Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میری ٹیکسی کے پاس اچانک زینت امان سیکریٹری کیساتھ آئیں اور جوہو چلنے کو کہا‘‘

Updated: April 12, 2026, 8:57 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

مجاہد آزادی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے مدنپورہ کے ۸۱؍ سالہ شاہ غلام مصطفیٰ نے ساتویں تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ٹیکسی چلا کر اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی کفالت کی اور آج اس عمر میں بھی روزانہ شام کے وقت کچھ گھنٹوں کیلئے ٹیکسی چلاتے ہیں۔

Shah Ghulam Mustafa. Photo: INN
شاہ غلام مصطفیٰ۔ تصویر: آئی این این

مدنپورہ کے ۸۱؍سالہ شاہ غلام مصطفیٰ کی پیدائش ۱۶؍دسمبر ۱۹۴۵ء کو کماٹی پورہ کی پانچویں گلی میں نانی کے گھر ہوئی تھی۔ مدنپورہ کی بڑی مسجد میں واقع میونسپل اسکول سے چوتھی، پتھر والی اسکول سے ساتویں اور انجمن اسلام ( سی ایس ایم ٹی ) سے میٹرک کیا۔ نامساعد گھریلو حالات کی وجہ سے تعلیم آگے جاری نہیں رکھ سکے۔ بھائی بہنو ں میں بڑا ہونے کے ناطے چھوٹی عمر ہی سے بڑی ذمہ داریاں نبھائیں ۔ مختلف قسم کی مزدوری کر کے گھریلو تقاضوں کو پورا کیا۔ اس دور میں ہونے والے ایک الیکشن میں ، بلدیہ میں ملازمت کی لالچ میں ایک اُمیدوار کیلئے کام کیا تھا لیکن اس نے ملازمت نہیں دلوائی، البتہ اس کام کے عوض جو ۷۵؍روپے ملے تھے، اس سے ڈرائیونگ لائسنس بنوا لیا۔ وہ لائسنس زندگی بھر کا ساتھی بن گیا۔ غلام مصطفیٰ نے جواُس وقت ٹیکسی چلا نا شروع کیاتو آج تک چلا رہے ہیں۔ اس طرح ٹیکسی چلانے کا۵۰؍سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ عمر کے اس مرحلے پر بھی روزانہ شام کے وقت پابندی سے ٹیکسی چلاتے ہیں ۔ جنوبی ممبئی کے مخصوص علاقوں سی ایس ٹی، فورٹ، اوپیرا ہائوس، چوپاٹی اور چوپاٹی وغیرہ کے مسافروں کو ایک سے دوسری جگہ پہنچا کر تقریباً ۱۲؍بجے رات گھر لوٹ آتےہیں۔ اپنی اس مصروفیت سے وہ کافی حد تک مطمئن ہیں ۔ 
شاہ غلام مصطفیٰ اسکول کے ایک واقعہ کو ابھی تک بھولے نہیں ہیں بلکہ اب انہیں اپنے کئے پرندامت بھی ہوتی ہے۔ وہ ساتویں جماعت میں زیرتعلیم تھے۔ ایک دن کلاس ٹیچر نے انہیں بلاکر، ایک طالب علم کو بطور سزا، مارنے کیلئے کہا، جس پر انہوں نے ٹیچر سے کہا کہ میں کسی کو کیونکر مار سکتا ہوں ۔ جس پر ٹیچر نے ان سے کہا کہ اگر تم نہیں مارو گے تو میں تمہیں ماروں گا۔ یہ سن کر وہ کشمکش میں مبتلا ہوگئے۔ ٹیچر کے کہنے پر انہوں نے اس لڑکے کو ایک زبردست طمانچہ رسید کیا تھا۔ وہ لڑکا بہت خوبصورت اور گورا تھا، طمانچے سے اس کا گال سرخ ہوگیا تھا۔ ٹیچر نے لڑکے کی کیفیت دیکھ کر ان سے کہا کہ میں نے تمہیں مارنے کیلئے کہا تھا، لیکن ایسا مارنے کیلئے کب کہا تھا۔ بات آئی گئی ختم ہوگئی لیکن اس کا افسوس آج بھی انہیں ہے۔ وہ لڑکا جب بھی مدنپورہ میں دکھائی دیتا، غلام مصطفیٰ شرمندہ ہو جاتے تھے۔ ایک مرتبہ اپنی حرکت کیلئے اس سے معافی بھی مانگ چکے ہیں۔ وہ لڑکا بھی بہت شریف تھا، فوری طور پر اس نے معاف کردیا تھا۔ گزشتہ ۶۔ ۸؍ مہینے پہلے اس کی موت ہونےپر غلام مصطفیٰ کو بہت صدمہ ہوا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’فساد میں پاؤں پر گولی لگنے کے باوجود رسی کے سہارے کئی کلومیٹر تک گھسٹتا رہا‘‘

غلام مصطفیٰ کے دادا محمد سلیمان شاہ مجاہد آزادی تھے۔ مالیگائوں کے ۶؍ مجاہدین آزادی کو پونے کے یروڈہ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، اُن میں سے ایک ان کے دادا سلیمان شاہ بھی تھے۔ ان کی قبر آج بھی یروڈہ جیل میں موجود ہے لیکن کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ بحیثیت مجاہد آزادی ان کے اہل خانہ کو جو مراعات ملنی چاہئے تھی، وہ بھی آج تک نہیں ملی ہے البتہ ان سے مالیگائوں کے محمد علی چوک پرواقع نورانی مسجد کے قریب ایک سڑک ضرور موسوم ہے۔ 
غلام مصطفی ٰ کے والد کے ایک دیرینہ اور قریبی ساتھی سی ایچ کوہیر تھے، جو تھانے میں رہتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ غلام مصطفیٰ اور ان کے اہل خانہ کی مدد کی تھی۔ ایک مرتبہ کسی وجہ سے ایک گھر کی ضرورت پڑنے پر انہوں نے اپنا گھر جو مجگائوں پر تھا، انہیں رہنے کیلئے دیا تھا۔ کچھ برسوں بعد مالی ضرورت کے تحت غلام مصطفیٰ نے ان کے سامنے اظہار خیال کیا تھا، جس پر انہوں نے اس گھر کو فروخت کر کے ان کی ضرورت پوری کی تھی۔ عید اور دیوالی پر دونوں گھروں سے ایک دوسرے کیلئے مٹھائی اور شیر پہنچائے جاتے تھے۔ ایک سال عید کے موقع پر غلام مصطفیٰ ان کی رہائش گاہ پہنچے، دروازے پر بھیڑ دیکھ کر انہیں حیر ت ہوئی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سیٹھ جی کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ سن کر غلام مصطفیٰ ایک جھٹکا سا لگا اور ان کے ہاتھو ں سے شیرخورمہ کا برتن وہیں گر پڑا۔ 
 غلام مصطفیٰ کو فلم دیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ بالخصوص دلیپ کمار اور راج کمار کی فلمیں دیکھتے تھے۔ اس دور میں مراٹھا مندر تھیٹر ( ممبئی سینٹرل) میں میٹنی شو کا ٹکٹ چندآنوں میں مل جاتا تھا۔ فلم دیکھنے کا انہیں ایسا تجربہ ہوگیا تھا کہ فلم کے نام ہی سے وہ کہانی سمجھ لیتے تھے۔ جس فلم کا نام انہیں پسند آ جائے، وہ فلم پہلی فرصت میں دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ 
غلام مصطفیٰ نے ۵۰؍سال سے زیادہ عرصہ ٹیکسی چلائی ہے۔ اس دوران ۷۰ء کی دہائی میں جب ان کےپاس لائسنس بھی نہیں تھا، رے روڈ اسٹیشن کے قریب ایک شخص اچانک ان کی ٹیکسی کے سامنے آگیا، جس کی وجہ سے اس کےپیر کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ معاملہ پولیس اسٹیشن گیا، یہ تواچھا ہوا کہ ایک چشم دید گواہ نے، ان کے حق میں بیان دیا۔ پولیس نے ضروری کارروائی کرنے کے بعد انہیں اُسی وقت رہا کر دیا۔ پولیس کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر انہوں نے پولیس آفیسر کو ۲۰؍ روپے دینے کی پیشکش کی۔ پولیس آفیسر نے بڑی شائستگی سے یہ رقم لینے سے منع کرتے ہوئے کہا کہمجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، یہ رقم آپ ہی رکھیں ۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’میرے استاذ نے کہا تھا کہ کاروبارخدمت خلق کیلئے ہو، نہ کہ صرف منافع کیلئے‘‘

ایک مرتبہ مسافر کے انتظار میں غلام مصطفیٰ نیپنسی روڈ پر کھڑے تھے۔ شام کا وقت تھا، اچانک فلم اداکارہ زینت امان اور ان کا سیکریٹری ٹیکسی کے پاس آئے۔ انہوں نے جوہو چلنے کیلئے کہا۔ دراصل زینت امان کی گاڑی خراب ہوگئی تھی۔ انہیں شوٹنگ کیلئے جوہو پہنچنا تھا۔ ایسے میں وہ غلام مصطفیٰ کی ٹیکسی سے جوہو گئی تھیں۔ جوہو پہنچنے پر انہوں نے اپنے سیکریٹری سے کرایہ ادا کرنے کیلئے کہاتھا۔ 
بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فساد سے غلام مصطفیٰ کی تلخ یادیں منسوب ہیں ۔ شہر میں کرفیو لگا تھا۔ ایسے میں کسی ضرورت کے تحت ان کا بڑا بیٹا گھر سے سات راستہ کی طرف جا رہا تھا۔ اچانک ایک گولی اس کے سینے پر آکر لگی۔ عینی شاہدین کے مطابق گولی پولیس نے چلائی تھی۔ گولی چلانے کے کچھ دیر بعد پولیس ہی نے اسے نائر اسپتال بھی پہنچایا تھا۔ جہاں اس کا علاج ہوا۔ بیٹے کو گولی لگنے کی اطلاع سے گھر کے تمام لوگ بہت پریشان تھے۔ پورے گھر میں کہرام سا مچ گیا تھا۔ کئی مہینوں کے علاج کے بعد بہرحال ان کا بیٹا بچ گیا لیکن گولی لگنے کی کڑوی یاد اب بھی ان کے سینے میں دبی ہوئی ہے۔ 
غلام مصطفیٰ کی شادی ۱۹۷۱ء میں ہوئی تھی۔ نکاح اور ولیمہ والے دن ہونے والی بے موسم کی بارش سے کافی پریشانیاں ہوئی تھیں۔ نکاح کےوقت موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ پورے علاقے میں پانی بھرگیا تھا۔ نکاح کے بعد بائیکلہ ٹرانزٹ کیمپ سے ٹیکسی میں کسی طرح دلہن کو مدنپورہ لایا گیا لیکن ٹیکسی سے گھر تک لے جانے کا مرحلہ بڑا دلچسپ تھا۔ عیسیٰ بلڈ نگ کے قریب ٹیکسی کھڑی کرکے، ٹیکسی کے دروازے کے قریب کچھ لوگ چارپائی اُٹھائے کھڑے تھے۔ دلہن کو ٹیکسی سے نکال کر چارپائی پر بٹھایا اورپھر چارپائی پر بٹھا کر دلہن کو گھر تک لے جایا گیا۔ ولیمہ والے دن بھی بارش متواتر جاری تھی۔ ایسے میں کھانا بنانے کیلئے محلے کی ایک جگہ پر کپڑے کا سائبان باندھ کر کھانا پکایا گیا تھا۔ محلے میں پانی بھرجانے سے کھانا کھلانے میں بھی کافی دشواری ہوئی تھی۔ لوگوں کو گھروں میں بٹھاکر کھانا کھلایاگیاتھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK