بائیکلہ میں مقیم ۹۱؍سالہ حسن عبدالرحمٰن دلوی کا رتنا گیری کے چھوٹے سے گاؤں سے ممبئی تک کا سفر کئی اتار چڑھاؤ سے پر ہے، وہ اپنے چچا کو نہیں بھولتے جوقطرمیں برسر روزگار تھے اور وہاں سے اُن کی تعلیم کیلئے پابندی سے ۵۰؍ روپے جو اس وقت اچھی خاصی رقم ہوا کرتی تھی بھیجتے تھے۔
حسن عبدالرحمٰن دلوی بائیکلہ، لکی کمپائونڈ میں مقیم ہیں۔ تصویر: آئی این این
بائیکلہ، لکی کمپائونڈ میں مقیم ۹۱؍ سالہ حسن عبدالرحمٰن دلوی نے ۲۸؍ نومبر ۱۹۳۲ء کوضلع رتنا گیری، تعلقہ گوہاگھر کے پنہالی گائوں میں آنکھیں کھولیں ۔ ابتدائی تعلیم پنہالی کے ضلع پریشد اسکول سے حاصل کی۔ ساتویں کے بعد آگے کی پڑھائی داپولی تعلقہ کے ہائی اسکول سے مکمل کی۔ نامساعد گھریلو حالات کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ کم عمری میں روزگار کی تلاش میں ممبئی منتقل ہوئے۔ یہاں آکر گرگائوں کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں ٹائپنگ سیکھی، بعدازیں مہالکشمی پر واقع یونائٹیڈ گیراج میں بحیثیت کلرک ملازمت اختیار کی۔ محنت اور لگن سے آگے بڑھتے گئے۔ ۱۳؍ سال تک وہیں ملازم رہے۔ گیراج لائن کی ساری معلومات اور تجربہ حاصل کرنے کےبعد ملازمت چھوڑ کر ۱۹۶۷ء میں اسی علاقہ میں فیمس آٹو گیراج کے نام سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ کاروبار روز بروز بڑھتا گیا۔ کاروبار کو آگے بڑھانے کیلئے سرمایہ کی ضرورت بھی بڑھتی گئی۔ سرمایہ نہ ہونے سے کام کرنے میں آنے والی مشکلات کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ پا رہے تھے۔ ایسے میں ایک دن ایک ایجنٹ اپنی موٹر گاڑی بنوانے کیلئے آیا، دوران گفتگو اس نے سعودی عرب کی جنرل موٹر ایجنسی میں ملازمت کی پیشکش کی۔ حسن دلوی کے ہامی بھرنے پر اس نے ضروری کارروائی پوری کر کے انہیں سعودی عرب بھیج دیا، جہاں انہوں نے ۱۹۸۴ء تک ملازمت کی۔ وہاں سے لوٹنے کے بعدنوی ممبئی میں ایک رشتے دار کی کمپنی سے وابستہ ہوگئے ۔ ۲۰۰۰ء میں عارضہ قلب کی شکایت ہونے پر عملی زندگی سے علاحدگی اختیا رکرلی۔ گزشتہ ۲۵؍سال سے گھر پر ہی رہ رہے ہیں ۔ گھریلو مصروفیات کےساتھ نماز اور عبادت میں وقت گزرتا ہے۔ پیرانہ سالی کے باوجود فعال اور چاق وچوبند ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اداکار دھرمیندر کو سلائی میں کچھ کمی نظر آئی تو انہوں نے وہ شرٹ مجھے دے دی‘‘
بچپن میں کھوتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ ان کے والد عبدالرحمٰن گھر کیلئے مچھلی کا شکار کرنے گائوں کی ندی پر گئے ہوئے تھے۔ اس دوران مچھلی کا کانٹا غلطی سے ان کے بائیں پیر پر اس شدت کے ساتھ لگاکہ وہ وہیں بے ہوش ہوگئے۔ گائوں کا ایک شخص انہیں اٹھا کر ندی سے گھر لےجارہا تھا اورتھک جانےکچھ دیر کیلئےا سی اسکول کے پاس انہیں زمین پر لیٹا دیا جس میں حسن دلوی پڑھتے تھے۔ لوگ جمع ہوگئے، ان میں حسن دلوی بھیتھے۔ دلوی نے جب دیکھا کہ جس بے ہوش شخص کو لٹایا گیا ہے وہ ان کے والد ہیں تو وہ گھبرا گئے اور بری طرح رونے لگے۔ ان کے سامنے ہی اُس آدمی نے اپنے دانت سے ان کے والد کے پیر میں دھنسے کانٹے کو نکالا اور پھر کاندھے پر اُٹھا کر گھر پہنچایا۔ زخم کا علاج کرایا گیالیکن افاقہ نہیں ہوا، پیر سوجتا چلا گیا۔ انفیکشن پھیل گیا تھا، بہتر علاج کیلئے ممبئی لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے پیر کو کاٹنے کا مشورہ دیا۔ گھر والوں نے پیر کاٹنے سےمنع کر دیا اور واپس گائوں لے گئے۔ وہاں ایک وید کو دکھایاگیا۔ اس نے کہا، زہرپیر میں پھیل چکا ہے، لیکن چند ٹوٹکے اور دوا سے علاج ممکن ہے۔ اس نے علاج شروع کیا اور مہینے بھر میں حیرت انگیز طو رپر وہ پوری طرح صحتمند ہوگئے۔
حسن دلوی اپنے چاچا قاسم دلوی کو نہیں بھولتے جنہوں نے ان کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی تھی۔ وہ ٹیچر تھے اور قطر میں برسر روزگار تھے۔ داپولی میں پڑھائی کے دوران حسن دلوی ایک ہوسٹل نما عمارت میں رہتے تھے۔ وہیں کھانے پینے کا انتظام تھا، جس کا ماہانہ خرچ ۵۰؍ روپے، چچاقاسم ہر مہینے قطر سے بھیجا کرتے تھے۔ اتنا ہی نہیں حسن دلوی کے وا لد کی مالی کسمپرسی کی وجہ سے ان کے گھر کاماہانہ خرچ ۷۵؍ روپے بھی وہی بھیجتے تھے۔ حسن دلوی ۵۰؍روپے میں سے ہر مہینے ۱۲۔ ۱۰؍ روپے بچا لیتے تھے۔ چھٹیوں میں جب وہ گھرآتے تو بچی ہوئی ۶۰۔ ۵۰؍ روپے کی رقم اپنی ماں کے ہاتھوں میں رکھ دیتے ۔ ماں کہتیں ، بیٹا یہ رقم کیوں بچا کر لا ئے ہو تو حسن دلوی کہتے : ماں ، میں تجھے پریشان نہیں دیکھ سکتا ، اس لئے کھانے پینے کی ضروریات کے بعد جو رقم بچ جاتی ہے، اسے بچاکر لاتا ہوں تاکہ وہ رقم تیرے کام آسکے۔ بیٹے کی اس فکر سے ماں اس پر سرشار ہو جاتی تھیں۔ حسن دلوی کا مانناہے کہ اگر چاچانے مدد نہ کی ہوتی تو ہم آج جس لائق بھی ہیں وہ کبھی نہیں ہو پاتے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’گاؤں سے ممبئی آنے والوں کوچھوڑنے کیلئے پورا گاؤں جمع ہو جاتا تھا‘‘
جوانی کے دنوں کےبارے میں گفتگو کرتےہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ مرین لائنس پر واقع بامبے اسپتال کے قریب لبرٹی تھیٹر میں فلم دیکھنے کیلئے ٹکٹ کی قطار میں کھڑے تھے، اچانک شور اُٹھا، دلیپ کمار، دلیپ کمار۔ شورسن کرحسن دلوی بھی قطار چھوڑ کر بھیڑ کے ساتھ بامبے اسپتال کی جانب دوڑے۔ دلیپ کمار کسی کی عیادت کیلئے آئے تھے۔ ان کی ایک جھلک پانے کیلئے اسپتال میں زیرعلاج مریض بھی اپنے اپنے بستر چھوڑ کر ان کی طرف دوڑ آئے۔ حسن دلوی بتاتے ہیں کہ پہلی مرتبہ دلیپ کمار کو بڑے قریب سے دیکھا تھا، کچھ ایسے کھوئے کہ پھر فلم دیکھنا یاد نہ رہا اور بغیر دیکھے گھر لوٹ آئے۔
حسن دلوی نے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور اندارگاندھی کو الگ الگ وقتوں میں قریب سے دیکھا ہے۔ جواہر لعل نہروممبئی کے دورے پر آئے ہوئےتھے۔ ان کا قافلہ حاجی علی روڈ سے گزر رہا تھا۔ وہ اپنی گاڑی سے ان کے استقبال کیلئے سڑکوں پر کھڑے افراد کو ہاتھ دکھاتے ہوئے گزر رہے تھے۔ ان میں حسن دلوی بھی شامل تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ اندراگاندھی کو شیواجی پارک، دادر میں دیکھنے اور سننے کا موقع ملا تھا۔ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اندراگاندھی بڑی اچھی مقرر تھیں ، انہیں سننے کیلئے لوگ دور دراز علاقوں سے شیواجی پار ک پر جمع ہوئے تھے۔ حسن دلوی بھی انہیں سننے کیلئے مقررہ وقت سے کئی گھنٹے پہلے شیواجی پارک پہنچ گئے تھے۔
حسن دلوی نے بتایا کہ ۸۔ ۷؍ سال کے رہے ہوں گے جب ایک دن پیر میں کسی کیڑے نے کاٹ لیا، تڑپنے لگے، آواز سن کر ماں دوڑی ہوئی آئیں، پوچھا کیا ہوا، انہوں نے پیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی چیز نے کاٹ لیا ہے، ماں نے فوراً ادھر اُدھر دیکھا۔ فرش پر بچھو دکھائی دیا، وہ سمجھ گئیں، انہوں نے پہلے بچھو کو مارا، پھربیٹے کے پیر سے بچھو کاڈنک نکالا۔ اتنی دیر میں پیر نیلا پڑ گیا تھا لیکن گھریلو نسخے سے علاج کیاگیا اور ٹھیک بھی ہوگیا۔
حسن دلوی کے گھر کے قریب ان کے خاندان کا ہاپوس آموں کا ۲۰-۲۵؍درختوں کا باغ تھا۔ موسم میں ان درختوں پر ہونے والے آم سے ان کے گھر کا ۴؍ مہینوں کو خرچ نکل آتا تھا۔ اس لئے رتناگیری کے بیشتر گھروں کے احاطوں میں آم کا درخت ضرور ملے گا۔ لوگ آم کے درخت کی بڑی پابندی سے دیکھ بھال کرتےہیں کیونکہ برے وقت میں ان درختوں سے پیدا ہونے والے آم ان کی مالی مدد کرتے ہیں ۔ حسن دلوی نے چیچک کی وباء اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ پورے گائوں میں چیچک کی وباء پھیلی تھی لوگ ایک دوسرے سے ملنے سے کتراتے تھے۔ ڈر وخوف سے گھروں میں رہتے تھے۔ چیچک متاثرین کے علاج کیلئے گائوں میں کیمپ لگایا جاتا تھا لیکن لوگ ڈر کے مارے کیمپ میں جانے سے گریز کرتے تھے۔
آج کی مہنگائی کا حوالہ دیکر یاد کرتے ہیں کہ اُس دور میں بڑی سستائی تھی۔ ۲؍روپے میں ۱۵؍لیٹر کا کنسٹربھر کرمٹی کا تیل ملتا تھا، جس سے گیس جلایا جاتا تھا۔ اس وقت روشنی کیلئے گیس کا ہی استعمال ہوتا تھا۔ ۱۰۰ ؍ روپے میں آسانی سے ایک مہینے کاگھریلو خرچ پورا ہو جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دور میں پیسہ کم تھا لیکن محبت اور ہمدردی زیادہ تھی آج پیسہ زیادہ ہے لیکن محبت اوربھائی چاہ ختم ہوگیا ہے۔