Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کھانے کی اشیاء ساتھ لے کر بیل گاڑی سے پانچویں کے بورڈ امتحان دینے گئے تھے‘‘

Updated: July 24, 2026, 10:02 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

اعظم گڑھ کی ۸۱؍ سالہ نورجہاں عبدالصمد خان گزشتہ ۵۵؍برسوں سے کرلا میں رہائش پزیر ہیں، گاؤں ہی سے میٹرک تعلیم حاصل کی، شادی کے بعد ممبئی آگئیں، ۱۵؍ سال کی رفاقت کے بعد شوہر کاانتقال ہوگیا، ایسے میں ان کے سر پر گھر کی تمام اہم ذمہ داریاں آگئی تھیں ۔

Noor Jahan Abdul Samad Khan. Photo: INN
نورجہاں عبدالصمدخان ۔ تصویر: آئی این این

کرلا، پائپ روڈ کی ۸۱؍سالہ نورجہاں عبدالصمدخان کی پیدائش ۱۹۴۵ء میں اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی ۔ گائوں کے نسواں اُردو اسکول سے ۸؍ویں تک پڑھائی کی۔ گائوں میں مزید تعلیمی سہولت نہ ہونے سے اعظم گڑھ کے کوپاگنج گائوں کے ہائی اسکول میں نام لکھوایا، جہاں سے نجی طور پر میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ گائوں کے قرب وجوار میں کالج نہ ہونے سے پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ پڑھائی کے ساتھ بچپن سے امورِ خانہ داری کی تربیت والدہ کی سرپرستی میں حاصل کی ۔ سلائی، کڑھائی، کروشیہ اور بنائی کا ہنر چھوٹی عمر ہی میں حاصل کرلیا تھا۔ اس دور میں مالی سہولت کیلئے خواتین گھروں میں بیڑی بناتی تھیں ۔ انہوں نے بھی بیڑی بنانے کا کام سیکھ لیا تھا۔ دکاندار گھر پرتمباکو اور پتّہ دے جاتا تھا ۔ دن میں کم وبیش ایک ہزار بیڑی بنا لیتی تھیں جس کے عوض ایک روپےمزدری ملتی تھی۔ اس دور میں ایک روپے کی بڑی اہمیت تھی۔ 
اس کے بعدان کی زندگی میں بھی وہ دن آیا جس کے بارے میں بیشتر لڑکیاں حسین خواب بنتی ہیں ۔ کرلا کے معروف شاعر، ادیب، نغمہ نگار اورصحافی عبدالصمدخان عرف وفااعظمی سے ان کا نکاح گھوسی میں ہوا۔ شادی کے بعد ۱۹۷۱ء میں وہ کرلا منتقل ہوئیں اور گزشتہ ۵۵؍برسوں سے یہیں مقیم ہیں ۔ ان کے ۵؍بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور۴؍ بیٹیاں ہیں ۔ شادی کے صرف ۱۵؍سال بعد خاوند کا انتقال ہوگیا۔ ایسے میں ۵؍ بچوں کی پرورش بڑی آزمائش تھی لیکن سسرال والوں سے ملنے والی مدد، ہمت، حوصلے اور تعاون نے اس سفر کو آسان بنا دیا۔ بچوں کی تعلیم وتربیت کے ساتھ ان کی شادی بیاہ میں بھی سسرال والوں نےہر قدم پر ساتھ دیا ۔

یہ بھی پڑھئے: ’’بلی کے راستہ کاٹ جانے پر کشور کمار نے مجھ سے ٹیکسی روکنے کیلئے کہہ دیا تھا‘‘

نورجہاں نے ۱۹۸۴ء میں شوہر کی رحلت کے بعد امورِ خانہ داری کے ساتھ مالی ضروریات کیلئے گوونڈی کے ایک مدرسہ میں بچوں کو عربی پڑھانے کی ملازمت اختیار کرلی ۔ وہ روزانہ صبح ۸؍ سے شام ۴؍بجے تک بچوں کو پڑھاتی تھیں جس کے عوض انہیں ۶۰۰؍روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی ۔ جب تک ان کا بیٹا دانش خان اپنے پیروں پر نہیں کھڑا ہوا، اس وقت تک ملازمت کی۔ مالی حالت کے بہتر ہونے اور بیٹے کی ضدپر انہوں نے ملازمت چھوڑدی۔ انہوں نے تقریباً ۱۰؍ سال تک ملازمت کی۔ دورانِ ملازمت، اگلے دن کیلئے بچوں کاکھانا وہ رات کو پکاکر ڈیوٹی پر جایا کرتی تھیں تاکہ بچوں کو دشواری نہ ہو ۔ جمعہ کو چھٹی والے دن سبھی بچوں اور گھرکے دیگر افراد کا پوراکپڑا دھوتی تھیں ۔ اس طرح انہوں نے بڑی مشکلوں اور آزمائشوں سے بھری زندگی گزاری لیکن بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت میں تساہلی نہیں برتی۔ اس عمر میں بھی بہو کاہاتھ بٹانے کی بھر پور کوشش کرتی ہیں ۔ خواتین کے اجتماع میں پابندی سے شرکت کرتی ہیں ۔ 
نورجہاں کے بچپن میں گائوں میں آمدورفت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا ۔ لوگ باگ ضرورت پڑنے پر بیل گاڑی سے سفر کرتے تھے۔ اُس دور میں پانچویں کا بھی بورڈ امتحان ہوتا تھا۔ پانچویں اور دسویں کے بورڈ امتحانات کیلئےان کا سینٹر ان کے گائوں فتح پور سے متصل کوپاگنج گائوں میں لگا تھا۔ فتح پورسے ۸۔ ۱۰؍ طالبات کا گروپ ایک بیل گاڑی کرایہ پر کر کے کوپاگنج جاتا تھا۔ جتنے دن امتحان ہوتا، یہ گروپ وہیں قیام کرتا کیونکہ فتح پور سے کوپاگنج روزانہ آنا جانا دشوارکن تھا، اسلئے جتنے دن امتحان ہوتا، ساری لڑکیاں امتحان گاہ میں ہی قیام کرتی تھیں ۔ اپنے ساتھ کھانےپینے سامان مثلاً آٹا، دال، چاول، مسالے اور تیل وغیرہ لے کرجاتی تھیں ۔ ایک خاتون کو بھی ساتھ کر لیتی تھیں ، جواُن لڑکیوں کو کھانا پکاکر دیتی تھی۔ ان کی سرپرستی کیلئے گائوں کے اسکول کی ایک معلمہ بھی ساتھ جاتیں ۔ امتحان ختم ہونے پریہ گروپ بیل گاڑی ہی سے گھرلوٹتا تھا۔ 
اسکول کے دور میں مریم نامی ایک ٹیچر سے نورجہاں بہت متاثر تھیں ۔ وہ پڑھائی کے معاملے میں بہت سخت تھیں ۔ وہ اسکول کے احاطے ہی میں رہا کرتی تھیں ۔ اسکول کے اوقات کے بعد بھی لڑکیاں رات کے وقت ان کے پاس جاکر پڑھائی کرتیں ۔ نورجہاں بھی اکثر رات کا کھانا وغیرہ لے کر ان کے پاس پہنچ جاتیں ۔ اس دور میں بجلی نہیں تھی ۔ لالٹین کی روشنی میں پڑھائی کر کے بعض مرتبہ وہیں سو بھی جاتی تھیں ۔ مریم ٹیچر لڑکیوں کو پڑھانے کے معاملے میں بہت سنجیدہ تھیں ۔ وہ چاہتی تھیں کہ گائوں کی ہرلڑکی پڑھی لکھی ہو ۔ اسلئے دن میں اسکول اور رات میں اپنے گھر پر انہیں پڑھاتی تھیں ۔ ٹیچر کے علاوہ وہ ایک شاعرہ بھی تھیں ۔ گائوں میں ہونے والی شادی کا سہرہ وہی لکھتی تھیں ۔ لوگ دور دور سے سہرہ لکھوانے آتے تھے۔ وہ نورجہاں کیلئے رول ماڈل تھیں ۔ 
 گائوں میں نورجہاں کا گھر بہت بڑا تھا۔ وہ گھر کے احاطے ہی میں اپنی سہیلیوں، نبیلہ، انجم، کتاب النساء، طہرالنساء اور ان کی ہم نام نور جہاں وغیرہ کے ساتھ کبڈی اور جھولا باندھ کر خوب جھولتی تھیں ۔ انہی سہیلیوں کے ساتھ گڑیا گڈے کی شادی کا بھی کھیل بہت کھیلا۔ ان کی ہمیشہ گُڑیا ہوتی ۔ اپنی گُڑیا کے نکاح کا جوڑا وہ خود تیار کرتی تھیں ۔ اس کیلئے موتی کے زیورات اپنے ہاتھوں سے بناتی تھیں ۔ جہیز کے طور پر متعدد جوڑے کپڑوں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے برتنوں اور پلنگ وغیرہ کا بھی انتظام کرتی تھیں ۔ اس دور میں دلہن کو ڈولی میں بٹھاکر رخصتی کی رسم عام تھی، وہ اپنی گڑیا کیلئے ڈولی بھی بناتی تھیں ۔ چند لڑکوں کو جمع کرکے باقاعدہ ان کے گھر بارات آتی۔ نکاح کے بعد گُڑ کے شربت سے باراتیوں کی تواضع کی جاتی۔ کھانے میں جو بھی ممکن ہوتا، دال سبزی روٹی چاول سے باراتیوں کی ضیافت کی جاتی تھی ۔ میٹھے میں کھیر پیش کی جاتی ۔ کھیر بنانے کیلئے گائوں میں گھومنے والی بکریوں کے دودھ کا استعمال کیا جاتا تھا ۔ ان کے رابطے میں ان کی سہیلیاں نبیلہ، انجم اور نور جہاں اب بھی ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: غلام مقبول کی منفرد خوبی یہ ہے کہ وہ تنہا مریضوں کے ساتھ اسپتال میں رہتے ہیں

نورجہاں نے ۱۹۸۴ء اور ۱۹۹۲ء کے فسادات بہت قریب سے دیکھے ہیں ۔ ۱۹۹۲ء میں ان کا بیٹا دانش، ماہم گیا تھا۔ اسی دوران بابری مسجدکی شہادت کی اطلاع کے ساتھ پورے شہر میں مارپیٹ، آگ زنی اور لوٹ کے ساتھ طرح طرح کی افواہیں گشت کر رہی تھیں ۔ موبائل یا ٹیلی فون کی سہولت نہ ہونے سے بیٹے کی کوئی اطلاع نہ ملنے سے وہ گھبرائی ہوئی تھیں ۔ گھر کی دہلیز پر بیٹھ کر بیٹے کا انتظار کر رہی تھیں ۔ تقریباً ۴؍ گھنٹے اسی کشمکش میں رہیں ۔ بعدازیں دور سے انہیں دانش آتا دکھائی دیا۔ اسے دیکھ کر جان میں جان آئی ۔ گھر آتے ہی اسے سینے سے لگاکر خوب پیار کیا۔ جب تک وہ گھر نہیں آیاتھا، بہت پریشان تھیں ۔ آج بھی دانش کے کام سے لوٹ کر گھر آنے کے وقت دہلیز پر بیٹھ کر اس کی منتظر ہوتی ہیں ۔ 
نورجہاں اپنے بیٹے کے ساتھ عمرہ کرنے گئی تھیں ۔ مدینہ کے ارکان کی تکمیل کے بعد مکہ پہنچنے پر، پہلے دن دانش نے والدہ سے کہا کہ آپ آرام کریں میں بال بنوا کر آتا ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ بال بنوانے چلا گیا، لوٹنے میں معمولی تاخیر ہونے پر نور جہاں اسے تلاش کرنے اپنے خیمے سے باہر نکل گئیں ۔ ادھراُدھر تلاش کیا، دانش کےنہ ملنے پر وہ آگے بڑھتی گئیں ا ور کافی دور نکل گئیں جس کی وجہ سے راستہ بھول گئیں ۔ دوسری طرف بیٹا اپنے خیمے پہنچ گیا اور والدہ کو نہ پاکر وہ بھی کافی پریشان ہوا۔ گھنٹوں پریشانیاں جھیلنے کے بعد موبائل فون کی مدد سے بیٹا ان تک پہنچا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK