بھیونڈی کے ۸۵؍سالہ حافظ حاجی سعید احمدکا آبائی وطن الہ آباد ہے لیکن وہ اب گزشتہ ۴۰؍برسوں سے لندن میں مقیم ہیں اور وہیں پر دین کی خدمت میں مصروف ہیں،اس دوران مختلف اسلامی مراکز میں امام و خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 2:37 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
بھیونڈی کے ۸۵؍سالہ حافظ حاجی سعید احمدکا آبائی وطن الہ آباد ہے لیکن وہ اب گزشتہ ۴۰؍برسوں سے لندن میں مقیم ہیں اور وہیں پر دین کی خدمت میں مصروف ہیں،اس دوران مختلف اسلامی مراکز میں امام و خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
بھیونڈی کےحال ِمقیم لندن، ۸۵؍سالہ حاجی حافظ سعید احمد کی پیدائش ۲۲؍اپریل۱۹۴۲ء کواترپردیش کےضلع الہ آباد ،قصبہ لال گوپال گنج کےنواحی گائوں لالہ کاپورہ میں ہوئی تھی ۔پرائمری اسکول کی تعلیم گائوں کےاسکول سےمکمل کی، بعدازیں آگے کی دینی اور عصری تعلیم الہ آباد سے پوری کی۔ مدرسہ حبیبیہ اسلامیہ لال گوپال گنج سے ۱۵؍سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی ۔عملی زندگی کاآغاز الٰہ آباد گرانٹ ٹرنک روڈ ،بہادر گنج کی ایک مسجد اور الہ آبادیونیورسٹی کے معروف مسلم بورڈنگ ہوسٹل میں امامت و خطابت کی ذمہ داری سے شروع کی۔ ۱۹۶۶ء میں۲۴؍ سال کی عمر میں مستقل ذریعہ معاش کی تلاش میں بھیونڈی منتقل ہوئے ۔ بھیونڈی کی جامع مسجد ( سوداگر محلہ) ڈوکلا مسجد ، پٹیل محلہ مسجد اور بیچ کی مسجد نظامپورہ میں امامت کے فرائض انجام دیئے ۔ کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کےشعبہ دینیات میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ اس دوران ایک کتاب ِ دینیات مرتب فرمائی، جو اپنی جامعیت کے باعث آج بھی نصاب کا حصہ ہے اور ہزاروں طلبہ اس سے مستفیض ہو رہے ہیں۔جماعت اسلامی بھیونڈی کے امیر کے عہدے پر بھی فائزرہے۔اس کے علاوہ متعدد ملّی ،فلاحی اور سماجی اداروں سے وابستگی رہی۔
حافظ سعید احمد ۱۹۸۴ء میں بھیونڈی سے مستقل قیام کیلئے لندن روانہ ہوئے ،جہاں گزشتہ ۴۰؍سال سے دین کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ مختلف اسلامی مراکز، بالخصوص بیٹر سی اسلامک سینٹر لندن میں امام و خطیب کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں علاوہ ازیں دعوت و اصلاح کے شعبہ میں بھی انتہائی فعال و سرگرم رہے ۔
حافظ سعید احمد کی زندگی کا ایک اہم اور صبر آزما باب ۷؍مئی ۱۹۷۰ء میں ہونےوالے بھیونڈی فسادات سے بھی وابستہ ہے ۔ جمعرات کادن تھا، شام تقریباً ۵؍بجے وہ جامع مسجد سوداگر محلہ سے نماز عصر کی امامت سے فارغ ہوکر بھسار محلہ اپنی رہائش گاہ کی سمت جا رہے تھے ، راستے میں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ۔ تھانے ڈسرکٹ جیل میں تقریباً ۲۲؍ دنوں تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آزمائش کے ان لمحات میں بھی جیل میں موجود اہلِ ایمان قیدیوں کیلئے پنج وقتہ نمازوں کا باقاعدہ اہتمام نیزجمعہ اور دینی اجتماعات کی امامت و قیادت کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے گئے ایام آج بھی آپ کی یادداشت کا اہم حصہ ہے ۔ جب کبھی جیل میں گزارے وقت کا تذکرہ ہوتاہے تو مرحوم شبیر احمد راہی، مرحوم سمرو سیٹھ ، مرحوم زیڈ عابد اور دیگر رفقائے قید کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں ۔ جیل کی ان یادوں اور مشاہدات پر مشتمل ان کی جیل ڈائری میں اس قدر قیمتی مشمولات موجود ہیں کہ اسے مرتب کر کے ایک اہم تاریخی و دستاویزی تصنیف منظر عام پر آسکتی ہے ۔
حافظ سعید احمد جس دور میں حج بیت اللہ پر گئےتھے، اس وقت ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھاجسے وہ کبھی نہیں بھولتے ہیں ۔حج سے فارغ ہونے کے بعد وہ کرائے کی ایک کار سے مدینہ منورہ سے جدہ جارہےتھے۔ ان کے ساتھ ۵؍ افراد تھے ۔انہیں اس قافلے کا امیر مقرر کیا گیا تھا ۔ سفر کے دوران ۲؍ مزید مسافر ان کے ساتھ شامل ہو گئے، جن میں ایک عرب اور ایک پاکستانی تھا ۔جدہ ایئرپورٹ پہنچنے پر جب تمام مسافروں نے اپنا سامان اتارا تو اس عرب مسافر نے ایک چھوٹا سا بیگ حافظ سعید احمد کے حوالے کرنے کی کوشش کی، اس نے کہا کہ یہ آپ رکھ لیجیے۔ حافظ سعید نے دریافت کیا کہ اس میں کیا ہے اور یہ مجھے کیوں دے رہے ہو؟ اس سوال کا اس شخص نے صرف اتناجواب دیا کہ اسے آپ رکھ لیجیے ،بیگ حافظ سعید کے ہاتھ میں تھماکر وہ دوسرے لمحے وہاں سے لاپتہ ہوگیا۔حافظ سعید اور ان کے ساتھی اس شخص کے عمل پر حیران تھے۔ حافظ سعید نے سب کے سامنے بیگ کھولا، اس میں بڑی مقدار میں سعودی ریال تھا۔ ساتھیوں نے کہا کہ یہ آپ کو دیا گیا ہے، لہٰذا آپ رکھ لیجیے۔ جس پر حافظ سعید نے کہا کہ اس رقم میں سے ایک ریال بھی نہیں لوں گا، آپ لوگ آپس میں تقسیم کر لیجیے ۔ اسی دوران ان کے پاکستانی ہم سفر نے اپنی مالی مشکلات اور مجبوریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ رقم اسے مل جائے تو وہ اپنا سارا قرض ادا کر کے اپنی پریشانیوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے ۔حافظ سعید نے دیگر ساتھیوں کی رضامندی پر وہ پوری رقم اس پاکستانی کے حوالے کر د ی۔
حافظ سعید احمد کی حاضر جوابی بھی ہمیشہ اہلِ مجلس میں قابل توجہ رہی ہے۔ ایک مجلس میں ایک شخص نے نیاز فتحپوری کی کتاب ’من و یزداں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ ’انسان کو کسی کا غلام نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ جس پر حافظ سعید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اگر آپ اس خیال کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں تو گویا آپ ذہنی طور پر نیاز فتحپوری کے غلام ہیں ۔ اس شخص نے جواب دیا کہ’ ’میں نیاز فتحپوری کا غلام کیوں کر ہو سکتا ہوں ،کیونکہ وہ نہ تو شراب پیتے تھے اور نہ ہی جوا کھیلتے تھے، جبکہ میں دونوں کام کرتا ہوں۔‘‘ یہ سن کرحافظ سعید نے فوراً کہا کہ’ ’پھر تو آپ کسی انسان کے نہیں بلکہ اپنے نفس کے غلام ہیں۔‘‘ اس ایک جملے نے پوری بحث کا رخ موڑ دیا اور وہ صاحب تلملاتے ہوئے اس مجلس سے چلے گئے۔
حافظ سعید احمد طالب علمی کے زمانے کے اس جدوجہد کونہیں بھولتے ہیں جب وقت پر مدرسہ پہنچنے کی تگ و دو میں راستے میں پڑنے والے بریج کی بھیڑ سے بچنے کیلئے اپنے کاندھوں پر سائیکل اُٹھاکر بریج پار کرتے تھے ۔اس دور میں ان کے گائوں سے الہ آباد کے مدرسہ جانے کیلئے محدود سواریاں (بس اور موٹر گاڑیاں) تھیں جو وقت پرنہیں آتی تھیں۔ جس کی وجہ سے انہیں مدرسہ پہنچنے میں تاخیر ہونے پر اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے علاوہ سزاجھیلنا ہوتاتھا۔چنانچہ وقت پر مدرسہ پہنچنے کیلئے وہ اپنے ایک رشتے دار سے ان کی سائیکل لے کر مدرسہ جاتے تھے۔ مدرسہ کے راستے میں ایک تنگ راستے والا بریج تھا جس پر سے ایک وقت میں ایک طرف کی ٹریفک ہی گزر سکتی تھی، جس کی وجہ سے بریج پر کافی بھیڑ ہوتی ۔ ایسے میں بریج جلد پار کرنے کی کوشش میں اکثر حافظ سعید احمد سائیکل اپنے کاندھوںپر اُٹھا کر بریج پر پیدل ہی چلنے والے راستے سے بریج پار کرتے، تاکہ وقت پر مدرسہ پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ایف ڈی اے کی کارروائیوں کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
مہاراشٹر کے سابق مرحوم وزیراعلیٰ اے آر انتولے کی اہلیہ نرگس انتولے نے حافظ سعید احمد سے عربی تعلیم حاصل کی تھی ۔ایک دن حافظ سعید احمد حج سےمتعلق کچھ دستاویزات کیلئے نرگس انتولے کی رہائش گاہ گئے تھے ۔ اسی دوران سائرن کی آواز کے ساتھ متعدد موٹر گاڑیوں کا قافلہ نرگس انتولے کی رہائش گاہ پہنچا ۔ اے آر انتولے اپنی گاڑی سے اُتر کر سیدھے گھر میں تشریف لائے۔ نرگس انتولے نے اپنے استاذ محترم کا تعارف پیش کیا اور آنےکی وجہ بیان کی۔یہ سنتے ہی اے آر انتولے پروٹوکول اورسیکوریٹی کی ساری پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گرمجوشی سے حافظ سعید احمد سے مصافحہ کیا اور ،بغلگیر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ پاک سرزمین پر جا رہے ہیں ۔ برائے مہربانی حضور اقدس کی خدمت میں میرا سلام ضرور عرض کر دیجئے گا ۔ اتنا کہہ کر وہ کام میں مصروف ہوگئے اورکچھ دیر بعد وہ قافلے کی نگرانی میں اسمبلی کیلئے روانہ ہوگئے لیکن اتنے اعلیٰ عہدہ پر رہتے ہوئے جس خندہ پیشانی سے انہوں نے حافظ سعید احمد سے ملاقات کی تھی ،وہ آج بھی یاد ہے۔