Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہِ رمضان المبارک: گناہوں کو بخشوانے کا زرین موقع ہے

Updated: February 20, 2026, 4:39 PM IST | Abul Hasan Ali Hasani Nadwi | Mumbai

کسی عبادت کی خصوصیت اور اس کی مقبولیت کی دلیل یہ ہے، کہ اس کو ادائیگی سے دل کے اندر نرمی، تواضع اور انکساری کا جذبہ پیدا ہو، لیکن جب اس کے برعکس کبر و غرور پیدا ہو، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری عبادت مقبول نہیں ہوئی، اس میں کمی رہ گئی ہے، اس لئے ان چیزوں کو دور کرنے کے لئے ایمان و احتساب کو پیش نظر رکھنا اور اس کا استحضار رہنا ضروری ہے، بے سوچے سمجھے، بغیر نیت کے روزہ رکھ لینا، کوئی اور عبادت ادا کرنا بے معنی ہے۔

The reason for the uniqueness and popularity of any act of worship is that its performance creates a sense of humility and modesty in the heart. Photo: INN
کسی عبادت کی خصوصیت اور مقبولیت کی دلیل یہ ہے، کہ اس کی ادائیگی سے دل میں تواضع اور انکساری کا جذبہ پیدا ہو۔ تصویر: آئی این این

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہو جاؤ۔ صحابہ کرام ؓمنبر سے قریب ہو گئے۔ جب حضور ؐنے منبر کے پہلے درجہ پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا: آمین ! ، جب دوسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین ! جب تیسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین۔ جب آپ ؐ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپؐ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت جبریلؑ میرے سامنے آئے تھے (جب پہلے درجہ پر میں نے قدم رکھا تو) انہوں نے فرمایا: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مبارک مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔ میں نے کہا: آمین!، پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا کہ: ہلاک ہو جائے وہ شخص ، جو آپؐ کا ذکر مبارک ہو اور آپؐ پر درود نہ بھیجے، میں نے کہا: آمین! جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پائیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں نہ داخل ہو جائے۔ میں نے کہا: آمین۔ 

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱): رمضان کے پہلے والا آخری سنڈے

رمضان مغفرت کا مہینہ ہے

رمضان ایسا زریں موقع ہے کہ اس میں کوشش کرے تو ایک رمضان سارے گناہ بخشوانے کے لئے کافی ہے۔ جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور یہ یقین کر کے رکھے، کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے سچے ہیں، اور وہ تمام اعمال حسنہ کا بہتر بدلہ عطا فرمائے گا جیسا کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ ’’جوشخص رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے، اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‘‘ (موطا بروایت محمد حسن شیبانی) ایمان و احتساب کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالی کے تمام وعدوں پر یقین کامل ہو، اور ہر عمل پر ثواب کی نیت کرے، اور اخلاص و للہیت اور رضائے الٰہی کا حصول پیش نظر ہو، اور ہر عمل کے وقت مرضیٔ الٰہی کو دیکھے۔ وہ ایمان و احتساب ہی ہے جو انسان کے عمل کو فرش سے عرش پر پہنچا دیتا ہے۔ اصلاً اس کا فقدان ہے، مسلمانوں کا اصل مرض بدنیتی نہیں بلکہ بے نیتی ہے، یعنی سرے سے وہ نیت ہی نہیں کرتے ، ہم وضو کرتے ہیں مگر اس میں نیت نہیں کرتے ، ہم دوسرے ارکان دین ادا کرتے ہیں مگر ایمان و احتساب ہمارے پیش نظر نہیں رہتا۔ جب بہت سے لوگ کسی کام کو کرتے ہیں تو وہ رسم بن جاتی ہے۔ روزہ کا ایک عام ماحول ہوتا ہے، ایسے میں کوئی اس اندیشہ سے روزہ رکھے کہ ہم روزہ نہ رکھیں تو چھپ کر کھانے پینے سے کیا فائدہ؟ یہ خیال آیا تو روزہ کی روح نکل گئی۔ بیماریوں میں بھی اکثر بھوکا رہنا پڑتا ہے، سفروں میں بھی اکثر کھانا نہیں ملتا، اسلئے روزہ کی خصوصیت صرف بھوکا رہنا نہیں ہے، حقیقت ِ روزہ ہے حکم ِ اِلٰہی کی تعمیل ، جو چیزیں چھوڑنے کو کہی گئی ہیں ان کو چھوڑ دینا، پہلے ہم یہ کیفیت پیدا کریں کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے، ثواب کی لو لگی ہو، اور دل کو تسلی ہو، کہ ثواب مل رہا ہے اور اسی میں لطف آئے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن کے آغاز ہی میں فرمایا گیا:جس راہ ِہدایت کے تم طلبگار ہو وہ یہی کتاب ہے

اعمال کی قبولیت ، علامات و آثار

کسی عبادت کی خصوصیت اور اس کی مقبولیت کی دلیل یہ ہے، کہ اس کو ادائیگی سے دل کے اندر نرمی ، تواضع اور انکساری کا جذبہ پیدا ہو، لیکن جب اس کے برعکس کبر و غرور پیدا ہو، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری عبادت مقبول نہیں ہوئی، اس میں کمی رہ گئی ہے، اس لئے ان چیزوں کو دور کرنے کے لئے ایمان و احتساب کو پیش نظر رکھنا اور اس کا استحضار رہنا ضروری ہے، بے سوچے سمجھے، بغیر نیت کے روزہ رکھ لینا، کوئی اور عبادت ادا کرنا بے معنی ہے۔ ایک صاحب فرمانے لگے: ’’میں اس لئے روزہ رکھتا ہوں کہ جو مزہ افطار کے وقت آتا ہے، وہ دنیا کی کسی نعمت میں نہیں‘‘ حالانکہ ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی نہیں تھا۔ ہمیں چاہئے کہ ہم دن میں کئی بار نیت کو تازہ کر لیا کریں، ہر وقت استحضار رکھیں۔ رسول اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ابن آدم کے ہر عمل پر اس کو دس سے سات سو گنا تک ثواب ملے گا، اللہ نے فرمایا: سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ (رواہ مسلم)

یہ بھی پڑھئے: ترقی کیلئے واضح منصوبہ بندی اور مستقبل کا لائحۂ عمل ناگزیر ہیں

اعمال طاقت پیدا کرتے ہیں

دوسری بات یہ ہے کہ دین کے جتنے ارکان ہیں وہ طاقت پیدا کرتے ہیں، یعنی ایک عبادت دوسری عبادت کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے، اور اس کیلئے تقویت کا باعث بنتی ہے، جس طرح سے ایک غذا دوسری غذا کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے، اس طرح ایک فرض کی ادائیگی دوسرے فرائض کی ادائیگی میں معاون ثابت ہوتی ہے اور اس کو طاقت فراہم کرتی ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ہر رکن الگ الگ ہے۔ ہر ایک کی فرضیت اور اس کی اہمیت تو بہر حال اپنی جگہ ہے مگر ایک دوسرے سے الگ نہیں: بلکہ ایک دوسرے کی مدد کیلئے ہے، اسی طرح سے روزہ سال کے پورے گیارہ مہینے کی عبادت کیلئے طاقت پیدا کرتا ہے، روزہ کی وجہ سے دوسرے عبادات کی ادائیگی میں ذوق وشوق پیدا ہوتا ہے اور توانائی ملتی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ نفس پر قابو پایا جائے اور روزہ کی وجہ سے نفس پر قابو پانا آسان ہو جائے۔ دین کا ذوق پیدا ہو اور عبادات کی ادائیگی میں شوق ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیئے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔‘‘ (البقرہ:۱۸۳) 

ہر کام کے کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی مرضی کا خیال رکھا جائے، تقویٰ کا ترجمہ بعض لوگوں نے ’’لحاظ ‘‘سے کیا ہے، یعنی ہر کام کے کرتے وقت اس کا لحاظ رکھا جائے کہ یہ کام اللہ کی مرضی کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس طرح حلال و حرام کی تمیز ہو جائے اور یہ مشق فطرت بن جائے۔ جس طرح سے آپ عید کے دن کھانے پینے میں جھجک محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ ایک مہینے سے دن میں کھانے پینے کی عادت چھوٹ گئی تھی ، اس وجہ سے آپ کو کھانا پینا خلاف عادت معلوم ہوتا ہے، حالانکہ یہ عارضی چیز تھی، اسی طرح سے گناہوں سے اجتناب، معاصی سے پر ہیز ، غیبت و بد گوئی ، غصہ و بغض سے پر ہیز اس طرح ہو کہ آپ کی فطرت بن جائے ، جو چیزیں دائمی طور پر حرام ہیں، ان کو کرنے میں تو اور بھی زیادہ آپ کو چوکنا رہنا چاہئے۔ روزہ سے زندگی میں تبدیلی ہونی چاہئے۔ آپ روزہ رکھیں لیکن گالی دینا، غیبت کرنا ، بدگوئی ، غصہ و بغض کرنا نہ چھوڑیں، تو روزہ سے کوئی فائدہ نہیں۔روزہ میں آپ نے معاصی سے اجتناب کیا ہے، تو اس پر قائم رہئے، اور ان معاصی کا ارتکاب نہ کیجئے، جن کو آپ نے روزہ کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔ اگر روزہ کے ختم ہوتے ہی تمام معاصی میں پھر مبتلا ہو گئے، تو اس سے یہی بات سمجھ میں آئے گی کہ اس نے روزہ تو رکھا مگر روزہ مقبول نہیں ہوا، حج تو کیا مگر حج قبول نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ رسول اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا ’’جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور اس سے کوئی الجھنے لگے تو کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں۔‘‘  روزہ اس طرح سے نہ رکھے کہ غصہ میں بھرا ہوا بیٹھا رہے اور خلق خدا اس سے محض اس وجہ سے رابطہ یا گفتگو کرتے ہوئے خوف محسوس کریں۔ یہ بھی نہ ہو کہ کھانے میں ذرہ برابر نمک کی کمی ہوگئی تو غصہ کی انتہا کر دے، ان تمام معاصی سے پرہیز کرے۔ اگر روزہ کے تمام تقاضوں کا لحاظ رکھا گیا تو اس کا اثر پورے گیارہ مہینوں پر پڑے گا اور اس کی زندگی میں ایک نمایاں تبدیلی ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن کے آغاز ہی میں فرمایا گیا:جس راہ ِہدایت کے تم طلبگار ہو وہ یہی کتاب ہے

چو تھی بات یہ ہے کہ روزہ جن چیزوں سے معمور کیا گیا ہے، اس لحاظ رکھیں۔ روزہ کا یہ منشا معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا جائے۔ نہ تلاوت کی، نہ صدقہ خیرات کی ، نہ تراویح پڑھی، صرف روزہ رکھ لیا، تو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ تو بہ واستغفار کا اہتمام ہو، دعا کی طرف زیادہ توجہ ہو، آخر شب میں اہتمام سے اٹھیں کیوں کہ اس کی زیادہ اہمیت ہے، اللہ تعالی اس وقت پکارتا ہے کہ ہے کوئی میرا دوست ! جو مجھے پکارے اور میں اس کو سنوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔

اس مہینے میں خیرات و صدقات بھی زیادہ کرے۔ رسول ؐ اللہ نے اس ماہ مبارک کونیکی اور غمخواری کا مہینہ فرمایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف زیادہ توجہ ہو، اور صدقات و خیرات میں زیادہ حصہ لے، لوگوں کے حالات کا سراغ لگائے اور معلومات حاصل کرے، ان کے یہاں تحائف اور ہدایہ بھیجے۔ اللہ کے کتنے بندے ایسے ہیں، جن کو صرف روزہ افطار کرنے کے لئے مسجد میں مل جاتا ہے، پھر وہ بھوکے رہتے ہیں۔ اس لئے ایسے ضرورتمند لوگوں کا پتہ لگا کر ان کی مدد کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ اس کا بڑا ہی اہتمام فرماتے تھے۔ آپؐ کے متعلق فرمایا گیا ہے آپؐ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔ دوسرے موقع پر آتا ہے کہ طوفان کی طرح سخاوت کرتے تھے، اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، اور دل کھول کر غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کی مدد فرماتے تھے۔ (شعب الایمان البیہقی)

انسان کو سمجھنا چاہئے کہ ہماری عبادت کیا، ہم تو اللہ تعالیٰ کے لائق کچھ بھی عبادت نہیں کر سکتے ، ہم توبہ استغفار بھی اچھی طرح نہیں کر سکتے، اس لئے ہمیں بھوکوں، لاچاروں اور مسکینوں ہی کی مدد کرنی چاہئے، تا کہ ممکن ہے اللہ کے کسی بندے کا دل خوش ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اسی کو قبول فرمالے اور ہمارا مقصد پورا ہو جائے۔ ہماری عبادت، ہماری تلاوت، ہماری نماز تو لائق قبولیت نہیں لیکن اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے سے ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے۔ اس مہینے میں ہمیں پوری طرح خیرات و صدقات کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ اور ہم کمر کس لیں کہ اس مہینے سے پورا فائدہ اٹھائیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے: ’’اے خیر کے طلبگار! آگے بڑھ اور اے برائی کے طلب کرنے والے پیچھے ہو۔‘‘ دوسری جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے پوچھے گا کہ اے بندے میں بیمار تھا تو‘ نے میری عیادت نہیں کی، میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ بندہ جواباً عرض کرے گا کہ اے خداوند قدوس ! تو کیسے بیمار ہو سکتا ہے؟ تو کیسے بھوکا رہ سکتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے وہاں پاتا۔ میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، اگر تواس کو کھانا کھلاتا تو مجھے وہاں موجود پاتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: تم کمالِ نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہوں

اس لئے یہ ضروری ہے کہ جو محتاج و بیوائیں ہیں، جو فقراء ومساکین ہیں، ان کی مدد کی جائے، غریبوں کی جو لڑکیاں ہیں، ان کی شادی کرادی جائے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہم سے محاسبہ کرے گا، اور سخت باز پرس فرمائے گا۔ یہ ہمارا مال نہیں جسے ہم خرچ کرتے ہیں بلکہ یہ اللہ کی امانت ہے، ہم اگر اس کو تقریبات میں خرچ کرتے ہیں تو غلط کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK