کورونا کے معاشی نتائج سے نمٹنا کیسے ممکن؟

Updated: March 30, 2020, 1:17 PM IST | Bharat Jhunjhunwala

یہ وائرس افراد سے افراد کے رابطہ کی وجہ سے زیادہ پھیلا ہے۔ اسلئے تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو باہمی تعلقات کے موقوف ہوجانے کے باوجود جاری و ساری رکھنا بڑا چیلنج ہے جسے قبول کرنا ہی وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔

Market - Pic : PTI
مارکیٹ : تصویر : پی ٹی آئی

عالمی معیشت پر کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات میں تین طرح کی غیر یقینی صورتحال کا شمار کیا جاسکتا ہے۔ اول: کیا کوئی ٹیکہ (ویکسین) ایجاد ہوگی جو کورونا کو روکنے میں مؤثر اور معاون ہوسکے گی؟ دوئم: کیا یہ وائرس ماحول میں درجۂ حرارت کے اضافے کی وجہ سے ختم ہوجائیگا یا ہر سال موسم سرما میں سر اُٹھائے گا اور اپنی ہلاکت خیزی کا ثبوت دے گا؟ سوئم: کیا انسان اس وائرس کے خلا ف اپنی دفاعی طاقت کو بڑھانے میں کامیاب ہوگا یا اس کے آگے پسپا ہوتا رہے گا؟ ان سوالوں کا جواب فی الحال ہمارے سامنے نہیں ہے اسی لئے ان کی وجہ سے شش و پنج کی کیفیت ہے تاہم انہی سوالات کے جواب پر اس بات کا انحصار ہے کہ کورونا وائرس ہم کو ’’یو‘‘کیٹگری میں متاثر کرے گا یا ’’ایل‘‘ کیٹگری میں۔
  ’’یو‘‘ کا مطلب ہے کہ اکنامی کچھ عرصہ کیلئے پست رہے گی مگر جلد ہی اس میں تیزی آئے گی اور اس کی صحت اور حیثیت بحال ہوجائے گی۔ اس کے برخلاف ’’ایل‘‘ میں رہنے والی معیشت وہ کہلاتی ہے جس کے تعلق سے یہ گمان ہو کہ جس پستی کا شکار ہے وہ ایک لمبے عرصے تک اسی میں رہے گی اور اس کی جلد بحالی کے آثار مفقود رہیں گے۔ احتیاط اور تدبر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ابتر صورتحال (ایل کیٹگری) کا سامنا کرنے کیلئے کمربستہ ہوں تاکہ اگر وائرس کا خطرہ برقرارر ہا تو اس کا بہتر طور پر مقابلہ کیا جاسکے اور معیشت جتنی جلد ممکن ہوسکے، اُس پستی سے نکل سکے جو معاشی سرگرمیوں کے بالکل ٹھپ پڑ جانے کی وجہ سے ہمارا مقدر ہوگی۔
  ہندوستان، امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی حکومتوں نے معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے معاشی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت حکومت بازار سے قرض لے گی اور حاصل شدہ رقم کو معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے پر خرچ کرے گی۔ عام حالات میں اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے جو اضافی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں اُن سے حکومت کو اضافی ٹیکس حاصل ہوتا ہے جس سے حکومت قرضـ ادا کرتی ہے مگر موجودہ صورتحال میں حکومت کو اضافی روینیو حاصل نہیں ہوگا بلکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو مالیاتی خسارہ یقینی ہے اُس کی کچھ بھرپائی ہوجائے گی۔ بہ الفاظ دگر، حکومت نے جس معاشی پیکیج کا گزشتہ دنوں اعلان کیا ہے اس سے معیشت پر پڑنے والا بوجھ مستقبل میں منتقل ہوگا اور حکومت کو کسی قسم کی اضافی آمدنی نہیں ہوگی۔ 
 مالیاتی پالیسی کو بھی ایسی ہی تحدید کا سامنا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ سینٹرل بینکس شرح سود میں تخفیف کردیں۔ یہ قدم اس لئے اُٹھایا جاسکتا ہے تاکہ صنعتکار اور تاجر بینکوں سے قرض لیں اور اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کریں اور صارفین قرض لیں اور خرچ کریں۔ اس محاذ پر مسئلہ یہ ہے کہ صنعتکار اور تاجر مانگ (ڈیمانڈ) کی عدم موجودگی میں قرض لینے کو تیار نہیں ہیں جبکہ صارفین قرض لے کر خرچ کرنے میں  اس لئے دلچسپی نہیں لے رہے ہیں کہ اُنہیں یقین نہیں ہے کہ موجودہ اور آئندہ آنے والے حالات میں اُن کی ملازمت یا روزگار باقی رہے گا یا نہیں۔ 
 ان حالات میں اور مذکورہ مسائل نیز تحدیدات کے درمیان ایک ہی راستہ دکھائی دیتا ہے اور وہ ہے معیشت کو ایسے چھوٹے چھوٹے زمروں میں تقسیم کرنا کہ ایک زمرے کا دوسرے زمرے سے واجبی رابطہ ہو اس سے زیادہ نہیں۔ یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ کورونا ایک فرد سے دوسرے فرد کی جانب بڑھتا ہے۔ فرد سے فرد کا یہ رابطہ عام طور پر اُن افراد کے درمیان ہوتا ہے جو غیر ملکی سفر، روبرو تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعہ ایک دوسرے کے رابطہ میں آتے ہیں۔ ہندوستان میں کورونا سے متاثر ین کی اکثریت اُن لوگوں پر مشتمل ہے جو دیگر ملکوں سے لوٹے ہیں۔ وہ یا تو وہاں کسی پروجیکٹ سے وابستہ تھے یا طالب علم تھے۔ معیشت کو چھوٹے چھوٹے زمروں میں تقسیم کردینے سے اس قسم کے رابطوں میں کمی آئے گی۔ اسے دوسرے انداز میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ عالمی سطح پر اٹلی اور اسپین، اورقومی سطح پر کیرالا اور مہاراشٹر میں کورونا کے متاثرین کی تعداد کئی دوسری ریاستوں سے زیادہ ہے۔ یہ نہ ہوتا اگر ہم نے صرف اٹلی اور اسپین نیز کیرالا اور مہاراشٹر ہی نہیں، ریاستوں کے درمیانی تعلق اور  بیرونی ملکوں سے تعلق کو پہلے ہی موقوف کردیا گیا ہوتا تو کورونا کا اثر کم سے کم ہوتا۔ 
 یہ اب بھی ممکن ہے اگر ہم اٹلی سے تجارتی تعلقات کا مقامی اور دیسی نعم البدل تلاش کریں۔ مثلاً ہم اٹلی سے زیتون، اسپین سے سائٹرس فروٹ، مہاراشٹر سے پیاز اور کیرالا سے گرم مسالوں کا متبادل تلاش کریں تب ہی کورونا کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔ بنگلہ دیش جیسے ملکوں اور اُدیشہ جیسی ریاستوں کو اسٹیل اور کاریں بنانے کیلئے اپنی فیکٹریاں قائم کرنی پڑیں گی اور پونے یا کوٹہ کو اپنے ٹیوشن  سینٹر جاری کرنے ہوں گے۔ ایسا کرنے سے ہم اُن ریاستوں میں معاشی سرگرمی بڑھا سکتے ہیں جو کورونا سے یا تو بالکل بھی متاثر نہیں ہیں یا جہاں کورونا کا اثر بہت کم ہے۔ میری تجویز یہ ہے کہ ایک زمرے سے دوسرے زمرے کے رابطے کو محدود یا موقوف کیا جائے بجائے اس کے کہ قومی سطح پر لاک ڈاؤن ہو۔
 مجھے یہ تجویز پیش کرتے ہوئے کوئی خوشی نہیں ہورہی ہے۔ عالمی معاشی روابط کے اپنے فائدے ہیں۔ عالمی مارکیٹ سے ہمیں جو اشیاء ملتی ہیں وہ سستی بھی ہیں اور اعلیٰ معیاری بھی۔ لیکن اگر اس فائدے کے عوض کورونا کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ جس محدود معیشت کی بات مَیں نے کی ہے اس میں ہمیں دیسی مارکیٹ میں تیار ہونے والا مہنگا خام مال اور نتیجتاً مہنگی اشیاء خریدنی پڑیں گی مگر اس کی وجہ سے کورونا کا خطرہ ٹل سکے گا۔ اب فیصلہ بھی ہمیں کو کرنا ہوگا کہ ہم کیا چاہتے ہیں، کورونا کے خطرہ کے ساتھ سستا مال یا کورونا کے خطرہ کے بغیر مہنگی اشیاء۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے ملک اور بیرونی ملکوں کے درمیان آہنی دیوار تعمیر کرلیں۔ اس کا مطلب ہے دیگر ممالک سے یا ایک ریاست اور دیگر ریاستوں میں کم سے کم رابطہ اور زیادہ سے زیادہ خود انحصاری۔ اس کا یقینی فائدہ ہوگا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK