Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میرے استاذ نے کہا تھا کہ کاروبارخدمت خلق کیلئے ہو، نہ کہ صرف منافع کیلئے‘‘

Updated: March 29, 2026, 7:33 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

نل بازار اور کرلا میں کئی سال گزارنے کے بعد ۷۵؍ سالہ حکیم الدین عبداللہ اجین والا گزشتہ ۵؍سال سے ناسک میں مقیم ہیں۔ ادبی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا شوق پہلے سے تھا جو آج بھی برقرار ہے۔ بوہر ہ سماج کی متعدد سماجی اور ملّی اداروں سے وابستہ ہیں۔

Hakimuddin Abdullah Ujjainwala. Photo: INN
حکیم الدین عبداللہ اُجین والا۔ تصویر: آئی این این

ناسک کے سانکلی روڈ پر مقیم ۷۵؍سالہ حکیم الدین عبداللہ اُجین والا کی پیدائش یکم ستمبر ۱۹۴۹ء کو اُجین میں ہوئی تھی۔ اُجین کے طیبی اُردوہائی اسکول سے ساتویں جماعت تک پڑھائی کی۔ ان کے والدباٹا کمپنی میں برسرکار تھے، اسلئے وقفے وقفے سے ان کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ اسی درمیان ان کا اُجین سے محب پور تبادلہ ہو گیا تو حکیم الدین کو پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ بعداز یں ۱۹۶۸ء میں والدین کے ساتھ ممبئی منتقل ہوئے۔ اس دوران کچھ مالی مشکلات کا بھی سامنا ہوا جس کی وجہ سے ان کا نام کسی ’ڈے اسکول‘ کے بجائے محمدعلی روڈ پر واقع ڈھولکا والا نائٹ اسکول میں لکھوایا گیا۔ والد کا ہاتھ بٹانے کیلئے دن کے اوقات میں نل بازار پر واقع بامبو شاہ سرمہ والا کی دکان پر ملازمت کرلی۔ نائٹ اسکول سے ۹؍ویں جماعت تک پڑھائی کی۔ نامساعد گھریلو حالات کی وجہ سے آگے کی پڑھائی نہیں کرسکے۔ 
بامبو شاہ سرمہ والا دکان کے مالک نور محمد بھائی ادب نواز آدمی تھے۔ انہیں اخبار ورسائل کے مطالعہ کا بڑا شوق تھا۔ اسی وجہ سے روزنامہ انقلاب، اُردو ٹائمز، ہفتہ روزہ اُردو بلٹز اور نشیمن کے علاوہ ماہنامہ کہکشاں، بیسویں صدی، شمع اور دیگر جریدے پابندی سےدکان پر آتے تھے۔ ان اخبارات اور رسائل کے مطالعہ سے حکیم الدین کو اپنی اُردو اچھی کرنے میں بڑی مدد ملی جو آج بھی بہت کام آتی ہے۔ یہاں ۳۔ ۲؍ سال ملازمت کرنے کےبعد کرلا منتقل ہونا پڑا۔ وہاں پہلے ایک گلاس فیکٹری میں ملازمت کی اور بعد میں ریڈی میڈ نائٹی، میکسی اور بوہری برقعہ کا اپنا کاروبار کیا۔ ۷۰؍سال کی عمر تک کاروبار سے وابستہ رہے۔ بیٹوں کے مشورہ پر عملی زندگی سے سبکدوشی اختیار کرلی۔ فی الحال گزشتہ ۵؍سال سے ناسک میں مقیم ہیں۔ ادبی، سماجی اور ملّی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا شوق پہلے سے تھا جو آج بھی برقرار ہے۔ بوہر ہ سماج کی متعدد سماجی اور ملّی اداروں سے وابستہ ہیں ۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’چاند رات کو دف بجاتا اور خوشی کے گیت گاتا ایک گروپ محلے میں نکلتا تھا‘‘

طیبی اُردوہائی اسکول کے اُن ۵؍اساتذہ کو حکیم الدین آج بھی نہیں بھولے ہیں جنہوں نے ان کی تعلیم و تربیت میں کلیدی رول نبھا یا ہے۔ ہیڈ ماسٹر عباس بھائی میواوالا، فخرالدین بھائی مخلص، عنایت حسین پینٹر، حیدری صاحب اور حکیم الدین چائے والا۔ اسکول کاخیال آتے ہی یہ چہرے ذہن پر ابھر آتےہیں۔ یہ اساتذہ بولتےکم تھے لیکن ان کی شخصیت کا اثر بہت زیادہ تھا۔ یہاں اعلیٰ درجہ کی پڑھائی ہوتی تھی، آج کی یونیورسٹی پر اس وقت کی یہ اسکول بھاری تھی۔ مخلص سر بچوں سے کہتے تھے کہ آپ لوگ ابھی چھوٹے ہو، بڑے ہو کر آپ لوگ بڑے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے جائیں گے جہاں بڑے استاذاور پروفیسر ہوں گے، لیکن آپ لوگ ہمیں مت بھول جانا۔ ان کی یہ بات حکیم الدین کے ذہن پر آج بھی نقش ہے۔ وہ جب کبھی اُجین جاتے ہیں ، اپنے اساتذہ سے ملاقات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تقریباً ۵؍ سال قبل وہ اُجین گئے تھے۔ اس دوران ایک روز بازار سے گزرتے وقت ایک دکان پر چائے والا سرپر اُن کی نظر پڑی۔ انہیں دیکھتے ہی وہ سواری سے اُتر کر ان سے ملاقات کیلئے پہنچ گئے۔ انہیں اپنا نام بتایا۔ طالب علمی کے دور کی کچھ باتیں یاد دلائیں لیکن ضعیفی کی وجہ سے بینائی اور قوت سماعت متاثر ہونے کے سبب چائے والاسر کسی بات کا جواب نہیں دےسکے، لیکن ان کی باتیں سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رہے اور کچھ باتیں انہیں یاد بھی آئیں۔ یہ ملاقات کافی اچھی رہی۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے تقریباً ۵۰؍سال بعد ملنے پر بہت مسرور تھے۔ 
حکیم الدین ۷۵۔ ۱۹۷۴ء میں محرم کی مجلس کے تعلق سے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پاٹن، جھالاواڑ گئے تھے۔ وہاں جن کے گھر قیام تھا، وہ سیاسی طور پر سرگرم تھے۔ اس دوران الیکشن مہم میں حصہ لینے کیلئے اُس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی آئی ہوئی تھیں ۔ ان کا بہت بڑا جلسہ ہونے والا تھا۔ میزبان کی دعوت پر انہیں بھی اس جلسے میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ وہ اسٹیج کے بالکل قریب بیٹھے تھےجہاں انہیں اندراگاندھی کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا تھا۔ اندرا گاندھی نے اس موقع پر ملک کے اتحاد اور سالمیت پر سیر حاصل گفتگو کی تھی۔ اندرا گاندھی کی باتوں کےساتھ ہی وہ پورا منظر میرے ذہن پر نقش ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: میرے دادا مرغ پالتے، انہیں بادام، پستہ کھلاتے اور مرغوں کے مقابلوں میں لڑاتے تھے

۱۹۹۲ء میں حکیم الدین ریڈی میڈ نائٹی اور میکسی وغیرہ کا کارووبار کرتے تھے۔ اتوار ۶؍دسمبر، کو بابری مسجد کی شہادت ہوئی تھی۔ پیر ۷؍ دسمبر سے شہرومضافات میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا تھا۔ سنیچر ۵؍دسمبر کو حکیم الدین نے کرلا سے دھاراوی، ایک ٹیمپوکپڑا سلائی کیلئے سعید ماسٹر کے کارخانے پہنچایا تھا۔ فساد کی وجہ سے پورے شہر میں بدامنی پھیلی ہوئی تھی۔ لوٹ مار، تشدد، آتشزنی، خون خرابے کا بازار گرم تھا۔ تقریباً ایک مہینے تک کرفیو نافذ ہونے کی وجہ سے جو جہاں تھا وہیں پھنساتھا۔ ایسے میں سعید ماسٹر کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی ان کے مال کاکچھ پتہ چلا۔ ایک مہینے بعد حالات میں نرمی آنے اور کرفیو میں چھوٹ ملنے پر، حکیم الدین، گھاٹ کوپر کے اپنے گاہک سراج بھائی کے ہمراہ سعید بھائی کے کارخانے پہنچے۔ وہاں دیکھا کہ پورا کارخانہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ سلائی مشینوں کےآہنی پائیدان کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا۔ سعید بھائی وہاں مایوس بیٹھے دکھائی دیئے۔ حالات دیکھ کر سارا ماجرہ سمجھ میں آچکا تھا۔ حکیم الدین اور سراج بھائی، سعید بھائی کو کارخانے سے قریب کی ایک ہوٹل میں لے گئے۔ وہاں چائے وغیرہ پی۔ سعیدبھائی نے پوری کیفیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حالات ہیں، دیکھ لیں ۔ ان کی روداد سن کر احساس ہوگیا تھا کہ یہاں سےکچھ نہیں ملناہے۔ انہیں اور ان کے حالات کو دیکھ کرکافی رحم آیا۔ ایسے میں ان سے کچھ لینے کے بجائے، ان کی کچھ مدد بھی کرنی پڑی، لیکن کیا عالم بے بسی تھی، آج بھی یاد ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے واقعات اور مناظر سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔ 
حکیم الدین کو بچپن ہی سے شعرو ادب کاشوق رہا۔ طالب علمی کے دور میں فضل شکاری نامی ایک ادیب وشاعر ان کے استادتھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ حکیم الدین سے کہا تھاکہ زندگی میں ایسا ہی کاروبار کرنا جس میں خدمت خلق شامل ہو لیکن کوئی خدمت ایسی نہ کرنا جس میں کاروبار ہو۔ ان کی یہ بات حکیم الدین کے دل وذہن میں گھر کرگئی ہے۔ انہوں نے پوری زندگی اس بات کا خیال رکھا۔ کبھی کسی کے ساتھ غلط نہیں کیا، یہ اور بات ہے کہ دوسروں سے انہیں ضرور دھوکہ ملا ہے۔ ایک مرتبہ فضل شکاری سے ملاقات کے دوران حکیم الدین کی زبان سے اپنے شراکت دار سے متعلق کچھ غلط باتیں زبان سے نکل گئیں، جس پر فضل شکاری نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ کچھ دیر پہلے آپ نے انہیں اپنا شراکت دار اور دوست کہا تھا۔ دوست کیلئے جان بھی دے دی جائے تو کم ہے، یہ تو دنیا داری کی باتیں ہیں، لہٰذا یوں چلتے پھرتے اپنے دوست کی شکایت نہ کیا کریں ۔ یہ بات انہوں نے ممبئی لوٹ کر اپنے اسی دوست کے سامنے بیان کی، جس سے ان کا دوست بہت متاثر ہوا۔ اس واقعہ سے حکیم الدین کی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں رونماہوئی تھیں۔ وہ اپنے استاذ کی بروقت رہنمائی کی بڑی قدر کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK