گاؤں میں گرمیوں کی دوپہریا چھپر کے نیچے ہی گزرتی تھی۔ اُس وقت گائوں میں بجلی نہیں تھی، چھپر میں بیٹھے گھر کے لوگ باری باری ہاتھ کا پنکھا جھل کر گرمی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 3:15 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
گاؤں میں گرمیوں کی دوپہریا چھپر کے نیچے ہی گزرتی تھی۔ اُس وقت گائوں میں بجلی نہیں تھی، چھپر میں بیٹھے گھر کے لوگ باری باری ہاتھ کا پنکھا جھل کر گرمی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
گاؤں میں گرمیوں کی دوپہریا چھپر کے نیچے ہی گزرتی تھی۔ اُس وقت گائوں میں بجلی نہیں تھی، چھپر میں بیٹھے گھر کے لوگ باری باری ہاتھ کا پنکھا جھل کر گرمی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ گھر کی عورتیں گرمیوں میں طرح طرح کے پنکھے تیار کرتی تھیں۔ خوبصورت ڈیزائن میں تیار کیا ہوا پنکھا دلہنوں کو جہیز میں دیا جاتا تھا۔ گائوں سے اپنی سسرال رخصت ہونے والی لڑکی کو اس کی سہلیاں پنکھا، تکیے اور رومال بطور تحفہ دیا کرتی تھیں۔ گائوں میں اُس وقت رئیسوں اور نمبر داروں کے یہاں دالان ہوا کرتے تھے۔ چھوٹے موٹے کسان اپنی بیٹھک کیلئے چھپرتیار کرتے تھے۔ اس کام میں باہمی تعاون اور یکجہتی کی خوبصورت روایات بھی دیکھنے کو ملتی تھیں۔ انہی روایات میں ایک دلکش روایت ’چھپر اُٹھانا‘ بھی تھی، جو صرف ایک تعمیراتی عمل نہیں بلکہ پورے گاؤں کی اجتماعی روح کی عکاس تھی۔ چھپر اب بھی بنائے جارہے ہیں ، پہلے سے خوبصورت اور زیادہ مضبوط لیکن اب انہیں سب گائوں والے مل کر نہیں اُٹھاتے، نہ ہی سب مل کر تیار کرتے ہیں بلکہ اب اسے مزدور بناتے ہیں اور چھپر کو اوپر ہی سانچہ بنا کر تیار کردیتے ہیں۔ پہلے گائوں کے لوگ مل جل کر اسے زمین پر تیار کرتےتھے اور جب چھپربن جاتا تو اُسے اُٹھانے کیلئے پورا گائوں جمع ہوتا تھا۔ اس طرح چھپر اُٹھانے کے کام میں بڑے، بوڑھے، جوان اور بچے سب شامل ہوتے تھے۔ نوجوان اپنی طاقت سے چھپر اُٹھاتے تو گائوں کے بڑے بزرگ انہیں چھپر اُٹھانے کے طریقے بتاتے تھے۔
گائوں میں کچے مکان اور چھپر رفتہ رفتہختم ہوتے جارہے ہیں۔ گائوں میں لوگ گھروں کے باہر جو چھپر بنا بھی رہے ہیں ، اب اس پر پھوس یا سرپت کی چھت نہیں بلکہ ٹین شیڈ ڈالے جارہے ہیں۔ ٹین شیڈ والے چھپر گرمیوں میں اس قدر تپتے ہیں کہ ان کے نیچے بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں ٹھنڈی ہوا تو پھوس کے چھپر میں ہی ملتی ہے۔ پہلے گائوں کے غریب اور کمزور افراد کچے مکانوں پربھی اسی پھوس کا چھپر ڈال دیا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: گیہوں کی سوکھی بالیاں چننے کیلئے بچے اسکول سے سیدھے کھیتوں میں پہنچتے تھے
اُس وقت گائوں میں جب کسی کے گھر چھپر ڈالا جاتا، تو وہ تنہا یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ ایسے موقع پر پورا گاؤں مدد کیلئے جمع ہو جاتا۔ کوئی بانس لگاتا، کوئی رسیاں کھینچتا اور کوئی سرپت کو ترتیب دیتا۔ پورا گائوں اپنا کام سمجھ کر دن بھرلگا رہتا۔ اس دوران ہنسی مذاق اور دوستانہ ماحول کام کی تھکن کو محسوس ہی نہیں ہونے دیتے تھے۔ خاص بات یہ ہوتی تھی کہ اس کام کے بدلے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا تھا۔ یہ خالصتاً خلوص اور بھائی چارے کا مظہر ہوتا تھا۔ آج تو مشینوں کا دور ہے، گھنٹوں کے کام منٹوں میں ہو جاتے ہیں۔ اُس وقت یہ محنت بھرے کام خود ہی کرنے پڑتے تھے۔ آج ذرا سی دیر کیلئے دھوپ میں نکلتےہیں تو پورا جسم پسینے سے تر ہو جاتا ہے۔ اُس وقت ہمارے بزرگ مئی جون کی سخت گرمی میں کھیتی کے کام کرتے اور دن بھر اُنہیں دھوپ اور لو کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ گیہوں کٹنے کے بعد اسے زمین میں پھیلا کر بیل چلائے جاتے تھے۔ ایک آدمی بیل کے پیچھے پیچھے دن بھر چلتا۔ اِ س طرح گیہوں ڈنٹھل سے الگ ہوتا۔ پھر اُس کو صاف کرنے کیلئے ہوا کا انتظار کیا جاتا۔ جب ہوا چلتی تو اُسے اُسایا جاتا تھا۔ یہ تمام محنت بھرے مراحل سے گزر کر صاف گیہوں ہاتھ آتا تھا۔ وہ کھلیہان کا زمانہ تھا۔ کسانوں کے کئی کئی روز اسی کھلیہان میں گزرجاتے تھے۔ اُن کا کھانا اور ناشتہ وہیں ہوا کرتا تھا۔ گیہوں کاٹنے کا یہ محنت بھرا کام جب ختم ہوجاتا تو کسان اپنے چھپروں میں آرام کیا کرتے تھے۔ یہاں چھپر کے کونے میں ایک گھڑا یا گگری رکھی ہوتی۔ گرمیوں کے دنوں میں جب لو کے تھپیڑے چلتے، تو یہی گھڑا سب کیلئے راحت بن جاتا تھا۔ نہ فریج کی ٹھنڈک، نہ برف کی ضرورت، بس مٹی کی خوشبو سے بھرا وہ پانی، جو ہونٹوں کو لگتے ہی جیسے ساری تھکن اتار دیتا تھا۔ گگری کے اوپر رکھا ہوا کپڑا، جسے بار بار گیلا کیا جاتا تھا، اس کی ٹھنڈک کو اور بڑھا دیتا تھا۔ چھپر کے کونے میں گھڑا رکھنے کی وہ جگہ بہت خاص ہوا کرتی تھی۔ یہاں زیادہ دھوپ، نہ زیادہ ہوا، بس ایک متوازن سایہ جہاں وہ خاموشی سے اپنی ذمہ داری نبھاتا رہتا تھا۔ اکثر اس کے پاس ایک مٹی کا پیالہ یا لوٹا رکھا ہوتا تھا، جس سے ہر آنے والا پانی پی کر اپنی پیاس بجھالیتا تھا۔ وہ منظر بھی کتنا دلکش ہوتا تھاجب کوئی بزرگ یا کسان کھیت سے تھکا ہارا آتا، پسینے سے بھیگا ہوا، اور سیدھا اسی گھڑے کے پاس جا کر بیٹھ جاتا۔ ایک لمبا گھونٹ لیتا، کچھ دیر کیلئے آنکھیں بند کرتا اور جیسے دل ہی دل میں اس مٹی کے برتن کا شکریہ ادا کررہا ہو۔
بات چھپراُٹھانے کی چل رہی تھی تو... بتاتا چلوں کہ اس کام کیلئے کوئی منع نہیں کرتا تھا۔ آپس میں ناراضگی اور من مٹائو بھی ہو تو معلوم ہونے پر لوگ چھپر اٹھانے ضرور آتے تھے۔ چھپر اُٹھانے کی وہ روایت دراصل مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا سبق تھی۔ آج کے دور میں جہاں ہر کام پیسے کے عوض ہوتا ہے، وہاں ایسی روایات کم ہوتی جا رہی ہیں، مگر ان کی یادیں اب بھی دلوں کو گرما دیتی ہیں۔ یہ روایت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کیلئے سہارا بنتے ہیں، نہ کہ صرف تماشائی۔ منور رانا صاحب نے کہا تھا ؎
تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے
ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں