• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۱): رمضان کے پہلے والا آخری سنڈے

Updated: February 19, 2026, 2:52 PM IST | Raeesa Munwwar | Mumbai

ایک خاتون کافی دیر سے رکشا کا انتظار کررہی تھی اور کئی خالی رکشے گزرنے کے باوجود جب اُسے رکشا نہیں ملا تو کہنے لگی: پتہ نہیں کس دنیا میں یہ لوگ رکشا لے کر جائینگے جو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جس وقت یہ ڈائری لکھی جارہی تھی، یہ طے نہیں تھا کہ ماہ مبارک جمعرات کو شروع ہوگا یا جمعہ کو۔ اس کا انحصار چاند پر رہتا ہے لیکن تیاری پہلے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ خواتین پر کام کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اب بتائیے کہ جس مہینے میں زیادہ عبادت کا حکم دیا گیا ہے، اس مہینے میں خواتین پر کام بھی زیادہ رہتا ہے۔ بہت سی خواتین ایسی ہیں جنہیں کام نہیں ہوتا یا کم کم ہوتا ہے، وہ ایسے ایسے مشورے دیتی ہیں کہ سننے والی دوسری خاتون تلملا کر رہ جاتی ہے۔

اُس روز ہم لوگ بازار گئے ہوئے تھے۔ ابھی رمضان شروع نہیں ہوا تھا مگر دکانوں پر وہ بھیڑ تھی کہ خدا کی پناہ۔ کوئی ایک دکان ایسی نہیں تھی جہاں پر سکون سے کھڑا بھی ہوا جاسکے۔ ماضی میں ان دکانوں پر بیٹھنے کے لئے اسٹول ہوا کرتے تھے، اب یہ تکلف ختم کردیا گیا ہے۔ چونکہ یہ، رمضان شروع ہونے سے پہلے کا آخری اتوار تھا اس لئے ایسا لگ رہا تھا سارا شہر شاپنگ کے لئے نکل آیا ہے۔ ایک نسبتاً عمردراز خاتون نے بیٹھنے کیلئے اسٹول مانگا تو ٹکا سا جواب ملا کہ ’’خالہ اسٹول نہیں ملے گا۔‘‘ خالہ نے یہ جواب خاموشی سے سن لیا ا ور دکان کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھ گئیں جہاں ہر آنے جانے والے کا دھکا لگ رہا تھا مگر انہیں بظاہر اس کا ملال نہیں تھا کیونکہ گھر کی دیگر خواتین اندر خریداری کررہی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: آپؐ نے نیکیوں کے موسمِ بہار کا استقبال اس خطبے کے ساتھ فرمایا

ہم میں اتنی بھیڑ سے نباہ کرنے کی سکت نہیں تھی اس لئے باہر نکل آئے اور کوئی ایسی دکان دیکھنے لگے جہاں کم از کم کھڑے ہونے کی جگہ مل سکے۔ چلتے چلتے کچھ اور دکانوں میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ محمد علی روڈ، بھنڈی بازار، ناخدا محلہ، کرافورڈ مارکیٹ اور مسافر خانہ کے علاقے کی ہر دکان کا یہی حال تھا۔ بڑی مشکل سے بچوں کے کپڑے خریدے گئے لیکن پھر (روزہ نہ ہوتے ہوئے بھی، کہ رمضان شروع نہیں ہوا تھا) ہمت جواب دے گئی۔ چنانچہ جوں توں کرکے باقی کام مکمل کیا اور گھر واپس آگئے۔

واپسی میں جوگیشوری سے گزرے تو مرے پر سو درّے والی کہاوت صادق آگئی۔ رمضان شروع نہ ہونے کے باوجود ایس وی روڈ پر اتنی بھیڑ تھی کہ ایمبولنس کو بھی ہزار دشواریوں کا سامنا تھا۔ چونکہ جوگیشوری کا ویشالی نگر اب مارکیٹ کے حوالے سے کافی مشہور ہے اور یہاں بھی جنوبی ممبئی کی طرح کھانے پینے کی انواع و اقسام کی اشیاء دستیاب ہوتی ہیں اس لئے بھیڑ تو یوں بھی رہتی ہے لیکن آج اس پر ’’آخری سنڈے‘‘ کا تڑکا صاف محسوس ہورہا تھا۔ جس طرح محمد علی روڈ یا بھنڈی بازار کی طرف خریداری کیلئے آنے والے لوگ ٹیکسی نہ ملنے سے پریشان ہوتے ہیں بالکل اسی طرح جوگیشوری یا اندھیری کا رخ کرنے والوں کا بھی حال ہوتا ہے جو آٹو رکشا نہ ملنے سے تلملائے رہتے ہیں۔ ایک خاتون کافی دیر سے رکشا کا انتظار کررہی تھی اور کئی خالی رکشے گزرنے کے باوجود جب اُسے رکشا نہیں ملا تو کہنے لگی: پتہ نہیں کس دنیا میں یہ لوگ رکشا لے کر جائینگے جو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: زکوٰۃ کیلئے شریعت نے اصل معیار سونے چاندی کو قرار دیا ہے

چونکہ ’’رمضان کی خریداری‘‘ مکمل نہیں ہوئی تھی اسلئے اگلے دن مضافاتی علاقوں کے مشہور بازاروں میں جانے کا ارادہ کیا جہاں  برادرانِ وطن کی دکانیں زیادہ ہیں۔ ایک اچھی چیز یہ نظر آئی کہ دکان میں اگر کسٹمر موجود ہیں تو دکاندار بعد میں آنے والوں کو واضح لفظوں میں کہہ دیتے ہیں کہ ’’ابھی ان کا (پہلے سے آئے گاہکوں کا) پورا ہونے کے بعد ہی آپ کو اٹینڈ کرسکیں گے تب تک آپ اپنا کچھ اور کام کرنا ہو تو کرلیجئے‘‘۔ کیا زمین و آسمان کا فرق نظر آیا، کہ اکرام کی جو تعلیم ہمیں دی گئی ہے، غیر اس پر عمل کررہے ہیں۔

ممبئی میں غیرقانونی دکانوں، ہاکرس اور باکڑا والوںکے خلاف کارروائی جاری ہے  اسلئے بہت سی جگہوں پر دکانیں اس طرح لگی ہوئی ہیں کہ اگر ’گاڑی‘ آئی تو تمام اشیاء کے ساتھ محفوظ جگہ پر جانے میں آسانی رہے۔  بہرکیف رمصان کا چاند ہونے سے قبل ہی ممبئی کے تقریباً سبھی علاقوں کے بازار سج گئے اور بھیڑ بڑھ گئی۔ جس کا اوپر ذکر کیا گیا وہ رمضان کے پہلے کے آخری سنڈے کی بھیڑ تھی، اب پہلے سنڈے کی رہے گی اور پھر یہ سلسلہ چاند رات تک دراز رہے گا۔ اس کے باوجود بہت سے لوگوں کی شاپنگ ادھوری رہ جائے گی اور ۲۹؍ رمضان کو خواتین، دکاندار اور ٹیلر ۳۰؍ کے چاند کی دعا کرینگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK