
غلام شیخ ۷۰ ءکی دہائی میں ایک دن لوکل ٹرین سے کنگز سرکل سے وڈالا جا ر ہے تھے۔ اتفاق سے تکنیکی خامی سے وڈالا سے کرلا جانے والی لوکل ٹرین ان کی ٹرین کی پٹری پر سامنے آگئی۔ ایک ہی پٹری پر آمنے سامنے ہونے پر دونوں ٹرینوں کے ڈرائیوروں نے اپنے طور پر گاڑی پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن بالآخر دونوں ٹرینیں ایک دوسرے سے متصادم ہوگئیں۔ مسافروں میں افراتفری مچ گئی اور وہ ٹرین سے اُترکر پٹریوں پر دیوانہ وار بھاگنے لگے۔ دونوں ٹرینوں کے پہلے ڈبوں میں سوار خواتین کا برا حال تھا۔ وہ ایک دوسرے پر گری جارہی تھیں جس کی وجہ سے متعدد عورتیں زخمی ہوگئی تھیں۔ غلام شیخ جس بوگی میں تھے، وہاں کے مسافربھی کافی خوف زدہ تھے۔ غلام شیخ کسی طرح ٹرین سے اُتر کرپلیٹ فارم پر پہنچےاور ایک گوشے میں جاکر بیٹھ گئے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے۔ طبیعت کچھ حد تک بحال ہوئی تو وہاں سے اٹھے اور دوسری ٹرین پکڑ کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔ اس دن موت کو قریب سے دیکھا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: فاطمہ بی سودا سلف روز بازار جاتی ہیں، نہ جائیں تو دکاندار خود گھر آ جاتے ہیں

غلام شیخ کو فلمیں دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ ان کے گھر کے قریب ڈونگری پر ڈربی ٹاکیز ہوا کرتی تھی، جہاں ہر جمعہ کو نئی فلمیں ریلیز ہوا کرتی تھیں۔ جمعہ کو فلم دیکھنے کیلئے ٹکٹ حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا تھا۔ ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے فلم شروع ہونے سے ۳۔ ۲؍ گھنٹہ پہلے لائن میں لگ جاتے تھے۔ ٹکٹ کیلئے قطار میں کھڑے لوگوں سے اکثر بحث وتکرار بھی ہوتی تھی۔ ٹکٹ مل جانے پر بڑا سکون ملتا تھا۔ اس وقت ٹکٹ کی قیمت ۳۵؍ا ور ۷۵؍پیسے تھی۔ ۳۵؍پیسے کا ٹکٹ لے کر سنیما ہال میں سب سے آگے پلاٹ پر بیٹھنے کیلئے کی جانے والی تگ ودو بھی خوب کی ہے۔ سنیما ہال کا گیٹ کھلتے ہی پلاٹ کی جگہ کیلئے دوڑ لگانا، ہاتھا پائی کر کے جگہ حاصل کرنے کا الگ ہی لطف تھا۔ 
غلام شیخ کو مچھلیاں پالنے کا بچپن سےشوق تھا۔ وہ مچھلیاں خریدنے، ان کے چارہ اور دیگر ضروری مشمولات کیلئے الگ سے پیسہ جمع کرتے تھے۔ مچھلیوں کے خوراک کے علاوہ ان کی صاف صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے۔ مچھلیوں سے ان کا بہت جذباتی رشتہ تھا۔ وہ مچھلیوں کے بغیر نہیں رہ پاتے تھے لیکن ایک مرتبہ ایسا واقعہ پیش آیاجس کے بعد انہوں نے مچھلیاں پالنا ہمیشہ کیلئےچھوڑ دیا۔ دراصل ان کے نواسہ کی ولادت ہوئی تھی۔ ولادت کےبعداس کی طبیعت اچانک بہت خراب ہوگئی جس کی وجہ سے پورا خانوادہ اسپتال میں خیمہ زن تھا۔ اس دوران ۲؍دنوں تک مچھلیوں سے توجہ ہٹی رہی۔ اسپتال سے گھر لوٹنے پر فش ٹینک کے بجائے فرش پر متعدد مچھلیوں کو گرا دیکھ کر انہیں بڑی تکلیف ہوئی۔ ان مچھلیوں نے دم توڑ دیاتھا۔ کافی عرصے تک وہ مچھلیوں کی موت کیلئے خود کو ذمہ دا ر سمجھتے رہے۔ اسی صدمے اور احساس ’جرم‘ سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے اسی دن سے مچھلیاں پالنا بند کر دیا۔ 
بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادکے دوران غلام شیخ اپنے بال بچوں کے ساتھ ملاڈ( ایسٹ ) کے پٹھان واڑی میں مقیم تھے جبکہ ان کے ۲؍بھائی اپنے اہل خانہ کے ملاڈ ویسٹ کے سومواری بازار کی ۴؍منزلہ عمارت میں رہائش پزیر تھے۔ اس بلڈنگ میں ۴۰؍ میں سے صرف۴؍گھر مسلمانوں کے تھے۔ علاقہ میں برادران وطن کی اکثریت تھی۔ بھائیو ں کی محبت میں غلام شیخ نے گھر والوں سے کہا تھاکہ ہمیں ایسے نازک وقت میں ان کے ساتھ رہنا چاہئے تاکہ انہیں ہمت اور حوصلہ ملے اور اگر خدانخواستہ موت ہی آنی ہے تو کم ازکم ایک ساتھ مرنےکا موقع تو ملے گا۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ جب سومواری بازارپہنچے تو وہاں لوٹ مار، آگ زنی اور تشدد کابازار گرم تھا۔ ٹیکسی سے اُتر کر کسی طرح بھائی کے گھرپہنچے، وہاں پولیس تعینات تھی۔ پولیس نے گھر کا دروازہ اور لائٹ بند کرکے رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ بلڈنگ کے چندہمسایہ برادران وطن نے ہمدردی میں کہا تھاکہ آپ لوگ جلدازجلد یہاں سے چلے جائیں۔ آپ لوگوں کی جان کو خطرہ ہے۔ اس رات ان برادران وطن نے ہمارے گھر کے ۶؍بچوں کو اپنے گھر میں پنا ہ دی تھی۔ گھر کو باہر سے تالا مار کر ہمیں خاموشی سے رات گزارنے کیلئے کہا تھا۔ علی الصباح ان ہمسایوں نے ہمیں ناشتہ دیا تھا اوراس کے بعد ہمارے لئے ٹیکسی وغیرہ کاانتظام کیا تھا۔ بڑے احتیاط سے ہم سب گھر میں تالا مار کر ممبئی کیلئے روانہ ہوئے تھے۔ اس طرح ہم سب کی جان بچی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK