• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: ماں باپ کے ترکہ میں تمام لڑکے لڑکیاں سہام شرعیہ کے مطابق حقدار ہوتے ہیں

Updated: September 21, 2026, 4:14 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) ماں باپ کے ترکہ میں تمام لڑکے لڑکیاں سہام شرعیہ کے مطابق حقدار ہوتے ہیں (۲) عدت کی حالت میں نکاح وغیرہ میں شرکت (۳) سفارش یا شہادت پہ اجرت۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

مسئلہ یہ ہے کہ ہم چھ بھائی ہیں۔ والد صاحب کی طرف سے جو زمین ملی تھی وہ ہم چھ بھائیوں میں برابر تقسیم ہو چکی ہے لیکن کاغذات میں وہ زمین چار بھائیوں کے نام پر ہے، دو بھائیوں کے نام پر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دو بھائیوں کو (جن کے نام والد والی زمین میں نہیں ہیں) سرکار کی طرف سے الگ زمین ملی تھی۔ ان دو بھائیوں میں سے ایک بھائی نے وہ سرکاری زمین بیچ دی ہے۔اب وہ چار بھائی جن کے نام والد والی زمین ہے کہتے ہیں کہ ان کی زمین کم ہے، وہ اس بھائی سے مطالبہ کر رہے ہیں جس نے سرکاری زمین بیچی ہے کہ اس بیچی ہوئی زمین کی رقم میں سے ہمارا بھی حصہ ہے، ہمیں بھی برابر پیسے دو۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان چار بھائیوں کا اس سرکاری زمین کی رقم میں سے حصہ مانگنا جائز ہے؟ کیا شرعاً ان کا حق بنتا ہے یا نہیں؟قمر الھدیٰ ،لکھنؤ

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: ماں باپ کے ترکہ میں تمام لڑکے لڑکیاں سہام شرعیہ کے مطابق حقدار ہوتے ہیں، لڑکے کا حصہ دگنا ہوتا ہے اور لڑکی کا اس کا نصف۔ سوال میں صرف لڑکوں کا ذکر ہے شاید لڑکیاں نہ رہی ہوںگی، تاہم اگر لڑکیاں بھی ہوں تو وہ بھی شرعی وارث ہونگی۔ وارث صرف زمین ہی میں حصہ دار نہیں ہوتے مکان، دکان، بینک بیلنس، مال تجارت،  مارکیٹ کی ادھاری، نقد رقوم غرضیکہ منقولہ غیر منقولہ وہ تمام اشیاء جو والدین کی ملکیت ہیں ان سب میں تمام ورثاء کا حق ہوتا ہے نیز آبائی اور خود پیدا کردہ املاک میں بھی کوئی فرق نہیں۔ صورت مسئولہ میں چھ لڑکے وارث ہیں، باپ کی زمین ان کے درمیان تقسیم ہوئی مگر نام صرف چار کے تھے، دوسری زمین سرکار سے ملی جو ان لڑکوں کو ملی جن کے نام آبائی زمین میں نہیں تھے مگر یہ واضح نہیں کہ سرکاری زمین باپ کو سرکار سے ملی تھی یا ان دونوں بیٹوں کو۔ اگر ان دونوں کو ملی تھی تو آبائی زمین میں ان کے نام کیوں نہیں اور اگر باپ کو ملی تھی اور اسی نے  ان دو کے نام اور پہلی زمین بقیہ چار کے نام کی تھی تووہ  سب کے درمیان کیوں تقسیم ہوئی۔ بظاہر تو ممکن   ہے کہ یہ زمین بھی باپ ہی کو ملی ہو۔  اس صورت میں تمام زمینیں سب کے درمیان مشترک ہونگی اس لئے جس طرح پہلی زمین میں سب کو حصہ ملا اس دوسری زمین میں بھی سب کا حصہ ہوگا لہٰذا جو زمین فروخت ہوئی اس کی قیمت میں بھی سب حقدار ہونگے  البتہ اگر سرکاری زمین ان دو نے ہی بنائی ہو اور باپ کا اس سے کوئی تعلق نہ رہا ہو تو یہ دونوں پہلی زمین میں تو  حصہ دار ہوںگے لیکن  جو انہوں نے خود بنائی ہے اس کے بلا شرکت غیرے وہ  مالک ہوںگے۔ یہ صورت ہو تو باقی چار بھائیوں کا مطالبہ درست نہ ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے:فتاوے: تقسیم پہ رضامندی کے بعد انکار، مسافر امام کی اقتداء، ایئر فون لگاکر نماز پڑھنا

عدت کی حالت میں نکاح وغیرہ میں شرکت

ایک گزارش ہے کہ میری ایک عزیزہ ہیں ان کی بھتیجی کا نکاح اور رخصتی ۱۳۔۱۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو طے پایا ہے اور ۲۲؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو اس کی بیرون ملک  فلائٹ ہے۔ وہ خود اس وقت عدت میں ہیں۔ ان کی عدت ۲۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو مکمل ہوگی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان کے لئے اس حالت عدت میں اپنی بھتیجی کے نکاح کی تقریب میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ محمد وسیم ،یمنا نگر

باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: عدت میں عورت کے لئے بغیر کسی شرعی عذر اور شدید مجبوری کے گھر سے نکلنا منع ہے۔ جو عذر معتبر ہیں وہ مختلف ہیں  جیسے گھر منہدم ہونے کے قریب ہو،کسی معقول وجہ کی بنا پر معتدہ (عدت کرنے والی خاتون) کا وہاں رکنا دشوار ہو، کرائے کے مکان کو مالک مکان خالی کرانے پر مصر ہو، گھر میں رہنے والے  دوسرے لوگوں سے خطرہ ہو یا وہ رہنے نہ دیں، علاج کے لئے باہر جانا ضروری ہو وغیرہ۔ ان تمام اعذار میں جو معتبر ہیں کسی عزیزیا عزیزہ  کے نکاح میں شرکت کا کہیں کوئی ذکر نہیں،  لہٰذا اصولاً محض بھتیجی کے نکاح میں شرکت کے لئے دوران عدت جانے کی اجازت نہیں۔ اس صورت میں اپنے گھر میں رہتے ہوئے ان کیلئے کامیاب ازدواجی زندگی کی دعا کریں، اسی میں بہتری ہے۔ عدت ۲۵؍ستمبر کو ختم ہو رہی ہے اور اس کی بیرون ملک روانگی دو تین دن پہلے ہے اس صورت میں وہ  خود بغرض ملاقات معتدہ کے پاس آسکتی ہے لہٰذا یہ بھی وہاں جانے کی بظاہر کوئی معقول وجہ نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: ’’وہن‘‘ انفرادی اخلاقی عیب نہیں بلکہ امتوں کی تباہی کا اجتماعی پیش خیمہ ہے

سفارش یا شہادت پہ اجرت 

الیکشن کے دوران کنڈیڈیٹ کھانا کھلا تا ہے، تو کیا وہ کھانا جائز ہے ؟کتاب و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔عبد الباطن ،ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: الیکشن کے ذریعہ جو لوگ کسی حلقے میں منتخب ہوجائیں وہ  اس حلقے کے تمام باشندوں کے نمائندے ہوتے ہیں تاکہ ان کی فلاح وبہبود کے لئے کام کریں لیکن منتخب ہونے سے پہلے وہ صرف امیدوار ہیں نمائندے نہیں، ان کو لوگوں سے ملنے اور اپنی امیدواری سے باخبر کر نے کا حق حاصل ہے، عوام کی ذمے داری ہے کہ جو امیدوار عوام کے حق میں مخلص اور بہتر کار کردگی کا حامل ہو اس کے حق میں رائے دیں۔ یہ رائے دہی اس امر کی شہادت ہے کہ یہ شخص سب سے بہتر ہے اس صورت حال میں اگر امیدوار کسی کو کوئی تحفہ دے یا دعوت کرے تو کم از کم اس میں رشوت کا شائبہ ضرور موجود ہے۔ اس کے علاوہ شہادت یا سفارش پر اجرت کو بھی علماء نے ممنوع کہا ہے لہٰذا ان ایام میں بطور خاص احتیاط کی ضرورت ہے ۔ صحیح طریقہ کار یہ ہے کہ نہ کسی کی طرف سے دعوت کی جائے نہ ایسی دعوتوں میں شرکت کی جائے۔   واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK