کورونا وائرس کا بڑھتا دائرہ اور ہماری سرد مہری

Updated: November 22, 2020, 5:40 AM IST | Dr Mushtaque Ahmed

اس وبا سے نجات پانے کیلئے سماجی تحریک کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ اب کورونا کے نام پر سیاست کم ہو اور عوام کی جانیں بچانے کیلئے ٹھوس اقدام اٹھائیں جائیں جیسا کہ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے تاثرات بیان کئے ہیں کہ حکومت صرف دکھاوے کیلئے نہیں بلکہ عوام کی جان بچانے کیلئے متحرک ہو

Surat Market - Pic : PTI
سبزی مارکیٹ، سورت ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ملک کی دارالسلطنت دہلی میں جس طرح کورونا کا دائرہ روز بروز بڑھتا جارہاہے اور انسانی اموات میں اضافے ہو رہے ہیں، اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ملک میں کورونا جیسی جان لیوا بیماری سے ابھی ہمیں نجات ملنے والی نہیں ہے۔ لاکھ دعوؤں کے باوجود اب تک اس وبا کی دوا نہیں بن پائی ہے اور مختلف بین الاقوامی دوا کمپنیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کے ذریعہ تجربے ہی کئے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی دوا بنائی گئی ہے لیکن اس کا استعمال ابھی نہیں ہو رہاہے کیوں کہ یہ دوا بھی تک تجربے کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دوا کب تک تجربہ گاہوں سے نکل کر عوام الناس کیلئے راحت کا سامان بنتی ہے۔
  گزشتہ کل دہلی ہائی کورٹ نے حکومتِ دہلی کی جس طرح سے سرزنش کی ہے، اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ دہلی حکومت جس طرح کورونا کی جانچ اور اس کے علاج کے انتظامات کا دعویٰ کر رہی تھی، وہ کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں پر یومیہ اموات کی شرح میں اضافہ ہی ہو رہاہے ۔ دہلی حکومت اموات کی شرح میں اضافے کیلئے سب سے بڑی وجہیں عوام کی لاپروائی اور ماسک کے استعمال سے گریز کوقرار دے رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کے آغاز کے وقت جس طرح کے خوف کا ماحول تھا اس میں اب کافی حد تک کمی آگئی ہے،اس کی وجہ سے اب بازاروںمیں عام دنوںجیسی بھیڑ بھی نظرآنے لگی ہے۔
  حال ہی میں بہارمیں اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں۔اس دوران  عوامی جلسوں میں جو نظارہ دیکھنے کو ملا، اس سے یہ اندازہ ہوا کہ اب لوگ کورونا سے کتنے لا پروا ہو چکے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور اس کیلئے دوا بھی دستیاب نہیں ہے، ایسی صورت میں اس کے مضراثرات نمایاں ہوں گے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ حکومت صرف قانون بنا سکتی ہے اور اس کے عمل کیلئے ٹھوس لائحہ عمل تیار کر سکتی ہے لیکن جب تک عوام الناس اس قانون کو قبول نہیں کرتے اور اس پر ایماندارانہ عمل نہیں کرتے، اس وقت تک اس قانونی اقدام کے خاطر خواہ فائدے نہیں ہو سکتے۔ اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتاکہ کسی بھی سرکاری احکامات کے نفاذ کیلئے عوام کو ذہنی طورپر تیار کرنا بھی ضروری ہے اور اس کیلئے صرف قانونی ڈنڈے سے کام نہیں ہو سکتا بلکہ ماضی کے اسباق یہ بتاتے ہیں کہ قانونی نفاذ میں سماجی کارکنوں اور مذہبی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ رضا کار تنظیموں کی پہل سے مفادِعامہ کے قانون کا نفاذ ممکن ہوا ہے اور اس کے مثبت نتائج بر آمد ہوئے ہیں جس سے معاشرے کو نہ صرف راحت نصیب ہوئی ہے بلکہ ایک نئی جہت بھی عطا ہوئی ہے۔
 یاد کیجئے کہ ہمارے ملک میں ایک وقت ایسا تھا کہ بیوائیں چتائوںپہ جلائی جاتی تھیں ، انگریزی حکومت نے اس کیلئے قانون بھی بنا رکھے تھے لیکن اس کے باوجود اس سماجی بیماری کا خاتمہ نہیں ہو رہا تھا لیکن راجا رام موہن رائے نے ایک سماجی تحریک چلا کر اس کا خاتمہ کیا۔ اسی طرح ہمارے ملک میں کم عمری کی شادی قانونی جرم ہے لیکن اس کے باوجود اس پر قابونہیں پایا گیا جب تک کہ سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنمائوںنے اس کیلئے باقاعدہ تحریک نہیں شروع کی۔ اب شاذ ونادر ہی کم عمر ی میں شادی کی خبریں ملتی ہیں ۔ ہمارے ملک میں جہیز مخالف قانون موجود ہے لیکن جہیز جیسی لعنت میں کمی نہیں ہو رہی ہے کیوں کہ اس کیلئے جس شدت کے ساتھ سماجی تحریک چلائی جانی چاہئے، وہ نہیں چلائی جا سکی۔ بالخصوص مذہبی رہنمائوں نے اس لعنت کے خلاف مورچہ نہیں کھولا اور رضا کار تنظیموں نے بھی محض خانہ پری ہی کو اپنا فریضہ سمجھ رکھا ہے۔نتیجہ ہے کہ جہیز جیسی لعنت پر ہم قابو نہیں پا سکے۔ مذہب اسلام جہاں جہیز کا تصور بھی نہیں تھا،اس مذہب کے ماننے والوں کے اندر بھی یہ لعنت دخیل ہے اور اسلامی معاشرے کیلئے ناسور بن چکا ہے ۔ 
 بہر کیف!دہلی حکومت نے اب ماسک نہ لگانے والے کیلئے جرمانے کی رقم پانچ سو روپے سے بڑھا کر دو ہزار کردیا ہے۔ اب تک پورے ملک میں اربوںروپے جرمانے کی رقم وصولی جا چکی ہے، اس کے باوجود۸۰؍ فیصد افراد ماسک لگانے کے تئیں سنجیدہ نظرنہیں آ رہے ہیں ۔ بازاروں میں دیکھئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ کتنے لا پروا ہیں۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون بنانے یا جرمانے کی رقم وصولنے سے زیادہ سماجی بیداری کو اہمیت دیں اور رضا کار تنظیموں کو بھی چاہئے کہ وہ قومی سطح پر ماسک لگانے کی مہم کو تیز کریںکیوں کہ جرمانے کی رقم بڑھانے سے خوف کا ماحول تو پیدا ہو سکتا ہے لیکن کار آمد ثابت نہیں ہو سکتاکیو ں کہ ہر جگہ انتظامیہ کے لوگ موجود نہیں ہوں گے کہ وہ جرمانے کی رقم وصولتے رہیں۔
  اس لئے ضروری یہ ہے کہ تمام تر سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک میں کورونا کے زور کو کم کرنے کیلئے سماجی تحریک چلائی جائے۔ ہمارے ملک کے سیکنڈری اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک طلبہ کی تنظیمیں ہیں ، این سی سی اور این ایس ایس کے کیڈر ہیں اور ملک میں لاکھوں رضا کار تنظیمیں رجسٹرڈ ہیں ، اگر یہ سبھی مل کر ماسک کی پابندی کی مہم کو تیز کریں اور کووڈ۔۱۹؍کے اصول وضابطے کو عملی طورپر اپنانے کی تحریک چلائیں تو ممکن ہے کہ اس عالمی وبا سے ہم جلد نجات پا سکیںمگر سچائی یہ ہے کہ صرف کاغذی طورپر کووڈ۔۱۹؍کے ضابطوں کی خانہ پُری ہو رہی ہے ۔ نتیجہ ہے کہ تعلیمی اور سرکاری اداروں میںبھی ماسک کی پابندی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
  گزشتہ کل ہی ہریانہ کے ایک اسکول میں تین درجن سے زائد طلبا وطالبات کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ وہاں بھی بے احتیاطی ہوئی ہے، اسلئے اس وبا سے نجات پانے کیلئے سماجی تحریک کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ اب کورونا کے نام پر سیاست کم ہو اور ملک کے عوام کی جانیں بچانے کیلئے ٹھوس اقدام اٹھائیں جائیں۔ جیسا کہ دہلی ہائی کورٹ کے عزت مآب جج صاحبان نے دہلی حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے تاثرات بیان کئے ہیں کہ حکومت صرف دکھاوے کیلئے نہیں بلکہ عوام کی جان بچانے کیلئے متحرک ہو۔جج صاحبان کا تبصرہ صرف اور صرف دہلی حکومت کیلئے ہی تنبیہ نہیں ہے بلکہ دیگرریاستوں کے سربراہوں کیلئے بھی ہے اور ہمارے سیاست دانوں کیلئے بھی، کیوں کہ حالیہ دنوں میں جہاں کہیں بھی سیاسی جلسے ہو رہے ہیں وہاں کووڈ۔۱۹؍کے اصول وضابطے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
  اگر ہمارے سیاسی  لیڈروں کے ذریعہ یہ پیغام دیا جانے لگے کہ کسی بھی سیاسی جلسے میں جھنڈے، بینر ، پوسٹر سے زیادہ توجہ ماسک پر دی جائے اور شرکاء کیلئے ماسک کی پابندی ضروری قرار دی جائے تو ممکن ہے کہ کورونا کے زور کو روکا جا سکے کیوں کہ آنے والے دنوں میں مغربی بنگال میں بھی انتخابی عمل شروع ہونے والا ہے بلکہ اس کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں ۔ ایسی صورت میں کورونا کے قہر کو روکنے کیلئے صرف جرمانے کی رقم وصولنے سے کہیں زیادہ سماجی اور مذہبی تنظیموں کو فعال بنانے کی جد وجہد کرنی ہوگی کہ سماجی بیداری سے ہی اس لا علاج وباء سے نجات کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ محض نعرے بازی سے نہیں کہ گزشتہ چھ ماہ سے کورونا کے قہر نے ہمارے ملک کی معیشت کو کس قدر اثر انداز کیا ہے اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔اگر سنجیدگی سے اس پر عمل نہیں کیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج کیلئے ہم سب کو تیار رہنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK