ہم سب کے پاس دن کے چوبیس گھنٹے ہیں، مگر زندگی گزارنے کا انداز سب کا ایک جیسا نہیں۔ کوئی انہی گھنٹوں میں علم حاصل کر لیتا ہے، خاندان کے حقوق ادا کرتا ہے، اپنے رب سے تعلق قائم رکھتا ہے اور معاشرے کیلئے کچھ چھوڑ جاتا ہے، جبکہ کوئی پوری عمر دوڑتے دوڑتے آخر میں رک کر دیکھتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بہت کچھ حاصل کیا مگر وہ نہ کر سکا جو ضروری تھا۔ شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں یہ طے کرنے کی فرصت نہیں ملتی کہ اہم کیا ہے۔
جب ہم کہیں کہ ’’وقت نہیں ملتا‘‘ تو شاید ہمیں گھڑی دیکھنے کے بجائے اپنی ترجیحات دیکھنی چاہئے۔ تصویر: آئی این این
آج کا انسان صبح آنکھ کھولتے ہی ایک دوڑ میں داخل ہو جاتا ہے۔ دفتر، کاروبار، سفر، فون، پیغامات، سوشل میڈیا، گھریلو ذمہ داریاں اور مستقبل کی فکر؛ دن ختم ہوتا ہے تو جسم تھک چکا ہوتا ہے اور ذہن اگلے دن کی فہرست بنانے لگتا ہے۔ سہولتیں بے شمار ہیں، مگر ٹھہرنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی نے بہت سے کام آسان کر دیئے، لیکن اس آسانی سے بچنے والے وقت میں بھی کسی نئی مصروفیت نے گھیر لیا۔ یوں زندگی میں کام کم نہیں ہوئے، صرف ہماری توجہ کے حصے زیادہ ہو گئے ہیں۔
ایک شخص اگر مٹھی میں ریت بھر کر اسے مضبوطی سے پکڑنے کی کوشش کرے تو ریت انگلیوں کے درمیان سے نکلتی چلی جاتی ہے۔ وقت بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہم اسے محفوظ کرنے کیلئے بہت سے منصوبے بناتے ہیں، مگر ہماری توجہ ہر طرف بٹی ہو تی ہے اس لئے دن کا بڑا حصہ خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ چند منٹ بے مقصد اسکرولنگ میں، کچھ غیر ضروری گفتگو میں، کچھ دوسروں کی زندگیوں پر نظر رکھنے میں اور کچھ ایسی فکروں میں جن پر ہمارا کوئی اختیار ہی نہیں۔ شام تک معلوم ہوتا ہے کہ وقت گزر گیا،جس کا بڑا حصہ بے سود گزرا۔
یہ بھی پڑھئے: قرآنِ حکیم کی مٹھاس اور بے پناہ تاثیر کی ارفع و اعلیٰ خوبی
اس کا سب سے گہرا اثر انسان کے تعلقات پر پڑتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے محنت کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں دیکھ پاتے کہ مستقبل بنانے کی کوشش میں بچوں کا حال تو نہیں چھن رہا۔ بچے کو مہنگی چیزیں مل سکتی ہیں، بہترین تعلیم مل سکتی ہے، سہولتیں مل سکتی ہیں، مگر اسے والدین کی توجہ، گفتگو اور رفاقت بھی ملنی چاہئے۔ بچے اکثر ہماری باتوں سے کم اور ہماری موجودگی سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر باپ سچائی کا درس دے مگر بچے اسے معمولی فائدے کیلئے اصول بدلتے دیکھیں تو تربیت الفاظ سے نہیں، منظر سے ہوگی۔
یہی معاملہ میاں بیوی اور دوسرے رشتوں کا ہے۔ تعلقات صرف ذمہ داریاں پوری کرنے سے زندہ نہیں رہتے؛ انہیں وقت، گفتگو اور توجہ بھی درکار ہوتی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے دو انسان اگر مسلسل مصروف رہیں تو ان کے درمیان خاموشی سے فاصلے بڑھ سکتے ہیں۔ رشتے اکثر کسی ایک بڑے واقعے سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ چھوٹی چھوٹی غفلتیں انہیں اندر سے کمزور کرتی رہتی ہیں۔ اس لیے زندگی کو صرف کاموں کی فہرست سے نہیں، تعلقات کے میزان سے بھی دیکھنا چاہیے۔
لیکن اس سارے مسئلے کی جڑ شاید اس سے بھی گہری ہے۔ جب انسان کے سامنے زندگی کا کوئی واضح مقصد نہ ہو تو ہر کام ضروری دکھائی دینے لگتا ہے۔ اسے ہر پیغام کا جواب دینا ہے، ہر خبر جاننی ہے، ہر موقع حاصل کرنا ہے، ہر شخص سے آگے نکلنا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ کر رہا ہوتا ہے، مگر یہ طے نہیں کر پاتا کہ آخر کیوں کر رہا ہے۔ رفتار بڑھتی جاتی ہے، مگر سمت دھندلاتی جاتی ہے۔
فرض کیجئے ایک مسافر بہت تیزی سے سفر کر رہا ہے، مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ اسے جانا کہاں ہے۔ اس کی رفتار بظاہر قابلِ تعریف ہے، لیکن منزل کے اعتبار سے بے معنی ہے۔ ممکن ہے وہ جتنی تیزی سے چل رہا ہو، اتنی ہی تیزی سے منزل سے دور ہوتا جا رہا ہو۔ ہماری زندگی میں بھی یہی خطرہ ہے۔ ترقی، دولت، عہدہ اور سہولتیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے حصول میں انسان اپنے کردار، اپنے گھر، اپنے ضمیر اور اپنے رب سے تعلق کو کھو دے تو اسے کامیابی کہنے سے پہلے رک کر سوچنا ہوگا۔
شاید اسی لئے سب سے قیمتی وقت وہ نہیں جو ہم سب سے زیادہ مصروف رہ کر گزارتے ہیں، بلکہ وہ ہے جس میں ہم اپنے آپ سے سچ بولتے ہیں۔ میں کہاں جا رہا ہوں؟ میری محنت کا مقصد کیا ہے؟ میرے گھر والے میری زندگی میں کہاں ہیں؟ میرے بچوں کو میری چیزیں زیادہ درکار ہیں یا میری موجودگی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس رب نے مجھے یہ زندگی دی، کیا میری روزمرہ مصروفیات میں اس کے لئے بھی کوئی حقیقی جگہ ہے؟
یہ بھی پڑھئے: حیات ِ نبویؐ سے سادگی اور اعتدال کا درس حاصل کرلیں
ان سوالوں سے فرار آسان ہے، مگر زندگی ان سے فرار کی اجازت نہیں دیتی۔ ایک وقت آتا ہے جب انسان کی تمام مصروفیات پیچھے رہ جاتی ہیں۔ عہدہ، دولت، کاروبار، شہرت اور وہ بے شمار کام جنہیں کبھی ناگزیر سمجھا جاتا تھا، اچانک اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ تب انسان کے سامنے صرف اس کی زندگی کا حاصل رہ جاتا ہے: اس نے کیا کمایا نہیں، بلکہ کیا بنایا؛ کتنے لوگوں کو خوش کیا؛ کتنے حقوق ادا کیے؛ اور اپنے رب کے سامنے کیا لے کر گیا۔
اس لئے شاید ہمیں مزید وقت نہیں، ایک واضح ترتیب درکار ہے۔ ہر چیز کو برابر وقت دینا ضروری نہیں؛ ضروری یہ ہے کہ ضروری چیزیں غیر ضروری چیزوں کے نیچے نہ دب جائیں۔ رزق کیلئے محنت ہو، مگر رشتوں کے لئے وقت بھی ہو۔ بچوں کے مستقبل کی فکر ہو، مگر ان کے حال میں بھی شرکت ہو۔ دنیا کیلئے منصوبہ ہو، مگر آخرت کیلئے بھی تیاری ہو۔ اور دن کی مصروفیات کے درمیان اتنی خاموشی ضرور ہو جہاں انسان خود کو سن سکے۔
وقت دراصل زندگی ہے، اور زندگی دوبارہ نہیں ملتی۔ دولت کا نقصان پورا ہو سکتا ہے، چھوٹا ہوا کاروبار دوبارہ قائم ہو سکتا ہے، مگر گزرے ہوئے لمحے کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ اس لئے اگلی بار جب ہم کہیں کہ ’’وقت نہیں ملتا‘‘ تو شاید ہمیں گھڑی دیکھنے کے بجائے اپنی ترجیحات دیکھنی چاہئے۔ ممکن ہے وقت اپنی جگہ موجود ہو؛ صرف ہماری زندگی میں غیر ضروری چیزوں نے ضروری چیزوں کی جگہ لے لی ہو۔
اور اگر ایک دن ہم نے یہ فرق سمجھ لیا تو شاید ہماری زندگی کی رفتار کم نہ ہو، مگر اس کی سمت ضرور درست ہو جائے گی۔ پھر ہم مصروف بھی ہوں گے اور بکھرے ہوئے نہیں؛ کامیاب بھی ہوں گے اور خالی بھی نہیں؛ دنیا کے کام بھی کریں گے اور اپنے اصل مقصد کو بھی یاد رکھیں گے۔ کیونکہ زندگی کا حسن زیادہ کام کرنے میں نہیں، صحیح کام کو صحیح مقام دینے میں ہے۔
اسلام کا پیغام
اسلام انسان کو دنیا چھوڑنے کا نہیں، دنیا کو درست مقام دینے کا درس دیتا ہے۔ روزگار ضروری ہے، مگر رزق دینے والا اس سے بڑا ہے۔ خاندان ذمہ داری ہے، مگر خاندان بھی اسی وقت بامعنی رہتا ہے جب اسے اللہ کی رضا کے دائرے میں نبھایا جائے۔ دنیا کے کام کرتے ہوئے انسان اپنے مقصدِ حیات کو فراموش نہ کرے۔ نماز اسی لئے محض دن کے معمولات میں شامل ایک عمل نہیں؛ وہ انسان کو بار بار اس مرکز کی طرف لوٹاتی ہے جہاں سے اس کی زندگی کو معنی ملتے ہیں۔ دن کی دوڑ کے درمیان چند لمحوں کے لیے رکنا دراصل خود کو یاد دلانا ہے کہ میں صرف اپنے کاموں کا مجموعہ نہیں، میں ایک ذمہ دار بندہ بھی ہوں۔