کیا مودی کے مکافات کا عمل شروع ہوگیا؟

Updated: November 25, 2021, 5:25 PM IST | Khalid Shaikh

کسانوں نے ثابت کردیا کہ اگر عدم تشدد تحریک سے آزادی حاصل کی جاسکتی ہے تو پرامن مزاحمت سے ایک آمرو جابر کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کیاجاسکتا ہے۔حکومت نے قوانین تو واپس لے لئے،دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں کتنی مخلص ہے۔

Narendra Modi.Picture:INN
وزیر اعظم مودی ۔ تصویر: آئی این این

زرعی  قوانین کے خلاف پُرامن آندولن کررہے کسانوں کے عزم مصّمم کو دیکھتے ہوئے ہم نے ۳؍ دسمبر ۲۰۲۰ء کو اپنے مضمون کا  عنوان دیا تھا ’ حکومت  جھک سکتی ہے ، جھکانے والا  چاہئے ۔‘ آندولن کے تقریباً  سال  بھر بعد کسانوں کی محنت اور قربانیاں رنگ لائیں۔ ۱۹؍  نومبر کو گرونانک کے جنم دن پر مودی نے زرعی قوانین  کو رد کرنے کا عندیہ ظاہر کیا۔دیش واسیوں سے معافی مانگی اور کسانوں سے گھر لوٹنے اور کھیتی باڑی میں جُٹ جانے کی اپیل کی۔ اعلان کی ٹائمنگ اور حالات پر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ اس کے پیچھے سیاسی مقصد کارفرما تھا ۔ بنگال الیکشن میں شکست اورحالیہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی مایوس کُن کارکردگی ، بیروزگاری ، مہنگائی ، کووڈسے نمٹنے میں مجرمانہ غفلت اور تباہ کن بدنظمی ، مہاجر مزدوروں کی حالت زار اور اموات کے تئیں سرد مہری، کسانوں کی اموات اور لکھیم پور سانحہ پر پُراسرار  خاموشی،  سانحہ کے کلیدی ملزم آشیش مشرا جو مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے ہیں، اس کی گرفتاری میں قصداً تاخیر وہ واقعات ہیں جنہوں نے پورے ملک کو غم وغصے میں مبتلا کردیا۔ ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مود ی کا جادو بے اثر   اور عوام پر  ان کی گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے جس کا اثر اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات پر پڑنا لازمی ہے۔  مودی نے اعلان کے لئے گرونانک کے جنم دن کا انتخاب اس لئے کیا کہ آندولن کا  ہر اول دستہ   سِکھ برادران پر مشتمل تھا جن کا  پنجاب میں غلبہ ہے۔ دوسرے  نمبر پر جاٹ برادر تھے جن کا طوطی مغربی یوپی میں بولتا ہے۔ اسی علاقے سے مودی کے لئے ایک بُری خبر یہ ہے کہ آرایل ڈی جسے بی جے پی شیشے میں اتارنا چاہتی تھی ، اس کے چیف جینت چودھری نے اکھلیش یادو سے ہاتھ ملالیا ہے ۔ پنجاب میں بی جے پی کا زیادہ اثر نہیں ۔ وہاں  اُس کی دلچسپی اکالی دل کے لیڈروں کو منانے میں تھی جنہوںنے زرعی  قوانین پر این ڈی اے سے علاحدگی اختیار کرلی تھی لیکن یہاں بھی اسے ناکامی ہاتھ آئی  ۔ مختصر یہ کہ مودی نے اپنے غیر متوقع اعلان سے جوامیدیں وابستہ کی تھیں ان میں انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
 جہاں تک کسانوں کا تعلق ہے انہوںنے اعلان کا خیر مقدم کیا لیکن  وہ آندولن جاری رکھنے پر مصر ہیں کیونکہ انہیں مودی  پر بھروسہ نہیں جو  دعوے تو بڑے بڑے کرتے ہیں لیکن عمل کی کسوٹی پر کھرے نہیں اترتے۔ عوام بھی ان کی اس خصلت سے واقف ہیں اس لئے وہ ان کی بڑہانکنے کی عادت کو ’ جملہ‘ پر محمول کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے مودی کے معتمد خاص اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے کیا جب  انہوںنے مودی کے دعوے کو کہ بیرونِ  ملک جمع کالے دھن کی واپسی پر ہر شہری کے اکاؤنٹ میں ۱۵؍لاکھ جمع کیاجائے گا،  امیت شاہ نے اُسے  انتخابی جملہ قراردیا تب سے یہ لفظ  مودی کے ساتھ نتھّی ہوگیا ہے۔تحویل اراضی قانون  واپس لینے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب مودی نے پسپائی اختیارکی جو ان جیسے خودبیں  اور خود سر کے مزاج اور فطرت کے خلاف ہے۔ لکھیم پور سانحہ کے بعد کسانوں کے مطالبات میں ایک اور کا اضافہ ہوگیا ہے، وہ کلیدی ملزم کے والد مرکزی  وزیر اجے مشرا کو حکومت  سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔
  زرعی اصلاحات کی ضرور ت ایک طویل عرصے سے محسوس کی جارہی تھی لیکن کسی بھی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔ کسانوں کا ایک بڑا مسئلہ ایم ایس پی کا ہے وہ اسے قانونی شکل دینا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اپنی پیداوار کی صحیح قیمت ملے اوریہ اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنی پیداوار جسے بیچنا چاہیں ، بیچیں ۔ قوانین میں ان کا  ذکر ندارد ہے اور جو کچھ کہا گیا ہے اس سے کسانوں میں بے چینی ہے۔ انہیں شک ہے کہ حکومت منڈی سسٹم ختم کرکے انہیں کارپوریٹ سیکٹر کے رحم وکرم پر چھوڑنا چاہتی ہے۔ حکومت کی بدنیتی تو اس وقت  ظاہر ہوگئی  جب اس نے پارلیمانی پروٹوکول کو نظرانداز کرتے ہوئے قوانین کو آرڈیننس کی شکل دی،  ہنگامہ اٹھنے پر بلوں کی شکل میں پارلیمنٹ میں پیش کیا اور اپوزیشن کے اعتراضات کے باوجود ، بغیر کسی بحث ومباحثے اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کرنے کے غالب اکثریت کے بَل پر بلوں کو پاس کیا۔  ایسا ہی کچھ قوانین کی  واپسی پر دیکھنے کو ملا۔ مودی نے کیبینٹ کو اعتماد  میں لئے بغیر اپنے طور پر اُن کی واپسی کا اعلان کیا۔ یہ مودی کا اسٹائل ہے۔ حکومت ’وَن مَین شو‘ بن کر رہ گئی ہے۔ نظم حکمرانی کے جملہ حقوق واختیارات مودی نے اپنے اور پی ایم او کے نام کرلئے ہیں۔ کیبینٹ کا وجود نمائشی ہوکر رہ گیا ہے۔ کسی وزیر یا لیڈر میں مودی کے خلاف بولنے کی جرأت  نہیں ۔ ایسا کرنے والوں کو جلد یا بدیر باہر کا راستہ دکھادیا جاتا ہے۔ ویسے جھوٹ ، فریب ، بلند بانگ دعووں اور اپوزیشن لیڈروں کو حقیر سمجھنے کی بیماری مودی تک محدود نہیں۔ یہ دنیا کے ہر دائیں بازو کے حکمرانوں میں پائی جاتی ہے۔ خواہ وہ برطانیہ کے بورس جانسن ہوں ، فرانس کے میکرون ہوں یا امریکہ کے ڈونالڈ ٹرمپ ۔ جمہوری طریقے سے عوام کے ووٹوں پر چُنے گئے ان لیڈروں کا رویہ آمرانہ رہا ہے۔  قوانین کی واپسی سے مودی کی فیصلہ کن  ، مضبوط اور نونان سنس قیادت کا بھرم ٹوٹ گیا۔ ہمیں نہیں معلوم ان کے بھکتوں پر کیا گزری  لیکن   یہ واضح ہوگیا کہ اقتدار کی لالچ میں بی جے پی لیڈر کچھ بھی کرگزرنے کو تیار رہتے ہیں ۔ اگر اگلے سال الیکشن نہ ہوتے تو یقین مانئے کہ قوانین کی  واپسی نہ ہوتی ۔ کسانوں نے ثابت کردیا کہ اگر عدم تشدد تحریک سے آزادی حاصل کی جاسکتی ہے تو پرامن مزاحمت  سے ایک آمرو جابر کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کیاجاسکتا ہے۔ حکومت نے قوانین تو واپس لے لئے،دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں کتنی  مخلص ہے۔ ایک ایسے وقت جب گوڈسے کے پجاری اسے ہیرو اور گاندھی کو ولن بناکر پیش کررہے ہیں، متنازع بیانات سے سرخیوں میں رہنے والی فلم ایکٹریس  جس نے  مجاہدین آزادی کی  قربانیوں سے ملی آزادی کو ’ بھیک‘ اور مودی کے دَور کو اصل آزادی سے تعبیر کیا۔  ان سب  کے لئے کسانوں کی تحریک ایک زناٹے دار طمانچہ ہے  جس کی گونج دُور تک سنائی دے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK