• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترقی کیلئے واضح منصوبہ بندی اور مستقبل کا لائحۂ عمل ناگزیر ہیں

Updated: February 13, 2026, 12:41 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai

خود احتسابی دراصل انسان کے باطن میں وہ بیدار آنکھ ہے جو اسے اپنے افعال کا جواب دہ بناتی ہے، اور یہی جواب دہی رفتہ رفتہ ذمہ داری کے احساس میں ڈھل جاتی ہے۔

No nation can move towards sustainable development without planning, mutual consultation, and responsible concern. Photo: INN
منصوبہ بندی، باہمی مشاورت اور ذمہ دارانہ فکرمندی کے بغیر کوئی بھی قوم دیرپا ترقی کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتی۔ تصویر: آئی این این

خود احتسابی دراصل انسان کے باطن میں وہ بیدار آنکھ ہے جو اسے اپنے افعال کا جواب دہ بناتی ہے، اور یہی جواب دہی رفتہ رفتہ ذمہ داری کے احساس میں ڈھل جاتی ہے۔ جب انسان خود کو کسی سوال کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کرتا، تو اس کی زندگی محض ایک بے سمت سفر بن کر رہ جاتی ہے؛ وہ چلتا تو ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ کہاں جانا ہے۔ ایسے میں عمل کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے اور نتیجہ بھی مبہم رہتا ہے، کیونکہ جس کام کا کوئی واضح مقصد نہ ہو وہ محنت کو منتشر اور قوت کو ضائع کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: صالحین اور صادقین کی صحبت اور نسبت انسان کے باطن کو سنوارتی ہے

اس کے برعکس، جب انسان اپنے سامنے ایک واضح ہدف رکھتا ہے اور اس ہدف کے حوالے سے خود سے مسلسل حساب لیتا ہے، تو اس کے عمل میں نظم پیدا ہو جاتا ہے۔ اب وہ صرف کام نہیں کرتا بلکہ جانتا ہے کہ کیوں کر رہا ہے، کس سمت میں بڑھ رہا ہے اور کہاں پہنچنا ہے۔ یہی شعور اس کے اندر دلچسپی بھی پیدا کرتا ہے اور رفتار بھی، کیونکہ مقصد انسان کے ارادے کو مرکز عطا کرتا ہے۔ یوں خود احتسابی محض اخلاقی عمل نہیں رہتی بلکہ عملی زندگی کی وہ قوت بن جاتی ہے جو انسان کو بھٹکنے سے بچا کر اسے بامقصد، مربوط اور نتیجہ خیز سفر پر گامزن کر دیتی ہے۔

اس حقیقت کو آج کی دنیا میں سمجھنا نہایت آسان ہے، کیونکہ ہم ہر روز اس کی عملی مثالیں اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔ کوئی بھی ادارہ محض نیک نیتی یا عارضی جوش کے سہارے نہیں چل سکتا؛ اسے آگے بڑھانے کےلئیے واضح منصوبہ بندی اور مستقبل کا لائحۂ عمل ناگزیر ہوتا ہے۔ ادارہ جب یہ طے کر لیتا ہے کہ اسے کہاں پہنچنا ہے اور کن مراحل سے گزرنا ہے، تب ہی اس کی سرگرمیاں بامقصد بنتی ہیں اور اس کا سفر استحکام کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ بصورتِ دیگر، اگر کام تو ہو رہا ہو مگر سمت متعین نہ ہو، تو کوششیں بکھر جاتی ہیں اور ترقی محض ایک خواہش بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی منطق ریاستی نظم میں بھی کارفرما نظر آتی ہے، جہاں کسی جمہوری ملک میں اقتدار کے خواہش مند افراد عوام کے سامنے آئندہ برسوں کا نقشہ رکھتے ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ فیصلے کس بنیاد پر ہوں گے اور اجتماعی زندگی کس رخ پر آگے بڑھے گی۔

یہ بھی پڑھئے: نئی نسل میں اِتنا غصہ کیوں؟اس کے نفسیاتی پہلو کیا ہیں؟

یہی اصول فرد اور معاشرے دونوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی کامیابی محض وقتی جذبے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لئے خود احتسابی کے ساتھ مستقل مزاجی، اور مشاورت کے ساتھ منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے، اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے اور آئندہ کے لئے سوچ سمجھ کر راستہ متعین کرتا ہے، تو اس کی زندگی محض ردِ عمل کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ شعوری انتخاب میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی شعور اسے ٹھہراؤ بھی دیتا ہے اور آگے بڑھنے کی قوت بھی۔ اس کے برعکس، جہاں خود احتسابی نہ ہو اور منصوبہ بندی کا فقدان ہو، وہاں کامیابی کا راستہ دھندلا اور منزل دور دکھائی دیتی ہے، چاہے کوشش کتنی ہی کیوں نہ کی جائے۔

آج مسلم قوم کی حالت پر نگاہ ڈالی جائے تو ایک گہری بے سمتی کا احساس ابھرتا ہے، گویا ہم ایک ایسے سفر پر نکل کھڑے ہوئے ہوں جس میں قدم تو اٹھ رہے ہیں مگر منزل واضح نہیں۔ سرگرمیاں بہت ہیں، جذبے بھی کم نہیں، مگر اجتماعی سطح پر وہ ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی جو کسی قوم کو ایک رخ پر جمع کر دے۔ جب سمت متعین نہ ہو اور ترجیحات واضح نہ ہوں تو قوت بکھر جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان کے مہینے کا استقبال اللہ کے فضل اور نعمت پر خوش ہونے والوں کی طرح کرو

ایسے میں مسلم قوم کے لئے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے۔ مستقل منصوبہ بندی، باہمی مشاورت اور ذمہ دارانہ فکرمندی وہ بنیادیں ہیں جن کے بغیر کوئی بھی قوم دیرپا ترقی کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتی۔ اس کے ساتھ ایک دیانت دار محاسبہ بھی لازم ہے، جس میں یہ سوالات سامنے رکھے جائیں کہ اب تک ہم نے کیا پایا، کہاں کوتاہی ہوئی، اور کون سے امکانات ابھی تشنۂ تکمیل ہیں۔ جب قوم اپنے حال کا درست ادراک کر کے اپنے مستقبل کی تصویر خود بناتی ہے، تبھی اس کے اقدامات بامعنی بنتے ہیں اور اس کا سفر بے یقینی سے نکل کر شعوری اور باوقار سمت اختیار کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آپؐ نے نیکیوں کے موسمِ بہار کا استقبال اس خطبے کے ساتھ فرمایا

آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کتنے ہیں یا مشکلات کتنی گہری ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے آپ سے سچ بولنے کا حوصلہ پیدا کیا ہے۔ قومیں اس دن زوال کا شکار نہیں ہوتیں جب ان سے سب کچھ چھن جائے بلکہ اس دن بکھر جاتی ہیں جب وہ اپنے آپ سے سوال کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ خود احتسابی دراصل ماضی پر ماتم نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا پہلا پتھر ہے؛ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اور قوم دونوں یہ طے کرتے ہیں کہ وہ حالات کے بہاؤ میں بہنا نہیں چاہتے بلکہ اپنی سمت خود متعین کریں گے۔ اگر مسلم قوم نے اپنے حال کو محض شکایت کے آئینے میں دیکھنے کے بجائے منصوبہ، نظم اور مقصد کے زاویے سے پرکھنا سیکھ لیا، تو یہی بے سمتی ایک نئے شعور میں ڈھل سکتی ہے۔ اس شعور سے نہ شور اٹھے گا، نہ وقتی جوش، بلکہ ایک خاموش مگر مضبوط عزم جنم لے گا جو فرد کے اندر بھی ترتیب پیدا کرے گا اور اجتماع کو بھی معنی عطا کرے گا۔ اسی لمحے سے زوال کا بیانیہ ختم اور تعمیر کا سفر شروع ہوتا ہے یعنی وہ سفر جو ماضی کی عظمت کو دہرانے کیلئے نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار، باخبر اور باوقار مستقبل کی تشکیل کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK