فکر ِ صحت اور عمومی رجحان

Updated: April 02, 2022, 11:37 AM IST | Mumbai

 ہالی ووڈ کی فلم ’’ڈائی ہارڈ‘‘ کے ذریعہ ایکشن اسٹار کی شناخت قائم کرنے والے بروس ولیز کی عمر ۶۷؍ سال اور جسمانی صحت اچھی ہے مگر انہوں نے اداکاری کی دُنیا کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ہالی ووڈ کی فلم ’’ڈائی ہارڈ‘‘ کے ذریعہ ایکشن اسٹار کی شناخت قائم کرنے والے بروس ولیز کی عمر ۶۷؍ سال اور جسمانی صحت اچھی ہے مگر انہوں نے اداکاری کی دُنیا کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ یہ اعلان گزشتہ بدھ کو ہوا۔ اس اعلان کی وجہ اُنہیں لاحق ایک ایسا دماغی عارضہ ہے جس میں انسان جو کہنا چاہتا ہے وہ نہیں کہہ پاتا۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ نصف جملہ بول کر رہ جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کی زبان سے ایسا جملہ برآمد ہوتا ہے جو بڑی حد تک بے معنی ہوتا ہے۔ اس کی زبان سے انجانے الفاظ بھی برآمد ہوتے ہیں۔ اس کے مخاطب اُس سے جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ اُسے بھی نہیں سمجھ پاتا۔ لکھتا ہے تو ایسے جملے لکھتا چلا جاتا ہے جنہیں سمجھنا یا اُن سے کوئی مفہوم اخذ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسے ’’لینگویج ڈِس آرڈر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس کیلئے جو طبی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے وہ ’’اِفیزیا‘‘ (Aphasia) ہے۔  پوری دُنیا میں افیزیا کے مریضوں کی خاصی تعداد ہے۔ امریکہ کی نیشنل افیزیا اسوسی ایشن (این اے اے) کے مطابق امریکہ میں اس کے ۲؍ لاکھ مریض ہیں۔ کناڈا میں ایک لاکھ مریض بتائے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں ہر ۲۴۰؍ میں سے ایک شخص کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی اطلاع ہے۔ چونکہ یہ تعداد، بہت سی دیگر بیماریوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے اس لئے کبھی اس پر توجہ نہیں دی گئی مگر بروس ولیز کے یکلخت سبکدوش ہونے کی خبر نے اسے عالمی شہرت عطا کردی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین دنوں میں دُنیا بھر کے اخبارات و جرائد میں اس کی تفصیل شائع کی گئی کہ یہ بیماری کیا ہے، کیوں ہوتی ہے، اس کے مریض کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور ایسے مریض کا علاج کس حد تک ممکن ہے۔اس کالم میں ہم افیزیا کے تعلق سے مزید کچھ بتائے بغیر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایسے دور میں ہر شخص کو اپنی صحت کی پہلے سے زیادہ فکر کرنی چاہئے جب پوری دُنیا ابھی ابھی کورونا کی دہشت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 
 کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہے۔ کہتے تو سب ہیں مگر صحت کی فکر کتنے لوگ کرتے ہیں؟ اکثریت اُنہی لوگوں کی ہے جو ڈاکٹر کی ہدایت پر بحالت مجبوری ایسا کرتے ہیں۔ صحت سے متعلق عالمی سطح پر مشہور جریدہ ’’لانسیٹ‘‘ کے ایک مطالعے میں، جو ۸؍ جون ۲۰۱۵ء کو جاری کیا گیا، کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر، مکمل صحتمند کہلانے کے قابل لوگوں کی تعداد محض پانچ فیصد ہے۔ ۹۵؍ فیصد لوگ کسی نہ کسی عارضے میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ ان میں ایک تہائی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو بیک وقت پانچ عوارض سے نبرد آزما ہیں۔ بادی النظر میں، یہ مطالعہ ڈرانے والا محسوس ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ۹۵؍ فیصد لوگ صحتمند اور صرف ۵؍ فیصد عدم صحت ہوتے ہیں مگر اس مطالعہ کو جھٹلانے کی جرأت نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہمارے پاس دلائل نہیں ہیں۔ تاہم یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں مبالغہ ہے۔ یہ احساس بھی شاید اس لئے ہو کہ ہم اُسی شخص کو بیمار سمجھتے ہیں جو بستر علالت پر ہو یا جسے اپنی بیماری سے نمٹنے کیلئے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ دواؤں پر انحصار کرنا پڑتا ہو۔ ہم اُن لوگوں کو بیمار نہیں مانتے جو کسی بیماری کے قریب پہنچ چکے ہیں یا بیماری کے آدھمکنے کے باوجود اس کی علامات کو نظر انداز کرتے ہیں۔  ایسے لوگوں کو اپنی فکر کرنی چاہئے کہ پانی سر سے اونچا ہوجانے کے بعد مطب خانوں پر دستک دینے یا ایک کے بعد دوسرا معائنہ کروانے اور لاکھوں روپے خرچ کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کہ ابتدائی مرحلے میں خبردار ہولیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK