ممبئی میں اداکار ٹائیگر شراف پر حملے کے واقعہ کو لے کر ریاستی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 5:18 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
ممبئی میں اداکار ٹائیگر شراف پر حملے کے واقعہ کو لے کر ریاستی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے ہزاروں کھاتے داروں کی ذاتی معلومات چوری ہونے کے واقعہ پر غیر اُردو اخبارات نے بینک انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صارفین کی معلومات کے تحفظ اور سائبر سلامتی کے مؤثر انتظامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب ٹرینوں میں تیز آواز میں گفتگو اور شور و غل کرنے والوں پر پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کے فیصلے کو بیشتر اخبارات نے سراہتے ہوئے اسے مسافروں کیلئے پُرسکون اور خوشگوار سفری ماحول فراہم کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ممبئی میں اداکار ٹائیگر شراف پر حملے کے واقعہ کو لے کر ریاستی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں جبکہ یورپی ممالک میں مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر اُترنے والے عوام کے احتجاج کو بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی مشکلات کے خلاف فطری ردِعمل قرار دیتے ہوئے عوامی بے چینی کی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔
صارف کی نجی معلومات کا تحفظ بھی بینک کا فرض ہے
لوک مت( مراٹھی، ۲۳؍اکتوبر)
’’ ایس بی آئی کے تقریباً چار ہزار صارفین کی ذاتی معلومات چوری کرکے ڈارک ویب پر فروخت کیلئے ڈالے جانے کا انکشاف محض ایک سیکوریٹی چوک نہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے کی ڈیجیٹل ساکھ کیلئے ایک بڑا جھٹکاہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کے عام شہری پہلے ہی روز بروز نت نئے آن لائن فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں اس ہلا دینے والی خبر نے صارفین کے اضطراب اور عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بینک انتظامیہ کا روایتی انداز میں یہ مؤقف اپنا لینا کہ بنیادی نظام محفوظ ہے اور کھاتے داروں کے پیسوں کو کوئی خطرہ نہیں، دراصل معاملے کی سنگینی سے دامن چھڑانے کی ایک کمزور اور غیر سنجیدہ کوشش ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بینک کی ذمہ داری صرف روپے پیسے کے اندراج تک محدود ہے؟کیا صارف کی نجی معلومات کا تحفظ اس کا فرض نہیں ؟ یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ پیسے کی حفاظت اور ذاتی ڈیٹا کا تحفظ دو الگ الگ تقاضے ہیں۔ اگر گاہک کا حساس ترین ڈیٹا جس میں اس کا نام، تاریخ پیدائش، جنس، فون نمبر اور ای میل شامل ہیں۔ ڈارک ویب کی منڈی میں نیلام ہو رہا ہو تو بینک کے حفاظتی حصار پر انگلی اٹھنا ایک فطری امر ہے۔ اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی تفصیلات کے مطابق پونے چار لاکھ ریکارڈ کے لیک ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اگرچہ تکنیکی بنیادوں پر بینک کے بنیادی کھاتےمحفوظ ہوں مگر چوری شدہ ڈیٹا کا استعمال کرکے کسی شہری کی جعلی شناخت تیار کرنا، اسے سائبر مجرموں کا آسان ہدف بنانا اور اس کے نام پر جعلسازی کرنا چند منٹوں کا کھیل ہےلہٰذا صرف یہ کہہ کر کہ رقم سلامت ہے، بینک اس سنگین نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے بوجھ کو ہلکا نہیں کر سکتا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے ملک کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی مسائل کو اجاگر کیا
بھاری جرمانہ کی دھمکیوں سے کچھ نہیں ہوگا
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۲۱؍اکتوبر )
’’ریلوے کے سفر کو عام آدمی کی روزمرہ زندگی کی سب سے بڑی ضرورت اور نسبتاً پُرسکون ذریعہ مانا جاتا ہے لیکن موجودہ دور میں یہ سفر دماغی اذیت اور شور کے طوفان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لوکل اور طویل مسافر کی ٹرینوں میں موبائل فون پر اونچی آواز میں گانے چلانا، لاؤڈ اسپیکر پر ویڈیو دیکھنا اور چیخ چیخ کر باتیں کرنا ایک عام معمول بن چکا ہے جس سے روزانہ لاکھوں مسافروں کے اعصاب مجروح ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے کا ایسا کرنے والوں پر ۵؍ ہزار روپے تک کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک خوش آئند اور درست قدم دکھائی دیتا ہے۔ جولائی ۲۰۱۲ء کی حفاظتی گائیڈ لائن میں ترمیم کرکے ٹرینوں میں بلااجازت بھجن، مذہبی و ثقافتی پروگراموں اور خطرناک اسٹنٹ پر بھی اسی پالیسی کے تحت پابندی کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔ کاغذ کی حد تک یہ فیصلہ نہایت مؤثر اور مسافروں کے حق میں محسوس ہوتا ہے لیکن انتظامی اور عملی سطح پر اس کے نفاذ کا تجزیہ کیا جائے تو کئی سنجیدہ اور بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔ ریلوے کا تاریخی ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ اس سے پہلے بھی اصول اور ضوابط کی کوئی کمی نہیں تھی کمی صرف ان پر خلوص نیت کے ساتھ عمل درآمد کی رہی ہے۔ آج بھی لوکل ٹرینوں میں شور و غل، بھجن منڈلیاں، شراب نوشی اور خوں ریز جھڑپوں کے مناظر عام ہیں۔ نوٹیفکیشن جاری کر دینا اور پریس ریلیز کے ذریعے واہ واہی سمیٹنا ریلوے انتظامیہ کا پرانا وطیرہ رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ محض بھاری جرمانہ کی دھمکی دینے کے بجائے ٹھوس عملی اقدامات کرے۔ ڈبوں میں باقاعدہ پیٹرولنگ کو یقینی بنایا جائے اور مسافروں میں شعور بیدار کرنے کی مسلسل مہم چلائی جائے۔ ‘‘
بشنوئی گینگ کے پس پردہ بھی کچھ ہے
دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۲۰؍اکتوبر)
’’اتوار کو ممبئی کے جوہو میں پیش آنے والے واقعے نے شہر کے امن کو ہلا کر رکھ دیا جہاں حملہ آوروں نے اداکار ٹائیگر شراف پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ان کا ڈرائیور اور ایک راہگیر زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ نے امن و امان کے ایک نئے مگر جانے پہچانے خطرناک خطرے سے نمٹنے کیلئے شہر کی تیاریوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کے واقعہ کو لارینس بشنوئی گینگ سے جوڑے جانے کے بعد سے گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی دیگر واقعات بھی اسی گروہ سے وابستہ کیے جا چکے ہیں، جن میں سابق وزیر اور این سی پی لیڈر بابا صدیقی کا قتل نمایاں ہے۔ فائرنگ کے یہ واقعات اور دیگر افراد کو ملنے والی دھمکیاں اُن برسوں کی یاد دلاتی ہیں جب ممبئی کے انڈر ورلڈ نے شہر کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اگرچہ حالیہ فائرنگ کے تین مشتبہ افراد کی فوری گرفتاری ایک خوش آئند قدم ہے لیکن بار بار ہونے والے یہ حملے کئی تشویش ناک سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ان جرائم کی مناسب تفتیش کیسے ہو سکتی ہے جبکہ ممبئی پولیس کیلئے اس گینگ کے سرغنوں لارینس بشنوئی (جو گجرات کی سابرمتی سینٹرل جیل میں قید ہے) اور انمول بشنوئی (جو اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں ہے) تک رسائی ہی مشکل بنا دی گئی ہے؟ ممبئی پولیس کی جانب سے دونوں افراد کی تحویل حاصل کرنے کی بارہا کوششیں بظاہر ناکام رہی ہیں کیونکہ وزارت داخلہ کے احکامات نے تفتیشی ایجنسیوں کو ان دونوں بھائیوں کو کسی بھی مقصد کیلئےجیل سے باہر لانے سے روک رکھا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ممبئی پولیس فلم انڈسٹری کو تحفظ کا احساس دلانے کیلئےکیا کر رہی ہے جو منظم جرائم کا آسان ہدف سمجھی جاتی ہے۔ کسی بھی فلمی شخصیت پر حملے سے فوری تشہیر ملتی ہے جس سے دھمکی کا نفسیاتی اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔ ‘‘
یورپ کے احتجاج ہندوستان کیلئے سبق ہیں
نوبھارت ٹائمز( ہندی، ۱۹؍اکتوبر)
’’ اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں پچھلے مہینے جب معمر خاتون ماریا کو زبردستی گھر سے بے دخل کیا گیا تو ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ اب ایسی ہی تصویریں یورپ کے کئی ممالک سے سامنے آ رہی ہیں۔ فرانس، پرتگال اور اٹلی میں مظاہرے پرتشدد صورت اختیار کر چکے ہیں۔ سب سے زیادہ خراب حالات فرانس میں ہیں جہاں مشتعل ہجوم نے تاریخی عمارتوں کو آگ کےحوالے کر دیا۔ اس شدید غصے اور احتجاج کے پیچھے بہتر معیارِ زندگی اور سستے مکانات کا مطالبہ ہے۔ اعداد و شمار سے اس مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ ۲۰۱۰ء تا ۲۰۲۴ ء یورپی یونین میں مکانات کی قیمتوں میں ۵۳؍ فیصد اور کرایوں میں ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران ہنگری میں مکانات کی قیمتیں ۲۳۱؍ فیصد جبکہ اسٹونیا میں ۲۰۸؍ فیصد تک بڑھ گئیں۔ اسی طرح پرتگال میں پچھلے۹؍ برسوں میں کرایہ دگنا ہو چکا ہے۔ ۲۰۲۴ءمیں یورپی یونین کے خاندان اپنی قابل خرچ آمدنی کا تقریباً پانچواں حصہ صرف رہائش پر خرچ کر رہے تھے۔ بڑے شہروں میں صورتحال اس سے بھی بدتر ہے جہاں لوگوں کی ۴۰؍ فیصد سے زائد کمائی صرف گھر کے کرائے میں چلی جاتی ہے۔ یورپ میں یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ اس کا آغاز ۲۰۰۸ء کے مالیاتی بحران سے ہوا تھا جب رہائشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد کورونا کی وجہ سے مندی آئی اور پھر یوکرین جنگ نے حالات بگاڑدیے۔ تاہم اس پورے عرصہ میں شہروں پر آبادی کا دباؤ اور رہائش کی مانگ مسلسل بڑھتی رہی۔ ایک طرف مکانات مہنگے ہوتے گئے تو دوسری طرف جنگ اور تنازعات کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی گئی۔ حالیہ احتجاجی مظاہرے نہ صرف یورپ بلکہ ہندوستان اور دیگر ممالک کے لیے بھی ایک سبق ہیں۔ ‘‘