• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اسکول میں اخلاقیات کا پیریڈ ہوتا تھا جس میں بڑوں کے ادب کا درس دیا جاتا تھا‘‘

Updated: October 25, 2026, 5:12 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ماہم کے۸۰؍سالہ محمد عباس کھٹکھٹے صوفایہ کالج میں ۲۰؍سال تک طلبہ کو مائیکروبائیولوجی پڑھاچکےہیں، ۱۹۶۸ءمیں کچھ دوستوں کےساتھ انہوں نے ’مسلم ایجوکیشنل سوشل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن‘ ( میسکو)کی بنیاد ڈالی تھی، تبھی سے اس ادارے سے وابستہ ہیں۔

Muhammad Abbas Khatkhatay. Photo: INN
محمد عباس کھٹکھٹے۔ تصویر: آئی این این

ماہم درگاہ بازار روڈ کے ۸۰؍ سالہ محمد عباس کھٹکھٹے کی پیدائش یکم مارچ ۱۹۴۷ء کو ہوئی تھی۔ انہوں نے ماہم کے معروف سینٹ مائیکل ہائی اسکول سے ایس ایس سی، نیشنل کالج باندرہ سے ایچ ایس سی، سینٹ زویئرس کالج (ممبئی) سے بی ایس سی، ٹاٹا میموریل سینٹر پریل کے قریب واقع کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے ایم ایس سی اور بھونس کالج اندھیری سے مائیکروبائیولوجی میں پی ایچ ڈی کیا تھا۔ ۱۹۷۰ء میں صوفایہ کالج سے بحیثیت لیکچرار عملی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ یہاں تقریباً ۲۰؍سال مائیکرو بائیولوجی پڑھایا۔ اس دوران ۱۹۶۸ء میں اپنےچندقریبی اور ہم خیال ساتھیوں کے ہمراہ سماجی تنظیم مسلم ایجوکیشنل سوشل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (میسکو)کی بنیاد بھی ڈالی تھی۔ 
صوفایہ کالج کے بعد آغا خان ایجوکیشن سروس میں ۵؍سال خدمات پیش کیں۔ ایجوکیشن آفیسر، ڈپٹی سی ای او اور سی ای او کے عہدوں پر فائز رہے۔ یہاں سے ۱۹۹۶ء میں سبکدوشی اختیارکرنےکےبعد فیما راکس نامی ایک کمپنی میں ۵؍سال تک سی ای او کی حیثیت سے خدمات پیش کیں۔ اس کےبعد کلی طور پرمیسکوسے وابستگی رہی۔ عمر کے اس مرحلے پر بھی میسکو کی ایڈوائزری کمیٹی میں سرگرم ہیں ۔ 
سینٹ مائیکل اسکول میں عباس کھٹکھٹے جس وقت ساتویں جماعت میں تھے، ان کی عمر ۱۵؍ سال تھی جبکہ ان کے ایک ہم جماعت کی عمر ۲۱؍ سال تھی۔ عمر کااتنا فرق ہونے کے باوجود ان کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اُس دور میں اسکولوں میں عمر کی قید نہیں ہوتی تھی۔ سب مل جل کر پڑھتے تھے۔ اس دور میں ان کے اسکول میں اخلاقیات کا ایک پریڈ ہوتا تھا۔ بچوں کو اخلاقی قدروں کی اہمیت اور افادیت بتائی جاتی تھی۔ اسکول میں بچوں کو بڑوں کی عزت اور احترام کادرس دیا جاتا تھا، جس کا طلبہ کی عملی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا تھا۔ 
آغاخان ایجوکیشن سروس میں ملازمت کے دوران عباس صاحب کو متعدد بیرونی ممالک کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ایک مرتبہ امریکہ کے بوسٹن میں آغاخان ایجوکیشن سروس کے فلپس اکیڈمی اسکول کے دورہ پر ہونے والا تجربہ وہ نہیں بھولتے ہیں۔ وہاں پڑھانے والے اساتذہ تدریسی شعبے کے ماہر تھے، تو طلبہ بھی بہت ذہین تھے۔ ایک پریڈ میں ایک بچے نے ٹیچر سے کوئی سوال کیا، اتفاق سے ٹیچر اس سوال کے جواب سے آگاہ نہیں تھا، حالانکہ ٹیچر چاہتاتو اس بچےکو گول مول جواب دےکر آگے بڑھ سکتاتھالیکن اس کے بجائے ٹیچر نےاس بچے سے واضح طور پر کہا کہ میں اس سوال کا جواب نہیں جانتا ہوں، لیکن میں تمہارے سوال کا جواب کل ضرور دوں گا۔ ٹیچر کے اس عمل سے عباس صاحب بہت متاثر ہوئے تھے۔ عموماً ایسی صورت میں ہمارے یہاں کے اساتذہ بچوں کو دوسری باتو ں میں اُلجھاکرآگے بڑھ جاتے ہیں۔ 
عباس صاحب میسکو سے ۵۰؍سال سے زیادہ عرصہ سے وابستہ ہیں۔ اس دوران متعدد خیرخواہوں سے ملاقات ہوئی۔ اس بیچ جن اہم شخصیات نے میسکو کی فلاحی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں اہم کردار نبھایا، ان میں قادربھائی سپاری والا، غفار بھائی سپاری والا، ہارون موزہ والا اور علی قریشی بالخصوص شامل ہیں۔ علی قریشی جو نیومیکسیکو میں رہائش پزیر ہیں ، وہ گزشتہ ۳۰؍سال سے میسکو کی مدد کر رہے ہیں۔ میسکو سے ان کاتعارف مجگائوں کی ایک مسجد میں زکوٰۃ سے متعلق تقسیم ہونے والے پمفلٹ کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے میسکو کے اسکول کے عملے کیلئے ۱۳؍ فلیٹ وقف کئے ہیں تاکہ دور دراز علاقو ں سے آنے والے اساتذہ کو پریشانی نہ ہو اور اسکول کے قریب رہ کر اپنی تدریسی خدمات انجام دے سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کنویں سے پانی پینے پر ایک برہمن طالب علم نے مجھے زوردار طمانچہ مارا تھا‘‘

عباس صاحب کا خیال ہے کہ اس دور میں بہت سستائی تھی۔ باندرہ میں مذبح ہونے سے اکثر مہمانوں کی آمد پر والدہ کہتی تھیں، باندرہ جاکر گوشت لے آئو۔ اس دور میں گردہ، کلیجی، بھیجہ اور کھیری وغیرہ ۱۴؍ آنے میں ملتا تھا۔ ساگ سبزی اور اناج بھی کم قیمت میں ملتے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کو گھر چلانے میں آسانی ہوتی تھی لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس دور میں لوگوں کو پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ جو لوگ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والے تھے، ان کیلئے سستائی کا دور بھی مہنگا تھا۔ 
۷۰ء کی دہائی میں عباس صاحب اور ان کے گروپ کے لوگ اسکولی بچوں کیلئےمفت نصابی کتابوں اور رعایتی داموں پر کاپیوں کا انتظام کرتے تھے۔ غریب والدین کیلئے کتابوں سے زیادہ کاپیوں کا انتظام کرنا مشکل تھا۔ بچو ں کو اس شرط پر کتابیں مفت دی جاتی تھیں کہ سال کے آخر میں پڑھائی مکمل ہونے کے بعد کتابیں واپس کردی جائیں ، ان کی جمع کرائی ہوئی کتابیں دیگر بچوں کو دی جاتی تھیں اور دیگر بچوں کے ذریعے جمع کرائی جانےوالی کتابیں انہیں اگلی جماعت کی پڑھائی کیلئے دی جاتی تھیں۔ اس طرح کتابوں کا مسئلہ تو حل ہو جاتا تھا لیکن کاپیوں کی خریداری غریب والدین کیلئے آزمائش بھری ہوتی تھی کیونکہ بیشتر والدین کے بچوں کی تعداد ایک سے زائد ہوتی تھی۔ ایسے بچوں کیلئے رعایتی دام پر کاپیاں دستیاب کرائی جاتی تھیں۔ اس دور میں فی کاپی کی قیمت ۳۰؍ سے ۴۰؍پیسے تھی۔ 
ایک مرتبہ ماہم بس ڈپو کے عقب میں واقع جھوپڑپٹی کے علاقے میں آگ لگی تھی۔ یہاں تقریباً ۱۵۰؍ جھوپڑے تھے۔ آگ کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سبھی جھوپڑے جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ یہاں کے غریب مکین ایک رات میں بے گھر ہوگئے تھے۔ وہ پوری طرح تباہ و برباد ہوگئے تھے۔ ان کے بدن پر جو کپڑے تھے وہی ان کے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کھانے پینے، رہنے سہنے اور کپڑے لتے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ ان سب کی حالت دیکھ کر لوگ ان کی مدد کو سامنے آئے تھے۔ اس وقت امین کھنڈوانی ماہم کے کارپوریٹر تھے۔ انہوں نے اپنی سطح پر متاثرین کی بڑی مدد کی تھی۔ اس کے علاوہ دیگر سماجی اور ملّی ادارے بھی ان کی مدد کیلئے سامنے آئے تھے۔ عباس اور ان کے گروپ نے بھی متاثرین میں برتنوں کی تقسیم کی تھی۔ 
عباس صاحب بیرونی ممالک کا متعددسفر کر چکے ہیں ۔ ایک مرتبہ وہ ممبئی سے دبئی جا رہے تھے۔ رات کا وقت تھا۔ اچانک طوفانی ہوائوں کی زد میں آنے سے ان کاطیارہ نیچے کی جانب آنے لگا۔ پائلٹ نے فوری طورپر ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے مسافروں کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔ اس دوران ان کا طیارہ کافی حد تک نیچے آگیا تھا، جو نہیں آنا چاہئے تھا۔ اس کے باوجود پائلٹ طیارہ کو اُوپر رکھنے کی پوری جدوجہد کر رہا تھا۔ پائلٹ کے اعلان سے مسافروں میں خوف وہراس کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ مسافروں کے چہروں پر خوف کے اثرات نمایاں تھے۔ انہیں اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی۔ رات کا وقت ہونے سے باہر کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ بڑا خوفناک منظرتھا۔ ۱۰۔ ۸؍منٹ تک یہی کیفیت رہی۔ اس کے بعد طوفان کا زور کم ہوا، جس کے ساتھ ہی پائلٹ نے طیارہ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی۔ کچھ دیر میں طیارہ اپنےمعمول کی اُونچائی پر پہنچ گیا۔ اس کی اطلاع ملتے ہی مسافروں کی جان میں جان آئی۔ 
میسکونے تقریباً ۳۵۔ ۳۰؍سال قبل نیشنل کالج باندرہ میں ایک پروگرام منعقد کیا تھا، جس میں دلیپ کمار مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے۔ تقریب میں عباس صاحب کی دلیپ کمار سے قریبی ملاقات ہوئی تھی۔ اس موقع پر دلیپ کمار نے میسکو کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی خدمات کے حوالے سے بہترین تقریر کی تھی جس سے ادارے کو کافی فائدہ پہنچا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK