Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اداکار دھرمیندر کو سلائی میں کچھ کمی نظر آئی تو انہوں نے وہ شرٹ مجھے دے دی‘‘

Updated: May 24, 2026, 5:26 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

مدنپورہ کے ۷۸؍سالہ محمد حسین بچپن ہی سے کپڑوں کی سلائی کے کام سے وابستہ رہے ہیں جہاں ان کی ملاقات فلمی فنکاروں سے بھی ہوتی رہی ہے، ابتدائی دنوں میں جہاں وہ کام سیکھتے تھے، وہاں دھرمیندر، رحمان اور پران جیسے بڑے فنکار بھی اپنے کپڑے سلواتے تھے۔

Muhammad Hussain became Mian. Photo: INN
محمد حسین بنے میاں۔تصویر: آئی این این

بدلورنگاری اسٹریٹ کے معروف سماجی کارکن محمد حسین بنےّ میاں کی پیدائش ۳؍ مارچ ۱۹۴۸ءکو ہوئی تھی۔ سائوٹر اسٹریٹ میونسپل اُردو اسکول سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی۔ بدقسمتی سے اسی دوران والدین کی رحلت ہوگئی جس کی وجہ سے آگے کی پڑھائی نہیں کرسکے۔ ناگفتہ بہ مالی حالت کی وجہ سے چھوٹی عمر سے محنت کی۔ سب سے پہلے ڈونگری میں واقع ایک ریڈی میڈ گارمنٹ کےکارخانے میں تقریباً ۱۲؍ سال ملازمت کی۔ اس دوران سلائی کا ہنر سیکھا، بعدازیں جینس کپڑوں کی سلائی کے شوق کی وجہ سے ناگپاڑہ پر واقع نیسکو ٹیلر س کی دکان پر ملازمت کی۔ یہاں ۴۔ ۳؍ سال میں پینٹ، شرٹ اور دیگر ملبوسات کی سلائی بھی سیکھ لی۔ درزی کے کام کی پوری مہارت حاصل کر کے ناگپاڑہ پر ہی کرسٹل ٹیلرس کے نام سے ۱۹۷۴ء میں اپنی دکان شروع کی جو آج بھی کامیابی سے جاری ہے لیکن اب اس کی باگ ڈور ان کے فرزند نے سنبھال لی ہے۔ ۲؍سا ل قبل ایک حادثے میں زخمی ہونے سے صاحب فراش ہیں۔ عملی زندگی کے علاوہ سماجی، سیاسی، طبی اور تعلیمی خدمات کا طویل تجربہ رکھتے ہیں ۔ بدلوپورہ کے ینگ سوشل سرکل چیئرٹیبل ڈسپنسری سے گزشتہ ۵۰؍سال سے زیادہ عرصہ سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ مفید الیتمیٰ اور حلقہ احباب جیسے اداروں کیلئے بھی اپنی گراں خدمات پیش کی ہیں۔ مسلم لیگ سے ایک مرتبہ کارپوریشن الیکشن میں قسمت آزماچکےہیں۔ کارپوریٹر خواجہ غلام احمد جیلانی اور زین الدین موٹروالاکے علاوہ سماجی اور تعلیمی کارکن یاسین انصاری، ابوبکر بخشی، صوفی عبدالرحمان انصاری، ایڈوکیٹ حیدر خان پٹھان اور فتح محمد انصاری وغیرہ کی سرپرستی اور رہنمائی نے محمد حسین کو ایک کامیاب سماجی کارکن بنانےمیں مدد کی۔ 

یہ بھی پڑھئے : ’نیٹ‘ پیپر لیک سے لے کر بے روزگاری تک: مودی سرکار کی کارگزاری کے۱۲؍ سال کا جائزہ

مذکورہ ادارے کے ذریعے ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائی میں غریب اسکولی بچوں کو بیاض، ان کی فیس اور داخلے کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ادارہ کے ذمہ داران اور چند مخلصین سے عطیہ جمع کر کے تقریباً ۱۰۰؍ غریب بچوں کو بیاض تقسیم کی جاتی تھی۔ ان میں مدنپورہ کاعظیم نامی ایک بچہ تھا، جو پتھروالی اسکول میں پڑھتا تھا۔ اس نے بڑی محنت سے پڑھائی کی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے وہ ملازمت کیلئے امریکہ گیا اور آج بھی وہیں مستقل طور پر رہائش پزیر ہے۔ امریکہ سے ایک مرتبہ وہ ممبئی آیا تھا۔ اس نے محمد حسین اور ان کے رفقاء سے ادارےمیں آکر ملاقات کی ۔ ان سب کو یاد دلایا تھا کہ میں نے آپ کے ادارے سے بیاض لے کر پڑھائی کی تھی۔ آپ لوگوں نے اس وقت مدد نہ کی ہوتی تو میرے لئے پڑھنا مشکل ہوتا۔ آپ لوگوں کاشکریہ ادا کرنے آیا ہوں ۔ اس کے اظہار ِ تشکر سے محمد حسین اور ان کے ساتھی بہت متاثر ہوئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے : حج سے متعلق ناقص انتظامات کا الزام، کہیں کوئی سازش تو نہیں؟

محمد حسین کو فٹ بال کھیلنے کا شوق تھا لیکن فٹ بال کھیلنے کیلئے درکار لوازمات کا انتظام نہ ہونے سے وہ ان کے ساتھی، انقلاب کے اسپورٹس رپورٹر غلام بھائی سے رابطہ کرتے تھے۔ غلام بھائی ان لوگوں کی ہر طرح مدد کرتے تھے۔ ان کیلئے بال، جوتے اوریونیفارم کا انتظام کرتے تھے، انہیں کوپریج گرائونڈ میں ہونے والے فٹ بال کے بڑے میچ دکھانے کیلئےلے جاتے تھے۔ وہ مدنپورہ اور اطراف کے نوجوانوں اور بچوں میں فٹ بال کے فروغ کیلئے ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کیلئے تیار رہتے تھے۔ 

محمد حسین کو فلم دیکھنے کا بھی بڑا شوق تھا۔ بچپن میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ہر جمعہ کو پلے ہائوس پر واقع تاج، الفریڈ، رائل، نیوروشن اور گلش تھیٹروں میں فلم دیکھنے جاتے تھے۔ اس دورمیں ان سنیما گھروں میں بچوں اور خواتین کیلئے ٹکٹ کے علاحدہ کائونٹر ہوا کرتے تھے۔ اس لئے بڑی آسانی سے ٹکٹ مل جایا کرتی تھی۔ ٹکٹ کی قیمت بھی بہت کم تھی۔ پانچ آنے میں ہال کے سب سے آگے والے حصےمیں، پلاٹ پر بیٹھ کر فلم دیکھنے کا ایک الگ تجربہ ہوتا تھا۔ 

ینگ سوشل سرکل چیئرٹیبل ڈسپنسری کے تحت محمد حسین اور ان کے رفقاء نے اس دور میں گلی محلے میں ہونےوالی شادیوں میں بطور والینٹر بھی خدمات پیش کی ہیں ۔ جن کے گھروں میں شادی ہوتی تھی، وہ ادارے میں آکر نکاح والے دن مہمانوں کی ضیافت وغیرہ کا انتظام کرنے میں مدد کرنے کی درخواست کرتے تھے۔ شادی والے دن محمد حسین ۱۲۔ ۱۰؍ ممبران کے ساتھ ادارے کا بیج لگا کر پہنچ جاتے تھے۔ مہمانوں کی ضیافت کا سارا انتظام کرتے تھے۔ کھانا کھلانے کے علاوہ پلیٹ اُٹھانے اور کھانا لگانے کا کام ان کا گروپ انجام دیتا تھا۔ سارے مہمانوں اور گھر والوں کو کھانا کھلانے کے بعد ان کا گروپ کھانا کھاتا تھا۔ بعض مرتبہ کھانا کم پڑ جانے پر ان کاگروپ کھانا کھائے بغیر لوٹ جاتا تھا لیکن اس کا ذکر کبھی زبان پر نہیں آتا۔ یہ اس دورکی ایک خوبصو رت روایت تھی۔ 

بدلورنگاری اسٹریٹ میں اس دور میں زیادہ تر لوگ ملوں میں کام کرتے تھے۔ پہلی شفٹ کی ڈیوٹی کر کےگھر لوٹنے والے اکثر محلے کی فٹ پاتھ پر متعدد جگہوں پرچٹائی بچھا کر شطرنج اور تعلیمی تاش کھیلا کرتے تھے۔ چائے پانی کا دور چلتا تھا۔ شام ۵۔ ۴؍بجے سے رات ۹؍بجے تک فٹ پاتھ پرشور وغل ہوتا۔ محمد حسین بھی ان کھیلوں سے محظوظ ہوتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے : معاشیانہ:سلیبریٹی آئی وی تھیراپی بڑھا رہی ہے ’’ڈِرِپ کلچر‘‘ کی چمک

محمدحسین کو معروف فلم اداکار دلیپ کمار سے مختلف پروگراموں میں ۳؍مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ وہ دلیپ کمار کی شخصیت سے بہت متاثرہیں ۔ ان کاماننا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے دلیپ کمار کو خوبصورتی عطا کرنے کے ساتھ ہی گفتگو کرنے کی جو خوبی عطاکی تھی، وہ ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی ہے۔ وہ اپنے اندازِ بیاں سے لوگوں کا دل جیت لینے کا ہنر خوب جانتے تھے۔ لوگ انہیں سننے کیلئے دور دور سے آتے تھے۔ دلیپ کمار کے علاوہ فلم اداکار مقری سے بھی ان کی ملاقات ہوچکی ہے۔ 

۱۹۷۰ء میں بھیونڈی میں ہونےوالے فرقہ وارانہ فساد کےمتاثرین کی مدد کیلئے ممبئی سے ریلیف پہنچانے والوں میں کارپوریٹر زین الدین موٹروالا اور خواجہ غلام جیلانی وغیرہ کے ساتھ محمد حسین بھی شریک تھے۔ بھیونڈی میں فساد کے دوران آگ زنی، خون خرابے، لوٹ مار اور تشدد کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ متاثرین میں ریلیف کاسامان تقسیم کرنے کے علاوہ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کیلئے بھی زین الدین موٹر والا اپنے ساتھ ناشتے کی پیکٹ رکھتے تھے۔ وہ پولیس والوں کو بھی ناشتے کی پیکٹ تقسیم کرتے تھے جس کی وجہ سے پولیس والے انہیں پہچاننے لگے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک مقام پر شرپسندوں کے گھیرے میں آنے پر پولیس نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو شرپسندوں سے بچاکر باہر نکالنے میں مدد کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے : اس ہفتے اخبارات نے ’نیٹ پیپر لیک‘ اور مودی کے مشوروں پر تنقید کو موضوع بنایا

ایک مرتبہ اندراگاندھی ممبئی دورے پر آئی تھیں۔ ان کیلئے سرجے جے روڈ پر ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ محمد حسین منتظمین میں شامل تھے، اسلئے انہیں اندراگاندھی سے اسٹیج پر مصافحہ کرنے کا موقع ملا تھا۔ جلسہ میں اندرا گاندھی نے پارٹی کو مضبو ط بنانے کا خاص پیغام دیا تھا۔

محمدحسین کو سلائی کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد چوپاٹی پر واقع معروف چراغ دین ٹیلر کے ہاں بھی کچھ مہینے کام سیکھنے کاموقع ملا تھا۔ وہاں بڑے اور امیر لوگوں کے علاوہ فلم اداکار رحمان، دھرمیندر اورپران بھی کپڑے سلانے کیلئے اکثر آتے تھے۔ ان تینوں اداکار وں کو کپڑے سلانے کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ دھرمیندر کی ایک شرٹ میں کچھ کمی رہ گئی تھی تو انہوں نے وہ شرٹ ماسٹر کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ میری یہ شرٹ اس بچے ( محمد حسین ) کو دے دو، اورمحمدحسین سے کہا تھا کہ اسے درست کراکر پہن لینا۔ محمدحسین نے اس شرٹ کو درست کراکر کافی دنوں تک پہنا تھا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK