مورلینڈروڈ کے ۷۶؍سالہ اکبرحسین کو کتابیں خریدنے اور پڑھنے کا شوق ہے، انہوں نے پانی کے جہاز پر کم وبیش ۲۵؍ سال گزارے ہیں ، اس دوران خلیج کے علاوہ دنیا کےکئی ممالک کا دورہ کیا جن میں سب سے زیادہ ملائیشیا کی تہذیب اور تمدن سے متاثر ہوئے۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 9:48 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
مورلینڈروڈ کے ۷۶؍سالہ اکبرحسین کو کتابیں خریدنے اور پڑھنے کا شوق ہے، انہوں نے پانی کے جہاز پر کم وبیش ۲۵؍ سال گزارے ہیں ، اس دوران خلیج کے علاوہ دنیا کےکئی ممالک کا دورہ کیا جن میں سب سے زیادہ ملائیشیا کی تہذیب اور تمدن سے متاثر ہوئے۔
مدنپورہ، مورلینڈ روڈ کے ۷۶؍سالہ اکبر انتظار حسین شیخ کی پیدائش ۲؍ جون ۱۹۵۱ء کو بائیکلہ میں ہوئی تھی۔ پتھر والی اسکول سے ساتویں اور انجمن خیرالاسلام سے میٹرک تک پڑھائی کی۔ ان کے والد انتظار حسین مغل لائن نامی پانی کے جہاز کی کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ اس کمپنی کے زیر اہتمام اکبری، سعودی اور مظفری نامی پانی کے جہاز حاجیوں کو ممبئی سے جدہ لے جاتے تھے۔ انتظار حسین جہاز کی کینٹین میں بحیثیت ویٹر خدمات پیش کرتے تھے۔ ۷؍ بچوں کی پرورش کیلئے ان کی تنہا آمدنی ناکافی تھی، اسی وجہ سے اکبر شیخ نے پڑھائی ترک کر کے والد کا ہاتھ بٹانے کافیصلہ کیا تھالیکن کافی کوششوں کے بعد بھی انہیں کوئی ملازمت نہیں ملی۔ اس کے بعد موٹر میکانک، الیکٹرک ویلڈنگ اور الیکٹریشین کا کام سیکھنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ بالآخر والد کی رہنمائی اور سفارش پر مغل لائن کیٹرنگ ڈپارٹمنٹ میں ویٹر کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیابی ملی۔ ۱۹۷۱ء سے باقاعدہ عملی زندگی کا آغاز کیا اور ۱۹۹۵ء میں کیٹرنگ آفیسر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔ ریٹائر ہونے کےبعد، ملازمت کے دوران ملنے والی ’ٹپ‘ کی رقم سے گرانٹ روڈ مارکیٹ میں جو دکان خرید ی تھی، چندبرس اس سے وابستہ رہے۔ بعدازیں ٹرانسپورٹ اور موٹرگاڑیوں کا کاروبار کیا۔ گزشتہ چند برسوں سے سبکدوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
اکبر شیخ کا خیال ہے کہ ڈرنے والے، دریااورسمندرمیں کام نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ ایڈونچر والا پیشہ ہے اورپیٹ سے زیادہ خوفناک کچھ اور نہیں۔ اس بات کا پختہ یقین ہے۔ روزی حاصل کرنے کیلئے انسان موت کوبھی گلے لگا لیتا ہے، چنانچہ سمندر میں ڈیوٹی کے دوران کبھی ڈر نہیں لگا۔ مالی ضرورت پوری کرنے کیلئے کسی کام سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ اگر کام نہیں کروں گا، تو والد کاہاتھ کیسے بٹائوں گا، اسی سوچ نے مجھے سمندر کی طغیانی اور جان لیوا لہروں کے خوف سے باہر نکالنے میں مدد کی تھی۔
اکبرشیخ جس دور میں انجمن خیرالاسلام اسکول میں زیر تعلیم تھے، وہاں کے اُستاد عبدالحق اورمصطفیٰ سر انہیں بہت پسند کرتے تھے۔ ان پر پورا بھروسہ بھی تھا، اسی وجہ سے ہر مہینے تنخواہ آنے پر انہیں بیرر چیک پر دستخط کر کے، محمدعلی روڈ پر واقع بامبے مرکنٹائل بینک سے نقد نکال کر لانے کیلئے بھیجتے تھے۔ اکبرشیخ پڑھ لکھ کر اچھا انسان بنے، دونوں اُستاد کی خواہش تھی۔ اسی جذبے کی وجہ سے پڑھائی میں تساہلی کرنے پر یہ حضرات کبھی کبھی اکبرشیخ کی پٹائی بھی کرتے تھے، بعد میں مارنے کاپچھتاواہونےپر اکبر شیخ سے یہ بھی کہتے تھے کہ برانہ ماننا، تمہاری بھلائی کیلئے ایسا کیا جاتا ہے۔ جواب میں اکبر شیخ اپنے اُستاد سےکہتے کہ آپ میرے والد جیسے ہیں ، بڑوں سے بھی سن رکھا ہے کہ والدین کےبعد اساتذہ کا مرتبہ بہت قیمتی ہے۔ پڑھائی ادھوری چھوڑدینے پر مصطفیٰ سر نے کہا تھا، تُو لائق نہیں بن سکتا، اللہ تمہارا بھلا کرے اور تم پر رحم فرمائے، جس پر اکبر شیخ نے ان سے کہا تھا، سر ایسا نہ کہیں، کیا معلوم کب وقت بدل جائے۔ اتفاق کی بات ہے اس واقعے کے تقریباً ۱۰؍سال بعد مصطفیٰ سر کی والدہ حج پر جا رہی تھیں ۔ جس پانی کی جہاز سے انہیں جانا تھا، اسی پر اکبر شیخ بحیثیت کیٹرنگ آفیسر مامور تھے۔ کیٹرنگ آفیسر کے یونیفارم میں دیکھ کر مصطفیٰ سر جذباتی ہوگئے تھے۔
طالب علمی کے زمانے سے اکبر شیخ کو مطالعہ کاشوق رہا۔ وہ جس دورمیں انجمن خیرالاسلام اسکول میں پڑھتے تھے، اسکول کے قریب واقع مستری چال میں ایک لائبریری ہوا کرتی تھی۔ یہاں سے کامک بُک لے کر پڑھنے کا شوق تھا۔ یہ شوق پروان چڑھتارہا۔ دوران ملازمت ملنے والی ٹپ سے وہ اکثر بھنڈی بازار کے وزیر ہوٹل کی فٹ پاتھ پر لگائی جانے والی کتابوں کی دکان سے اس دور میں کم ازکم ۵۰۰؍روپے کی کتابیں خریدتے تھے۔ بعض مرتبہ تو ایک ہزار روپے سے زیادہ کی کتابیں بھی خریدی تھیں ۔ ادب و ثقافت کے علاوہ جنرل نالج اور دینی کتابوں کا مطالعہ ان کا محبو ب مشغلہ تھا۔ حاجیوں کو جدہ پہنچا کر خالی جہاز ممبئی آتا تھا۔ ۸؍دنوں کے اس دورے میں انہیں مطالعہ کیلئے کافی وقت ملتا تھا۔ اس دوران وہ کئی کتابیں پڑھ لیتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’عبدالرحمان انتولے نے پروٹوکول کی تمام پابندیاں توڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا‘‘
اکبر شیخ کو مطالعہ کے علاوہ فلم بینی اور ریڈیو سننےکا بھی بڑا شوق تھا۔ زندگی میں ۳؍ مختلف موقعوں پر اس دورکے معروف فلم اداکار راجیش کھنہ، سنیل دت اور اوم پرکاش سے بالمشافہ ملنے کا موقع ملا تھا۔ والکیشور کے ہینگنگ گارڈن میں شوٹنگ کے بعد راجیش کھنہ سے ہاتھ ملا کر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔ اسی طرح بوری بندر پر ایک دفترمیں سنیل دت سے ہونے والی ملاقات بھی ان کیلئے بڑی یادگار ہے۔ سنیل دت کی اُردو گفتگو سے بڑے متاثر ہوئے تھے۔ اوم پرکاش سے بھی ایک محفل میں بغلگیر ہونے کا شرف حاصل رہا۔ اس کے علاوہ ایک مرتبہ ریلیف فنڈ کیلئے پوری فلم انڈسٹری بائیکلہ، چڑیاگھر کے قریب جمع ہوئی تھی جس میں معروف ہیرو، ہیروئن، فلم ساز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے بھی تھے۔ اس جلو س میں ان سب کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔
۱۹۷۳ء میں ملازمت کے دوران سعودی نامی جہاز سے جدہ سے ممبئی واپسی کے سفر میں یمن کے قریب خراب موسم کی وجہ سے ان کا جہاز طغیانی میں پھنس گیا تھا، ہر ممکن کوشش کے باوجود جہاز کو نہیں بچایا جاسکا۔ شام کا وقت تھا۔ سمندر میں ڈوب جانے سے جہاز کا پورا عملہ تیز طوفانی لہروں میں پھنس گیا تھا۔ اپنی جان بچانے کیلئے سب سمند ر میں ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ اکبر شیخ بھی اپنی بساط بھرسمندری موجوں سے مقابلہ کرنےکی کوشش کررہے تھے۔ سمندر میں پوری رات کیسے گزری، انہیں اس کا علم نہیں تھا۔ علی الصباح ایک امریکی امدادی جہاز متاثرین کو بچانے پہنچا۔ ان میں سے ۶۰؍ لوگوں کو بچانے میں کامیابی ملی، بقیہ ۴۰؍ لوگ ڈوب گئے۔ حیرت انگیز طور پربچ جانے والوں میں وہ شخص بھی شامل تھا جسے تیرنا نہیں آتا تھا۔ اس خوفناک واقعہ کو اکبر شیخ کبھی نہیں بھولتے ہیں۔ اتنے خطرناک واقعہ سے گزرنے کے باوجوداکبر شیخ نے اپنا پیشہ نہیں چھوڑا۔ حادثہ کے ڈیڑھ ماہ بعد نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ انہوں نے دوبارہ ڈیوٹی جوائن کرلی تھی۔
ایک مرتبہ مغربی بنگال حکومت کے اسپیکر شمس کلیم الدین اپنی والدہ کے ساتھ اکبری جہاز سے حج پر جا رہے تھے۔ اس جہاز پر اکبرشیخ کی ڈیوٹی تھی۔ شمس کلیم الدین کی والدہ جہاز کے فرسٹ کلاس جبکہ شمس کلیم الدین ڈیک کلاس میں سفر کر رہے تھے۔ دوران سفر ایک دوسرے سے متعارف ہونے کے بعد متعدد مرتبہ اکبر شیخ نےشمس کلیم الدین سے کہا کہ آپ کی والدہ کیلئے فرسٹ کلاس کا جوکھانا آتاہے وہ اتنی مقدار میں ہوتا ہے کہ اس میں سے آپ بھی کھا سکتے ہیں ۔ شمس کلیم الدین نے اکبرشیخ کی پیشکش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھاکہ آپ کی محبت سر آنکھوں پر لیکن میں ایک مقدس فریضہ کیلئے حج پر جا رہا ہوں ، اس دوران ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتاہوں جو خلاف شریعت ہو۔ ان کی والدہ کا کھاناجب آتا، وہ اپنی ماں کی کیبن کے قریب نہیں جاتے تھے۔ ڈیک کلاس کا کھانا کھا کر ہی وہ اپنی ماں کے پاس آتے تھے۔ اکبر شیخ کے مطابق میں نے ایسا نیک، شریف اور اُصول پرست انسان نہیں دیکھا۔
اکبرشیخ نے کم وبیش ۲۵؍ سال سمندری زندگی بسر کی ہے۔ اس دوران خلیج کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کا دورہ کیا لیکن سب سے زیادہ ملائیشیا کی تہذیب اور تمدن سے متاثر ہوئے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز ہونے کے ساتھ بیرونی ممالک کے لوگوں کی عزت اور احترام کرنے میں کمی نہیں کرتے ہیں ۔ دل و جان سے ان کی خدمت کرتے ہیں ۔