• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کنویں سے پانی پینے پر ایک برہمن طالب علم نے مجھے زوردار طمانچہ مارا تھا‘‘

Updated: October 18, 2026, 5:35 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

بھیونڈی کے ۷۶؍سالہ کلیم اللہ انصاری نے۴۲؍سال تک ڈانڈیکر واڑی پوسٹ آفس کے باہر رائٹر کی حیثیت سے خدمات پیش کیں، اس دوران بھیونڈی پوسٹ آفس رائٹر اسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی، جس کے تحت کئی سال تک کل ہند مشاعروں کا انعقاد کیا گیا۔

Kaleemullah Muhammad Murtaza Ansari. Photo: INN
کلیم اللہ محمد مرتضیٰ انصاری۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈیآگرہ روڈ کے ۷۶؍ سالہ کلیم اللہ محمد مرتضیٰ انصاری کی پیدائش ۳؍جولائی ۱۹۵۰ء کو اُترپردیش، ضلع پرتاپ گڑھ کے ڈیرواں گائوں میں ہوئی تھی۔ ان کے والد محمد مرتضیٰ انصاری احمدآباد کے ایک مل میں برسرروز گار تھے، اسلئے کم عمری میں والدہ کے ساتھ احمدآباد منتقل ہوگئے تھے۔ یہاں گومتی پور علاقے کی قصائی چال رہتے ہوئے انہوں نے گومتی پور اُردو اسکول سے پانچویں جماعت تک پڑھائی کی، بعدازیں والدین کے بھیونڈی منتقل ہونے پر وہ پھر اپنے گائوں چلے گئے۔ وہاں چھٹی جماعت سےہائی اسکول تک کی پڑھائی کی۔ ہائی اسکول فرسٹ ڈویژن سے پاس کر پرتاپ گڑھ شہر میں کے پی کالج میں داخلہ لیا۔ گیارہویں پاس کرنے کےبعد بارہویں میں داخلہ لیالیکن معاشی حالات نےپڑھائی جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی۔ ۱۹۷۰ء میں ذریعہ معاش کی فکر میں مستقل طور پر بھیونڈی منتقل ہوئے۔ یہاں والد لُوم میں کام کرتے تھے۔ ان کے ساتھ چند مہینے لُوم میں کام کیا۔ دل نہ لگنے کی وجہ سے لُوم کے کام سےعلاحدگی اختیار کر کے پہلے ڈرائیونگ اور اس کے بعد ٹائپنگ سیکھی، ان کاموں میں بھی نصیب نے ساتھ نہیں دیا۔ بالآخر ڈانڈیکر واڑی پوسٹ آفس کے باہر رائٹر کی حیثیت سےباقاعدہ عملی زندگی کا آغاز کیا۔ تقریباً ۴۲؍سال اس پیشے سے وابستگی رہی۔ اس دوران انہوں نے بھیونڈی پوسٹ آفس رائٹر اسوسی ایشن کی بنیاد بھی ڈالی، جس کے تحت چند سال باقاعدہ قومی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جن میں اس دور کےنامور شعراء کرام نے شرکت کی تھی۔ ۲۰۱۵ء میں رائٹر کی ڈیوٹی سے سبکدوشی اختیار کی۔ 
کلیم اللہ طالب علمی کے زمانے کاایک واقعہ نہیں بھولتے ہیں ۔ وہ ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ ان کے اسکول کے قریب ایک کنواں تھا جہاں رسی میں بندھی ایک چھوٹی بالٹی ہوا کرتی تھی۔ پیاس لگنے پر طلبہ اسی بالٹی سے پانی کھینچ کر پیا کرتے تھے۔ اسکول میں برہمن لابی کا دبدبہ تھا۔ ایک دن پیاس لگنے پر کلیم اللہ نے اسی بالٹی سے پانی کھینچ کر پی لیا۔ یہ بات کالج کے ایک برہمن طالب علم کو پسند نہیں آئی، اسلئے اس نے کلیم اللہ کو ایک زور دارطمانچہ رسیدکرکے کہا کہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس بالٹی کو ہاتھ لگانے کی۔ اس وقت سماج میں ذات پات کی تفریق کو سوچ کر کلیم اللہ خوب روئے تھے لیکن اس سے کچھ نہیں کہا۔ یہ واقعہ انہیں آج بھی نہیں بھولتا۔ 
کلیم اللہ کو اسکول کے دور سے والی بال کھیلنے کا شوق رہا۔ پڑھائی کے بعدبھی والی بال ان کا محبوب کھیل تھا۔ وہ اسکول اور کالج کی والی بال ٹیم کے کپتان ہوا کرتے تھے۔ بھیونڈی منتقل ہونے پر بھی والی بال کھیلتے تھے۔ والی بال یوپی والوں کا پسندیدہ کھیل تھا۔ اس وجہ سے بھیونڈی میں مقیم یوپی کے مزدور بھی بڑے شوق سے والی بال کھیلا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بھیونڈی میں بجلی کا بحران ہونے سے لوم مزدوروں کی ڈے شفٹ شام ۴؍ بجے ختم ہو جاتی تھی جبکہ نائٹ شفٹ ۷؍ بجے کے بعد شروع ہوتی تھی۔ ایسے میں لوم میں کام کرنے والے مزدور شام۴؍بجے سے ۷؍ بجے تک والی بال کھیل کر اپنا شوق پورا کیا کرتے تھے۔ کلیم اللہ والی بال کے ایک اچھے کھلاڑی ہونے کے ساتھ عمدہ کمینٹیٹربھی تھے۔ ان کی کمنٹری بہت مشہور تھی۔ اس شوق نے انہیں بھیونڈی میں ایک الگ شناخت دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’۱۹۸۴ء فساد میں رابوڑی میں پناہ گزیں مسلمانوں کیلئے دیگوں میں کھانا پکتا تھا‘‘

کلیم اللہ نے ۴۲؍سال تک رائٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ۸۰ء کی دہائی میں ایک مرتبہ بھیونڈی کی پوسٹ آفس کے رائٹروں کے معرفت ارسال کئے گئے تقریباً ۵۰؍ میں سے ۲۰؍ بیموں کے سل مہر کھل گئے تھے اور ا ن میں بھیجی گئی رقوم لوگوں کو نہیں ملی تھی۔ اس پر بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔ بھیونڈی کے سبھی رائٹر مصیبت میں گھر گئے تھے۔ ایسے میں حالات سے نمٹنے اور مذکورہ افراد کو ان کی رقم دلانے کیلئے کلیم اللہ نے بھیونڈی پوسٹ آفس رائٹر اسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی تھی۔ اسوسی ایشن کے زیر نگرانی محکمہ ڈاک کے اعلیٰ افسران اور ذمہ داران سے شکایات کر کے جن لوگوں کوبیمہ نہیں ملا تھا، انہیں ان کی رقم دلائی۔ مذکورہ اسوسی ایشن کے زیراہتمام ثقافتی اور ادبی پروگرام بھی منعقد کئے جاتے تھے۔ اس کے تئیں بھیونڈی میں کئی کل ہند مشاعروں کاانعقاد عمل میں آیا تھا۔ 
کلیم اللہ اپنےگھر سے ۵؍ کلومیٹر کی دوری پر واقع بھینکوس گائوں کے اسکول میں پڑھائی کیلئے جاتے تھے۔ ان کے ساتھی سائیکل سے اسکول جاتےتھے جبکہ ان کے پاس سائیکل نہیں تھی۔ ایسے میں ان کی خالہ کے پاس جو سائیکل تھی، کچھ دن اس سے وہ اسکول گئے لیکن چند دنوں بعد خالو کی ناگواری کا احساس ہونے پر انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ جب تک میری اپنی سائیکل نہیں ہوگی، میں اسکول نہیں جائوں گا۔ بیٹے کی بات والدہ کے دل کو جا لگی۔ اس دور میں ہیرو سائیکل کی قیمت ۲۰۰؍روپے تھی۔ ایک غریب ماں کیلئے اتنی بڑی رقم کا انتظام کرنا مشکل تھا۔ اس کے باوجود نہ جانے کیسے، ان کی ماں نے اسی دن ۲۰۰؍روپے کا انتظام کر کے گائوں کے ایک عزیز کے ساتھ کلیم اللہ کو پرتاپ گڑھ روانہ کیا، دونوں نے جاکر نئی سائیکل خرید لائی۔ کلیم اللہ کو آج بھی شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ماں نے ایک ہی دن میں ۲۰۰؍روپے کا انتظام کیسے کیا ہوگا۔  
کلیم اللہ کی عمر تقریباً ۱۲؍سال تھی۔ وہ احمد آباد کے پرائمری اسکول میں زیرتعلیم تھے۔ اس دور میں پنڈت جواہر لال نہرو احمدآباد آئے تھے۔ ان کے احمدآباد آنے پر پورا شہرسجایا گیا تھا۔ احمدآباد کے کاکڑیا تالاب کے قریب ان کے اعزاز میں جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ کلیم اللہ اپنے کچھ ہم عمر ساتھیوں کے ہمراہ انہیں دیکھنے گئے تھے۔ انہوں نے تقریر بھی کی تھی۔ پنڈت جی کرتا، پائجامہ اور شیروانی میں ملبوس تھے۔ سرپر گاندھی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ انہیں قریب سے دیکھ کر کلیم اللہ بہت خوش ہوئے تھے۔ 
کلیم اللہ کی بھیونڈی پوسٹ آفس رائٹر اسوسی ایشن کے ایک مشاعرہ میں ابوعاصم اعظمی کے ساتھ اس دور کے اُتر پردیش کے ریاستی وزیر محمد اعظم خان بھی اچانک آگئے تھے۔ ان کے آنے کی خبر پولیس کے ذریعے مشاعرہ کمیٹی کوملی۔ پولیس نے کلیم اللہ سے دریافت کیا کہ آپ لوگوں نے اعظم خان کو بلایاہے، جس پر کلیم اللہ نے لاعلمی کا اظہار کیا، جبکہ پولیس نے کہا کہ اعظم خان آپ کے مشاعرہ میں آرہے ہیں ، کچھ دیر بعد ابوعاصم اعظمی کے ساتھ اعظم خان بھی مشاعرے میں حاضرہوئے۔ انہوں نے اس وقت اُردو کے موضوع پر مختصر مگر بہت جامع تقریر کی تھی جس میں کہا تھا، لوگ کہتے ہیں کہ اُردو پورے ہندوستان کی زبان ہے، یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اُردو سب کی زبان ہے، لیکن ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ اُردو ہماری زبان ہے۔ ان کا یہ جملہ سن کر حاضرین ِ مشاعرہ خوش ہوئے۔ 
کلیم اللہ کی شادی طالب علمی کے زمانے میں ہی کر دی گئی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھے، جب ان کا نکاح ہواتھا۔ ان کی بارات یکہ پر گئی تھی۔ ظہر کی نماز کے بعد نکاح ہوا تھا۔ لوگ اپنے گھروں کو لوٹنےکی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک آسمان سرخ ہونے لگا اور دھول مٹی کے ساتھ تیز ہوا چلنے لگی۔ لوگ جہاں تھے وہیں رک گئے۔ تیز آندھی میں درختوں کی ڈالیاں جھومنے لگیں، ڈرائونی آواز وں سےخوف کاماحول پیدا ہوگیا تھا۔ لوگوں کے چہرے دھول مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آندھی کاسلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ وہ واقعہ بھی ان کیلئے یادگار ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK