• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

محبت اور عقیدت: مفہوم، فرق اور آداب

Updated: September 21, 2026, 4:01 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

دل کا کسی کے حضور جھک جانا آخر کس جذبے کی ترجمانی ہے؟ محبت کی، عقیدت کی، یا اس کیفیت کی جس میں محبت اور تعظیم کی سرحدیں ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں؟ اور کیا دل کی ہر گہری وابستگی کو محبت کا نام دیا جا سکتا ہے، یا انسانی جذبات کی دنیا میں قربت، اپنائیت، احترام اور تعظیم کے بھی اپنے الگ مفاہیم اور مراتب ہیں؟

The highest form of love is manifested in one`s connection with Allah Almighty and His Messenger (PBUH). Photo: INN
محبت کا بلند ترین رخ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی ذات سے تعلق میں ظاہر ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

دل کا کسی کے حضور جھک جانا آخر کس جذبے کی ترجمانی ہے؟ محبت کی، عقیدت کی، یا اس کیفیت کی جس میں محبت اور تعظیم کی سرحدیں ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں؟ اور کیا دل کی ہر گہری وابستگی کو محبت کا نام دیا جا سکتا ہے، یا انسانی جذبات کی دنیا میں قربت، اپنائیت، احترام اور تعظیم کے بھی اپنے الگ مفاہیم اور مراتب ہیں؟ انسانی دل کی دنیا بظاہر جتنی سادہ دکھائی دیتی ہے، حقیقت میں اتنی ہی پیچیدہ ہے۔ کبھی کسی کی قربت دل کو اپنا پن عطا کرتی ہے، کبھی کسی کی عظمت دل کو بے اختیار احترام سے جھکا دیتی ہے، اور کبھی محبت و تعظیم کی دونوں کیفیتیں اس طرح باہم مدغم ہو جاتی ہیں کہ ان کے درمیان امتیاز مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایک نوجوان نے ایک شام ایک بزرگ عالم ِ دین کی مجلس سے واپسی پر اسی لطیف فرق کو اپنے اندر محسوس کیا۔ مجلس میں بزرگ کی علمی وجاہت اور دینی وقار نے دل میں احترام و عقیدت پیدا کی تھی، جبکہ چند قدم آگے اپنے والد کے ساتھ چلتے ہوئے اس کے دل میں وہی فطری، بے ساختہ اور بے غرض اپنائیت موجزن تھی جو برسوں کی شفقت اور قربت سے پروان چڑھی تھی۔ دونوں کیفیتیں دل ہی سے نکلی تھیں، مگر دونوں کا مزاج ایک نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے:نعمتیں انسان کے کردار میں نظر آنی چاہئیں، اُس کےتکبر میں نہیں!

شاید انسانی تعلقات کی باریک ترین حقیقت یہی ہے کہ ہر گہرا جذبہ ایک ہی نام کا محتاج نہیں ہوتا۔ محبت کسی کو دل کے قریب لاتی ہے، اس کے وجود کو اپنی زندگی کا حصہ محسوس کراتی ہے؛ جبکہ عقیدت کسی کے مقام، علم، کردار یا عظمت کے ادراک سے دل میں احترام اور تعظیم پیدا کرتی ہے۔ محبت میں قربت کا احساس غالب ہوتا ہے، عقیدت میں تعظیم کا شعور؛ لیکن دونوں ایک دوسرے سے بالکل بے تعلق بھی نہیں۔ اسی باہمی قربت اور لطیف فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ جذبات کی قدر صرف ان کی شدت میں نہیں، بلکہ انہیں صحیح نام، صحیح مقام اور صحیح حدود دینے میں ہے۔

محبت انسانی فطرت کا وہ بنیادی جذبہ ہے جس کے بغیر رشتوں کی دنیا بے معنی ہو جائے۔ والدین، اولاد، اہلِ خانہ اور دوستوں سے محبت انسانی زندگی میں انس، ایثار اور وابستگی پیدا کرتی ہے  لیکن محبت کا بلند ترین رخ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی ذات سے تعلق میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم اہلِ ایمان کی صفت اس طرح بیان کرتا ہے: 

’’اور جو لوگ ایمان لائے، وہ اللہ سے سب سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ:۱۶۵)  

یہ محبت محض قلبی کیفیت نہیں؛ اس کی صداقت اطاعت، اتباع اور وفاداری سے ظاہر ہوتی ہے۔

عقیدت کی بنیاد کسی ہستی کے مقام و مرتبے کے شعور پر ہوتی ہے۔ علم، تقویٰ، کردار، دینی خدمات، روحانی نسبت یا کسی نمایاں وصف کی معرفت دل میں احترام و تعظیم پیدا کرتی ہے۔ اسی لئے اہلِ علم، صالحین، اساتذہ اور دینی شخصیات کے لیے عقیدت کا لفظ اپنے اندر ایک خاص معنوی مناسبت رکھتا ہے۔ تاہم عقیدت کی حقیقت محض جذباتی وابستگی یا بے ساختہ اتباع نہیں، بلکہ احترام کے ساتھ بصیرت اور تعظیم کے ساتھ اعتدال کا نام ہے۔ کسی شخصیت کا مقام اپنی جگہ محترم ہے، مگر حق کا معیار شخصیت نہیں؛ شخصیت کی عظمت بھی حق ہی کے تابع ہے۔ چنانچہ جب عقیدت بصیرت سے خالی ہو جائے تو احترام رفتہ رفتہ غلو میں تبدیل ہونے لگتا ہے، اور انسان شخصیت کی محبت میں اس حد تک آگے بڑھ سکتا ہے کہ صحیح و غلط کے امتیاز کو بھی پسِ پشت ڈال دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقیدت، جو اصل میں خیر اور ادب کا ذریعہ تھی، شخصیت پرستی کا رنگ اختیار کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بحیثیت شوہر آپؐ کی حیات ِ مبارکہ میں ازواجِ مطہرات کی دلداری بھی ہے، عدل بھی اور دینی تربیت بھی

اسی طرح محبت بھی اگر شعور، اخلاق اور حق کی حدود سے آزاد ہو جائے تو اس کی شدت انسان کی بصیرت کو متاثر کر سکتی ہے۔ محبت میں اندھا پن اور عقیدت میں غلو، دونوں انسان کے لئے خطرناک ہیں؛ کیونکہ محبت اگر حق پر پردہ ڈال دے اور عقیدت اگر شخصیت کو حق کا معیار بنا دے تو معاملہ جذبات کی لغزش تک محدود نہ رہ کر انسان کے کردار، فکر اور ایمان تک کو متاثر کر سکتا ہے۔ سچی محبت محبوب کی ہر بات کو درست مان لینے کا نام نہیں، بلکہ خیر خواہی، وفاداری اور حق پسندی کے ساتھ تعلق نبھانے کا نام ہے؛ اور حقیقی عقیدت کسی بزرگ، عالم یا صالح شخصیت کے مقام کا احترام کرتے ہوئے بھی حق و باطل کے درمیان امتیاز برقرار رکھنے کا شعور ہے۔ چنانچہ محبت کو بصیرت کی ضرورت ہے اور عقیدت کو اعتدال کی؛ محبت انسان کو کسی کے قریب لائے تو حق سے دور نہ کرے، اور عقیدت کسی کے مقام کو بلند سمجھے تو حق کے مقام کو اس سے بلند تر رکھنے کا شعور بھی باقی رکھے۔ یہی توازن محبت کو پاکیزہ وابستگی اور عقیدت کو باوقار احترام میں تبدیل کرتا ہے۔ محبت اور عقیدت دل کی دو ایسی کیفیات ہیں جو انسانی تعلقات کو محض جذباتی وابستگی سے اٹھا کر معنویت عطا کرتی ہیں۔ محبت کسی کو اپنے دل میں جگہ دینے کا نام ہے، اور عقیدت کسی کے مقام کو پہچان کر اس کے احترام میں اپنے نفس کو حدودِ ادب کا پابند بنانے کا شعور۔ مگر دونوں کی تکمیل صرف جذبے کی شدت میں نہیں، اس شعور میں ہے جو جذبے کو صحیح سمت، صحیح نسبت اور صحیح حد عطا کرے۔ 

حقیقی کمال یہ ہے کہ محبت انسان کو وفا سکھائے، مگر حق سے نہ ہٹائے؛ عقیدت اسے احترام کرنا سکھائے، مگر باطل کے سامنے نہ جھکائے۔ یہی وہ توازن ہے جہاں جذبہ کردار میں ڈھلتا ہے، تعلق ذمہ داری بن جاتا ہے اور احترام انسان کو اس کی اخلاقی حدود کا شعور عطا کرتا ہے۔ چنانچہ محبت کا حسن قربت میں نہیں، اس قربت کے آداب میں ہے؛ اور عقیدت کی عظمت جھکنے میں نہیں، بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ کہاں، کس کیلئے اور کس حد تک جھکنا ہے۔ یہی شعور محبت کو پاکیزگی، عقیدت کو بصیرت، اور انسانی تعلقات کو حقیقی معنویت عطا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK