• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہِ رمضان المبارک: گناہوں کو بخشوانے کا زرین موقع ہے

Updated: February 19, 2026, 7:30 PM IST | Abul Hasan Ali Hasani Nadwi | Mumbai

کسی عبادت کی خصوصیت اور اس کی مقبولیت کی دلیل یہ ہے، کہ اس کو ادائیگی سے دل کے اندر نرمی، تواضع اور انکساری کا جذبہ پیدا ہو، لیکن جب اس کے برعکس کبر و غرور پیدا ہو، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری عبادت مقبول نہیں ہوئی، اس میں کمی رہ گئی ہے، اس لئے ان چیزوں کو دور کرنے کے لئے ایمان و احتساب کو پیش نظر رکھنا اور اس کا استحضار رہنا ضروری ہے، بے سوچے سمجھے، بغیر نیت کے روزہ رکھ لینا، کوئی اور عبادت ادا کرنا بے معنی ہے۔

The reason for the uniqueness and popularity of any act of worship is that its performance creates a sense of humility and modesty in the heart. Photo: INN
کسی عبادت کی خصوصیت اور مقبولیت کی دلیل یہ ہے، کہ اس کی ادائیگی سے دل میں تواضع اور انکساری کا جذبہ پیدا ہو۔ تصویر: آئی این این

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہو جاؤ۔ صحابہ کرام ؓمنبر سے قریب ہو گئے۔ جب حضور ؐنے منبر کے پہلے درجہ پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا: آمین ! ، جب دوسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین ! جب تیسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین۔ جب آپ ؐ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپؐ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت جبریلؑ میرے سامنے آئے تھے (جب پہلے درجہ پر میں نے قدم رکھا تو) انہوں نے فرمایا: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مبارک مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔ میں نے کہا: آمین!، پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا کہ: ہلاک ہو جائے وہ شخص ، جو آپؐ کا ذکر مبارک ہو اور آپؐ پر درود نہ بھیجے، میں نے کہا: آمین! جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پائیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں نہ داخل ہو جائے۔ میں نے کہا: آمین۔ 

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱): رمضان کے پہلے والا آخری سنڈے

رمضان مغفرت کا مہینہ ہے

رمضان ایسا زریں موقع ہے کہ اس میں کوشش کرے تو ایک رمضان سارے گناہ بخشوانے کے لئے کافی ہے۔ جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور یہ یقین کر کے رکھے، کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے سچے ہیں، اور وہ تمام اعمال حسنہ کا بہتر بدلہ عطا فرمائے گا جیسا کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ ’’جوشخص رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے، اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‘‘ (موطا بروایت محمد حسن شیبانی) ایمان و احتساب کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالی کے تمام وعدوں پر یقین کامل ہو، اور ہر عمل پر ثواب کی نیت کرے، اور اخلاص و للہیت اور رضائے الٰہی کا حصول پیش نظر ہو، اور ہر عمل کے وقت مرضیٔ الٰہی کو دیکھے۔ وہ ایمان و احتساب ہی ہے جو انسان کے عمل کو فرش سے عرش پر پہنچا دیتا ہے۔ اصلاً اس کا فقدان ہے، مسلمانوں کا اصل مرض بدنیتی نہیں بلکہ بے نیتی ہے، یعنی سرے سے وہ نیت ہی نہیں کرتے ، ہم وضو کرتے ہیں مگر اس میں نیت نہیں کرتے ، ہم دوسرے ارکان دین ادا کرتے ہیں مگر ایمان و احتساب ہمارے پیش نظر نہیں رہتا۔ جب بہت سے لوگ کسی کام کو کرتے ہیں تو وہ رسم بن جاتی ہے۔ روزہ کا ایک عام ماحول ہوتا ہے، ایسے میں کوئی اس اندیشہ سے روزہ رکھے کہ ہم روزہ نہ رکھیں تو چھپ کر کھانے پینے سے کیا فائدہ؟ یہ خیال آیا تو روزہ کی روح نکل گئی۔ بیماریوں میں بھی اکثر بھوکا رہنا پڑتا ہے، سفروں میں بھی اکثر کھانا نہیں ملتا، اسلئے روزہ کی خصوصیت صرف بھوکا رہنا نہیں ہے، حقیقت ِ روزہ ہے حکم ِ اِلٰہی کی تعمیل ، جو چیزیں چھوڑنے کو کہی گئی ہیں ان کو چھوڑ دینا، پہلے ہم یہ کیفیت پیدا کریں کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے، ثواب کی لو لگی ہو، اور دل کو تسلی ہو، کہ ثواب مل رہا ہے اور اسی میں لطف آئے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن کے آغاز ہی میں فرمایا گیا:جس راہ ِہدایت کے تم طلبگار ہو وہ یہی کتاب ہے

اعمال کی قبولیت ، علامات و آثار

کسی عبادت کی خصوصیت اور اس کی مقبولیت کی دلیل یہ ہے، کہ اس کو ادائیگی سے دل کے اندر نرمی ، تواضع اور انکساری کا جذبہ پیدا ہو، لیکن جب اس کے برعکس کبر و غرور پیدا ہو، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری عبادت مقبول نہیں ہوئی، اس میں کمی رہ گئی ہے، اس لئے ان چیزوں کو دور کرنے کے لئے ایمان و احتساب کو پیش نظر رکھنا اور اس کا استحضار رہنا ضروری ہے، بے سوچے سمجھے، بغیر نیت کے روزہ رکھ لینا، کوئی اور عبادت ادا کرنا بے معنی ہے۔ ایک صاحب فرمانے لگے: ’’میں اس لئے روزہ رکھتا ہوں کہ جو مزہ افطار کے وقت آتا ہے، وہ دنیا کی کسی نعمت میں نہیں‘‘ حالانکہ ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی نہیں تھا۔ ہمیں چاہئے کہ ہم دن میں کئی بار نیت کو تازہ کر لیا کریں، ہر وقت استحضار رکھیں۔ رسول اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ابن آدم کے ہر عمل پر اس کو دس سے سات سو گنا تک ثواب ملے گا، اللہ نے فرمایا: سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ (رواہ مسلم)

یہ بھی پڑھئے: ترقی کیلئے واضح منصوبہ بندی اور مستقبل کا لائحۂ عمل ناگزیر ہیں

اعمال طاقت پیدا کرتے ہیں

دوسری بات یہ ہے کہ دین کے جتنے ارکان ہیں وہ طاقت پیدا کرتے ہیں، یعنی ایک عبادت دوسری عبادت کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے، اور اس کیلئے تقویت کا باعث بنتی ہے، جس طرح سے ایک غذا دوسری غذا کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے، اس طرح ایک فرض کی ادائیگی دوسرے فرائض کی ادائیگی میں معاون ثابت ہوتی ہے اور اس کو طاقت فراہم کرتی ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ہر رکن الگ الگ ہے۔ ہر ایک کی فرضیت اور اس کی اہمیت تو بہر حال اپنی جگہ ہے مگر ایک دوسرے سے الگ نہیں: بلکہ ایک دوسرے کی مدد کیلئے ہے، اسی طرح سے روزہ سال کے پورے گیارہ مہینے کی عبادت کیلئے طاقت پیدا کرتا ہے، روزہ کی وجہ سے دوسرے عبادات کی ادائیگی میں ذوق وشوق پیدا ہوتا ہے اور توانائی ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK