Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتےغزہ جارحیت، ایس آئی آر اور طلبہ مظاہرے بیشتر اخبارات کے موضوعات رہے

Updated: August 26, 2026, 9:47 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

عالمی اور ملکی سطح پر رونما ہونے والے اہم واقعات نے ایک بار پھر انسانی حقوق اور ادارہ جاتی جواب دہی کے سوالات کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔

The names of 20percent voters in Maharashtra are missing, a serious democratic tragedy. Photo: INN
مہاراشٹر میں۲۰؍ فیصد ووٹروں کے نام غائب، سنگین جمہوری المیہ ہے۔ تصویر: آئی این این

عالمی اور ملکی سطح پر رونما ہونے والے اہم واقعات نے ایک بار پھر انسانی حقوق اور ادارہ جاتی جواب دہی کے سوالات کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ غیر اردو اخبارات نے غزہ میں نیتن یاہو حکومت کی کارروائیوں اور معصوم فلسطینی بچوں کے قتل عام پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے امن و سلامتی کا درس دینے والی عالمی طاقتوں کے دُہرے معیار پر شدید طنز کیا ہے۔ اسی کے ساتھ مہاراشٹر میں جاری’ایس آئی آر‘ کے دوران لاکھوں ووٹروں کے نام فہرست سے خارج ہونے کے خدشے کو جمہوری عمل کیلئے تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ جنتر منتر پر جین زی کے مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی سپریم کورٹ کی جانب سے انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا خیرمقدم کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات پر زور دیا گیا جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں جعلی ادویات کی برآمدگی نے صحتِ عامہ کے تحفظ اور نگرانی کے سرکاری نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ 
اسرائیل حد پار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے
لوک ستہ( مراٹھی، ۱۹؍اگست)
’’جمہوریت اور سیاست کے مروجہ اصولوں میں نظریاتی اختلاف رائے کو ہمیشہ بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے خواہ اس کا تعلق دائیں بازو سے ہو یا بائیں بازو سے مگر جب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لیڈر اپنی خود ساختہ برتری کے نشے میں اندھے ہوکر انسان کے بنیادی حقِ زندگی ہی کو مسترد کرنے لگیں تو یہ محض سیاسی انتہا پسندی نہیں رہتی بلکہ فسطائیت کی ہولناک ترین شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کا حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں دیا گیا یہ بیان کہ’روزانہ کم از کم ۳۰ ؍سے ۴۰؍ فلسطینیوں کو مارا جائے کیونکہ وہ جینے کے لائق نہیں ہیں ‘ اسی خطرناک اور انسانیت سوز ذہنیت کا عکاس ہے۔ یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ ایسے اشتعال انگیز اور نسل کشی کی ترغیب دینے والے بیانات نیتن یاہو حکومت کے ایک کلیدی وزیر کی جانب سے بلا جھجک دیئے جا رہے ہیں۔ پورے غزہ کو ہڑپ لینے، لبنان کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے اور عربوں کے بنیادی حقوق کو سلب کر کے اسرائیلی برتری قائم کرنے کے دعوے اب ان کے ہاں کوئی غیر معمولی بات نہیں رہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے واقعات کے بعد اسرائیل نے مظلومیت کا جو لبادہ اوڑھا تھا، وہ غزہ میں برپا کی جانے والی وحشیانہ تباہی اور معصوم بچوں و خواتین کے قتلِ عام کے بعد تار تار ہو چکا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں بھی اسرائیلی ہٹ دھرمی اور انتقامی جنون کی نذر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ عسکری اصطلاح میں اگرچہ’سیکنڈ اسٹرائیک‘ کا تصور جوہری حملے کے بعد دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے استعمال ہوتا ہے مگر اسرائیل نے روایتی جنگ میں جس طرح غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے وہ اسی تباہ کن حکمت عملی کا عملی نمونہ ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور بالخصوص امریکہ جو خطے میں امن کے نام نہاد ضامن بنتا ہے محض زبانی مذمتوں اور نمائشی سفارت کاری سے آگے بڑھتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: راہل کی حمایت بڑھ رہی ہے اور مذاق اڑانے والوں کا طبقہ سکڑ رہا ہے

الیکشن کمیشن کی نیت پر سوال
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۱۸؍اگست)
’’مہاراشٹر میں انتخابی فہرستوں کی تفصیلی جانچ اور تصدیق (ایس آئی آر) کی مہم کے جو ہوش ربا نتائج سامنے آ رہے ہیں انہوں نے الیکشن کمیشن کی نیت اور انتظامی صلاحیت دونوں پر گہرے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ریاست کے ۹؍ کروڑ ۸۰؍ لاکھ رائے دہندگان میں سے تقریباً ایک کروڑ ۸۰؍ لاکھ یعنی لگ بھگ۲۰؍ فیصد ناموں کا لسٹ سے غائب ہونا کوئی معمولی انتظامی چوک نہیں بلکہ ایک سنگین جمہوری المیہ ہے۔ صرف ممبئی جیسے گنجان شہر سے۳۰؍ لاکھ رائے دہندگان کے پتے خارج ہونے کے تخمینے نے اس عمل کے طریقۂ کار کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ بلاشبہ انتخابی فہرستوں کو شفاف اور غلط اندراجات سے پاک رکھنا الیکشن کمیشن کا آئینی فریضہ ہے لیکن ووٹر لسٹ کی مبینہ تطہیر کی اس مہم میں جس غیر سنجیدگی اور عجلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ اصلاح کے بجائے حقِ رائے دہی پر کاری ضرب بن چکی ہے۔ متوفی اور دہری اندراجات کی صفائی کے نام پر لاکھوں ایسے زندہ اور باقاعدہ رائے دہندگان کو نشانہ بنایا گیا ہے جو برسوں سے حقِ رائے دہی کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ۲۰۰۲ء کی پرانی لسٹ میں نام نہ ہونے کا غیر معقول عذر بنا کر حقیقی شہریوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنے کا راستہ کھول دیا گیا ہے۔ اس پوری مہم کی منصوبہ بندی اور انتظامی نفاذ شروع ہی سے نقائص سے دوچار رہا۔ عین بارش کے موسم میں بغیر مناسب تیاری کے اس مہم کا آغاز، بی ایل او کی شدید قلت، سرور کی مسلسل خامیاں، دیہی علاقوں میں نیٹ ورک کے مسائل اور غیر ضروری دستاویزات کی شرائط نے پیچیدہ بحران کو جنم دیا۔ اگرچہ اساتذہ اور آشاورکرز نے نامساعد حالات میں کام کیا لیکن کمیشن کے ان دعوؤں کی ہوا نکل گئی جن کے تحت بی ایل او کو ہر ووٹر کے گھر تین بار جانا تھا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ووٹرس کو دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا گیا اور سنگین تر بات یہ ہے کہ کئی مقامات پر یہ عمل سیاسی پارٹیوں کے دفاتر سے چلایا جاتا رہا جو انتخابی نظام کی غیر جانبداری پر کھلا طمانچہ ہے۔ ‘‘
طلبہ پر جارحیت، احکامات دینے والوں پر بھی کارروائی
ٹائمز آف انڈیا(انگریزی، ۲۰؍اگست)
’’جولائی میں پارلیمنٹ کی جانب پُرامن مارچ کرنے والے طلبہ پر دہلی پولیس کے مبینہ کریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے سابق جج کی سربراہی میں بااختیار تحقیقاتی کمیٹی کا قیام بلاشبہ خوش آئند اقدام ہے، لیکن اصل سوال کمیٹی کے قیام کا نہیں اس کے نتیجے کا ہے۔ کیا یہ تحقیقات واقعی مظلوم طلبہ کو انصاف دلائیں گی یا ماضی کی طرح محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گی۔ جانچ جامع اور مکمل طور پر شفاف ہونی چاہئے۔ پولیس کی کارروائی اور طاقت کے استعمال کے ہر پہلو کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔ خاص طور پر ان الزامات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جن میں نہتے طلبہ پر پلاسٹک کے چھروں کے استعمال، لاٹھیوں سے تشدد اور خاتون مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی بات سامنے آئی ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ واقعہ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود ان طلبہ کے خلاف درج بے بنیاد ایف آئی آر کا مسئلہ برقرار ہے۔ اگر جانچ میں یہ مقدمات غلط یا من گھڑت ثابت ہوتے ہیں تو انہیں فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ کسی شہری کو محض احتجاج میں شرکت کے باعث فوجداری مقدمات کا نشانہ بنانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ پولیس کو قانون نافذ کرنے کا اختیار ضرور ہے مگر یہ اختیار غیر محدود نہیں۔ مرحلہ وار طاقت کے اصول کی آڑ میں غیر متناسب تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ اگر پولیس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو ذمہ داری صرف چنداہلکاروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ احکامات دینے والوں کا بھی تعین ہونا چاہئے۔ ‘‘
ملک بھر میں جعلی ادویات کا کالا دھندا
لوک مت سماچار( ہندی، ۲۱؍اگست)
’’حال ہی میں کرناٹک، اتراکھنڈ، اتر پردیش اور دہلی سے کروڑوں روپے مالیت کی جعلی ادویات کی ضبطی نے ایک بار پھر نظامِ صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ یہ ضبط شدہ کھیپ تو اس خوفناک سمندر کا محض ایک قطرہ ہے جو گرفت میں آ سکی ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ نہ جانے کتنی زہریلی اور بے اثر دوائیں روزانہ لاکھوں غیر محفوظ شہریوں کی رگوں میں اتاری جا رہی ہیں۔ سب سے زیادہ چشم کشا اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت کے پاس اس ناسور کا کوئی مستند یا مربوط ڈیٹا تک موجود نہیں ہے۔ ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ اور ریاستی پولیس کے درمیان باہمی تال میل کا فقدان اور اعداد و شمار کو یکجا نہ کرنا محض ایک انتظامی سستی نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔ ’ایسوچم‘ کے تخمینوں کے مطابق ملک میں سالانہ ۴؍ ہزار کروڑ روپے سے زائد کی جعلی ادویات کا کالا دھندا چل رہا ہے جبکہ حقیقت اس سے بھی کہیں زیادہ بھیانک ہو سکتی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں چیک اینڈ بیلنس کا نام و نشان نہیں، ملک بھر میں کل ادویات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ جعلی ہونے کا خدشہ ہے جہاں ایکسپائرڈ دواؤں کو نئی پیکنگ میں بیچنے کا مکروہ دھندا بلا خوف و خطر جاری ہے۔ یہ سوال پوچھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا ریاستی مشینری کا وجود محض لفاظی تک محدود ہے یا پھر منافع خوروں کے اس طاقتور مافیا کے آگے انتظامیہ نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں ؟ جب ایک لاچار انسان زندگی کی امید لے کر دوا خریدتا ہے، تو اسے شفا کے نام پر دھیمی موت تھما دی جاتی ہے۔ ملک کے دارالحکومت دہلی کے دل میں کینسر، دمہ اور سانپ کے زہر کے تریاق جیسی نازک اور جان بچانے والی جعلی دواؤں کی فروخت کا پکڑا جانا اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ ضابطہ کاری اور ریگولیٹری ادارے کس قدر ناکارہ اور بے حس ہو چکے ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK