منوج جرنگے اور سکھ بیر سنگھ بادل جیسے مختلف طبقوں کے نمائندوںکی مسلمانوں سے ا تحاد کی اپیل صرف ایک اپیل نہیںہےبلکہ ا س حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ وہ جو لڑائی لڑرہے ہیں اس میں انہیں مسلمانوں کی ضرورت ہےاور متحد مسلم قوم اس لڑائی کو یقیناً نتیجہ خیز رخ پر ڈال سکتی ہے۔
مسلمانوں کا اتحاد۔ تصویر : آئی این این
ملک کی سیاست اس دور میں داخل ہوچکی ہےجہاں کئی سیاسی پارٹیوں بالخصوص اپوزیشن نےیہ ضروری سمجھ لیا ہے کہ جب تک ذات پات پرمبنی درست اعدادوشمار اکٹھا نہیں کئے جائیں گے تب تک ملک کی ترقی اورخودان ذاتوں اور طبقات کی اس میں حصہ داری ممکن نہیں ہوگی۔ راجستھان، تلنگانہ ،چھتیس گڑھ اورمدھیہ پردیش میں ہوئےحالیہ اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کانگریس نے حالانکہ یہ موضوع پوری قوت سے اٹھایااور اپنی انتخابی مہموں کو اسی پرمرکوز رکھا لیکن یہ مدعا کارگرثابت نہیں ہوسکا ۔کانگریس نے اپنی ورکنگ کمیٹی کی گزشتہ دنوں ہوئی میٹنگ میں یہ اشارہ دیاتھا کہ وہ بی جےپی کو گھیرنے کیلئےذات سے متعلق سروےکے علاوہ کسی اور موضوع کی تلاش میں ہے۔اُدھروزیراعظم مودی کہہ رہے ہیں کہ ملک میں ایک ہی ذات ہے اوروہ ہے غریبوں کی ذات۔یعنی ایسا معلوم ہو رہا ہےکہ یہ معاملہ فی الوقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معلق ہوکر بھی رہ سکتا ہے، لیکن ،ایسا نہیں ہےکہ یہ مدعا۲۰۲۴ء کیلئے ختم ہی ہوچکا ہے،اس میں اب بھی جان باقی ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو اسے پوری طرح نیا رُخ دے کر سامنے لانا چاہتے ہیں ۔وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ نہ یہ موضوع بے معنی وبے کارہے نہ ہی اسے نظر اندازکرکے یا اس سے کنارہ کش ہوکر ترقی کے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں ۔وہ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ اگرمعاملہ ذات پات کا ہے،یا جیسا کہ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ایک ہی ذات یعنی غریبوں کا ہے تو ایسا سب سے بڑا طبقہ ملک میں مسلمانوں کا ہی ہے۔اس طبقے کی ذات سروے کے ارد گرد گھومنے والی سیاست میں کیا حیثیت ہے؟یہ طبقہ کہاں ہے؟ بہارکے حالیہ ذاتوں پرمبنی سروے میں مسلمانوں کا تناسب ۱۷؍فیصد معلوم ہوا ہے۔ اس ۱۷؍ فیصد کی اکثریت غریب ہے،پسماندہ ہے اور حاشیہ پر ہے۔جب ایک ریاست میں یہ صورتحال ہےتو پورے ملک میں کیا ہوگی ؟
افسوسناک حقیقت ہےکہ اس پوری صورتحال سے خود مسلمان نا واقف ہیں یا واقف ہیں بھی توایسی واقفیت کا کیا فائدہ جو انہیں میدان عمل میں کھڑا کرنے کی تحریک نہ دے سکے ۔شاید یہی وجہ ہےکہ مسلمانوں کو بیدارکرنے کیلئے پہلے مراٹھا تحریک کےعلمبردار منوج جرنگے اوران کے بعدشرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل کو مداخلت کرنی پڑی۔مراٹھا نمائندہ نے گزشتہ دنوں اپنی ریزرویشن تحریک کے ہی ایک جلسے میں مسلمانوں کو ان کی سیاسی اہمیت یاددلائی تھی اور ان سے اپنے بال بچوں کیلئے متحد ہونے کی اپیل کی تھی ۔ شرومنی اکالی دل کے سربراہ نے مسلمانوں کو ان الفاظ میں غیرت دلانے کی کوشش کی تھی کہ سکھ ۲؍ کروڑ ہونے کے باوجودمتحد ہیں جبکہ مسلمان ۲۲؍ کروڑ ہونے کے باوجود متحد نہیں ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لیڈرمسلمانوں کو اتحادکادرس دے رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو متحد ہونے کیلئے تو دین وایمان کی بنیادہی کافی ہے لیکن منوج جرنگے اور بادل یہ کس اتحادکی دہائی دے رہے ہیں ؟یہ دراصل سیاسی اتحاد ہے۔ یہ وہ سیاسی اتحاد ہےجس میں مسلمان سب سے بڑے سیاسی طبقے کے طورپر اپنا تعاون دے سکتے ہیں جو کہ وہ ہیں بھی ۔جرنگے اور بادل اس سیاسی اتحادکی بات کررہے ہیں جس کا مقصد مسلمانوں کےاتحادکے بغیر پورا ہو ہی نہیں سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی ڈیولپمنٹ پلان احتجاج کرنےوا لی تنظیمیں کبھی شہریوں کو بیدار کرنے کا بھی پروگرام بنالیں
۷۰؍ سال سے مسلمان اس ملک میں سیاسی اتحاد کی بات کہتے اورسنتے آرہے ہیں لیکن یہ باتیں نہ انہیں بیدار کرسکیں نہ متحد کرسکیں ۔ان وقتوں میں مسلمان بے وقعت ہوتے ہوتےیہاں تک پہنچ گئےکہ غدار بھی مسلمان ہی ہیں اور دہشت گرد بھی ۔ مسلمانوں سے جو بھی وعدے کئے گئے،ووٹ بینک سمجھ کر کئے گئے۔ مسلمانوں کو ایک قومی حیثیت کبھی نہیں دی گئی کیونکہ انہوں نے خودکو کبھی اس حیثیت سے منوانے کی کوشش نہیں کی ۔اپنی حیثیت کوتسلیم کروانے کیلئے وہ اس پارٹی کے محتاج رہے جس نے ان کے ساتھ اگر سوتیلا نہیں تو اپنائیت کا سلوک بھی روا نہیں رکھا۔ ادھر دوسری جانب سکھ ہیں جو اپنی شناخت اور وجود کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اسی بات کی طرف سکھبیر سنگھ بادل نے توجہ دلائی ۔سکھ سیاسی طور پر مستحکم ہیں ، ان کی معیشت مضبوط ہے اور انہیں ایک مضبوط حیثیت حاصل بھی ہے۔ابھی گزشتہ مہینوں میں خالصتان کے تعلق سے جو بھی ہنگامے ہوئے،گرفتاریاں ہوئیں ،ان میں سکھ کو بحیثیت قوم نشانہ بنانے کی کسی میں ہمت نہیں ہوئی۔ یہ کچھ معاملہ اگر مسلمانوں کا رہا ہوتاتوبات کہاں سےکہاں تک چلی جاتی یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔سکھوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا، اس کی وجہ یہی ہےکہ ان کی قومی حیثیت واہمیت ہے۔ یہ بات کہی جاسکتی ہےکہ ان کا ایک ریاست تک محدود ہونا ان کے اتحاد کا اہم سبب ہے اورہندوؤں میں ان کیلئے قابل قبول ہونے کا ایک سبب گرونانک جی ہیں ۔گرونانک جی کاہندوؤں کاایک بڑا طبقہ عقیدتمند ہے۔
اُدھرمسلمانوں میں اگر ایسا کوئی طبقہ ہےتو وہ بوہرہ فرقہ ہےجسےحکومت مسلم نمائندہ کے طور پر دیکھتی ،سمجھتی ہےاور اپنےپلیٹ فارم سے بھی اسی طبقےکوسامنے لاتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ وزیرا عظم مودی نے ملک میں اگر کسی مسجد کا دورہ کیا تووہ بوہرہ فرقہ کی ہی مسجدتھی ۔کہا جاسکتا ہےکہ سکھوں کی طرح مسلمانوں میں اگر کسی طبقے نے حکومت کے سامنے شناخت کے ساتھ اپنی حیثیت منوائی ہے تو وہ یہی فرقہ ہے۔ بادل اور جرنگے نے جو بات کہی ہے ، اس سے یہ مطلب اخذ کیاجاسکتا ہےکہ شناخت اوراتحادکی جو تصویر بوہرہ فرقہ میں نظر آتی ہے ، وہ ملک کے مسلمانوں میں مجموعی طورپر نظر آئے، تب حالات بدلنا شروع ہوں گے۔اس وقت مسلمان اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ان میں اتحاد بہت دور کی بات ہے۔ ان میں اپنی ایک نمائندہ سیاسی جماعت مجلس اتحاد المسلمین کے تعلق سےبھی اتفاق نہیں ہے۔ حالانکہ اس وقت ضرورت ایسی ہی کسی مزید منظم اورمضبوط سیاسی جماعت کی ہےجوسیاست سے بھی بالاترہوکر کام کرے ۔۲۲؍ کروڑ کی آبادی کم نہیں ہے۔جو مسلمانوں سے اتحاد سے اپیل کر رہے ہیں ، انہیں احساس ہےکہ مسلمانوں کی افرادی قوت کتنی نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے۔جرنگے اور بادل جیسے مختلف طبقوں کے نمائندوں کی مسلمانوں سے ا تحاد کی اپیل صرف ایک اپیل نہیں ہےبلکہ ا س حقیقت کا اعتراف بھی ہےکہ وہ جو لڑائی لڑرہے ہیں اس میں انہیں مسلمانوں کی ضرورت ہےاور متحدمسلم قوم اس لڑائی کو یقیناً نتیجہ خیز رخ پر ڈال سکتی ہے۔بہر حال یہ الگ مسئلہ ہے کہ مسلمانوں میں جرنگے اور بادل کی طرح سوچنے والے غالباً کم ہیں۔