Updated: March 11, 2026, 9:11 PM IST
| Washington
ایران جنگ اب صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سفارتکاری اور سیاسی بیانیے کا بھی اہم موضوع بن چکی ہے۔ وہائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری ٹینکرز خفیہ طور پر نکال لیے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کے بعض قانون سازوں نے صدر ٹرمپ کی ایران جنگی حکمت عملی کو ’’نامکمل‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے طویل مدتی نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ادھر روس نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے شہر اصفہان میں اس کے قونصل خانے کی عمارت کو حملوں کے دوران نقصان پہنچا ہے۔
آیتہ اللہ خامنہ ای اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
(۱) وہائٹ ہاؤس نے آبنائے ہرمز سے امریکی بحریہ کے ٹینکرز کے انخلا کی تردید کی
وہائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ نے اپنے بحری ٹینکرز کو آبنائے ہرمز کے ذریعے خفیہ طور پر نکال لیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اطلاعات غلط اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ خطے میں معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی ماحول میں اس طرح کی خبریں اکثر معلوماتی جنگ کا حصہ ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کا واحد فاتح روس:ای یو
(۲) امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ کی ایران حکمت عملی کو ’’نامکمل‘‘ قرار دیا
امریکہ میں بعض قانون سازوں نے صدر ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے جنگی حکمت عملی پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمت عملی واضح اور مکمل نہیں اور اس کے طویل مدتی نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ قانون سازوں کے مطابق کسی بھی فوجی کارروائی کے ساتھ واضح سفارتی حکمت عملی بھی ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واضح منصوبہ بندی نہ کی گئی تو خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے: پاسدارانِ انقلاب
(۳) روس کا کہنا ہے کہ اصفہان میں اس کے قونصل خانے کو حملوں میں نقصان پہنچا
روس نے کہا ہے کہ ایران کے شہر اصفہان میں ہونے والے حملوں کے دوران اس کے قونصل خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ روسی حکام نے اس واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اگر سفارتی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات بڑھتے ہیں تو اس سے عالمی سفارتی کشیدگی مزید بڑھی ہے۔