تیسرا حکم روزے کی فرضیت کا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح پہلی امتوں پر فرض تھے، یہ تمام سال کے روزے نہیں ہیں بلکہ چند روز کے ہیں، اس میں بھی مریضوں اور مسافروں کو گنجائش ہے۔
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 2:54 PM IST | Molana Nadimul Wajidi | Mumbai
تیسرا حکم روزے کی فرضیت کا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح پہلی امتوں پر فرض تھے، یہ تمام سال کے روزے نہیں ہیں بلکہ چند روز کے ہیں، اس میں بھی مریضوں اور مسافروں کو گنجائش ہے۔
(پہلی تراویح: سورۂ فَاتِحَہسے سَیَقُوْلُ کے ربع تک)
سورۂ فاتحہ ہر نماز کی تمام رکعات کا لازمی حصہ ہے، یہ مختصر سورہ جسے فاتحۃ الکتاب بھی کہتے ہیں تمام نمازوں میں پڑھی جاتی ہے۔ اس میں رب العالمین کی تعریف و صفات، صرا ط مستقیم پر چلنے کی دعا کی گئی ہے اور ان راستوں سے بچنے کی بھی دعا ہے جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ مفسرین نے اسے پورے قرآن کریم کا خلاصہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترقی کیلئے واضح منصوبہ بندی اور مستقبل کا لائحۂ عمل ناگزیر ہیں
سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ ہے، اس کا آغاز ذٰلِکَ الْکِتَابُ سے ہوتا ہے، اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس راہ ہدایت کے تم طلب گار ہو وہ یہی کتاب ہے۔ اس سورہ میں بڑے اہم مضامین بیان کئے گئے ہیں، پہلے ایمان کے بنیادی اصول، توحید، رسالت اور آخرت کا اجمالی ذکر ہے، آخر میں ان عقائد کا مفصل تذکرہ ہے، درمیان میں عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاق، اصلاح ظاہر و باطن کے متعلق تفصیلی ہدایات ہیں۔
سورۂ بقرہ کا آغاز اس آیت سے کیا گیا ہے کہ اس کتاب میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں ہے، یہ کتاب متقین کے لئے رہ نما ہے، اس کے بعد بتلایا گیا ہے کہ متقین کون ہیں اور ان کی کیا صفات ہیں، یہ وہ بندے ہیں جو غیب کی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو اللہ نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، یہ تین عبادتیں ہیں،ان میں سے ایک کا تعلق دل سے ہے، دوسری کا تعلق بدن سے ہے اور تیسری کاتعلق مال سے ہے۔ یہ تینوں عبادتیں اس آیت میں جمع کردی گئی ہیں۔ اس کے بعد ان کفار کا ذکر ہے جن کے لئے کفر کا فیصلہ ہوچکا ہے، وہ ایمان کی دولت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم کردئیے گئے ہیں جیسے ابوجہل، ابو لہب وغیرہ،ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے یعنی وہ حق بات کو نہیں سمجھتے اور اُن کے کانوں پر بھی مہر لگادی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: صالحین اور صادقین کی صحبت اور نسبت انسان کے باطن کو سنوارتی ہے
کفار کے بعد منافقین کا بیان ہے۔ قرآن کریم نے منافقین کی بے راہ روی کو دو مثالوں کی روشنی میں واضح کیا ہے، پھر تمام انسانوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہوئے کفار سے کہا ہے کہ اگر تمہیں ہماری اس کتاب میں جو ہم نے نازل کی ہے ذرا بھی شک ہو تو اس جیسی کوئی ایک سورہ بنا کر لاؤ اور اس کام میں اپنے معبودان باطلہ سے یا عرب کے فصحاء وبلغاء سے مدد لے لو، اس کے باوجود اگر تم کوئی ایسی سورہ نہ بنا سکو اور یقیناً نہیں بنا سکو گے تو اللہ سے ڈرو اور دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرو۔اس کے بعد ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر ہے۔ ایمان کی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد قرآن کریم نے ایک اور بڑی نعمت کا ذکر کیا ہے، یہ نعمت تخلیق آدم علیہ السلام ہے۔حضرت آد م علیہ السلام کی تخلیق، حضرت حواء علیہما السلام کی پیدائش، ان دونوں کو جنت کے ممنوعہ درخت تک نہ جانے کی ہدایت، شیطان کا حسد اور حضرت آدم اور حضرت حواء علیہما السلام کو اس درخت کے قریب جانے اور پھل کھانے کا مشورہ اور اس کے نتیجے میں ان دونوں کو اور ان کی آنے والی نسل کو بہشت سے زمین پر جاکر رہنے کاحکم یہ مکمل واقعہ یہاں مذکور ہے۔
اس کے بعد بنی اسرائیل کو بطور خاص خطاب کیا گیا ہے اور ان نعمتوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو ان پر نسل در نسل نازل ہوتی رہی ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے پاس ہزاروں انبیاء ؑبھیجے گئے، تورات وغیرہ کتابیں نازل کی گئیں، فرعون سے نجات دے کر ان کو شام میں بسایا گیا، ان پر منّ و سَلویٰ نازل کیا گیا، ان کے لئے ایک پتھر سے بارہ چشمے نکالے گئے، مگرا ن کی سرکشی دیکھئے کہ وہ حق پر قائم نہ رہے، انہوں نے پیغمبروں کی اطاعت نہ کی بلکہ بعض پیغمبروں کو قتل تک کرڈالا، تورات کی آیتوں میں تحریف کی، اس کے نتیجے میں ان کے لئے دائمی اور ابدی ذلت لکھ دی گئی اور ان پر ایسے ایسے عذاب مسلط کئے گئے کہ جن کو سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ شنبے کا دن خاص عبادت کے لئے مقر ر ہے، اس دن مچھلی کا شکار مت کرنا، مگر انہوں نے حکم نہیں مانا تو اللہ نے ان کی صورتیں مسخ کرکے ان کو بندر بنا دیا۔ یہودیوں کے بارے میں قرآن کریم کا دو ٹوک فیصلہ یہ ہے کہ ان کے دل پتھروں سے زیادہ سخت ہیں، بعض پتھروں سے بڑا نفع پہنچتا ہے مگر ان سے تو کسی طرح کوئی نفع ہی نہیں ہے اور نہ ان سے خیر کی کوئی امید ہے، انہوں نے مال ودولت کے لالچ میں توراۃ میں لفظی اور معنوی تحریف بھی کرڈالی۔ لگ بھگ ۷۷؍ آیات تک اس قوم کی بد اعمالیوں، بدعہدیوں اور ان پر نازل ہونے والے مختلف عذابوں کا عبرت ناک تذکرہ ہے، کیوں کہ بنی اسرائیل کے واقعات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر بھی آیا ہے اس لئے بنی اسرائیل کا بیان ختم کرکے اب حضرت ابراہیمؑ کا اور ان کے ذریعے بنائے گئے کعبۃ اللہ کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے، سب سے پہلے تو یہ بیان کیا گیا کہ بیت اللہ مقام امن ہے اور ہر سال لوگ وہاں حج کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ مقام ابراہیم کا ذکر بھی اسی آیت میں ہے، یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیمؑ نے خانۂ کعبہ تعمیر کیا تھا اور وہ دعا بھی مذکور ہے جو بہ وقت بنائِ کعبہ انہوں نے کی تھی کہ اے اللہ اس جگہ کو شہر امن بنا، اس کے رہنے والوں کو میوے عطا کر اور ہماری اولاد میں ایک فرماں بردار جماعت پیدا فرمادے اور ان میں ایک رسول ان ہی میں کا بھیج دے تاکہ وہ انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے، تیری کتاب کی اور حکمت کی باتوں کی تعلیم دے اور ان کی اصلاح کرے۔ بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں قبول ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: نئی نسل میں اِتنا غصہ کیوں؟اس کے نفسیاتی پہلو کیا ہیں؟
یہاں سے قرآن کریم کا دوسرا پارہ شروع ہوتا ہے، اس کا آغاز تحویل قبلہ کے معاملے سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد بتلایا کہ اے مسلمانو!جس طرح تمہارا قبلہ تمام قبلوں سے افضل ہے ایسے ہی ہم نے تم کو تمام امتوں سے افضل اور تمہارے پیغمبر کو تمام پیغمبروں سے کامل اور برگزیدہ بنایا ہے۔ اس کے بعد اہل ایمان کو کچھ نصیحتیں ہیں مثلاً یہ کہ وہ صبر اور نماز کا دامن تھامے رکھیں، اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے کو مردہ نہ کہیں، آزمائشوں سے نہ گھبرائیں بلکہ ایسے حالات میں اِنا للّٰہ پڑھا کریں۔
اس کے بعد حج کا اور صفا ومروہ کا بیان ہے، زمین و آسمان، رات اور دن سمندروں میں چلنے والی کشتیاں، ہوائیں، بادل وغیرہ سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں اور ان میں غور فکر کے لئے بہت کچھ ہے، آخری رکوع میں لوگوں کو حلال وپاکیزہ رزق کھانے کی، بُرے کاموں اور بے حیائی کے افعال سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے اور بتلایا گیا ہے کہ تمہارے لئے مردار، خون اور خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا جانور حرام ہے۔
دوسری تراویح: سَیَقُوْل کے ربع سے تِلْکَ الرُّسْلُ کے نصف تک
آج کی تراویح کا آغاز تحویلِ قبلہ کے معاملے میں معترضین کے خیال کی تردید سے ہوا جو قبلہ رخ ہونے ہی کو نیکی سمجھتے تھے، فرمایا نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ بندہ اللہ پر، قیامت کے دن پر، ملائکہ پر، آسمانی کتابوں پر اور تمام انبیاء پر ایمان لائے، اپنے مال سے محبت کے باوجود (علاوہ زکوۃ کے) اسے رشتہ داروں، یتیموں، غریبوں، مسافروں، ضرورت مند سائلوں اور قید میں گرفتار مسلمانوں پر خرچ کرے، نماز پڑھے، زکوٰۃ دے، اپنا وعدہ پورا کرے، فقر وفاقہ، بیماری اور تنگی کی حالت میں صبر سے رہے۔ اس کے بعد شریعت کے کچھ اہم احکام شروع ہوتے ہیں، سب سے پہلے قصاص کا حکم ہے۔ قصاص کے بعد دوسرا حکم وصیت کے متعلق ہے کہ اگر تمہارے پاس مال ہو تو تم کو والدین اور دوسرے رشتہ داروں کیلئے انصاف کے ساتھ وصیت کرنی چاہئے۔ یہ وصیت آیت ِ میراث سے پہلے فرض تھی، اب فرض تو نہیں رہی کیونکہ آیت میراث میں ترکے کے ورثاء متعین ہوچکے ہیں، البتہ اگر کسی پر قرض وغیرہ ہو، یا کسی کے پاس امانتیں رکھی ہوئی ہوں تو مرنے سے پہلے وصیت لکھنا ضروری ہے۔ تیسرا حکم روزے کی فرضیت کا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح پہلی امتوں پر فرض تھے، یہ تمام سال کے روزے نہیں ہیں بلکہ چند روز کے ہیں، اس میں بھی مریضوں اور مسافروں کو گنجائش ہے۔
اس کے بعد ماہِ رمضان سے متعلق ارشاد ہوا کہ اس مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا ہے جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت ہے اور جس میں ہدایت پانے کی واضح دلیلیں موجود ہیں اور جو حق وباطل کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والی ہے، اس کے بعد روزے کے کچھ احکام بیان کئے گئے ہیں، مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک ہی آیت میں نزول قرآن اور روزے کی فرضیت کا ذکر کیا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن اوررمضان میں گہری مناسبت ہے، اسی لئے اس مہینے میں تراویح کی نماز رکھی گئی ہے تاکہ قرآن کریم کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنے کا اور تلاوت سننے کا اہتمام ہو۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے مہینے کا استقبال اللہ کے فضل اور نعمت پر خوش ہونے والوں کی طرح کرو
آگے حج کا بیان ہے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چاند کے متعلق سوال کرتے تھے کہ یہ کیوں گھٹتا بڑھتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ چاند کا اس طرح پر نکلنا اس لئے ہے تاکہ لوگوں کو عبادات؛ نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور معاملات؛ عدت، رضاعت وغیرہ میں ماہ وسال کی تعیین میں سہولت ہو، حج کے ایام بھی چاند کے گھٹنے بڑھنے ہی سے معلوم ہوتے ہیں۔ درمیان میں کچھ احکامِ جہاد کے اور پھر اشہر ِ حُرم کا ذکر ہوا ہے، پھر متعدد آیات میں حج کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ آخر میں فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، یعنی ظاہر وباطن اور عقیدہ وعمل ہرمعاملے میں اسلام کی اتباع کرو۔
اس پارے کے آٹھویں رکوع سے پھر بنی اسرائیل کا ذکر ہے، اس سے پہلے یہ فرمادیا گیا تھا کہ اللہ رب العزت کے واضح اور صریح حکم کے بعد اس کی مخالفت کرنا عذاب کا باعث ہے، اسی کی تائید میں فرمایا کہ بنی اسرائیل ہی سے پوچھ لو کہ ہم نے ان کے اوپر کتنی کھلی اور واضح آیات نازل کیں مگر انہوں نے انحراف کیا تو مبتلائے عذاب ہوئے۔
اسی رکوع میں یہ بھی فرمایا گیا کہ حضرت آدم ؑکے زمانے سے ایک ہی دین تھا اور سب لوگ اسی کی پیروی کرتے تھے، اس کے بعد لوگوں نے دین کے معاملے میں اختلاف شروع کردیا تب ہم نے صحیح دین بتلانے اور سمجھانے کیلئے انبیاء اور رُسل بھیجے۔ یہاں لوگوں کے ایک اور سوال (اور اس کا جواب) کا ذکر بھی ہےکہ وہ آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ تم خرچ کروگے والدین پر، رشتہ داروں پر، یتیموں، محتاجوں اور مسکینوں پر وہ سب خدا کیلئے ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ اس سورہ میں متعدد احکام شریعت بیان کئے گئے ہیں، ان میں شراب اور جوئے اور یتیموں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب ہے۔ اس کے بعد نکاح کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں، اسی طرح اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یہیں پر حیض، قسم اور ایلاء کا بیان ہے۔ اس کے بعد مطلقہ عورتوں اور بیوہ کی عدت، خلع، مدت ِرضاعت اور مہر کا تفصیلی ذکر ہے۔ اس پارے کے آخر میں طالوت بادشاہ کا قصہ بھی مذکور ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپؐ نے نیکیوں کے موسمِ بہار کا استقبال اس خطبے کے ساتھ فرمایا
تیسرے پارے کے آغاز میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان ہے، اسی میں آیۃ الکرسی بھی ہے جس کی بڑی فضیلت ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ اور نمرود کا مکالمہ اور حضرت عزیرؑ کا عجیب وغریب واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی تسکین قلب کی درخواست اور پرندے کی موت و زندگی کا واقعہ ہے۔ اس ضمنی تذکرے کے بعد پھر انفاق فی سبیل اللہ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ اسی سورہ میں سود کا بیان بھی ہے۔ سود کی ممانعت اور قرض کے لین دین کے احکام ایک طویل آیت میں مذکور ہیں کہ قرض کے معاملات گواہوں کی گواہی کے ساتھ لکھ لیا کرو۔ یہ سورہ بعض اہم ترین دعاؤں پر ختم ہوتی ہے۔
پھر سورہ آل عمران کا آغاز ہوتا ہے، اس میں پہلے اللہ کی حمد وثنا ہے، کچھ دعائیں ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اوربنی اسرائیل کا ذکر ہے۔