• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی ووٹرس کو رشوت اور ہندوستان کی تعلیمی زبوں حالی اخبارات کا موضوع رہی

Updated: September 29, 2026, 9:47 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

عالمی منظرنامے میں تیزی سے بدلتےحالات اورسنگین انسانی بحرانوں کے درمیان دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا جانا ایک اہم اور قابلِ توجہ پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

A five-story building operating as a private hostel in a densely populated area of ​​Delhi collapsed recently, resulting in the deaths of seven students. Photo: INN
گزشتہ دنوں دہلی کی ایک گنجان بستی میں نجی ہاسٹل کے طور پر چلنے والی ۵؍ منزلہ عمارت گر گئی تھی جس میں ۷؍ طلبہ ہلاک ہوئے تھے۔ تصویر: آئی این این

عالمی منظرنامے میں تیزی سے بدلتےحالات اورسنگین انسانی بحرانوں کے درمیان دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا جانا ایک اہم اور قابلِ توجہ پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ غیر اردو اخبارات نے اپنے اداریوں میں اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئےاسے درست قدم قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ووٹروں میں رقم تقسیم کرنے کے اعلان پر بھی مختلف اخبارات نے اداریوں کے ذریعے اس پالیسی کے سیاسی مضمرات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ادھر ہندوستان میں تعلیمی نظام کی زبوں حالی اور سرکاری اسکولوں کی ابتر صورتحال بھی غیر اردو اخبارات کےاداریوں کا موضوع بنی، جنہوں نے اسے محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اہم انتخابی موضوع بنانے پر زور دیا ہے۔ اسی کے ساتھ دہلی کے حالیہ سانحے کے تناظر میں طلبہ کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اخبارات نے واضح کیا ہے کہ طلبہ کیلئے محفوظ ماحول، مناسب رہائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ 
علامتی تجارتی پابندیاں محض زبانی جمع خرچ ہیں 
لوک ستہ( مراٹھی، ۱۰؍ستمبر)
’’برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت تقریباً ۱۲؍ مغربی ممالک کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے اور اسرائیل کے خونخوار عزائم کو کھل کر نسل کشی قرار دینے کا حالیہ فیصلہ سفارتی دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی صہیونی جارحیت نے معصوم شہریوں کا خون بہایا، مغرب کا ضمیر مصلحت کے پردوں میں روپوش رہا۔ ایسے ماحول میں جہاں واشنگٹن کی اندھی سرپرستی نے تل ابیب کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ چند اہم مغربی دارالحکومتوں کا نیتن یاہو کی ہوسِ اقتدار اور خوں ریزی کے خلاف یہ دو ٹوک مؤقف بلاشبہ دیر آید مگر درست اقدام دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر برطانوی پارلیمنٹ میں صہیونی دراندازی اور ریاستی دہشت گردی پر ہونے والی گرفت نے طویل عرصے سے جاری اس منافقت پر کاری ضرب لگائی ہےجس کے تحت قابض کو ہمیشہ مظلوم بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ تاہم اس اقدام کا تنقیدی جائزہ لیاجائے تو یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ کیا یہ پابندیاں اتنی جامع اور مؤثر ہیں کہ نیتن یاہو کی جنگی مشین کو روک سکیں ؟حقیقت یہ ہے کہ تجارت پر لگائی جانے والی موجودہ پابندیاں صرف مقبوضہ علاقوں تک محدود ہیں جبکہ خود اسرائیل کی مجموعی معیشت اور اسے حاصل عسکری معاونت کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جب تک یورپی یونین اور کینیڈا تل ابیب کے ساتھ دفاعی معاہدے، انٹیلی جنس تعاون اور ہتھیاروں کی باقاعدہ ترسیل مکمل طور پر معطل نہیں کرتے تب تک ایسی علامتی تجارتی پابندیاں محض زبانی جمع خرچ اور اپنے عوام کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش ہی سمجھی جائیں گی۔ ۷۰؍ ہزار سے زائدفلسطینیوں کی لاشوں جن میں اکثریت معصوم عورتوں اور بچوں کی ہے پر کھڑے ہو کر محض محدود بائیکاٹ کا اعلان کرنا خود مغربی اخلاقیات کے کھوکھلے پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عالمی طاقتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ محض چند بستیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا نہیں بلکہ ایک پوری قوم کو اپنی ہی سرزمین پر قیدی اور بے دخل بنا دیے جانے کا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے بیشتر اخبارات نے موہن بھاگوت کی تقریر اور جی ڈی پی کو موضوع بنایا

ووٹروں کو رشوت اب امریکہ میں بھی
لوک مت( مراٹھی، ۱۱؍ستمبر)
’’یہ وقت ایسا ہے کہ ہندوستان کے کئی سیاسی لیڈر فخرسے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے سکتے ہیں۔ بشرطیکہ مونچھیں ہوں تو! دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت کے سربراہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب باقاعدہ طور پر ہندوستانی سیاستدانوں کے انتخابی اسکول میں داخلہ لے چکے ہیں۔ ووٹروں کو خوش کرنے اور ضرورت پڑنے پر براہِ راست نقد رقم بانٹنے کے ہندوستانی سیاست کے گُر انہوں نے کسی لائق شاگرد کی طرح سیکھ لیے ہیں۔ ہم ہندوستان کو’وشو گرو‘بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں مگر ٹرمپ نے کم از کم انتخابات کے معاملے میں ہندوستان سے یہ گُرو منتر لےلیا معلوم ہوتا ہے۔ ووٹروں کو مفت کی چیزیں بانٹنے اور انتخابات کے عین موقع پر ان کے ہاتھوں میں نقد رقم تھمانے کا یہ سلسلہ تمل ناڈو کی سیاست سے شروع ہوا تھا۔ رفتہ رفتہ اس نے ہندوستان کی تقریباً ہر ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اب بحر اوقیانوس پار کرکے یہ حربہ سیدھا امریکہ پہنچ چکا ہے۔ رواں برس نومبر میں امریکی کانگریس کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ صدر کی چار سالہ مدت کے عین درمیان ہونے والے ان انتخابات کو مڈ ٹرم انتخابات کہا جاتا ہے۔ یہ انتخابات امریکی صدر کیلئے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت ہو تو حکومت اپنی مرضی کے مطابق چلانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف کافی نیچے گرا ہے۔ ایسے میں ووٹرس کو اپنی جانب مائل کرنے کیلئے ٹرمپ کو کوئی بڑاپانسہ پلٹنا ہی تھا۔ ‘‘
تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کے اثرات
نوبھارت( ہندی، ۱۱؍ستمبر)
’’ملک کی کئی ریاستوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت زار انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ متعدد اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں جبکہ کئی اسکول ایسے ہیں جن کے دروازے اور کھڑکیاں تک غائب ہیں۔ کلاس روم میں بدبو پھیلی رہتی ہے۔ اسکول کے احاطوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہیں اور کئی اسکولوں میں بیت الخلا تک کی سہولت میسر نہیں۔ ایسی ابتر صورتحال میں بھی طلبہ کو ان اسکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کرنی پڑ رہی ہے۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، بہار اور کرناٹک کے اسکولوں سے سامنے آنے والے ویڈیوز نے اسکولی تعلیم کی زبوں حالی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اب تک انتخابات ذات پات، مذہب اور امن و امان جیسے مسائل پر لڑے جاتے رہے ہیں لیکن ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات میں تعلیم ہی بنیادی اور اہم انتخابی موضوع بننے جا رہا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اسکول ٹھیک کرو مہم شروع کی ہے اور طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اسکولوں کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے’پاٹھ شالا پکارے‘ مہم کا آغاز کیا ہے جس کے تحت پارٹی کارکنان نے بند کئے گئے اسکولوں کی عمارتوں کے سامنے دھرنے دینا شروع کر دیئے ہیں۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ پسماندہ طبقات، دلتوں اور مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان طبقات کے بچوں کیلئے سرکاری اسکول ہی تعلیم کاواحد ذریعہ ہیں کیونکہ سرکاری اسکولوں میں کم خرچ پر تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم سرکاری اسکول بند کیے جا رہے ہیں یا انہیں دوسرے اسکولوں میں ضم کیا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ غریب طلبہ کو پڑھنے کیلئے اپنے گھروں سے بہت دور واقع اسکولوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم کا مسئلہ معاشرے کے تمام طبقات سے جڑا ہوا ہے۔ اگر معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سرکاری اسکولوں کے نظام کو سدھارنا ہوگا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے تعلیمی اصلاحات کا جو مطالبہ زور و شور سے اٹھایا ہے اس کے اثرات آنے والے اسمبلی انتخابات میں نمایاں نظر آئیں گے۔ ‘‘
ایسے میں دہلی کیسے قومی تعلیمی مرکز بن سکے گا؟ 
دی ہندو( انگریزی، ۹؍ستمبر)
’’دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس سے متصل ایک گنجان آباد بستی میں نجی ہاسٹل کے طور پر چلنے والی پانچ منزلہ عمارت کے گرنے سےجس میں ۷؍ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے دارالحکومت کے رہائشی علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات اور طلبہ کیلئے سستے مکانات کی کمی جیسے مسائل کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ہر سال دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے ۷۰؍ ہزار سے زائد طلبہ اور ان میں سے تقریباً نصف کو محدود بجٹ کے مطابق رہائش کی ضرورت کے پیش نظر یہ شہر بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یونیورسٹی نے زمین کی کمی کا عذر پیش کرتے ہوئے عملی طور پر خود کو بری الذمہ کرلیا ہے جس کے باعث نجی کاروباری عناصر کے لیے منافع کمانے اور غیر منظم پےئنگ گیسٹ یا نجی ہاسٹل چلانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ایک ایسے نظام میں جہاں ہر اضافی بستر کا مطلب زیادہ آمدنی ہوتا ہے، ماچس کی ڈبیا نما کمرےجو اکثر ایسی عمارتوں میں واقع ہوتے ہیں جو بلڈنگ فائر سیفٹی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور جن میں ہوا کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ دارالحکومت پہنچتے ہی ملک کے مختلف حصوں سے آئے طلبہ کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ وہ اس شہر میں رہنے کی قیمت صرف پیسوں کی شکل میں نہیں بلکہ اپنے تحفظ اور ذہنی سکون کی قربانی دے کر ادا کر رہے ہیں۔ دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس شہر کو ایک قومی تعلیمی مرکز بنانا چاہتی ہے اور اپنے نوجوانوں کی فکری طاقت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے لیکن یہ طلبہ کیلئے سستی اور محفوظ رہائش کی ضرورت کو پورا کیے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ دہلی حکومت نے میونسپل ادارے کے ۵؍افسران کو معطل کر دیا ہے، تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ ایک سخت پالیسی لانے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت عوامی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والی ہر عمارت کا وقتاً فوقتاً اسٹکچرل آڈٹ اور حفاظتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ تاہم حکومت کو ان وقتی ردعمل پر مبنی اقدامات سے آگے بڑھ کر مزید پائیدار حل تلاش کرنے چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK