Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جاپان کی ٹرین میں عمر رسیدہ خواتین نے بھی ہمارے لئے اپنی نشستیں چھوڑ دی تھیں‘‘

Updated: August 03, 2026, 8:46 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

آگری پاڑہ کے ۷۸؍ سالہ محمد اقبال عثمان انصاری نے میٹرک تک روایتی پڑھائی کے بعد۶۰ء کی دہائی میںساسمیرا کالج سے ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کا ۲؍ سالہ کورس کیا۔ بعد ازاں پاور لوم سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ۳۶؍ سال تک بارچہ بافی کے پیشے سے وابستہ رہے۔

Muhammad Iqbal Usman Ansari. Photo: INN
محمد اقبال عثمان انصاری۔ تصویر: آئی این این

آگری پاڑہ کے ۷۸؍ سالہ محمد اقبال عثمان انصاری کی پیدائش ۱۴؍ اپریل ۱۹۴۸ءکو مدنپورہ کے ببن گلی میں ہوئی تھی ۔ مدنپورہ کی بڑی مسجد میں واقع میونسپل اُردو اسکول سے چوتھی اور پانچوں سے میٹرک تک کی پڑھائی صابو صدیق اسکول ناگپاڑہ سے مکمل کی ۔بعدازیں ورلی کے ساسمیرا کالج سے ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کا ۲؍سالہ کورس کیا۔۱۹۷۰ء میں لُوم کے آبائی کاروبار سے عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ مدنپورہ اور بھیونڈی میں اپنے لُوم کے کارخانوں کی ۲۰۰۶ء تک نگرانی کی ۔ ۳۶؍سال تک اس پیشہ سے وابستہ رہے ۔ اکثر ہونے والی ہڑتالوں اور اس کی وجہ سے بند ہونے والی ملوں سے کاروبار میں بڑے پیمانے پر نقصان ہونےپر پہلے مدنپورہ اور بعد میں بھیونڈی کا کاروبار بند کیا۔ اس  کے بعد سے گھریلو زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کچھ سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس سے ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ آکاش اپارٹمنٹ سوسائٹی میں سیکریٹری کے عہدہ پر بھی۱۰؍سال فائز رہے۔ عمر کے اس مرحلے پر بھی پوری طرح صحتمند ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کھانے کی اشیاء ساتھ لے کر بیل گاڑی سے پانچویں کے بورڈ امتحان دینے گئے تھے‘‘

محمداقبال جس وقت تیسری جماعت میں زیرتعلیم تھے، شہری انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو دودھ ملتا تھا۔ بڑی مسجد کے میونسپل اسکول میں سبھی طلبہ دودھ پینے کیلئے جمع تھے ، اچانک ایک شور اُٹھا ، جو لمحوں میں مارپیٹ میں تبدیل ہوگیا ۔ دو گروپ میں ہونے والی لڑائی اس قدر بڑھی کہ ٹیچروں نےبچوں کو کلاس روم میں بند کر دیا۔ شور تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ دونوں گروپ کے لوگ ایک دوسر ے پرحملہ آور تھے ۔ تقریباً آدھا گھنٹہ خوب جم کر مار پیٹ ہوئی ۔لڑائی رکنےکے بجائے بڑھتی گئی ۔بالآخر دونوں گروپ کی لڑائی میں ایک شخص کا قتل ہوگیا۔قتل کی اطلاع سے علاقےمیں سراسیمگی پھیل گئی۔پولیس کی بھاری جمعیت علاقے میں تعینات کردی گئی۔ اس دوران اسکول کے اساتذہ اور طلبہ کا ڈروخوف سے برا حال تھا۔ ایسےمیں مقامی سماجی کارکن نورمحمد انصاری اسکول پہنچے،اور اپنی نگرانی میں سبھی بچوں کو بحفاظت ان کے گھروںتک پہنچایا۔اس خطرناک واردات کی وجہ سے محمد اقبال کئی دنوں تک اسکول نہیں گئے تھے۔ آج بھی جب کبھی وہ بڑ ی مسجد کی جانب سے گزرتے ہیں  تو انہیں اسکول کا وہ واقعہ یاد آجاتا ہے ۔

محمد اقبال کے بچپن میں ببن گلی میں مُلتانی نامی ایک جناب رہا کرتے  تھے، جو مقامی بچوں کو مفت میں عربی پڑھاتے تھے ۔بچے اور ان کے والدین مُلتانی جناب کی بڑی عزت کرتے تھے۔ قرآن پاک کے مکمل ہونے پر والدین کی جانب سے جو کپڑے یا ہدیہ وغیرہ دیاجاتا، وہ قبول کرلیتے تھے لیکن سامنے سے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کرتے ، جس کی وجہ سے پورے محلے میں انہیں لوگ بڑے احترام سے دیکھتے تھے ۔ ان کے کھانے پینے اور کپڑوں کا انتظام لوگ اپنی خوشی سے کر دیتے تھے ۔ وہ جُونی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے تھے ،راستے میں کھیلنے والے بچوںکی نظر اگر مُلتانی جناب پر پڑ جاتی ،وہ بصد احترام کھیلناچھو ڑکر وہاں سے بھاگ جاتے تھے۔ بچوں کے دلوں میں مُلتانی جناب کے تئیں پایا جانے والا عزت و احترام کا جذبہ قابل ستائش تھا ۔ محمد اقبال بھی ان بچوں میں شامل تھے ۔ ان کا خیال ہےکہ اس دور میں بچے اپنے بڑے اور بزرگوں کی بڑی عزت کرتے تھے ۔ انہیں دیکھ کر ان کے سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے جبکہ آج کے بچوں میں ان خوبیوں کی کمی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ آج کا دورایسا ہے کہ آپ کی عزت آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ آپ کی ذرا سی عدم توجہی آپ کو رسوا کرسکتی ہے ۔ اس لئے بڑے احتیاط سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: ’’انگریزوں کے دورمیں زمینداروں کا دبدبہ تھا، افسر بھی ان سے اجازت لیتے تھے‘‘

محمد اقبال کوبچپن سے کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا شوق رہا ۔ چرچ گیٹ پر واقع بریبورن اور وانکھیڈے اسٹیڈیم میں ہونے والے میچ بڑے شوق سے دیکھنے جاتے۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہونے والے میچوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھتے ۔ ایک مرتبہ مدنپورہ میں پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے تہنیتی پروگرام منعقد کیا گیاتھا جس میں محمد مشتاق، محمد حنیف اور مناف وغیرہ نے شرکت کی تھی۔ ان پاکستانی کھلاڑیوں کو قریب سے دیکھنے اور ملاقات کرنے کا انہیںبھی موقع ملا تھا ۔ 

محمد اقبال بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فساد کے دوران آگری پاڑہ ،گھاس گلی کے ہندو مسلم کی مثالی یکجہتی  کوبھی دیکھا ہے۔ یہاں کے برادران وطن نے مقامی مسلمانوں کوساتھ ہونے کا بھروسہ دلایاتھا۔ یہاں کے مسلمانوں نے بھی برادران ِ وطن کا پورا خیال رکھا ، کرفیو چھوٹنے پر کھانے پینے کی اشیاء ان تک پہنچائیں۔ خوف و ہراس کے ماحول میں ان سب نے مل کر ایک دوسرے کی مدد سے جو وقت گزارا تھا، اس کی یاد آنے پر قومی یکجہتی کی اہمیت اور افادیت کا شدت سے احساس ہوتا ہے ۔ ایک بات اور ان دنوں سات راستے سے جان بچا کر آنے والےمسلمانوں کو آکاش اپارٹمنٹ کے ۱۲۶؍ فلیٹ والوں میں سے بیشتر نے اپنے گھروں میں پناہ دی تھی۔ انہیں اپنے گھروں میں رکھااور ان کے طعام کا انتظام کیا تھا ۔ محمد اقبال نے بھی انجمن اسلام اسکول سی ایس ایم ٹی کے ایک معلم کی فیملی کواپنے گھر میں تقریباً ایک ہفتے تک قیام کی اجازت دی تھی اور ان کا خیال رکھا تھا ۔

جاپان میں ہونےوالے ’ٹیکسٹائل ایکسپو ۸۵ء‘ میں شرکت کیلئے بھارت چیمبر آف کامرس نےممبئی سے ۱۵۰؍ رکنی ایک وفد روانہ کیا تھا، جس میں محمد اقبال بھی شریک تھے۔ ان تمام شرکاء کو بھارت چیمبرآف کامرس کا بیج دیا گیا تھا ۔ ان کیلئے جاپان میں باہر نکلنے پربیج لگانا ضروری تھا ۔ جاپان میں ۸؍دنوں کے قیام کے دوران ایک روز وہاں کی مقامی ٹرین میں سفر کرنے کا موقع ملا ۔ٹرین میں سوار ہونے پر محمد اقبال اور ان کے گروپ کے ۸؍ساتھیوں نے دیکھا کہ ان کے بیج کو دیکھ کر عمررسیدہ خواتین جو اپنی نشستوں پر بیٹھی تھیں ، اپنی سیٹ چھوڑ کر کھڑی ہوگئیں اور انہیں زبردستی اپنی نشستوں پر بٹھایا ۔ بزرگ خواتین کی اس مہمان نوازی کو دیکھ کر محمد اقبال اور ان کے ساتھی حیرت زدہ رہ گئے ۔ اس کے علاوہ ایکسپو کے دوران متعدد اسٹالوں پر جانے کیلئے لگائی جانے والی قطاروں کا بھی ایک اُصول ہے جس سے محمد اقبال بہت متاثر ہوئے تھے ۔ اگر کوئی قطار خالی ہو جاتی تو لوگ اپنی قطار چھوڑ کر اس لائن میں جانے کی کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ جس قطار میں کھڑے ہوتے ،اسی میں اپنا نمبرآنے پر آگے بڑھتے تھے ۔ جاپان کی ڈسپلن اور وہاں کی ترقی کو دیکھ کر محمد اقبال کو ۸۵ءمیں یہ احساس ہوا تھاکہ ہم جاپان سے تقریباً ۱۰۰؍ سال پیچھے ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: غلام مقبول کی منفرد خوبی یہ ہے کہ وہ تنہا مریضوں کے ساتھ اسپتال میں رہتے ہیں

محمد اقبال ۱۹۷۸ء میں ممبئی میں ہونے والی موسلادھار بارش نہیں بھولتے ہیں۔ انہوں نے زندگی میں ایسی بارش کبھی نہیں دیکھی تھی۔۲۳؍ گھنٹوں تک مسلسل بارش ہوئی تھی۔ بارش کے پانی سے پورا شہر ڈوب گیا تھا ۔ حتیٰ کہ گھروں کا کویلو موسلادھار بارش کے پانی کی متواتر شدت سے نم ہوکر ٹپکنے لگا تھا ۔۳؍دنوں تک گھروں اور محلوں میں پانی بھرا تھا۔ اس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی ۔ گھروں میں کھانے پینےکی جو اشیاءتھی یا سماجی اداروں کی جانب سے جو کھانا وغیرہ فراہم کیا گیا تھا، لوگوں نےاس پر گز ر بسرکیاتھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK