اگر خواتین وقت کی درست منصوبہ بندی کریں، ترجیحات واضح رکھیں، عبادات کو مرکز بنائیں اور گھریلو ذمہ داریوں میں تعاون پیدا کریں تو وہ رمضان کے حقیقی فیوض و برکات حاصل کر سکتی ہیں۔
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 4:15 PM IST | Dr. Asma Rahmatulla | Mumbai
اگر خواتین وقت کی درست منصوبہ بندی کریں، ترجیحات واضح رکھیں، عبادات کو مرکز بنائیں اور گھریلو ذمہ داریوں میں تعاون پیدا کریں تو وہ رمضان کے حقیقی فیوض و برکات حاصل کر سکتی ہیں۔
رمضان میں خواتین متعدد ذمہ داریاں نبھاتی ہیں، مثلاً سحری و افطار کی تیاری، گھر کے کام، بچوں کی نگہداشت اور عبادات۔ اگر وقت کو منظم نہ کیا جائے تو تھکن اور عبادات میں کمی پیدا ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عبادات، گھریلو ذمہ داریوں اور روزمرہ امور کیلئے مخصوص وقت مقرر کرنا توازن قائم رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اس مہینے کے لئے واضح اہداف اور ترجیحات مقرر کی جائیں تاکہ عبادت اور دیگر ذمہ داریوں میں ہم آہنگی پیدا ہوسکے۔
یہ بھی پڑھئے: مِلک تھیراپی سے گھر بیٹھے پائیں شاداب اور خوبصورت جلد
رمضان کے اوقات کو منظم کرنے کے مؤثر طریقے
(۱)منصوبہ بندی اور ترجیحات کا تعین: خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنے روزمرہ کاموں، عبادات اور گھریلو ذمہ داریوں کا مکمل شیڈول تیار کریں۔
٭عبادت کے اوقات مقرر کریں
٭گھریلو کاموں کی فہرست بنائیں
٭ضروری اور غیر ضروری کاموں میں فرق کریں
تحقیق کے مطابق اگر روزانہ عبادت کے لئے مخصوص وقت مقرر کر لیا جائے تو انسان زیادہ بہتر انداز میں روحانی اہداف حاصل کرسکتا ہے۔
(۲)عبادات کی اہمیت: رمضان کا اصل مقصد اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔ خواتین کو چاہئے کہ: ٭قرآن کریم کی تلاوت کیلئے روزانہ وقت مقرر کریں ٭ذکر، دعا اور استغفار کو معمول بنائیں ٭افطار کے وقت خصوصی دعا کا اہتمام کریں
افطار کا وقت دعا کی قبولیت کے خاص اوقات میں شمار ہوتا ہے، اس لئے اس لمحے کو عبادت کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کی عین وقت کی تیاریاں؛ چند کارآمد باتیں
(۳)سحری اور افطاری کی منصوبہ بندی: خواتین کے وقت کا بڑا حصہ کھانا بنانے میں صرف ہوتا ہے، اس لئے اس میں حکمت عملی ضروری ہے۔
٭کھانے پہلے سے تیار کر کے فریز کریں
٭سادہ اور غذائیت سے بھرپور کھانے تیار کریں
٭گھر کے افراد کو کاموں میں شامل کریں
ماہرین کے مطابق کھانے کی پیشگی تیاری اور ذمہ داریوں کی تقسیم خواتین کے ذہنی دباؤ اور تھکن کو کم کرتی ہے اور عبادات کے لئے وقت فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بورڈ امتحان میں شریک اپنے چہیتوں کی مدد کرسکتے ہیں آپ، اس طرح:
(۴)توانائی کے مطابق اوقات کی تقسیم: رمضان میں جسمانی توانائی مختلف اوقات میں بدلتی رہتی ہے۔
٭فجر کے بعد کا وقت عبادت اور مطالعہ کے لئے موزوں ہوتا ہے
٭دوپہر میں ہلکے کام یا آرام کیا جا سکتا ہے
٭عصر کے بعد افطار کی تیاری کی جا سکتی ہے
ماہرین کے مطابق روزے کے دوران توانائی کے مطابق کام تقسیم کرنے سے جسمانی اور ذہنی توازن برقرار رہتا ہے۔
(۵)آرام اور صحت کا خیال: رمضان میں عبادت کے ساتھ صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
٭کم از کم ۴؍ سے ۵؍ گھنٹے کی نیند ضروری ہے
٭مختصر آرام (پاور نیپ) توانائی بحال کرتا ہے
٭متوازن غذا اور پانی کا استعمال ضروری ہے
تحقیقی رپورٹس کے مطابق مناسب آرام خواتین کو گھریلو اور روحانی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں وقت برباد کرنیوالی سرگرمیوں سے پیچھا چھڑا لیں
(۶)فضول مصروفیات سے دوری: وقت کے ضیاع سے بچنا رمضان کی کامیابی کا اہم اصول ہے۔
٭غیر ضروری خریداری اور تقریبات سے پرہیز کریں ٭سوشل میڈیا اور موبائل کا محدود استعمال کریں ٭فضول گفتگو اور اختلافات سے بچیں
علماء کے مطابق غیر ضروری سرگرمیاں انسان کو رمضان کی برکتوں سے محروم کر دیتی ہیں، اس لئے وقت کو نیکیوں میں صرف کرنا چاہئے۔
(۷)گھریلو ذمہ داریوں میں اشتراک: خواتین کیلئے ضروری ہے کہ گھر کے دیگر افراد کو ذمہ داریاں سونپیں۔ ٭بچوں کو چھوٹے کام سکھائیں ٭شوہر اور دیگر افراد کو کھانے اور صفائی میں شامل کریں ٭رمضان کو خاندانی تربیت کا موقع بنائیں
مطالعوں کے مطابق گھریلو کاموں کی تقسیم خواتین کی تھکن کم کرنے اور روحانی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بورڈ امتحانات: کامیابی کے سفر میں ماں کا روشن کردار
رمضان کا ایک مثالی شیڈول
٭سحری، تہجد اور فجر کی نماز
٭قرآن و اذکار
٭صبح گھریلو کام
٭دوپہر آرام اور عبادت
٭عصر کے بعد افطار کی تیاری
٭مغرب کے بعد خاندانی وقت
٭عشاء اور تراویح
٭رات میں دعا اور مطالعہ
یہ منظم شیڈول خواتین کو جسمانی اور روحانی توازن فراہم کرتا ہے۔
خواتین اگر اس مبارک مہینے میں اپنی ذمہ داریوں اور عبادات میں توازن قائم کر لیں تو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ پورے خاندان کا روحانی ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔