Inquilab Logo Happiest Places to Work

گاؤں کے عارضی پل صرف دو کناروں کو نہیں ملاتے تھے بلکہ دلوں کو بھی جوڑتے تھے

Updated: August 03, 2026, 7:52 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

ساون شروع ہو گیا ہے ، لیکن بارش کی رفتار سست ہے۔ رواں سال بارش کا رُخ بدلا بدلا سا ہے۔ کسی گائوں میں موسلا دھار ہو رہی ہے تو کئی علاقوں میں دھول اُڑ رہی ہے۔ ورنہ ساون ایسے جھوم کے برستا تھا کہ ہر طرف جل تھل ہو جاتا تھا۔

These crude bridges were made of bamboo and rope, which united the entire village. Photo: INN
یہ کچے پل بانس اور رسی سے بنائے جاتے تھے جس میں پورے گاؤںکی یکجہتی بندھی ہوتی تھی۔ تصویر: آئی این این

ساون شروع ہو گیا ہے ، لیکن بارش کی رفتار سست ہے۔ رواں سال بارش کا رُخ بدلا بدلا سا ہے۔ کسی گائوں میں موسلا دھار ہو رہی ہے تو کئی علاقوں میں دھول اُڑ رہی ہے۔ ورنہ ساون ایسے جھوم کے برستا تھا کہ ہر طرف جل تھل ہو جاتا تھا۔ ہریالی چھا جاتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا جیسے زمین پر سبز مخمل بچھی ہوئی ہو۔ بادلوں کا کئی کئی دن تک آسمان پر ڈیرا رہتا تھا، رم جھم سے شروع ہونے والی بارش کبھی موسلا دھار میں بدل جاتی تو کبھی ہلکی پھوار بن کر دل کو ٹھنڈک پہنچاتی۔ گاؤں کی گلیاں، کھیت، باغ، تالاب اور پگڈنڈیاں سب بارش کے پانی سے دھل کر نکھر جاتی تھیں۔ مئی اور جون کی تپتی دوپہروں میں سورج کی تمازت سے مرجھائے ہوئے درخت جب ساون کی پہلی بارش میں نہاتے تو ان کے پتے یوں چمکتے جیسے کسی نے انہیں دھو کر نیا لباس پہنا دیا ہو۔ آم، نیم، پیپل اور برگد کے درخت نئی آب و تاب سے لہلہا اٹھتے۔ بیل بوٹے اور جنگلی پھول بھی بارش کے قطروں سے مسکرا دیتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: چراگاہوں میں صرف بکریاں نہیں چرتی تھیں، یہ نسل نو کیلئے درسگاہ بھی ہوتی تھی

واقعی اُس وقت جب ساون کی جھڑی لگتی تھی تو گائوں کا نقشہ ہی بدل جاتا تھا۔کئی کئی روز تک ہونے والی بارش سے تال، تلیاں اورگڈھے سب پانی سے بھر جاتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے نار اور نالے، جو عام دنوں میں آرام سے بہتے تھے، اچانک بپھر جاتے۔ پانی کا بہاؤ اتنا تیز ہوجاتا کہ انہیں پار کرنا جان جوکھم کا کام بن جاتا۔ گائوں کا بازار سے رابطہ ٹوٹ جاتا۔ دودھ بیچنے والا نہ جاسکتا، کسان کھاد اور بیج نہیں لا پاتا، مریض علاج کیلئے پریشان ہوجاتے اور گھروں میں ضروری سامان بھی ختم ہونے لگتا۔ ہمارے ضلع پرتاپ گڑھ میں سب سے بڑی ندی سئی ہے۔ ویسے گنگا بھی پرتاپ گڑھ سےہوکر گزری ہے لیکن وہ مانک پور  اورکنڈہ کے علاقوں سے ہوتے ہوئے کوشامبی ضلع میں داخل ہو کر کانپور پہنچ جاتی ہے ۔ پرتاپ گڑھ کی چھوٹی ندیوں میں بکولاہی، لونی اور پرئیا کا شمار ہوتا ہے ۔ یہ ندیاں چھوٹی ہونے کے سبب جلدہی بھر جاتی ہیںاور ان کا بہائو کافی تیز ہوتا ہے۔ان کے کنارے بسنے والوں کو بارش کے دنوں میں بڑا مسئلہ آج بھی ہوتاہے، پہلے کچھ زیادہ تھا کیونکہ اُس قت پختہ پُل نہیں تھے ۔ بارش ہونےپر گائوں کے لوگ اپنی کوشش سے عارضی پُل تیار کر لیتے تھے۔ وہ حکومت اور سرکاری امداد کا انتظار نہیں کرتے تھے۔ اُس وقت گائوں کے مسائل ضلع ہیڈکوارٹرز تک پہنچنےمیں ہی کئی کئی ہفتےلگ جاتے تھے، حکومت تو دور کی بات ہے ۔ 

ایسی صورت میں گائوں والےحکومت یا محکمے کے انتظار میں نہیں بیٹھتے تھے۔ نہ کوئی شکایت کیلئے شہر جاتا تھا نہ ہی کسی افسر کے دفتر کے چکر لگائے جاتے تھے۔ پورا گائوں خود ہی اپنی مشکل کا حل نکالتا تھا۔صبح ہوتے ہی چند بزرگ جمع ہوتے۔ پھر ہر گھر سے نوجوانوںکو اکٹھا کیا جاتا، وہ اپنے ساتھ میں کلہاڑیاں اورر سیا ں لاتے تھے۔کوئی اپنے بانس کی’کوٹھ‘ سے بانس کاٹ کر لے آتا۔ بانس جہاں پر لگے ہوتے ہیں اُسے ہمارے علاقے میں ’کوٹھ‘ کہتے ہیں کیونکہ ایک ہی جگہ پر کئی درجن بانس کے پیڑ ہوتے ہیں۔ بانس کے تعلق سےگائوںمیں ایک بڑی تلخ کہاوت ہے۔ اب یاد آگئی ہے تو وہ بھی یہاں سناتا چلوں۔ اُس وقت گائوں والوں کے آپسی مسائل پنچایتوں اور باہمی صلح سمجھوتے سے جب حل نہیں ہو پاتےتھے تو فریقین کچھ اس طرح سے دھمکی دیتے تھے...تو پھر اس کا فیصلہ اب ’بانس کوٹ‘ کرے گی ۔ ٹھیک ہے اب ’بانس کوٹ‘ سے ہی بات طے ہوگی ۔ یعنی اب سوائے لاٹھیاں اُٹھنے کے اب کوئی راستہ نہیں بچا ہے ۔ 

یہ بھی پڑھئے: باغ میں تعمیر چھپر ہر کسی کیلئے کھلا رہتا ہے، اس میں کوئی دروازہ نہیں ہوتا

ہاں تو بات عارضی بانس کے پُل کی ہورہی تھی ۔ نالے کے دونوں کناروں پر مضبوط بانس گاڑے جاتے۔ ان کے اوپر موٹے بانس بچھائے جاتے، پھر باریک بانسوں اور لکڑیوں سے چلنے کا راستہ بنایا جاتا۔ رسیوں سے انہیں اس مہارت سے باندھا جاتا کہ وہ کئی ہفتوں تک پانی کا دباؤ برداشت کر لیتا۔ شام تک وہاں ایک عارضی پُل تیار ہوجاتا، جو شاید انجینئرنگ کے کسی اصول کے مطابق نہ ہوتا، مگر محبت، اعتماد اور اجتماعی محنت کی بنیاد پر اتنا مضبوط ضرور ہوتا کہ پورے گائوں کی زندگی دوبارہ رواں ہوجاتی۔اُس پل پر چلتے ہوئے ہر قدم احتیاط کا تقاضاکرتا تھا۔ بچے بزرگوں کا ہاتھ پکڑ کر گزرتے، خواتین سر پر ٹوکریاں سنبھالتی ہوئی آہستہ آہستہ قدم بڑھاتیں اور کسان کندھے پر ہل یا چارے کا گٹھررکھے بڑی احتیاط سے گزرتے۔ کبھی کوئی پھسل جاتا تو آس پاس کے لوگ فوراً ہاتھ بڑھا دیتے۔ ان بانس کے پلوں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ کبھی تیز سیلاب اُنہیں بہا لے جاتا اور کبھی بارش ختم ہوتے ہی انہیں خود ہی کھول دیا جاتا مگر ان کی یادیں کبھی نہیں بہتیں۔ وہ پل صرف دو کناروں کو نہیں ملاتے تھے بلکہ دلوں کو بھی جوڑتے تھے۔ ہر بانس میں کسی نہ کسی کا تعاون شامل ہوتا تھا اور ہر رسی میں پورے گائوں کی یکجہتی بندھی ہوتی تھی۔

آج تقریباً ہرجگہ پکے پل بن چکے ہیں۔ سڑکیں بھی ہیں، گاڑیاں بھی ہیں اور رابطے کے بے شمار ذرائع بھی۔ اب شاید کسی نالے پر پل بنانے کیلئے پورا گائوں جمع نہ ہو، کیونکہ ہر شخص اپنی دنیا میں مصروف ہے۔

کاش... ترقی کے اس سفر میں ہم وہ جذبہ بھی محفوظ رکھ پاتے، جس کے تحت کسی ایک کی پریشانی پورے گائوں کی پریشانی سمجھی جاتی تھی۔ بانس کے وہ پل اگرچہ عارضی ہوتے تھے، مگر ان پر قائم ہونے والے تعلقات ہمیشہ کے لئے دلوں میں نقش ہوجاتے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK